BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Tuesday, 17 February, 2004, 16:28 GMT 21:28 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
مذہب اور آپ
 
دنیا کے مذاہب میں تفریق کیوں؟
دنیا میں مذہب کی تاریخ بھی اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ انسانی ارتقا کی۔ اگرچہ اکیسویں صدی کے آتے آتے سائنسی ٹیکنالوجی اور دیگر جدید علوم کی وجہ سے مذہب کا انسانی زندگی میں کردار کم سے کم تر ہوتا جا رہا ہے۔

تاہم ایک رائے یہ بھی ہے دنیا میں بڑھتی ہوئی مادہ پرستی کی وجہ سے ہی مذہب کی اہمیت انسانوں کے لئے مزید بڑھ گئی ہے۔

مختلف طبقات اور فرقوں کے مابین مذہبی نظریات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف جہاں روحانیت کو مذہب کی روح رواں ٹھہرایا جاتا ہے تو دوسری جانب بنیاد پرستی اسے مذہب میں نئی جہتوں کے فروغ کا ذمہ دار قرار دے کر یکسر مسترد کرنے کے درپے ہے۔

اسلام کے علاوہ دنیا کے دیگر مذاہب بھی روحانیت اور بنیاد پرستی کی کشمکش سے دوچار ہیں۔

روحانیت اور بنیاد پرستی کی اس تاریخی کشمکش کے بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں؟ کیا مذہب اور روحانیت کو جدا کیا جانا چاہئے؟ آپ کے خیال میں مذہب میں روحانیت کو کیا درجہ حاصل ہونا چاہئے؟ کیا مذہب کا ریاست میں عمل دخل ہونا چاہئے؟ آپ کیا کہتے ہیں۔۔۔۔

آپ کے خیالات

یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔


طارق علی، کینیڈا: بلھیا، دل دا کیہ سمجھانا، ایدھروں پٹ کے اودھر لانا

محمد آصف، سڈنی: سمندر کو دیکھ کر اس کی گہرائی کا اندازہ لگانا ممکن نہیں ہوتا اس کے لئے اس میں اترنا ضروری ہوتا ہے۔ دنیا کا کوئی مذہب برے کام کو اچھا نہیں بتاتا۔ کوئی مذہبی یا اچھا کام کرنے سے ہی روحانی تسکین ملتی ہے۔ تب ہی محسوس کیا جا سکتا ہے کہ مذہب اور روحانیت کتنے لازمو ملزوم ہیں اور ان کا ریاست میں کتنا عمل دخل ہے۔

رضوان الحق، پیرس: مذہب زمین پر رہتے ہوئے معاشرے کے قواعدوضوابط بتاتا ہے اور یہ آپ کا ذاتی معاملہ ہوتے ہوئے بھی باقی لوگوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ روحانیت صرف ذاتی تعلق کا نام ہے جو انسان کو ایک روحانی جہان میں لے جاتا ہے اور وہیں اسے سکون واطمینان جیسی چیزیں ملتی ہیں۔ روحانیت اسے انسان ہونے کا شرف بخشتی ہے کیونکہ یہ صرف جانوروں کے پاس نہیں ہوتی۔

معاویہ عسکری، کراچی: ہر مذہب کی روح کے متعلق عقائد مختلف ہوتے ہیں صرف بعض باتیں ایسی ہیں جو دو تین مذاہب میں مشترک ہیں ورنہ ہر مذہب کے روحانیت کے متعلق خیالات مختلف ہیں۔

خدا دلوں میں
 روحانیت خدا کو جبار سے زیادہ رحمان دکھاتی ہے۔ روحانیت میں خدا دلوں میں رہتا ہے جب کہ مولوی حضرات کا خدا ساتویں آسمان پر ہے۔
 
خلیل انجم، کویت

عارف رشید، کینیڈا: دنیا کے تمام مذاہب خدا نے پیدا کئے ہیں اور وہی ان سوالات کا جواب دے سکتا ہے۔

ذیشان اجمل قریشی، ملتان: اسلام وہی ہے جو نبی نے دیا۔ اس میں ترمیم کر کے عبادت کے نت نئے طریقے ایجاد کرنے والے شعبدہ باز ہیں اور ان کی اندھی تقلید کرنے والے بھی عقل سے فارغ ہیں۔ یہ لوگ اپنی بزدلی کے باعث جہاد کی مخالفت کرتے ہیں اور اس کو روحانیت کا لبادہ پہنا کر خوش ہو جاتے ہیں۔

خانم سومرو، کراچی: مذہب اور روحانیت کو ہم لوگ الگ الگ نہیں کر سکتے کیونکہ روحانیت ہر مذہب سے جڑی ہوئی ہے اور ہر مذہب کی ایک روح ہے۔

خلیل انجم، کویت: روحانیت کے بغیر کوئی بھی مذہب ایسا ہی ہے جیسے روح کے بغیر جسم۔ جیسے روح کے بغیر جسم کی کوئی حقیقت نہیں، اسی طرح روحانیت کے بغیر مذہب کی بھی کوئی حقیقت نہیں۔ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے تو تاریخ گواہ کے اسے پھیلانے میں جو کام صوفی شعراء نے کیا وہ مولوی نہیں کرسکے کیونکہ روحانیت خدا کو جبار سے زیادہ رحمان دکھاتی ہے۔ روحانیت میں خدا دلوں میں رہتا ہے جب کہ مولوی حضرات کا خدا ساتویں آسمان پر ہے۔ روحانیت خلقِ خدا سے پیار کا نام ہے۔

محمد عامر خان، کراچی: روحانیت مذہب کی معراج ہے۔ جب کوئی روحانیت کی اصل روح کو پالیتا ہے تو اس کا اللہ تعالٰی سے براہِ راست رابطہ ہوجاتا ہے۔ مذہب کسی پر ٹھونسنے والی چیز نہیں ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اسلام لوگوں پر ٹھونسا نہیں گیا بلکہ لوگوں نے اس مذہب کو اپنی مرضی سے قبول کیا۔ بنیاد پرستی دورِ جدید کے ملاؤں کی پیداوار ہے۔ مذہب کے ذریعے ہم کسی بھی ملک کو نہیں چلا سکتے لیکن ایک ضابطہِ اخلاق ترتیب دے سکتے ہیں۔ دنیا میں ایسی بھی ریاستیں ہیں جہاں مذہب کا عمل دخل نہیں لیکن وہ پھر بھی اچھی ریاستیں مانی جاتی ہیں۔ ہمیں دوسرے مذاہب کے حقوق کا تحفظ کرنا پڑے گا جیسے دورِ نبوت میں ہوا۔

ارشد امتیاز، لاہور: میری نظر میں سب سے اہم چیز انسانیت ہے ، مذہب نہیں۔

محمد یاسر، مسی ساگا: میرے خیال میں روح سوفٹ ویئر کی طرح ہے جسم ہارڈ ویئر کی طرح اور مذہب چلانے والے کی طرح ہے۔ سو یہ تمام ایک دوسرے کے لئے ضروری ہیں۔ مذہب اور روحانیت کا ایک درمیانی راستہ صحیح سمت کی تلاش ہے۔

عبدلغفور، ٹورنٹو: میرا خیال ہے کہ روحانیت مذہب سے اگلا قدم ہے۔ دنیا میں زیادہ تر لوگ کسی نہ کسی مذہب سے متعلق ہیں لیکن ان میں سے تمام لوگ روحانی طور پر اس مذہب میں شامل نہیں ہیں۔ مذہب کا کسی ملک کے چلانے میں کوئی عمل دخل نہیں ہونا چاہئے۔ آج دنیا اس دنیا سے بالکل مختلف ہے جو یہ صدیوں قبل ہوا کرتی تھی جب زیادہ تر مذاہب متعارف کروائے گئے تھے۔ ہم ان قدیم اصول و ضوابط سے اب ملک نہیں چلا سکتے۔

عبدالہادی، کرغستان: روحانیت کی ایک حقیقت یہ ہے کہ ایسی حقیقت جسے ابھی تک سائنس نے ثابت نہ کیا ہو اور یہی مذہب کا حصہ ہے مثلاً کبھی قیامت کا تصور صرف ایک روحانی عقیدہ تھا مگر اب توانائی کے وقت کے ساتھ ساتھ منقطع ہوجانے تصور سائنس نے بھی تسلیم کر لیا ہے۔ اگر کوئی مذہب صرف اخلاقی اقدار کا مجموعہ نہیں اور اس میں ایک اچھے معاشرے کے لئے کے لئے قانون سازی کے اصول موجود ہیں تو ایسے مذہب کا ریاست میں پورا عمل دخل ہونا چاہئے۔

باقی سب سانس کی ورزشیں
 روحانیت صرف اسلام میں ہے۔ باقی سب سانس کی ورزشیں تو ہو سکتی ہیں، روحانیت ہر گز نہیں۔
 
حیدر رند، ٹھٹھہ

ندیم خان، ملتان: مذہب روحانیت کا راستہ ہے۔ انسان نے ہمیشہ خالق کو ڈھونڈھ مگر پا نہ سکا۔ مذہب نے بھی اس پہلیلی کو بوجھنے کی کوشش کی۔ اس لئے روحانیت پر ہی چلنا چاہئے۔

حیدر رند، ٹھٹھہ: روحانیت صرف اسلام میں ہے۔ باقی سب سانس کی ورزشیں تو ہو سکتی ہیں، روحانیت ہر گز نہیں۔

عبداللہ خان، کراچی: روحانیت کی ضد یقینی طور پر مادیت ہے۔ نام نہاد ’انتہا پسند‘ کہیں نہیں کہتے کہ روحانیت علیحدہ ہے۔ لیکن یہ بھی کچھ قوانین کے تحت ہوتی ہے اور اسی صورت میں اسلامی کہلا سکتی ہے اگر اس کے ذریعے خدا اور اس کی مخلوق سے محبت کے حصول میں اپنی ذات کو سخت تربیت کے مراحل سے گزارا جائے اور وہ صرف اسلام اور امن سے ہی حاصل ہوسکتا ہے۔

زاہد صدیقی، گجرانوالہ: مذہب اور روحانیت دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ روحانیت ایکتا کا پیغام دیتی ہے جب کہ مذہب دوئی پیدا کرتا ہے۔

بلال خان، کراچی: اصل چیز روحانیت ہی ہے، اس کو اسلام سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اسلامی ریاست اسلام کے بغیر چل ہی نہیں سکتی۔ جو لوگ چاہتے ہیں کہ اسلام کو ریاست سے الگ کر دیا جایے وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔

وجیہہ الدین، ٹھٹھہ: مذہب میں ہی روحانیت ہے۔ اللہ کی عبادت سے ہی روحانیت ملتی ہے نہ کہ غیرشرعی کام کرکے۔ اسی طرح سیاست بھی مذہب سے تعلق رکھتی ہے۔ خلیفہِ وقت خلیفہ اور امام بھی ہو تو بہت اچھا ہے۔

غلام فرید عطاری، لاہور: ہر شخص کے لئے مذہب پر کاربند رہنا ضروری ہے۔ اللہ تعالٰی نے اسی لئے انبیاء بھیجے۔ جو بندہ جتنا زیادہ مذہب پر عمل کرتا ہے، اس میں روحانیت اتنی زیادہ آجاتی ہے۔

ناکامیوں سے بچنے کا سہارا
 دین ہمیشہ سے ایک ہے اور جو لوگ اس کے راستے پر نہیں چلتے وہ دنیاوی ناکامیوں سے بچنے اور مٹنے کے لئے روحانیت اور مذہب کا سہارا ڈھونڈھتے ہیں
 
شاہد حسین، ٹورنٹو

شاہد حسین، ٹورنٹو: اللہ نے اج تک دنیا میں لاکھوں رسول بھیجے لیکن اس کا دین ہمیشہ سے ایک ہے جو انسان کو معاشرتی، مادی اور دنیاوی زندگی میں کامیابی کا راستہ دکھاتا ہے اور یہی بالآخر آخرت میں کامیابی سے بھی ہمکنار کرتا ہے۔ جو لوگ اس راستے پر نہیں چلتے وہ دنیاوی ناکامیوں سے بچنے اور مٹنے کے لئے روحانیت اور مذہب کا سہارا ڈھونڈھتے ہیں جس کا ہمہ گیر سچائیوں اور انٹلیکٹ سے کوئی تعلق نہیں۔

سعید خٹک، نوشہرہ: مادیت کی لعنت کا موجودہ عہد کا مذہب مقابلہ نہیں کر سکتا، خواہ وہ روحانیت ہو یا صوفی ازم۔ میں اسے مجموعی طور پر دیکھنا ہوگا کہ کوئی ایک اعتقاد یہ ضابطہ تمام انسانیت کے مسائل حل کر سکتا ہے یا نہیں۔ بنیاد پرستی اور روحانیت کے تصادم میں کوئی حقیقت نہیں ہے کیونکہ دونوں ہی ایک قابلِ عمل اور سودمند ریاست اور حکومت کا حل ڈھونڈنے میں ناکام رہے ہیں۔ جب ہم کہتے ہیں کہ مذہب ہمارے حال اور مستقبل کے تمام مسائل کا حل ہے تو پھر اسے اور ریاست کو جدا کرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ جب ہم ایک ایسے منصفانہ اور روادار معاشرے کی تشکیل دینے میں کامیاب ہو جائیں گے جس کی تعلیم ہمارے مذہب نے دی ہے تو ریاست اور مذہب میں کوئی تصادم پیدا نہیں ہوگا۔

ملک طارق محمود، سیالکوٹ: روحانیت اضافی ہے۔ مذہب روحانیت سے متعلق نہیں۔

کاشف محمود بنگی، کویت: یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام واحد مذہب ہے جس میں روح اور جسم کی حدود میں مکمل ہم آہنگی ہے۔ نہ تو اسلام رہبانیت کی تعلیم دے کر جسم کی خواہشات کو مجروح کرتا ہے اور نہ ہی جسم کی من مانی کو تسلیم کرتے ہوئے عریانی، فحاشی اور بے ادبی کا راستہ کھولتا ہے۔

سعید خٹک، نوشہرہ: روحانیت اور مذہب ایک دوسرے سے الگ الگ چیزیں ہیں لیکن آپ ان کو جدا نہیں کر سکتے۔ اگر آپ مذہب پر سختی سے کاربند ہیں تو یہی روحانیت اور اللہ اور اس کے رسول سے قربت کا راستہ ہے۔ ریاست میں مذہب کا عمل دخل ہونا چاہئے ورنہ آنے والی نسلیں اس جدید ٹیکنالوجی کے زمانے میں جہاں ہر قدم پر عریانی اور فحاشی ہے، مذہب کو بھول جائیں گی۔

عمران گھمن، امریکہ: جب تک ہر مذہب کے مولوی مذہب کے نام پر دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کا خون بہانا بند نہیں کریں گے تب تک دنیا میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ اس صدی کی سب سے بڑی لعنت ہر مذہب کے انتہا پسند مولوی ہیں۔ اگر اس دنیا کو امن و سکون کا گہوارہ بنانا ہے تو ہمیں سب سے پہلے ملائیت سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا۔

مذہب اور روحانیت فرق ہے
 مذہب حدود متعین کرتا ہے جب کہ روحانیت انسان کو معاشرے کی طرف اپنے نقطہ نظر میں ذمہ دار، روادار اور سیکولر بناتی ہے۔
 
عبدالشکور رانا، لاہور

عبدالشکور رانا، لاہور: یقیناً مذہب اور روحانیت میں بہت فرق ہے۔ مذہب میں اس کا ذریعہ باہر اور روحانیت میں فرد کے اندر ہوتا ہے۔ مذہب حدود متعین کرتا ہے جب کہ روحانیت انسان کو معاشرے کی طرف اپنے نقطہ نظر میں ذمہ دار، روادار اور سیکولر بناتی ہے۔

رانا نجم مشتاق، ہانگ کانگ: مذہب کو روحانیت سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ ہر ریاست میں تمام مذاہب کو مکمل آزادی ہونی چاہئے اور کسی بھی ریاست کو مذہبی انتہا پسندی کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔

اظفر شیخ، دمام: روحانیت اور بنیاد پرستی کا تعلق ایک اچھے پیروکار کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور دوسرے مذاہب کو بھی مکمل آزادی دیتا ہے۔ دہشت گرد جن کے لئے مغرب بنیاد پرست کی غلط اصطلاح استعمال کرتا ہے، ہر مذہب میں ہوتے ہیں اور اپنے اپنے مذہب کی غلط تشریح کرتے ہیں کیوں کہ کوئی بھی مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا۔

طارق زمان، بنوں: جـدا ہو دیں سے سیاست تو رہ جاتی ہے چنگیزی

آفتاب اعوان، کراچی: اسلام میں روحانیت کوئی مختلف چیز نہیں۔ اسلام روحانیت کا درس دیتا ہے اور نماز روحانیت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اسلام میں روحانیت ہی سب کچھ ہے اور سکون ہی سکون ہے۔

آصف علی، ٹنڈو محمد خان: زندگی روحانیت کا راستہ ہے اور روایت مذہب ہے۔

سمجھ نہیں آتا
 دنیا کے تقریباً تمام مذاہب ہی محبت اور امن کا پیغام دیتے ہیں۔ سمجھ نہیں آتا کہ پھر کیوں مختلف مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوتے ہیں۔
 
ثاقب محمود، مونٹریال

ثاقب محمود، مونٹریال: دنیا کے تقریباً تمام مذاہب ہی محبت اور امن کا پیغام دیتے ہیں۔ سمجھ نہیں آتا کہ پھر کیوں مختلف مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوتے ہیں۔ برائی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، اگر ہر شخص خود بھی اچھے کام کرے اور دوسروں کو بھی اس کت تلقین کرے تو کوئی شک نہیں کہ دنیا امن کا گہوارہ بن جائے۔

ندیم شہزاد، شارجہ: میرے خیال میں روحانیت کی بنیاد مذہب پر ہے۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد