BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Friday, 03 December, 2004, 07:35 GMT 12:35 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
آن لائن فاتحہ اور نمازجنازہ
 
آن لائن قبرستان: مستقبل کی حقیقت؟
آن لائن قبرستان: مستقبل کی حقیقت؟
کراچی کے باہر واقع وادیِ حسین نامی قبرستان اپنی خدمات انٹرنیٹ پر فراہم کررہا ہے۔ یہ ایک ایسا قبرستان ہے جس کی ویب سائٹ پر وڈیو سٹریمنگ کے ذریعے دنیا کے کسی بھی کونے سے آپ جنازے میں شرکت کرسکتے ہیں یا ’آن ڈیمانڈ‘ فاتحہ پڑھ سکتے ہیں۔ انفرادی نمبر کی مدد سے مطلوبہ قبر کی تصویر ویب سائٹ پر آجاتی ہے جسے دیکھتے ہوئے آپ مرنے والوں کی روح کو ایصال و ثواب پہنچاسکتے ہیں۔

بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سے بیرون ملک رہنے والے رشتہ داروں کے لیے جنازے میں شرکت یا فاتحہ پڑھنا آسان ہوگا۔ آنے والی نسلوں کو بھی اپنے آباء و اجداد کی قبروں کا ریکارڈ دستیاب ہوگا اور وہ جب چاہیں فاتحہ پڑھ سکیں گے۔ مسلمانوں کے لیے انٹرنیٹ کے ذریعے غائبانہ نماز جنازہ آسان ہوجائے گی۔

آپ کے خیال میں کیا انٹرنیٹ پر مطلوبہ قبر کی تصویر کے سامنے فاتحہ پڑھ لینا صحیح ہے؟ کیا انٹرنیٹ اسلامی روایات اور مذہبی ضروریات پوری کرسکے گا؟ قبرستانوں کی ویب سروس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی رائے نیچے درج ہے۔


سید رضوی، امریکہ:
لوگوں کی رائے پڑھ کر رونے کو جی چاہتا ہے۔ کوئی کہتا ہے غائبانہ نمازِ جنازہ نہ پڑھو، کوئی کہتا ہے کہ فاتحہ نہ پڑھو۔ لگتا ہے کہ سب مفتی ہیں۔ میں ذاتی طور پر یہ قبرستان دیکھ چکا ہوں اور یہ بہت خوبصورت ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ ابھی کچھ لوگ ایسے موجود ہیں جو وقت کے ساتھ چلنے کو تیار ہیں اور ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ خدارا مسئلے کو سمجھئے۔ قبرستان کا مطلب یہ نہیں کہ آپ فاتحہ پڑھیے یا نہیں، نماز ادا کیجیے یا نہیں۔ یہ تو صرف اپنے پیاروں کو یاد کرنے کا ایک بہانہ ہے۔

شمیم اختر بروہی، امریکہ:
جس دن ملا حضرات کو اس میں کو ئی ’فائدہ و منافع‘ نظر آگیا ، اسی دن فتویٰ جاری ہوجائے گا کہ یہ درست ہے۔

ہارون رشید، سیالکوٹ:
نیت ہونی چاہیے ثواب پہنچانے کی، خواہ سامنے کوئی بھی نہ ہو۔ بس مغفرت کی دعا کریں باقی کام اللہ کا ہے۔

شاہد بٹ، اسلام آباد:
حیرت ہے کہ بعض لوگ علم رکھے بغیر دینی باتوں پر تبصرہ کرنا ’ضروری‘ سمجھتے ہیں۔ بھائی، کیوں اپنا ایمان خراب کرتے ہیں؟ بےشمار احادیث موجود ہیں کہ فاتحہ پڑھ کر مرحوم کو ثواب پہنچانا ایک قرآن کا ثواب پہنچانے کے برابر ہے۔ برائے مہربانی صرف فیشن کے طور پر فاتحہ کو ’مضحکہ خیز‘ کہہ کر گناہگار نہ بنیں۔

جبران حسنین، کراچی:
پہلے لوگوں نے مزار بنا کر قبروں کو پوجا، اب ویڈیو سٹریمنگ کے ذریعے پوجا جائے گا۔ بھائیو، پیسے کہیں اور خرچ کرو۔ بندہ تو چلا ہی گیا اب زندہ لوگوں کو ہی کوئی فائدہ پہنچاؤ۔

منصور سراحیو، ٹورنٹو:
جب خدا ہر جگہ موجود ہے تو قبر کو دیکھنے کی کیا ضرورت ہے؟

اپنے کام سے مطلب کیوں نہیں؟
 بھائی اگر کسی نے کعبہ دیکھنے کے لیے ویب سائٹ بنائی ہے تو آپ کو کیا تکلیف؟ اگر کسی نے دیکھنا ہے تو ویب سائٹ کھولیے اور نہیں تو نہ کھولیے۔
 
عاطف مرزا، آسٹریلیا

عاطف مرزا، آسٹریلیا:
لیں جناب مولوی حصرات کو ایک اور موضوعِ بحث مل گیا، اب وہ مزید لڑائی کروا سکیں گے۔ آحر ہم مسلمان اپنے اپنے کام سے مطلب کیوں نہیں رکھتے؟ بھائی اگر کسی نے کعبہ دیکھنے کے لیے ویب سائٹ بنائی ہے تو آپ کو کیا تکلیف؟ اگر کسی نے دیکھنا ہے تو ویب سائٹ کھولیے اور نہیں تو نہ کھولیے۔

سلیم خان، کراچی:
اس طرح کا سوال ایک ان پڑھ عوام سے پوچھنے کا آخر مطلب کیا ہے؟ ہم اسی طرح مسلمانوں کو دنیا بھر میں کنفیوژ کر رہے ہیں۔

عدیل احمد، امریکہ:
مذہب انسان کے لیے ہے، انسان مذہب کے لیے نہیں۔ اسلام نے کبھی بھی سائنس کو غلط نہیں کہا۔ اگر آپ انٹرنیٹ پر کسی پیارے کو آخری دفعہ دیکھ لیں گے تو اس سے اسلام کی شان میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

جاوید جمال الدین، ممبئی:
ویسے بھی آج کل نوجوان نسل اپنے عزیز ورشتہ داروں کی قبر پر فاتحہ پرھنے جانے سے کتراتی ہے سوائے شبِ برات کے۔ اس سے مزید دوری ہوجائے گی اور لوگ نماز اور نمازِ جنازہ آن لائن اور ٹی وی پر ہی ادا کرلیا کریں گے۔

حمیرا، قطر:
قبر کچی ہی اچھی ہوتی ہے اور مرنے والوں سے تعلق روحانی۔ فاتحہ پڑھنے کے لیے قبر کا سامنے ہونا ضروری نہیں۔ اللہ نیتوں کو دیکھتا ہے، عملوں کو نہیں۔

رعنا کیانی، کینیڈا:
میرا خیال ہے کہ آن لائن فاتحہ اچھی چیز ہے۔ جب میں لوگوں کو روتے ہوئے دیکھتی ہوں تو دکھ ہوتا ہے اور کبھی کبھی تنہا محسوس کرتی ہوں۔

محمد وسیم انصاری، ناروے:
کیا مولوی حضرات کی زندگی کا اصل مقصد یہی ہے کہ جو قرآن کا رٹا نہ لگائے وہ کافر ہے۔ قرآن میں تمام ماڈرن ساینس موجود ہے۔

ملیحہ، ٹورنٹو:
اگر انٹرنیٹ ہی ہر چیز کا نعم البدل ہے تو وہ وقت دور نہیں جب بچے اپنے والدین کو نیٹ پر دیکھ کر ہی اپنا فرض پورا کرلیں گے۔ ہر چیز میں شارٹ کٹ مت ڈھونڈیں۔

شاہد احمد، امریکہ:
اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ فاتحہ آپ کہیں بھی پڑھ سکتے ہیں۔ البتہ سائنسی ایجادات کا مفید استعمال کرنا چاہیے۔

محمد مدثر، کراچی:
دعا کے لیے تصویر سجا کر نقشے بازی کی کیا ضرورت ہے؟

سلطان احمد خان، امریکہ:
مولوی حضرات تو آج تک انسان کے چاند پر اترنے کو نہیں مانتے۔ قرآن کا رٹا لگانے کے علاوہ بھی کوئی کام سیکھ لیں یہ لوگ۔

مولوی محمد عثمان، لندن:
جس چیز سے اسلام میں روکاگیا ہے وہ غلط ہے اور جس کام سے نہیں روکا گیا وہ جائز ہے۔ یہ اصول مسئلہ ہمیشہ یاد رکھیں۔ آجکل ہر کوئی مفتی بن گیا ہے جو کہ صحیح نہیں ہے۔

علی رضا، نیویارک:
مجھے پہلے پتا تھا کہ کئی لوگ اپنے قدامت پسند خیالات کی وجہ سےاس چیز کی مخالفت کریں گے۔ یہ لوگ کبھی بھی کسی نئی چیز کو پسند نہیں کر سکتے۔ اگر ان کا خیال ہے کہ اسلام میں اس قسم کی کوئی روایت نہں ہے تو انہیں پتا ہونا چاہیے کہ چودہ سو سال پہلے لاؤڈ سپیکر بھی نہیں تھے اور ملاؤں کے لیے کاریں بھی اور اسی طرح نہ ہی شدت پسندی تھی۔ ایسے تنگ نظر لوگوں کو بھی کچھ پتاچلنا چاہیے۔

عبدا لحسیب، پشاور:
میرے خیال میں یہ کوئی اچھی کوشش نہیں ہے کیونکہ اگر آپ طبعی طور پر نماز کی جگہ پر موجود نہیں تو نماز باجماعت کا کوئی سوال ہی نہیں اٹھتا۔ جہاں تک آن لائن فاتحہ کا تعلق ہے تو عرض ہے کہ فاتحہ کے لیے قبر کا سامنے ہونا ضروری نہیں ہے۔

قبرپرفاتحہ؟
 آپ فاتحہ کے الفاظ پر غور کریں اور پھر اسے کسی کی قبر پر پڑھنے پر غور کریں تو آپ کو خود ہی سمجھ آجائے گی کہ یہ کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ آپ کسی کی قبر پر کھڑے ہو کر اپنے لیے ہی دعا مانگے جا رہے ہیں۔
 
عدیل رحمٰن، اوٹاوہ

مشتاق محمود، سیول، کوریا:
فاتحہ آپ ویسے ہی پڑھ سکتے ہیں قبر سامنے ہوئے بغیر۔ پلیز یار ان لوگوں کو منع کریں۔

عدیل رحمٰن، اوٹاوہ، کینیڈا:
قبر پر فاتحہ پڑھنا ہی جائز نہیں۔ کسی حدیث سے اس کی مثال نہیں ملتی۔اگر آپ فاتحہ کے الفاظ پر غور کریں اور پھر اسے کسی کی قبر پر پڑھنے پر غور کریں تو آپ کو خود ہی سمجھ آجائے گی کہ یہ کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ آپ کسی کی قبر پر کھڑے ہو کر اپنے لیے ہی دعا مانگے جا رہے ہیں۔

عدنان جعفری،ڈیلس، امریکہ:
میں ایک غیر ملک میں رہ رہا ہوں اور میں کئی لوگوں کو جانتا ہوں جنہیں ہزاروں روپےکےارجنٹ ٹکٹ خرید کر اپنے عزیزوں کے آخری دیدار کے لیے جانا پڑا۔بیرون مملک رہنے والا ہر کسی کو یہ سہولت بھی میسر نہیں ہوتی، مثلاً طلباء اور وہ لوگ جو امیگریشن کی پابندیوں کی وجہ سے سفر نہیں کر سکتے۔ ایسے لوگوں کے لیے یہ ایک اچھی خبر ہے اور میں یہ سروس شروع کرنے والوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

کوئی حرج نہیں۔
 ٹیکنالوجی کے استعمال میں کوی حرج نہیں۔ پاکستان میں قبرستانوں کی حالتِ زار سے کون واقف نہیں۔ میں نہیں چاہوں گا کہ میری ماں کی قبر کسی نشہ کرنے والی کی آماجگاہ بن جائے
 
وصی خان، فلوریڈا

محمد کامران مطلوب، لیسٹر، برطانیہ :
فاتحہ تو کہیں بھی پڑھی جا سکتی ہے لیکن جنازہ کے لیے میت کا ہونا ضروری ہے۔ اور جہاں تک رسول اللہ کے غائبانہ نماز جنازہ پڑھنے کا تعلق ہے تو اس سلسلہ میں عرض ہے وہ اپنی باطنی نظروں سے نجاشی کی میت کو دیکھ رہے تھے۔ ہمارے لیے غائبانہ نماز جنازہ جائز نہیں۔

وصی خان، فلوریڈا، امریکہ:
اپنوں سے بچھڑنے کا احساس ان سے دور رہ کر ہی ہوتا ہے اور جب کوئی اپنا دنیا سے رخصت ہو جائے تو اس کا غم کسی پردیسی سے پوچھو جو کہ مرنے والے کا آخری دیدار بھی نہ کر سکتا ہو۔ جب ہماری ماں کی وفات ہوئی تھی تو ہم نے ویڈیو کیمرے کے ذریعے ان کا آخری دیدار کیا تھا۔ٹیکنالوجی کے استعمال میں کوی حرج نہیں۔ پاکستان میں قبرستانوں کی حالتِ زار سے کون واقف نہیں۔ میں نہیں چاہوں گا کہ میری ماں کی قبر کسی نشہ کرنے والی کی آماجگاہ بن جائے۔

محمد کریم علی خان، امریکہ:
یہ ایک اچھی کوشش ہے۔

اچھی کوشش
 یہ ایک بہت اچھی سروس ہے خاص طور بیرون ممالک رہنے والوں کے لیے۔ صاف ظاہر ہے کہ قدامت پرست لوگ، جو کہ عقلی طور پر چودہ سو سال پیچھے ہیں، اس خیال کی تائید نہیں کریں گے۔
 
امتیاز محمود، برطانیہ

عبدالغفور، ٹورانٹو:
ساری بات نیت کی ہے۔آپ انٹرنیٹ سے دعا کریں یا دل سے۔

سلیمان، نامعلوم:
پھر تو بچہ بھی آن لائن پیدا کرنا چاہیے کیونکہ اگر مرنے پر ویب سائٹ بن سکتی ہے تو جنم پر کیوں نہیں؟ رہی بات فاتحہ کی تو اللہ کو اس کی ضرورت نہیں کہ تصویر ہو تو دعا قبول ہو گی۔ اللہ کے رسول نے کہا کہ جوکوئی دین میں نئی چیز کرے وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ سمجھے۔

بابر راجہ، جاپان:
یہ صحیح نہیں ہے۔ دیکھنے میں کوئی حرج نہیں لیکن ویب سائٹ کے سامنے دعا کرناصحیح نہیں۔سائنسی ایجادات سے فایدہ اٹھانے میں کوئی حرج نہیں لیکن ان کو دعا کا ذریعہ سمجھنا غلط ہے۔

بابو رئیس، کراچی:
غلط ہے بالکل غلط ہے۔

جاوید اقبال ملک، چکوال:
یقینی طور پر ایک نئی چیز ہے لیکن دعا تو کسی بھی وقت کی جا سکتی ہے۔جنازہ میں شرکت تو صرف ’واقعتاً اور اصلاً‘ ہو سکتی ہے۔ یہ بھی دیگر ملاؤں کی طرح پیسے بٹورنے کا ایک بہانا ہے۔

زندوں کی فکر؟
 قبرستان بنانے والےاگر ان زندہ لوگوں کے بارے میں سوچتے جن کو پاکستان میں سر چھپانےکی جگہ بھی نہیں دستیاب تو کبھی بھی ان کے ذہن میں یہ قبرستان بنانے کا خیال نہ آتا۔
 
سائرہ

عطیہ مصطفٰے، مانٹریال، کینیڈا:
یہ بالکل صحیح ہے کیونکہ باہر رہنے والے کبھی کبھی بہت بے بس ہو جاتے ہیں اپنے پیاروں کے جنازے میں پہنچنے کے معاملےمیں۔ ویب پر دیکھ کر دل کو تسلی توہوجائےگی۔

امتیاز محمود، برطانیہ:
محترمہ زہر صالح مخدوم کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ خود رسول اللہ نے نے نجاشی بادشاہ کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی تھی جس کا مطلب یہ کہ غئبانہ نماز جنازہ پڑھی جا سکتی ہے۔جہاں تک اس ویب سائٹ کا تعلق ہے تو اس سلسلہ میں باقی لوگوں کی طرح مجھے بھی فتوہ کا انتظار ہے۔

سائرہ، نامعلوم:
قبرستان بنانے والےاگر ان زندہ لوگوں کے بارے میں سوچتے جن کو پاکستان میں سر چھپانےکی جگہ بھی نہیں دستیاب تو کبھی بھی ان کے ذہن میں یہ قبرستان بنانے کا خیال نہ آتا۔

عبدالصمد، اوسلو:
یہ سب قیامت کی نشانیاں ہیں۔ میری تمام امت سےگذارش ہے کہ اس قسم کے شرک سے پرھیز کریں جہاں تک ممکن ہو۔

محمد نفیس، فیصل آباد:
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔

امتیاز محمود، برطانیہ:
یہ ایک بہت اچھی سروس ہے خاص طور بیرون ممالک رہنے والوں کے لیے۔ صاف ظاہر ہے کہ قدامت پرست لوگ، جو کہ عقلی طور پر چودہ سو سال پیچھے ہیں، اس خیال کی تائید نہیں کریں گے۔ اس سروس کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ آپ جب بھی اپنے پیاروں کو یاد کرنا چاہیں ان کی قبر کو دیکھ سکتے ہیں۔

محمد عرفان احسان، لاہور:
انٹرنیٹ آجکل دنیا بھرمیں علم اورمعلومات کا تیز ترین ذریعہ بن چکا ہے۔ اسلیے قبرستان کےمتعلق معلومات کوانٹرنیٹ پر ڈالنے سے اسلام کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ بڑے شہروں میں قبر کے لیے جگہ حاصل کرنا اتنا بڑا مسئلہ ہے کہ اس قسم کی آن لائن سہولت کا آنا خوش آئند بات ہے۔

شاہدہ اکرام، عرب امارات:
میرا خیال ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑےگا لیکن ہوتا یہی ہے کہ جب کوئی نئی چیز آتی ہے پہلے پہل لوگ اس کو قبول نہیں کرتے۔ بیرون ملک ہونے کی صورت میں اکثر غائبانہ جنازہ پڑھ جاتی ہے لہٰذا انٹرنیٹ پر یہ کام کرنے میں کیا حرج ہو سکتا ہے۔

امین ستار، ٹورانٹو:
فاتحہ تو کہیں بھی اور کسی وقت بھی پڑھی جا سکتی ہے، اس کے لیے قبر کا سامنے ہونا ضروری نہیں مثلاً اگر کوئی سمندر میں ڈوب کرمر جائے، کسی کوکوئی جنگلی جانور کھاجائے اس کی تو کوئی قبر نہیں ہوتی تو کیا ان کے لیے فاتحہ ہی نہیں پڑھی جا سکتی؟ ہمیں چاہیے کہ انٹرنیٹ کو مثبت مقاصد کے لیے استعمال کریں نہ کہ فضول رسموں کے لیے۔

ناصرخان، پاکستان:
اگر لوگ سب کچھ گھر بیٹھے کرنا چاہتے ہیں تو پھر کچھ عرصے کے بعد تو مرنے والے کو دفن بھی انٹرنیٹ پر کرنا پڑے گا۔ یہ بیوقوف لوگوں کا کام ہے۔ اس قسم کی انٹرنیٹ سروس محض سستی شہرت حاصل کرنا کا بہانہ ہے۔

شوکت خان، یو کے:
ہر ٹیکنالوجی کو شروع میں غیراسلامی کہا گیا اور پھر اس کا فائدہ اٹھانے میں مولوی پیش پیش رہے، مثال کے طور پر لاؤڈ سپیکر۔ جب ان کو اس ویب سائٹ میں کوئی منافع نظر آجائے گا تو کوئی اعتراض نہیں رہے گا۔ ویسے میری نظر میں یہ ایک اچھی کوشش ہے۔

صالح محمد، راولپنڈی:
اس سے ملتی جلتی ایک اور ویب سائٹ ہے جو اسلام آباد سے ہوسٹ ہوتی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ہمارے آئی ٹی پروفیشنلز کو کیا صرف قبرستانوں پر ہی ویب سائٹ بنانے کا خیال کیوں آتا ہے؟ دنیا میں اور بھی بہت سے کام ہیں۔ جہاں تک فاتحہ کا سوال ہے تو میرا خیال یہ ہے کہ فاتحہ صرف قبر پر جاکر ہی پڑھنا چاہئے، انٹرنیٹ پر پڑھنا ایسے ہی ہے جیسے غائبانہ پڑھنا۔ پاکستانی آئی ٹی پروفیشنلز کو کچھ تعمیری کام کرنے کی ضرورت ہے، انڈیا کی مثال سامنے ہے۔

فرحان حسین، پاکستان:
یہ بالکل صحیح نہیں ہے۔ قیامت کے دن اس کا حساب ملے گا۔ جو لوگ یہ ویب سائٹ چلارہے ہیں انہیں سزا ملے گی۔

اور بھی دکھ۔۔
 ہمارے آئی ٹی پروفیشنلز کو کیا صرف قبرستانوں پر ہی ویب سائٹ بنانے کا خیال کیوں آتا ہے؟ دنیا میں اور بھی بہت سے کام ہیں۔
 
صالح محمد، راولپنڈی

ندیم احمد، جھنگ:
ہاں یہ ممکن ہے کہ آپ اپنے رشتہ داروں کے لیے انٹرنیٹ پر فاتحہ پڑھ سکیں۔ انٹرنیٹ پر یہ اچھی کوشش ہے۔

عبداللہ، لاہور:
اسلام میں اس کا کوئی کنسیپٹ نہیں ہے۔ یہ انتہائی غلط طریقہ ہے۔

زہرہ صالح مخدوم، یو کے:
مرحومین کے ایصال و ثواب کے لیے فاتحہ پڑھنا یا قرآن کی دیگر آیات کی تلاوت کرنا احسن عمل ہے۔ اس کے لیے کسی تصویر کی قطعی ضرورت نہیں، بس تصور ہونا چاہئے۔ غائبانہ نماز جناز کا اسلام میں کوئی کنسیپٹ نہیں، کوئی عقل سے پیدل آدمی ہی اس کی حمایت کرسکتا ہے۔ انٹرنیٹ اسلامی تعلیمات اور روایات کو پھیلانے کا آسان ذریعہ بن سکتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ علمائے کرام اس کو اپنائیں۔۔۔

انور احمد شیخ، جرمنی:
دعا کبھی بھی مانگی جاسکتی ہے

فراز قریشی، کراچی:
ہاں صحیح ہے۔۔۔۔ جیسے ہم مسجدوں میں اکثر پنکھے، لاؤڈ سپیکر وغیرہ استعمال کرتے ہیں۔ یہ بھی ایک نئی ایجاد ہے اس کے استعمال میں کوئی حرض نہیں۔ بلکہ ہمیں ایک قدم آگے بڑھ کر کرنا ہوگا۔ نماز جنازہ بھی اب ہم گھر پر ہی پڑھ لیں۔۔۔۔

نامعلوم:
یہ صحیح نہیں ہے۔

حماد رضا بخاری، فیصل آباد:
فاتحہ، مرحومین کے ایصال و ثواب کے لیے کی جانے والی دعا ہے، جو کہیں بھی، کسی وقت بھی، کسی طرح کی جاسکتی ہے۔ اس کے لیے فاتحہ پڑھنے والے کی قبر پر موجودگی لازم نہیں ہے۔ اسی طرح یہ بھی ضروری نہیں کہ قبر کی تصویر سامنے ہو۔ ہاں معلوم ہونا چاہئے کہ کس کے لیے فاتحہ پڑھی جانی ہے۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد