BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 January, 2004, 18:07 GMT 23:07 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
مذاہب کے درمیان مکالمہ
قارئین کی رائے

لطاف الاسلام، ویٹفورڈ، برطانیہ: میرا تعلق احمدیہ برادری سے ہے اور ہم ہمیشہ تمام مذاہب کے رہنماؤں کے ساتھ مکالمے کے لئے ہمیشہ بات چیت کی کوشش کررہے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ انتہا پسند آڑے آجاتے ہیں جن کی تعداد بدقستمی سے مسلمانوں میں سب سے زیاد ہے۔

عبدالرحمان، جاپان: ایک ایسے دور میں جب مسلم دنیا زوال پزیر ہورہی ہے، تعلیمی، اقتصادی، ٹیکنالوجی طور پر، وقت کی ضرورت یہ ہے کہ اسلام میں موجود تنازعات پر پر بات چیت کی جائے۔

سید حسین اکبری، ٹورانٹو: آج مذاہب کی تعلیمات ان پیغامات سے ٹکراتی ہیں جو حضرت محمد اور عیسیٰ علیہ السلام کی ذات نے دنیا کے سامنے پیش کیں۔ یہودی لوگوں یا غیرمسلموں کے خلاف اسلامی جنگ کچھ مختلف تھی لیکن حضرت محمد غیرمسلموں کے ساتھ ہمیشہ عزت کے ساتھ پیش آئے۔

پرویز بلوچ، بحرین: مکالمے کی بات ہوئی لیکن امریکی صدر جارج بش نے گیارہ ستمبر کے بعد صلیبی جنگ کا اعلان کردیا۔ عراق کے مسئلے میں مکالمے کو دور ہی رکھا گیا۔

اللہ دِتا، سویڈین: اسلام امن کا مذہب ہے۔ اسلام کے دور میں یہودی اور عیسائی ساتھ رہ رہے تھے۔ تینوں مذاہب میں امن کے لئے مکالمے کی ضرورت ہے۔

غلام نبی، جہلم، پاکستان: اسلام ایک امن پسند دین ہے، جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے۔ اور یہ تمام نبیوں کا تنہا دین ہے۔ تمام نبی اپنے آپ کو مسلم ہی کہتے رہے۔ تمام ادیان کے علماء کے درمیان مکالمہ اس وقت نہایت ضروری ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت جب کے سائنس عروج پر ہے پڑھے لکھے لوگ حقائق کی کھوج کے لئے بیتاب تمام آسمانی مذاہب کے علماء کو مل بیٹھ کر مکالمہ سائنسی انداز میں کرنا چاہئے۔

مقصود خورشید، امریکہ: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا جیسا کہ قرآن میں نازل ہوا: اقراء۔ یعنی اللہ کے پیغام کو دنیا تک پہنچاؤ۔ لہذا یہ لازمی ہے کہ ہمیں اس فرض کی ادائیگی کریں۔

صداقت خان، بلیک برن، انگلینڈ: اسلام میں، بلکہ دین ابراہیمی میں تمام انبیاء نے مکالمہ پر زور دیا ہے اور اپنا نظریہ پیش کر نے میں مکالمے کا سہارا لیا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ خودساختہ علماء نے مذہب کا ٹھیکہ لےلیا ہے۔ دانشور اور اہل علم حضرات بھی ان کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے ڈرتے ہیں۔

کامران خان، اسلام آباد: ان تینوں مذاہب کے درمیان مکالمے کی ضرورت ہے۔ بالخصوص تینوں مذاہب کے رہنما جیسے پوپ جان پال اور اسلامِک ریسرچ فاؤنڈیشن کے سربراہ ڈاکٹر ذاکر نائک جیسے لوگ مکالمہ کریں۔

ارسلان شریف، برطانیہ: ہاں، لیکن یہودی لوگوں سے امید نہیں۔

سید جاوید حیدر، امریکہ: مذاہب کے درمیان مکالمے کی گنجائش یقینا موجود ہے اور بالخصوص جب دیوارِبرلن کو ہم نے اپنی آنکھون کے سامنے گرتے دیکھا۔ مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ تینوں بڑے مذاہب کے نہ صرف پیروکار بلکہ لیڈر جیسے علامہ، پادری اور ربی اپنے اپنے مذہب کے لوگوں کو اس طرف مائل کریں۔ دنیا کا ہرمذہب انسانیت کی ہی تلقین کرتا ہے۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد