BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Friday, 16 July, 2004, 16:00 GMT 21:00 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
فحاشی آخر ہے کیا؟ آپ کی رائے
 
’معیاری‘ اور ’غیرمعیاری‘ تھئیٹر کیسے طے ہوگا؟
’معیاری‘ اور ’غیرمعیاری‘ تھئیٹر کیسے طے ہوگا؟
لاہور کے تماثیل تھئیٹر میں چلنے والے ڈرامہ ’کھلی چھٹی‘ پر محکمہ داخلہ کے حکم پر ضلعی حکومت نے پابندی لگادی ہے۔ ڈرامہ پر سکرپٹ سے ہٹ کر مکالمے بولنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

یہ لاہور میں گزشتہ دو ہفتوں کے دروان چوتھا ڈرامہ ہے جسے بند کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے محفل ، الفلاح اور کراؤن تھئیٹر کے ڈراموں پر مبینہ طور پر فحش مکالمے اور بے ہودہ رقص دکھانے کے الزام میں پابندی لگائی گئی تھی۔

پچھلے دو برس میں حکومت اور تھئیٹر پیش کرنے والوں کے درمیان آنکھ مچولی جاری ہے۔ حکومت کا اصرار ہے کہ وہ تھیئٹر کے نام پر ملکی و قومی اقدار کو تباہ کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دے گی۔ فنکاروں کا کہنا ہے کہ کمرشل تھئیٹر میں وہی کہا اور دکھایا جا رہا ہے جو لوگ سننا اور دیکھنا چاہتے ہیں۔

کیا تھئیٹر واقعی فحاشی پھیلا رہا ہے اور اگر ایسا ہی ہے تو یہ اتنا مقبولِ عام کیوں ہے؟ کیا حکومت ایسی پابندیوں کے ذریعے تھئیٹر کو بہتر بنانے میں کامیاب ہوسکتی ہیں؟ یہ کون طے کرے گا کہ ’معیاری‘ اور ’غیرمعیاری‘ تھئیٹر کیا ہے؟ آپ کا ردِّ عمل

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں


ہمایوں ارشد، کراچی:
فحاشی کے لئے صرف تھیٹر کو موردالزام ٹھہرانا مناسب نہیں، عوام بھی برابر کے ذمہ دار ہیں۔

بھارتی چینلز
 فحاشی کو بند کرنا ہے تو سب سے پہلے بھارتی فلموں اور چیینلز کو بند کیا جائے۔
 
نادر نوہانی، قطر

عارف جبار قریشی، عمر کوٹ، پاکستان:
پاکستان ایک اسلامی ملک ہے۔ یہاں پر اس قسم کی بے ہودہ چیزوں کی بالکل گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ لہذا حکومت جو کچھ کر رہی ہے، بالکل ٹھیک کر رہی ہے۔

راحت علی، فیصل آباد:
فحاشی انسان کے دماغ کے اندر ہوتی ہے۔

اشتیاق احمد، گجرات:
جنس نوجوان نسل کے لئے انتہائی خوبصورت چیز ہے۔

آفتاب سید، ٹیکسلا:
میرے خیال میں اسے بند ہونا چاہیے۔ چند لوگوں کی تفریح کے لئے ساری نوجوان نسل کو تباہ نہیں کرنا چاہیے۔ حد سے زیادہ آزادی کی نہ تو اسلام میں اجازت ہے اور نہ ہی اس کی حکومت کو اجازت دینی چاہیے۔

شبلی، جاپان:
رقص مادھوری کرے تو بہت اچھی لگتی ہے اور وہی رقص اگر ریشم یا ریما وغیرہ کریں تو کیوں بری لگتی ہیں۔ مادھوری کے اندر پاکیزگی لگتی ہے اور ریشم یا ریما کے اندر بےہودگی لگتی ہے۔

نادر نوہانی، قطر:
فحاشی کو بند کرنا ہے تو سب سے پہلے بھارتی فلموں اور چیینلز کو بند کیا جائے۔

خوبصورت چیز
 جنس نوجوان نسل کے لئے انتہائی خوبصورت چیز ہے۔
 
اشتیاق احمد، گجرات

عمران، راولپنڈی:
پاکستان میں تھیٹر کے نام پر بے ہودہ مکالمے اور گانے دکھائے جاتے ہیں جس کے وجہ سے نوجوانوں کا نہ صرف ذہن خراب ہو تا ہے بلکہ ان کا وقت بھی ضائع ہوتا ہے۔

سہیل سراج، صادق آباد:
ہمارے ملک کا نام اسلامی جمہوریہ ہے۔ ہمیں صاف ستھرے ڈرامہ بنانے چاہیئں
جن میں فحاشی نہ ہو۔

اویس محمد، جرمنی:
یہ حکومت سب سے بڑا ڈرامہ ہے۔ پاکستان میں کیا کچھ نہیں ہو رہا۔ یہ سب بڑے لوگ ہوٹلوں میں کیا کر تے ہیں جہاں کیا کچھ نہیں ملتا۔ کیا حکومت کو معلوم نہیں؟

عمر میاں، لاہور، پاکستان:
کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ اللہ والوں کا دل اللہ کے ذکر سے نرم ہو-- قران

اکمل خان، الخوبر، سعودی عرب:
آپ وقت ضائع کر رہے ہیں۔ پہلے معیار تعلیم کو تو دیکھیں۔ اس معیار کے ساتھ قوم تھئیٹر اور ڈراموں سے کیا توقع رکھ سکتی ہے۔

رقص
 رقص مادھوری کرے تو بہت اچھی لگتی ہے اور وہی رقص اگر ریشم یا ریما وغیرہ کریں تو کیوں بری لگتی ہیں؟
 
شبلی، جاپان

فاران خان، ڈیرہ اسماعیل خان، پاکستان:
پاکستانی معاشرے کے دوہرے معیار ہیں۔ اگر کوئی امیر کرے تو ٹھیک ہوتا ہے اور کوئی غریب اپنی تفریح کے لیے وہی کام کرے تو وہ فحاشی کہلاتا ہے۔

فدا احمد بلوچ، ناصرآباد، پاکستان:
اس ملک میں ہر وقت فحاشی فحاشی کا رونا رویا جاتا ہے۔ آخر فحاشی کا معیار کیا ہے؟

حبیب رحمان، کوئٹہ، پاکستان:
اصل فحاشی اور عریانی ذہن میں ہوتی ہے۔ تھئیٹر اور فلم میں کوئی فحاشی نہیں ہوتی۔ کون کہتا ہے کہ اچھل کود عریانی ہے۔ جمہوریت بھی تو یہی ہے کہ جو جس کی مرضی ہے کرے، جس کا جو جی چاہے وہ دیکھے، جس نے مسجد جانا ہے وہ مسجد جائے اور جس نے میکدے جانا ہے وہ میکدے جائے۔

ساجد گوندل، سیالکوٹ، پاکستان:
حکومت کو ایسے اقدام اٹھانے چاہیں کہ تھئیٹر کے لوگ اور فنکار بھی متاثر نہ ہوں اور اچھی قسم کا ڈرامہ بھی میسر ہو سکے۔

سلیم شجاع، مینگورا، پاکستان:
مختلف معاشروں کے فحاشی کے بارے میں مختلف تصورات ہوں گے۔ ہمارے ہاں تھئیٹر اب اس قابل نہیں رہا کہ لوگ پورے خاندان کے ساتھ اسے دیکھ سکیں۔ کسی قانون سے کسی برائی کو روکنے سے بالکل ضروری نہیں کہ برائی کی جگہ اچھائی لے گی۔ بلکہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کی جگہ ایک اور برائی لے لے۔ تھئیٹر کی دنیا میں موجود لوگ اس قابل نہیں کہ وہ اس کی بہتری کے لیے کچھ کر سکیں وہ تو بس پیسہ کمانا جانتے ہیں۔ شاید ضیا محی الدین جیسے لوگ بتا سکتے ہیں کہ ہمارا تھئیٹر معیاری ہے یا غیر معیاری۔

قانون اور برائی
 کسی قانون سے کسی برائی کو روکنے سے بالکل ضروری نہیں کہ برائی کی جگہ اچھائی لے گی
 
سلیم شجاع، مینگورا، پاکستان

آمر اور آشر، بہاول نگر، پاکستان:
یہ اس مسئلے کا حل نہیں۔ تھئیٹر کے علاوہ اور ذرائع بھی تو ہیں جو فحاشی پھیلا رہے ہیں۔

ضیا نیازی، نوٹنگھم، برطانیہ:
فحاشی کو اس شعر سے سمجھ سکتے ہیں:
’آغاز جوانی ہے ذرا جھوم کے چلتے ہیں
دنیا سمجھتی ہے کچھ پی کر نکلتے ہیں‘

طاہر طاری، لاہور، پاکستان:
میرے خیال میں فحاشی کا تعلق کپڑوں سے نہیں۔ اصل مسئلہ ان گندی جگتوں اور فحش حرکات کا ہے جو تمام بڑے فنکار پیسے کمانے کے لیے کرتے ہیں۔ اگر موجودہ تھئیٹر میں کچھ مثبت تبدیلیاں لائی جائیں تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔

تنویر احمد، فیصل آباد، پاکستان:
فحاشی کو ایک جگہ ہی رہنے دیا جائے۔ پابندی لگانے سے یہ ہر طرف پھیلے گی جیسا کہ لاہور کی ہیرا منڈی کے ساتھ ہوا تھا۔ جس چیز کو زیادہ دبائیں گے وہ اتنے ہی زیادہ زور کے ساتھ ابھرے گی۔فیصلہ عوام پر چھوڑنا چاہیے۔

خالد محمود، چکوال، پاکستان:
فحاشی سوسائٹی کو خراب کرتی ہے اس لیے اسے بند ہونا چاہیے۔ لیکن یہ بھی ذہن میں رہے کہ پاکستان میں تھئیٹر تفریح کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

شفیع خان، ملائشیا:
جو بھی ہے اچھا ہے۔ ہمیں تو بس ڈرامہ چاہیے۔

ذوالفقار علی، جدہ، سعودی عرب:
اصلاح ضروری ہے مگر ڈرامہ بند نہیں ہونا چاہیے۔ ان فنکاروں پر پابندی لگانی چاہیے جو فحاشی پھیلاتے ہیں۔

گل فضل ایاز خان، پشاور، پاکستان:
تھئیٹر کیا چیز ہے یہ آپ پشاور جا کر دیکھ لیں تو حیران ہو جائیں گے۔ یہاں پر سنیما گھروں میں تو صرف بالغوں کی فلمیں ہی چلائی جاتی ہیں۔ لیکن ان کے مالکوں سے کون پوچھ سکتا ہے۔

کوٹھی میں کلچر
 بقول جسٹس کرنیلیس مرحوم ’رقص کوٹھی پہ ہو تو کلچر، کوٹھے پر ہو تو مجرا اور غریب کے گھر ہو تو فحاشی ہے‘۔
 
عبدل علیم،جاپان
عبدل علیم،جاپان
بقول جسٹس کرنیلیس مرحوم ’رقص کوٹھی پہ ہو تو کلچر، کوٹھے پر ہو تو مجرا اور غریب کے گھر ہو تو فحاشی ہے‘۔

غلام حسین انجم، ٹورنٹو، کینیڈا:
اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ یہ صوبائی حکومت کی تماش بینی ہے۔

ارشد محمود، جرمنی:
ڈرامے میں فحاشی نہیں ہونی چاہیے لیکن بھارتی فلموں اور انٹرنیٹ پر فحاشی نہیں ہے۔

نومی، کراچی، پاکستان:
کیا حکومت سنجیدگی سے حالات بہتر کرنا چاہتی ہے؟ ہر کوئی جانتا ہے کہ تمام بیوروکریٹس، پولیس اور سرکاری افسران اور سیاست دان تھئیٹر میں کام کرنے والی لڑکیوں سے تعلقات استوار کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جو مذاحمت کرتی ہیں یا ان کے ناموں کو عام کرنے کی دھمکی دیں تو ان کو مختلف حربوں سے تنگ کیا جاتا ہے۔

ساغر اعوان، کوریا:
تھئیٹر اچھا ہے بس آپ کنٹرول کر سکتے ہیں تو ڈائیلاگ کریں۔ لطیفے ایسے ہونے چاہیں جو پورے خاندان کے ساتھ سن سکتے ہوں۔ حکومتی اہلکار تو اپنے حصّے کے لیے چھاپے مارتے رہتے ہیں۔

جاوید، جاپان:
قدرت کو جنت کا کوٹہ بھی پورا کرنا ہے اور جہنم کا بھی۔ فحاشی روکنے کے لئے حکومت کو روزگار فراہم کرنا ہوگا، جب کچھ نہ ہو تو انسان کیا کرے؟ نام تو اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے لیکن جب سے ملک بنا ہے جتنی حکومتیں آئیں انہیں اپنا مفاد عزیز رہا۔

نامعلوم، جرمنی:
میرا خیال ہے کہ ایک طرف مسجد ہونی چاہئے اور دوسری طرف ڈسکو۔ جس کا جدھر جی چاہے، چلا جائے۔

علی محمد، بیلجیئم:
اگر کوئی اپنا پیسہ خرچ کرکے فحاشی ہی دیکھنا چاہتا ہے تو کسی کو کیا اعتراض ہے۔ مجھ خاص طور پر ان لوگوں پر حیرت ہوتی ہے جو مغرب سے دولت سمیٹتے ہیں اور تنقید کرتے ہیں۔ اسے کہتے ہیں کہ جس کا کھانا اسی پر غرانا۔

اجمل بٹ، پاکستان:
میرا خیال ہے کہ یہ لوگوں کی تفریح کا حصہ ہے۔ مذہب لوگوں کے اعتقادات پر مشتمل ہوتا ہے اور اس کا اس سے کوئی تعلق نہیں کہ لوگ کیسے تفریح حاصل کرتے ہیں۔ ہاں کیا دکھایا جائے اسے ضرور قانون کی حد میں ہونا چاہئے۔

فیضان الحق، شاہدرہ، لاہور:
میرے خیال سے یہ بند ہونا چاہئے کیونکہ عوام کو جو دکایا جائے وہ اسی پر چل پڑتے ہیں۔ اگر ہم اسلام پر عمل نہیں کر سکتے تو کم از کم اسے خراب بھی نہ کریں۔

خلیل جان، کراچی:
حکومت کو چاہئے کہ پہلے اپنے ارکان کو روکے اور تھئیٹروں کو بند کرے۔

سید حماد بخاری، پاکستان:
برائی تو برائی ہی ہے چاہے کھلے عام کی جائے یا چھپ کر۔ پاکستان جیسے اسلامی ملک کو برائی کا تماشا کھلے عام اور گھر گھر پیش نہیں کرنا چاہئے جیسےکیبل اور ٹی وی کے ذریعے۔

جاوید اقبال جدون، پاکستان:
مجھے تو ٹی وی ڈرامے پسند ہیں۔

برائی کی کشش
 جہاں تک مقبولِ عام ہونے کا تعلق ہے تو یہ اس لعنت کے جائز ہونے کی دلیل نہیں۔ برائی میں کشش تو ہوتی ہے۔ تھئیٹر سے ہٹ کر یہ وباء اب کیبل اور سی ڈی کی شکل میں گھر گھر پہنچ چکی ہے۔
 
رانا شاہد محمود، فیصل آباد

رانا شاہد محمود، فیصل آباد:
جہاں تک مقبولِ عام ہونے کا تعلق ہے تو یہ اس لعنت کے جائز ہونے کی دلیل نہیں۔ برائی میں کشش تو ہوتی ہے۔ تھئیٹر سے ہٹ کر یہ وباء اب کیبل اور سی ڈی کی شکل میں گھر گھر پہنچ چکی ہے۔ یقین جانئے کہ کوئی بھی غیرت مند انسان اپنے خاندان حتیٰ کے بیوی کے ساتھ بیٹھ کر بھی وہ سب دیکھ اور سن نہیں سکتا جو تھئیٹر کے نام پر کیا جا رہا ہے۔

نواز جان، بلوچستان، پاکستان:
فحاشی تھئیٹ سے شروع ہوتی ہے لیکن پاکستان میں ہر جگہ ہے۔ پنجاب میں یہ اس لئے زیادہ ہے کہ وہاں تھئیٹر زیادہ ہیں۔

سنی خان، پشاور:
یار یہ فحاشی کبھی بھی ختم نہیں ہوسکتی جب تک ہیرا منڈی موجود ہے۔

فائق سید، اسلام آباد:
اسے پہلے ہی روکا جانا چاہئے تھا۔ اب تو بہت دیر ہوچکی۔

نوید، اچھرہ، لاہور:
خصوصی درخواست ہے کہ پلیز میڈم نرگس کو کھلی چھٹی دے دیں۔

عمران خان، پاکستان:
ڈراموں پر پابندی کبھی بھی نہیں ہونی چاہئے کیونکہ ان کی وجہ سے انسان ریلیکس ہوتا ہے اور تفریح بھی ہوجاتی ہے۔

طارق محمود، پاکستان:
حکومت کو اس طرح کے تھئیٹر شو بند کرنے کے لئے ضروری اقدامات لینے چاہئیں۔ ان میں سے نوے فیصد سکرپٹ فحاشی سے بھرے ہوتے ہیں۔

ذوالفقار علی، لاہور:
میرے لئے فحاشی کا مطلب ریفریشمنٹ ہے جو آپ اپنے خاندان اور بیٹا، بیٹی کے ہمراہ بیٹھ کر نہیں دیکھ سکتے۔

اعجاز، فیصل آباد، پاکستان:
میں اسی لئے ٹھئیٹر کو پسند نہیں کرتا کہ اس میں برا رقص، برے مکالمے ہوتے ہیں اور تھکا ہوا ایکشن ہوتا ہے۔

سید راشد، کراچی، پاکستان:
میرا خیال ہے کہ اس لئے تھئیٹر اور اداکاروں پر پابندی لگائی گئی ہے کہ انہوں نے بھتہ نہیں دیا ہوگا ورنہ کون سا میڈیا ایسا ہے جو فحاشی نہیں پھیلا رہا۔ اب تو پی ٹی وی بھی ناچ گانا دکھانے پر اتر آیا ہے۔ آپ کیبل پر رات کے بارہ بجے تک انتظار کریں اور پھر دیکھیں تماشا فحاشی کا۔ ہر ہوش مند جانتا ہے کہ فحاشی صرف تھئیٹر ہی نہیں پھیلا رہا بلکہ جسے بھی بھتہ دینا پڑتا ہے وہ بھی پھر اپنے پیسے پورے نکالتا ہے بلکہ منافع کے ساتھ۔

فحاشی انسان کے اندر
 جہاں تک فحاشی کا تعلق ہے تو یہ انسان کے اپنے اندر ہوتی ہے، کسی کے لباس اتار دینے سے فحاشی نہیں بن جاتی۔ جہاں تک حکومت کا تعلق ہے تو اس کی تو پالیسی ہی دوہری ہے۔
 
کنول زہرہ، لاہور، پاکستان

کنول زہرہ، لاہور، پاکستان:
تھیئٹر میں رقص کا دیکھنا یا دکھانا کوئی بری بات نہیں اور جہاں تک فحاشی کا تعلق ہے تو یہ انسان کے اپنے اندر ہوتی ہے، کسی کے لباس اتار دینے سے فحاشی نہیں بن جاتی۔ جہاں تک حکومت کا تعلق ہے تو اس کی تو پالیسی ہی دوہری ہے۔ بڑے ہوٹلوں اور کلبوں میں بھی چھاپے پڑنے چاہئیں کہ وہاں بھی یہ سب ہوتا ہے۔ دوسرا حکومت کو خود سرکاری سطح پر ڈرامے شروع کرنے چاہئیں تاکہ پتہ چلے کہ کتنے لوگ اس کا ڈرامہ دیکھنے آتے ہیں۔

کیعان غنی، کراچی، پاکستان:
تھئیٹر آرٹ کی ایک شکل ہے۔ ہمیں خالص فنکار چاہئیں نہ کہ ان پڑھ لوگ جو ہمارے ملک کا امیج خراب کر رہے ہیں۔

سفیر حسین، فیصل آباد، پاکستان:
یہ سچ ہے کہ تمام پاکستان کے تھئیٹر، خاص طور پر پنجاب میں بہت برے معیار کے ڈرامے پیش کرتے ہیں جن میں کوئی مرکزی خیال اور کہانی نہیں ہوتی اور صرف بیہودگی سے بھرے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے پروڈیوسر ایسے کامیڈی ڈرامے پیش کر سکتے ہیں جن میں اچھی تفریح مہیا کی جائے۔

رانا سرور، لاہور، پاکستان:
تھئیٹر میں اداکاری بیہودگی نہیں ہوتی اور حکومت کو اسے بند کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ محرومی کے شکار افراد لذت حاصل کرنے کے لئے ہی ٹکٹ خریدتے ہیں۔ حکومت کو لچک کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔

کاشف الصحاف حسن، کراچی:
میرا خیال ہے کہ پاکستان میں ہائیڈ پارک یا کوئی علیحدہ جگہ ہونی چاہئے جہاں سے شرفاء گریز کرسکتے ہیں لیکن جہاں جنسی محرومی کے شکار افراد تفریخ حاصل کر سکیں اور اپنی ٹینشن سے چھٹکارا حاصل کرسکیں۔ اس جگہ پر تھئیٹر وغیرہ ہونے چاہئیں۔ گندگی کو معاشرے میں پھیلانے سے بہتر ہوتا ہے کہ اس کے لئے علیحدہ سے ایک کونا مختص کردیا جائے۔ آج ہماری خواب گاہوں تک پر عریانی سیٹلائٹ چینلز کے ذریعے حملہ آور ہوگئی ہے اور ہم اس سے تفریح حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔

عفاف سہیل، کینیڈا:
میرے خیال میں تھیئٹر بےحیائی کا دوسرا نام ہے۔ اگر حکومتِ پاکستان اسے روکنے کے لئے اقدام نہیں کرتی ہے تو وہ دن دور نہیں جب اس ملک میں اسلامی کلچر محفوظ نہیں رہے گا۔ میں حکومتِ پاکستان سے درخواست کرتا ہوں کہ اس بےحیائی کو روکنے کی کوشش کرے۔

لونگین خان، ٹورانٹو:
جس ملک کی اداکاری ہی ہیرامنڈی سے آتی ہے وہاں پہ آپ فحاشی ختم کرنے کا سوچئے بھی مت۔

سعود صدیقی، پینسِلوانیا:
ہم پاکستان میں سب کچھ تو دوسروں کا فولو کرتے ہیں، اگر تھیئٹر میں آزادی دکھتی ہے تو کیا فرق پڑتا ہے؟ زبردستی تو کسی کو دیکھنے پر مجبور کیا نہیں جارہا ہے؟ وہ ٹکٹ لیکر آتے ہیں جو دیکھنا چاہتے ہیں وہی دیکھتے ہیں۔ معیار غیرمعیاری نہیں ہوتا انٹرٹنمنٹ میں، انسان وہی پِک کرتا ہے جو دیکھنا اور سننا چاہتا ہے۔

صلاح الدین لنگا، جرمنی:
ہاں جی، فحاشی پھیل رہی ہے۔ وہ تو حکومت کا بھلا جو اس نے سوسائٹی کی بھلائی اور اسلام کی خاطر کیبل، انڈین پائیریٹیڈ فلم، انگش فلم ان سنیما اور کیبرے کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ میڈ ان پاکستان فلم بھی اسلام کی خوب خدمت کررہے ہیں۔

بابر راجہ،جاپان:
میرے خیال میں تھیئٹر تو ایک جگہ ہے جہاں فحاشی اور نازیبا مکالمے بولے جاتے ہیں۔ مگربدقسمتی سے اس کو ریلیز کرکے پوری دنیا کے لوگوں کو یہ تماشہ نہ دکھایا جائے۔ میری حکومت سے درخواست ہے وہ ڈرامے ریلیز نہ کریں۔

لیاقت علی، امریکہ:
مجھے تھیئٹر پسند ہے لیکن میں اس طرح کا تھیئٹر پسند نہیں کرتا۔ ہم نے لاہور اور کراچی میں کافی سنجیدہ اور مقاصد سے بھرپور تھیئٹر گروپ دیکھے ہیں۔ بدقسمتی سے اس طرح کا تھیئٹر دیکھنے والے کم ہیں۔ مجھے کوئی وجہ نہیں دکھائی دیتی کہ عورتیں سیریئس تھیئٹر میں کیوں نہیں کام کرسکتیں۔ ماں، بہن، بیوی کے علاوہ عورت کے متعدد کردار ہیں۔

ہمارا معاشرتی تضاد
 ہمارا معاشرہ دوغلےپن کا شکار ہے۔ کبھی ہم اسلامائزیشن میں پناہ ڈھونڈتے ہیں تو کبھی، جب ہمارے مفادات پر زد لگتی ہے تو آزاد سوسائٹی ہمارا آئیڈیل ہوتی ہے۔ اور یوں ہم شخصی آزادی کی بات کرنے لگتے ہیں۔
 
اسد حسن، اسلام آباد

اسد حسن، اسلام آباد:
ہمارا معاشرہ دوغلےپن کا شکار ہے۔ کبھی ہم اسلامائزیشن میں پناہ ڈھونڈتے ہیں تو کبھی، جب ہمارے مفادات پر زد لگتی ہے تو آزاد سوسائٹی ہمارا آئیڈیل ہوتی ہے۔ اور یوں ہم شخصی آزادی کی بات کرنے لگتے ہیں۔ موجودہ تھیئٹر اگرچہ حدوں سے نکلتی دکھائی دیتی ہے لیکن عوام تو اپنی فیملی کے ساتھ بیٹھ کر سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔ آپ سوسائٹی کو ٹھیک کر لیں تھیئٹر خود ٹھیک ہوجائے گی۔ فنکاروں کی پکڑ دھکڑ ٹھیک نہیں ہے۔

عمر سلیم، لاہور:
حکومت جو بھی کررہی ہے، بالکل ٹھیک کررہی ہے۔ دولت کے بھوکے، پیسے بنانے کے لیے کچھ بھی کر گزرتے ہیں۔ اور ہم پاکستانی ’شریف‘ لوگوں سے پیسے جمع کرنے کا اس سے اچھا طریقہ اور کوئی نہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ راگ کے کچھ اصول ہوتے ہیں۔ مگر اصل میں عورت کو ایسے کاموں کی اجازت ہی نہیں ہے۔

ساجد حسین، گجرانوالہ:
یا تو حکومت تھیئٹر میں سے ڈانس کا مکمل خاتمہ کرے یا اگر حکومت ایسا نہیں کرسکتی تو انہیں فری چھوڑ دے۔

طاہر لالہ، کینیڈا:
جب ساری کائنات ہی رقص میں ہے، ہر پتہ، ہر ڈالی، ہر شاخ رقص میں ہے تو پھر کیس آپ رقص پر پابندی لگا سکتے ہیں؟ یہ فطرت کا اصول نہیں۔

ارمغام، کینیڈا:
امیر لوگ اپنے آپ کو ہائی سوسائٹی میں انٹرٹین کرتے ہیں، فائیو اسٹار ہوٹلوں کی پارٹیوں میں، لیکن ہر شخص غریب لوگوں کے انٹرٹینمنٹ پر پابندی عائد کرنے کے حق میں ہے۔ اگر یہ کرنا ہی ہے تو ہوٹلوں کی پارٹیوں سے کیوں نہ شروع کریں؟

طاہر شریف، سیالکوٹ:
گورنمنٹ کو تھیئٹر بند کرنے چاہئیں کیونکہ یہ ہمارے معاشرے کو خراب کررہا ہے اور ان لوگوں کو ضرور شریعت کے مطابق سزا دینی چاہئے کیونکہ اسلام اس چیز کی اجازت نہیں دیتا ہے۔

صفدر زبیری، ریاض:
لوگ تھیئٹر تفریح کے لیے جانا چاہتے ہیں۔

معاشرے کا غماز
 اصل میں ادب یا آرٹ معاشرے کے غماز ہوتے ہیں۔ جو کچھ گھروں میں ہورہا ہے یہ اس کا عکس ہے۔ بازار اس میں دلچسپی پیدا کرنے کے لئے اسے ذرا بڑھ کر پیش کرتے ہیں تاکہ کاروبار چلے۔
 
ڈاکٹر شمش جیلانی، کینیڈا

ڈاکٹر شمش جیلانی، کینیڈا:
اصل میں ادب یا آرٹ معاشرے کے غماز ہوتے ہیں۔ جو کچھ گھروں میں ہورہا ہے یہ اس کا عکس ہے۔ بازار اس میں دلچسپی پیدا کرنے کے لئے اسے ذرا بڑھ کر پیش کرتے ہیں تاکہ کاروبار چلے۔ ہم گھروں میں تو مہندی کے نام پر خود اپنی بیٹیوں کا رقص دیکھتے ہیں اور بازار پر پابندی لگادیتے ہیں۔ رہی فحاشی تو اس کی تعریف ہر معاشرے میں مختلف ہے۔ مثلا ہم اپنی بہو بیٹی کے سلسلے میں مشتعل ہوجاتے ہیں، مگر غیر کی بیٹی کے گلے میں باہیں ڈالنا جائز ہے۔

وقاص احمد، رحیم یار خان:
جب سے یہ حکومت آئی ہے فحاشی تو عام ہوگئی ہے لیکن تھیئٹر پر یہ گورنمنٹ پابندی لگارہی ہے۔ یہ دوہرا معیار تو اس گورنمنٹ نے ہر فیلڈ میں شروع کیا ہوا ہے۔

محمد فدا کینیڈا:
انسان سِن یعنی گناہ میں پیدا ہوا تھا۔ جو لوگ اس فلاسفی سے واقف ہیں وہ گناہ کے راز و رموز کو جاننے کی کوشش کریں گے۔ لیکن جو سمجھتے ہیں کہ انسان خدا کے امیج میں پیدا ہوا تھا وہ جسم اور روح کے ننگےپن کو راز میں رکھنا چاہے گا۔

جہانگیر احمد، دوبئی:
میرے خیال میں مارکیٹ میں وہی چیز زیادہ بکتی ہے جس کی ڈیمانڈ ہو، یہ حال کچھ تھیئٹرس کا ہے کہ لوگ بھی اس طرح کی نیوڈنیس دیکھنے کو پسند کرتے ہیں، اگر لوگ پسند نہ کریں تو تھیئٹر نظر نہ آئیں۔

عرفان احمد، کینیڈا:
حیرت ہے کہ آپ کو اب بھی شک ہی ہے کہ یہی فحاصشی کے ذمہ دار ہیں۔ مٹھی بھر فحش لوگ چودہ کروڑ مسلمانوں کے اخلاق کی ٹیچر بنادیے گئے ہیں اور اب بھی یہ سوال ہورہا ہے کہ کیا ہونا چاہئے۔ اس برائی کو فیصلہ کن طور پر روکنا ضروری ہے کیونکہ اس کی آڑ میں کچھ اور ہی کاروبار ہورہا ہے۔

اشرف عمر، داود سندھ:
تھیئٹر فحاشی کا کھلا نمونہ ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ تھیئٹر میں لوگوں کی کوئی بھی اصلاح نہیں ہوتی، ہر آدمی مزہ اور فحش ڈانس دیکھنے جاتا ہے۔ اسلام میں یہ قطعی اجازت نہیں ہے کہ کوئی عورت لوگوں کے سامنے ڈانس کرے۔

کامران، پشاور:
میری نظر میں فحاشی اس کو کہتے ہیں جو چیز ہم گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھ یا سن نہیں سکیں۔

تلاوت بخاری، اسلام آباد:
فحاشی تو کلچر کا مسئلہ ہے، اخلاق کا نہیں۔ اگر عوام ’غیرمعیاری‘ تھیئٹر یا ’فحاشی‘ کو پسند کرتے ہیں تو کسی کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنے مذموم مقاصد کے تحت ان کو تفریح سے محروم کردے۔شاید حکومتی کارندوں کی اس عوامی تفریح سے ان کی اپنی تسلی نہیں ہوتی ہوگی اور وہ فنکاروں کو تنگ کرکے اپنے لئے ’معیاری‘ تفریح کے مواقع پیدا کرنا چاہتے ہونگے۔

عوام کا حق
 لوگوں کو یہ حق ہے کہ وہ تھیئٹر دیکھیں، چاہے وہ فحش ہو یا اچھے ہوں یا تخلیقی ہوں۔ کسی حکومت کو یہ حق نہیں ہونی چاہئے کہ وہ پابندی عائد کرے۔
 
معید عالم، کراچی

معید عالم، کراچی:
لوگوں کو یہ حق ہے کہ وہ تھیئٹر دیکھیں، چاہے وہ فحش ہو یا اچھے ہوں یا تخلیقی ہوں۔ کسی حکومت کو یہ حق نہیں ہونی چاہئے کہ وہ پابندی عائد کرے۔ البتہ حکومت اس بات کی کوشش کرسکتی ہے کہ کوئی ایسی انتظامیہ مقرر کرے جو تھیئٹر کی ریٹِنگ طے کرے۔

عبدل منیب، جرمنی:
عورت کو زیادہ سے زیادہ برہنہ کر کے دکھانے کا نام ہم نے تھئیٹر اور ڈرامہ رکھا ہوا ہے۔ ہماری عورت جس کے صرف چار مقدس نام: ماں، بہن، بیٹی اور بیوی ہیں کہاں جا رہی ہے؟

احمد خان، امریکہ:
مختلف ثقافتوں اور مذاہب کے لوگ اس سوال کا جواب مختلف دیں گے اسلام کا ایک ہی معیار ہے جو وقت کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتا۔

قاسم اعوان، فتح جنگ، پاکستان:
پاکستان میں سب کچھ ٹھیک ہے۔ اہم بات یہ کہ ہر کوئی اپنے آپ کو ٹھیک کرے۔

عبدلواسع، لاہور، پاکستان:
اگر تو یہ صرف جگت بازی ہے پھر تو ٹھیک ہے اس لیے کہ ہمیں ایسا ہی تھئیٹر پسند ہے۔ جہاں تک رقص اور فحاشی کا تعلق ہے تو اس پر مکمل طور پر پابندی ہونی چاہیے۔ ہمارا تعلق ایک ترقی یافتہ اسلامی معاشرے سے ہے مگر ترقی کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ہم بنیادی اسلامی اصولوں کی خلاف ورزی کریں۔

ڈاکٹر محمد علی، کراچی، پاکستان:
میری رائے میں تھئیٹر فحاشی پھیلا رہا ہے۔ اس طرح کی پابندیوں سے تھئیٹر کی حالت بہتر نہیں ہو سکتی۔ لوگ تھئیٹر جاتے ہیں تاکہ فحاشی سے لطف اندوز ہوسکیں۔ میرا خیال ہے کہ پڑھے لکھے لوگوں کی ایک کمیٹی ہونی چاہیے جو اسکرپٹ کو دیکھیں اور گھٹیا زبان اور رقص پر پابندی لگا دیں۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد