BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 21 August, 2007, 17:48 GMT 22:48 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
’جب عینی نے مجھے ڈانٹ لگائی۔۔۔‘
 

 
 
قرۃالعین حیدر
’ کون سی کتاب پڑھی ہے؟‘
اردو ناول کے ’واحد‘ ماسٹر پیس کی مصنفہ کےگزر جانے کی خبر سنتے ہی، پہلا کام یہ کیا کہ دہلی میں اپنے ایک عزیز دوست اور ہم عصر صحافی کو فون کیا کی کہ بھئی تمہیں یاد ہے ہم نے قرۃالعین حیدر کے ساتھ ایک طویل انٹرویو کیا تھا، جس کے دوران انہوں نے ’آگ کے دریا‘ سے اقتباس بھی پڑھے تھے؟ جواب ملا کہ جب آفس اور وہ میگزین بند ہوئے تو ایک ڈائریکٹر صاحب ساری ٹیپس، کسیٹ وغیرہ اپنے ساتھ لےگئے اورگھر شفٹ کرنے کے چکر میں وہ کہیں گر کر کھوگئیں۔ دلی والوں کا جواب نہیں!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں نے قرۃالعین حیدر کے ساتھ اپنا پہلا اور آخری انٹرویو سن دو ہزار میں کیا تھا۔ جولائی کی ایک چیختی دو پہر کو جمنا پار دلی کے مضافاتی علاقے نوئیڈا کے قریب ایک کالونی میں ان کے چھوٹے سے فلیٹ میں پہنچے۔ عینی آپا اکیلی رہتی تھیں، ایک نو عمر لڑکی تھی وہاں، معاون تھی شاید، اور ایک کاتب نظر آنے والا شخص بھی تھا۔ فیملی نہیں تھی۔

فون پر ان سے میری بات پہلے ہی ہو چکی تھی، اور غالباً ملٹی میڈیا، شیڈیا زیادہ نہ سمجھ آنے کے باعث سر سے اتارنے کے لئے آمادہ بھی ہوگئیں تھیں۔ ورنہ عینی نے انٹرویو دینا کب کا ترک کر دیا تھا، واقفوں نے بتایا۔

"اچھا تو پہلے اپنے بارے میں بتاؤ، کون ہو، کیوں کر رہے ہو یہ، کیا پڑھا ہے؟" اردو ادب کی ’عظیم ترین‘ ناول نگار کی طرف سے سوالات کی بوچھاڑ سے میں گھبرا سا گیا۔ اور پھر عینی کا مُوڈ بھی کچھ خراب سا تھا۔

"جی میں۔۔ جی میں۔۔"

اچھا یہ بتاؤ میری کون سی کتاب پڑھی ہے، سچ سچ بتانا؟

مجھ سے کسی نے کہا تھا کہ مس حیدر کو ان لوگوں پر خاص غصہ آتا ہے جو منہ اٹھا کر چلے جاتے ہیں اس طرح کے "بے ہودہ" سوال پوچھتے ہیں کی "’آگ۔۔۔‘ کی انسپریشن کہاں سے ملی" اور ہاں ان حضرات سے جھلا جاتی ہیں جو ان کے ایک اور شاہکار ’آخرِ شب کے ہم سفر‘ کو ’آخری‘ کر دیتے ہیں۔ میرے ذہن پر خاصا دباؤ تھا، اگر جلدی میں آخری کہہ دیا تو۔

بس پھر کیا تھا، میں نے ان کی دو ہی کتابیں پڑھی تھیں: "آگ کا دریا اور آخری۔۔۔" منہ سے نکل گیا۔

عینی آپا کو زکام تھا، بھنا کر بولیں، بھئی نہیں پڑھی نا۔ آخری شب! کیا کرتے ہیں یہ نئے لڑکے لڑکیاں۔۔۔

’نہیں، میں نے پڑھی ہیں، واقعی۔۔۔

ارے چھوڑو۔۔ انہوں نے ڈانٹ لگائی۔

بہر حال، سرخ کان لئے، شرمندہ گردن جھکائے میں بیٹھا رہا، ڈھیٹوں کی طرح۔ تھوڑی دیر بعد گفتگو کسی طرح معنی خیز خاموش لمحوں کے سہارے، دھکے کھاتے چل پڑی۔ اپنی بات کو شاید مؤدبانہ وزن بخشنے کی خاطر میں نے کہا جی میں دہلی میں مقیم بڑے مصنفوں سے انٹرویو کر رہا ہوں، اس سے قبل امرِتا پریتم سے مل کر آیا ہوں۔۔۔ آپ کا کیا خیال ہے ان کے بارے میں؟

ارے ہاں۔ امرتا۔۔۔ اسے نے وارث شاہ اچھی لکھی، ہممم۔۔۔

کچھ روز قبل جنوبی دہلی کے ایک پوش علاقے حوض خاص میں امرتا پریتم سے ان کے عمدہ گھر میں ملا تھا، جہاں وہ مصور امروز کے ساتھ عرصے رہ رہی تھیں۔ گفتگو کے دورن انہوں نے ٹرپل فائیو کے لمبے کش لگا کر بہت ساری باتیں کی تھیں، اور ’اج آکھاں وارث شاہ نوں‘ اپنی مدھر آواز میں ریکارڈ کرائی۔ آنکھیں بھر آئیں۔ امرتا بھی نہیں رہیں۔

خیر، قرۃالعین حیدر نے انٹرویو کے دوران زیادہ باتیں نہیں کی۔ بہت زیادہ مرعوب انٹرویور برا انٹرویور ہوتا ہے۔ انہوں نے لندن کے دنوں کے بارے کچھ ادھر ادھر کی باتیں کیں (مجھے پوری طرح یاد بھی نہیں) پھر ’آگ کا دریا‘ کے بارے میں (اردو میں ناول لکھتا کون تھا!) ۔۔۔

تاہم جب کتاب سے اقتباس پڑھنے کا لمحہ آیا تو عینی آپا ایک دم الرٹ

قراۃالعین: جوانی کی ایک یادگار تصویر
ہوگئیں۔آنکھوں میں وہ منفرد چمک آگئی۔ میں نے آگ کے دریا سے انگلینڈ والے چند صفحے کھولے۔ لیکن انہوں نے کہا پہلے مجھے دکھاؤ کیا کروگے تم؟ میں نے ریکارڈر آن کیا، وہ ایک آدھ منٹ بولیں، ’چلو اب مجھے سناؤ ذرا، زکام ہے نہ مجھے! شوں شوں کرتی رہی ہوں پورا دن۔ میں مسکرائے بغیر نہ رہ سکا، ٹیپ ریوائنڈ کیا اور انہیں سنایا۔ مجھے یک لخت اردو ادب کی تاریخ کی ایک عظیم شمع کے قرب میں ہونے پر بے حد مسرت ہوئی۔

انہوں نے کہا میری آواز ٹھیک نہیں آئی اس میں، دوبارہ کرتے ہیں۔ پھر وہ باتھ روم گئیں۔ واپس آکر حیدر نے جذب ہوکر ’آگ۔۔۔‘ سے چند صفحے پڑھے، جہاں لندن کے پِکڈلی سرکس کا ذکر ہے۔ میں پورا وقت ان کی کرسی کے قریب، نیچے فرش پر بیٹھا رہا۔ آپا آخر ِکار مہربان ہوگئیں تھی۔

تم کچھ پیوگے؟ ارے کولا لے آؤ بھئی!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں دہلی میں چند دوستوں کے ہمراہ ایک نئی قسم کی ’ملٹی میڈیا‘ میگزین چلا رہا تھا۔ قرۃالعین حیدر، امرتا پریتم، خوشونت سنگھ جیسے لکھاریوں سے طویل انٹرویو کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ مجھے ذرا سی بے ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے، اس وقت اُن ٹیپس کو ادارتی ملکیت سے قطع نظر اپنے پاس رکھ لینا چاہئیے تھا۔)

 
 
’آخرشب کی ہمسفر‘’آخرشب کے ہمسفر‘
قرۃالعین حیدر کی چند نایاب تصاویر
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد