BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Saturday, 15 January, 2005, 14:10 GMT 19:10 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
بعدازمرگ ای میل پڑھی جائے؟
 
آپ نہیں رہیں گے مگر آپ کی ای میل رہے گی
آپ نہیں رہیں گے مگر آپ کی ای میل رہے گی
پچھلے دنوں امریکہ میں اس وقت ایک نئی بحث چھڑ گئی جب ایک امریکی فوجی کی ہلاکت کے بعد اس کے والد جان ایلزورتھ نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے بیٹے کی ان ای میلزکو جمع کریں گے جو اس نے مشرق وسطٰی میں اپنے قیام کے دوران بھیجیں اور وصول کیں۔

بیس سالہ جسٹن کو ابھی عراق میں تعینات ہوئے دو ماہ بھی نہیں ہوئے تھے کہ وہ ایک بم دھماکے میں ہلاک ہو گئے۔ عراق میں اپنے قیام کے دوران جسٹن نے اپنا زیادہ فارغ وقت ای میلز پر صرف کیا۔

جان ایلزورتھ کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا عراق میں پیش آنے والے حالات و واقعات کے بارے میں ایک ریکارڈ اپنے پاس رکھ رہا تھا تاہم جان کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب یاہو نے اپنی پرائیویسی پالیسی کے تحت جسٹن کے پیغامات جاری کرنے سے انکار کردیا۔

جسٹن ایلزورتھ کے والد نے اب یاہو کے ساتھ ایک قانونی جنگ شروع کردی ہے۔

یاہو کا کہنا ہے کہ وہ ان جذبات کی قدر کرتا ہے تاہم جسٹن کے پیغامات کسی اور کے حوالے کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ یاہو ان شرائط کی خلاف ورزی کررہا ہے جن پر یاہو ای میل استعمال کرنے والے کروڑوں افراد سائن اپ کرنے سے پہلے رضامندی ظاہر کرتے ہیں۔

وقت کے ساتھ ای میل کا استعمال بڑھتا جارہا ہے لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا کہ مرنے کے بعد آپ کی ای میل کا مالک کون ہوگا اور وہ تمام پیغامات جو آپ نے کسی کو بھیجے یا وصول کیے، ان تک کس کو رسائی حاصل ہوگی؟ کیا آپ چاہیں گے کہ مرنے کے بعد کوئی آپ کی ای میلز پڑھے؟ کیا جسٹن کے والد کو ان کی تمام ای میل تک رسائی حاصل ہونی چاہیے؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔

زین سید، پاکستان:
اتنی اچھی بحث کے آغاز کا شکریہ۔ میرے خیال سے ایسا کوئی ہونا چاہیے جسے ہماری ای میل اور راز کا علم ہو۔ ہماری موت کے بعد یاہو کو ہمارے کسی عزیز خصوصاً باپ، بھائی یا بیٹے کو ہماری ای میل تک رسائی دینی چاہیے۔ جسٹن کے والد کو اس بات کی اجازت ملنی چاہیے۔

سید واصف پیرزادہ، امریکہ:
میری رائے ہے کہ ای میل ایک ذاتی چیز ہے اور کسی کے مرنے کے بعد اگر آپ اس کی ای میل کسی کے حوالے کرتے ہیں تو اس سے اس شخص کی عزت پر آنچ آسکتی ہے جو اس نے اپنی زندگی میں کمائی تھی۔

قمر قریشی، گوئٹےمالا :
پرائیویسی ضروری ہے لیکن اگر بہت ضروری ہو تو پھر ای میل کو پڑھا جا سکتا ہے۔

جان محمد، پاکستان:
یہ صحیح بات ہے کہ مرنے والے کی ای میل کوئی اور پڑھ سکے اور ایسی سروس کا آغاز جلد ہی ہونا چاہیے۔

وقار اعوان، کراچی، پاکستان:
ای میل میں کئی باتیں ایسی ہوتی ہیں جو آپ کے مرنے کے بعد آپ کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کر سکتی ہیں۔ اگر آپ کی زندگی میں ایسا ہو تو کم از کم آپ صفائی تو پیش کر سکتے ہیں لیکن مرنے کے بعد آپ ایسا کچھ نہیں کر سکتے۔

عرفان احسان، پاکستان:
جب ایک انسان کی زندگی ہی ختم ہو جائے تب اس کے لیے دنیا کی ہر چیز ختم ہو جاتی ہے، اس لیے اُسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جسٹن کے والد کو ان کے بیٹے کی ای میل دے دینی چاہیے۔ یہ ایک بوڑھے باپ کے لیے اس کے مرنے والے بیٹے کی یادوں کا آخری خزانہ ہے۔

منصور علی، ڈینمارک:
ہر واقعہ کی اپنی نوعیت ہوتی ہے اور اس کے حساب سے اس مسئلے کو حل کرنا چاہیے۔

بھانڈا پھوٹ سکتا ہے
 اگر آپ نے اپنی بیوی سے چھپ کر ای میل بھیجی ہوگی تو بھانڈہ پھوٹ جائے گا۔
 
سید سرور، برلن، پاکستان

سید سرور، برلن:
اگر آپ نے اپنی بیوی سے چھپ کر ای میل بھیجی ہوگی تو بھانڈہ پھوٹ جائے گا۔

شجاعت علی، چترال، پاکستان:
اگر معاہدے کا ایک فریق مر جائے تو معاہدہ خود بہ خود ختم ہو جاتا ہے۔ اس لیے جسٹن کی ای میل کو عام کیا جانا چاہیے تاکہ عراق کی تاریخ میں جسٹن کا بھی حصہ شامل ہو جائے جیسے اس کا خون اس تاریخ میں شامل ہے۔

افضل خان، کینیڈا:
اصول توڑنے اور پھر دوبارہ بنانے کے لیے ہوتے ہیں۔ جسٹن کے والد کا اپنے بیٹے کی ای میل حاصل کرنے کا حق بنتا ہے۔

ذوالقرنین بخاری، کویت:
وہ آپ کی ای میل ہے۔ یاہو کو یہ حق آپ کو دینا چاہیے کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی ای میل کوئی اور پڑھ سکے یا نہیں۔

امبرین بنگش، کینیڈا:
میرے خیال میں یاہو کو اپنی پالیسی میں تھوڑی نرمی کرنی چاہیے۔ جسٹن کے والد کو اس کی ای میل تک رسائی حاصل ہونی چاہیے۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جیسے جائیداد اور ملکیت کا ہوتا ہے اور وہ بھی تو قانون کے تحت قریبی عزیزوں کوملتی ہے۔ اس طرح سے اس میں بھی کوئی ایسا قانون ہونا چاہیے۔ میں اور میرے شوہر ایک دوسرے کی ای میل پڑھتے ہیں اور مرنے کے بعد یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ میری ای میل کون پڑھے گا۔ میاں بیوی کا رشتہ ایسا ہوتا ہے جس میں کوئی بات چُھپی نہیں ہوتی اور ویسے بھی بات بھروسے کی ہوتی ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ آپ یہ سوچیں کہ مرنے کے بعد آپ کی ای میل کون پڑھے بلکہ زندگی میں بھی آپ کسی پر بھروسہ کر سکتے ہیں جیسا کہ میں اور میرے شوہر ایک دوسرے پر کرتے ہیں۔

فواد فراز، امریکہ:
اگر جسٹن نے اپنے والد کو ہر راز کی بات بتانی ہوتی تو وہ اپنی زندگی میں ہی اپنا پاس ورڈ ان کو بتا دیتے۔اگر اس کے ماں باپ میں کوئی اختلاف ہے اور اس کی ماں نے کچھ پرائیویٹ باتیں اس کو ای میل کی تھیں تو اس صورت میں اس کے والد اس صورتحال سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔ میں نہیں چاہوں گا کہ میرے مرنے کے بعد کوئی ایسا شخص میری ای میل پڑھے جس کو میں نہیں چاہتا۔

محسن جلالی، پاکستان:
میرے خیال میں کسی ایک کو اپ کی ای میل کا ضرور پتہ ہونا چاہیے۔تا کہ اس ایک شخص کے ذریعہ کم از کم آپ کے انٹرنیٹ کے دوستوں کو پتہ تو چلے کہ آپ وفات پا چکے ہیں ۔

علی اعوان، پاکستان:
میرے خیال میں کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے۔

قاتل کا پتہ
 ہمارے شہر میں نامعلوم افراد نے ایک لڑکے کو قتل کر دیا ہے۔ وہ انٹرنیٹ کا استعمال کرتا تھا اور اس کے گھروالوں کا خیال ہے کہ اگر وہ اس کی ای میل تک رسائی حاصل کر سکیں تو قاتل کا پتہ چل سکتا ہے۔
 
جنید احمد، پاکستان

جنید احمد، پاکستان:
یہ ایک اچھی بحث ہے۔ یہاں ہمارے شہر میں نامعلوم افراد نے ایک لڑکے کو قتل کر دیا ہے۔ وہ انٹرنیٹ کا استعمال کرتا تھا اور اس کے گھروالوں کا خیال ہے کہ اگر وہ اس کی ای میل تک رسائی حاصل کر سکیں تو قاتل کا پتہ چل سکتا ہے۔ اگر ایسا ہو جائے تو بہت اچھی بات ہے۔

شمس، پاکستان:
میری درخواست ہے کہ انہیں ان کے بیٹے کی ای میل پڑھنے دی جائے۔

عرفان احسان، پاکستان:
مرتا تو صرف ایک انسان ہے اور اس کے لواحقین کے لیے اس کی یادیں زندگی کا سہارا بن جاتی ہیں۔ اس لیے کسی کی ای میل ایسے ہی ہے جیسے مرنے کے بعد لوگوں کی ذاتی ڈائریاں چھاپ دی جاتی ہیں۔ موجودہ دور میں ای میل خط لکھنے کا تیز ترین اور محفوظ طریقہ ہے۔ جسٹن کے والد کو اس کی ای میلز تک رسائی ہونی چاہیے کیوں کہ وہ بوڑھے باپ کے لیے مرنے والے بیٹے کی یادگار ہیں۔ یہ ای میلز جذباتی لحاظ سے مولانا عبدالکلام آزاد کے جیل میں لکھے گئے خطوط پر مبنی کتاب جیسی ہیں۔

ممتاز احمد، چترال، پاکستان:
اجازت ملنی چاہیے کیوں کہ اس کے تجربات سے دوسرے لوگوں کو فائدہ ہو سکتا ہے۔

سیف سیال، پاکستان:
اگر کسی کی یہ خواہش ہو کہ اس کی خطوط اس کے مرنے کے بعد کسی کو دیئے جائیں تب پھر اس کو اپنے وکیل کو یہ کام بتانا چاہیے اور اپنا پاس ورڈ یاہو کو اپنے وکیل کے ذریعہ بھجوانا چاہیے۔ ایک وصیت کے ذریعہ یہ کام کیا جا سکتا ہے۔

جواد حُسین، پاکستان:
میں اس کے والد سے یہ کہنا چاہوں گا کہ ہو سکتا ہے کہ کوئی ایسا راز ہو جو جسٹن اپنے گھروالوں سے چھپانا چاہتا ہو اور جس کے پتہ لگنے پر اس کے گھر والوں کے جذبات کو ٹھیس بہنچے۔

راحیلہ عمر، کوئٹہ، پاکستان:
انسان کے مرنے کے بعد کم از کم اس کے والدین کو اس کے ای میل پڑھنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ میں چاہوں گی کہ میرے مرنے کے بعد میرے گھر والے میری ای میلز پڑھیں۔

ذیشان طارق، سیالکوٹ، پاکستان:
یہ آپ پر چھوڑ دیا جانا چاہیے کہ آیا آپ اپنی موت کے بعد اپنی ای میل تک کسی اور کی رسائی چاہتے ہیں یا نہیں۔

سید مہدی، کینیڈا:
میرے خیال میں تو یاہو اپنی جگہ بلکل صحیح ہے۔

نہیں یہ نہیں ہونا چاہئے
 اگر نہیں اجازت مل جاتی ہے تو بہت ہی بڑا فتنہ شروع ہو سکتا ہے اور ہر کوئی اپنے مرنے والے کے ساتھ رشتہ بتا کر اس کی ای میل پڑھنا چاہے گا جو کہ اخلاقی اور سماجی لحاظ سے بہت ہی برا ہے۔ ساتھ ہی یہ مرنے والے کی ذاتی زندگی کے ساتھ مذاق ہوگا۔
 
فرحان احمد، بھارت

فرحان احمد، بھارت:
جسٹن کے والد کو اس بات کی اجازت نہیں ملنی چاہیے اگر نہیں اجازت مل جاتی ہے تو بہت ہی بڑا فتنہ شروع ہو سکتا ہے اور ہر کوئی اپنے مرنے والے کے ساتھ رشتہ بتا کر اس کی ای میل پڑھنا چاہے گا جو کہ اخلاقی اور سماجی لحاظ سے بہت ہی برا ہے۔ ساتھ ہی یہ مرنے والے کی ذاتی زندگی کے ساتھ مذاق ہوگا اور مرنے والے کا احترام ختم ہو جائے گا۔

رخسانہ، پاکستان:
یاہو اپنی جگہ درست ہے اور اپنی پالیسی میں ترمیم نہ کرے تو اچھا ہے کیوں کی کل کوئی بھی شخص اس بات کا غلط فائدہ اُٹھا سکتا ہے چاہے وہ کسی کا عزیز ہی کیوں نہ ہو۔

زیاد احمد، کراچی، پاکستان:
ایسا کرنے سے مرنے والے کو تکلیف ہو گی۔ یہ بڑی بری بات ہے۔

محمد اکبر فاروق، پاکستان:
میرے خیال میں مرنے والے کی تمام ای میل اس کے عزیزوں کو دینی چاہیے کیوں کہ یہ چیز ان کے لیے بہت قیمتی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ جب کوئی آدمی مر جاتا ہے تو اس کا تعلق اس دنیا سے ختم ہو جاتا ہے۔

جاوید قریشی، متحدہ عرب امارات:
یاہو والوں کو ایک ایسا پیج تیار کرنا چاہیے جس پر اکاونٹ کا مالک ایسے شخص کی تفصیل درج کرے جسے اس کے مرنے کے بعد اس کے اکاونٹ پر حق حاصل ہو۔ اور یاہو کو جسٹن کی ای میل ان کے والدین کو دینی چاہیے۔

نور کریم، پشاور، پاکستان:
یاہو کو ای میل دے دینی چاہیے کیوں کہ وہ ان کے والد ہیں اور انھیں یہ حق حاصل ہے۔

میں برا نہیں مناؤں گا
 میں ہرگز برا نہیں مناؤں گا اگر میرے مرنے کے بعد میری بہن میری ای میل پڑھے۔
 
قیصر منیر، سپین

قیصر منیر، سپین:
میرے خیال سے یہ اچھی بات ہے کہ جب آپ مر جائیں تو کوئی آپ کی ای میلز پڑھے۔ اس طرح آپ کے دوستوں اور رشتہ داروں کو یہ پتہ چل سکے گا کہ مرنے سے چند روز پہلے آپ کیا سوچ رہے تھے۔ میں ہرگز برا نہیں مناؤں گا اگر میرے مرنے کے بعد میری بہن میری ای میل پڑھے۔

رضا شفقت سید، پاکستان:
یہ ایک دلچسپ بحث ہے۔ یاہو اکاؤنٹ کو کھولتے وقت ہی اس شخص کا نام کا اندراج کیا جانا چاہیے جسے آپ کے بعد آپ کی ای میل پڑھنے کا حق حاصل ہو گا۔

عمر، لاہور، پاکستان:
میرے خیال سے کسی کو یہ اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ مرنے والوں کی ای میل کو پڑھے کیوں کہ یہ اس شخص کی پرائیویسی ہے۔ اگر یہ حق دے دیا جائے تو بہت سے لوگ دوسروں کی ای میل تک رسائی کے لیے انھیں مردہ ثابت کرنے کی جھوٹی کوشش کر سکتے ہیں یا پھر ان کا قتل بھی کر سکتے ہیں۔ اس لیے اس بات کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

نوید اسلام، ڈینمارک:
ای میل ذاتی چیز ہے۔ پتہ نہیں مرنے والے نے زندگی میں کس کس کو کیسی ای میل بھیجی ہیں۔ وہ سب مرنے والے کی شخصیت کے بارے میں برا اثر ڈالیں گی۔ اس لیے ای میل کو پرائیویٹ ہی رہنا چاہیے۔

ایاض میرانی، پاکستان:
میرا خیال ہے کہ اگر کوئی خود کسی کو پاس ورڈ نہیں دیتا تو اس کا راز، راز ہی رہنے دیا جائے کیوں کہ ہر کسی کی اپنی پرائیویسی ہوتی ہے اور اسے نہ ہی چھیڑا جائے تو بہتر ہے۔

محمد ارسلان سید، پاکستان:
میرے خیال سے جسٹن کے والد کو یہ معاملہ عدالت میں لے جانے کے بجائے چھپ کر اکاؤنٹ حیک کر لینا چاہیے تھا۔

شعیب طارق، پاکستان:
قانونی طور پر تو ایسا نہیں ہونا چاہیے مگر کیوں کہ ہمارا تعلق ’جذباتستان‘ سے ہے اس لیے ہم یہی کہیں گے کہ یہ حق ملنا چاہیے۔

سجاد احمد، پاکستان:
یہ حق کسی کو نہیں ہے کہ کوئی کسی کی ای میل چیک کرے کیوں کہ بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جو ہم نہیں چاہتے کے ہمارے مرنے کے بعد کوئی دوسرا پڑھے یا دیکھے۔

شاہدہ اکرم، متحدہ عرب امارات:
کتنے مزے کی بحث چھیڑ دی آپ نے۔ ہم نے تو کبھی اس طرح سوچا ہی نہیں تھا۔ویسے آج کے دور میں کس کو اتنی فرصت ہے کہ وہ مرجانے والوں کی ای میل پڑھتا پھرے۔گو کہ میں نے اپنے امی، ابو کے خطوط کئی بار پڑھے ہیں لیکن خطوں میں تو لکھنے والوں کا لمس اور ان کی خوشبو ہوتی ہے۔ وہ بات ای میل میں کہاں۔ یہ بات اپنی جگہ کہ مشینیں انسانی جذبات کو نہیں سمجھ سکتیں لیکن مشین بنانے والے تو سمجھ سکتے ہیں۔

غالب امکان
 غالب امکان ہے کی ای میل مہیا کرنے والے زیادہ فِیس والی ایسی سروس شروع کرنے پر راضی ہو جائیں جس کے تحت مرجانے والوں کے ای میل کے ریکارڈ کو محفوظ رکھا جا سکے۔
 
محمد فدا، کینیڈا

محمد فدا، کینیڈا:
جسٹن نےاپنی زندگی کی کہانی ای میل پر چھوڑ کر مر جانے سے ایک دلچسپ صورتِ حال کو جنم دیا ہے۔ مجھے امید ہے کی عدالت اس مقدمے کا کوئی حل نکالنے میں کامیاب ہو جائےگی اور غالب امکان ہے کی ای میل مہیا کرنے والے زیادہ فِیس والی ایسی سروس شروع کرنے پر راضی ہو جائیں جس کے تحت مرجانے والوں کے ای میل کے ریکارڈ کو محفوظ رکھا جا سکے۔

عبدالحسیب، بڈا بیر، پاکستان:
میرے خیال میں کسی کےمرجانے کے بعد پرائیویسی کا سوال ہی نہیں اٹھتا ہے۔

عابد عزیز، ملتان، پاکستان:
میرا خیال نہیں کہ آپ کے مرنے کے بعد کسی کو اس کی اجازت ہونا چاہیے۔ یہ آپ کا ذاتی معاملہ ہے۔

عامر ملک، کینیڈا:
میرا خیال ہے جسٹن کے والد کو اجازت ملنی چاہیے۔ اس سلسلے میں کوئی قانون موجود نہیں۔

متین طاہرشرالی، اومان:
میرا خیال ہے ای میل اکاؤنٹ کھولتے وقت آپ کو یہ حق دینا چاہیے کہ آپ اپنی میل مرنے کے بعد صیغہء راز میں رکھنا چاہتے ہیں یا نہیں۔

غلام فریدشیخ، گمبٹ، پاکستان:
جسٹن کی ای میل اس کے والد یا بھائی کو دے دینی چاہئیں۔

احمد صدیقی، کراچی:
میرا خیال ہے ہر شخص کو اپنے وصیت نامے پر اپنا ای میل کا پاس ورڈ بھی لکھ دینا چاہیے۔

عدنان جعفری، ڈیلس، امریکہ:
مستقبل میں اس کے قسم کے واقعات کو ای میل اکاؤنٹ کھولنے والے سے پوچھ کر روکا جا سکتاہے۔

ابصار، پاکستان:
ہر کسی کا کوئی نہ کوئی رازداں ضرور ہوتا ہے، مرنے کے بعد اس کو آپ کی ای میل تک رسائی ہونا چاہیے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ چونکہ ای میل میں اختلافی باتیں بھی ہو سکتی ہیں جن سے ہیچھے رہ جانے والوں میں غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

شمیل قریشی، بہاولپور، پاکستان:
ای میل ذاتی نوعیت کی چیز ہے لیکن مرنے والے کے خاندان کے لیے یہ اہم ہو سکتی ہیں اس لیے مرنے والے کے سب سے قریبی رشتہ دار کو اجازت ہونا چاہیے۔

یاسر جدون، ڈنمارک:
لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے وصیت نامے میں اپنی ای میل کا پاس ورڈ لکھ دیں۔ آخر وہ اکیسویں صدی میں مر رہے ہیں!

جبران حسین، کراچی:
پرائیویسی پالیسی میں ترمیم ہونا چاہیے کیونکہ انسان کے خطوط اس کی زندگی کے بارے میں بہت کچھ بتاتے ہیں۔

فیصل چانڈیو، حیدرآباد، پاکستان:
میں چاہتا ہوں کہ میرے مرنے پر میری والدہ اور میری بیوی کو اس کی اجازت ہونا چاہیے۔

’ڈیتھ سرٹیفکیٹ‘
 اگر ای میل کمپنیاں اپنی پالیسی میں ترمیم کرتی ہیں تو اتنا یاد رکھنا ہوگا کہ پاکستان میں زندہ لوگوں کا ڈیتھ سرٹیفیکیٹ بن جاتا ہے۔
 
عبیدالرحمٰن اکبر،سلانوالی

عبیدالرحمٰن اکبر،سلانوالی، پاکستان:
اگر ای میل کمپنیاں اپنی پالیسی میں ترمیم کرتی ہیں تو اتنا یاد رکھنا ہوگا کہ پاکستان میں زندہ لوگوں کا ڈیتھ سرٹیفیکیٹ بن جاتا ہے۔

رضوان الحق، پیرس، فرانس:
میرے خیال میں کمپنیوں کو اپنی پرائیویسی پالیسی میں تھوڑی ترمیم کرنا چاہیے، بالکل ایسے جیسےآپ کسی بینک میں اکاؤنٹ کھولتے وقت یہ بتاتے ہیں کہ آپ کے مرنے کے بعد اکاؤنٹ کی رقم کس کے حوالے کی جائے۔

نادر نوہانی، قطر:
ای میل میں ’پرائیویٹ‘ کا ٹیگ ہونا چاہیے۔ جس ای میل کو میں پرائیویٹ کا نشان لگاؤں، میرے بعد کسی کو بھی اس تک رسائی نہیں ہونا چاہیے جبکہ باقی ای میل دکھا دیئے جائیں۔

سعد طارق، صادق آباد، پاکستان:
مرنے کے بعد کیسی پرائیویسی پالیسی؟ میرے خیال میں والد کو اپنے مرے ہوئے بیٹے کی ای میل تک رسائی ہونا چاہیے۔

عرفان احمد، کیوبیک، کینیڈا:
جی ہاں، جسٹن کے والد کو اپنے بیٹے کی ای میل پڑھنے کی اجازت ہونا چاہیے تا کہ دنیا کو وہاں کے حالات کا علم ہو۔

طارق سعید، ٹوبہ ٹیک سنگھ، پاکستان:
کسی کے مرنے کے بعد کسی کو بھی اس کی ای میل پڑھنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ ای میل ہر فرد کا ذاتی معاملہ ہے اور اس کا ہر کسی پر آشکارا ہونا غلط ہوگا۔

عارف جبار قریشی، سندھ، پاکستان:
قانون کا احترام اپنی جگہ مگر جذبات بھی اہم چیز ہوتے ہیں۔ مرنے کے بعد نامزد افراد کو ای میل پڑھنے کی اجازت ہونی چاہیے، مثلاً میں چاہوں گا کہ میرے مرنے کے بعد میرے بیٹے کو یہ حق حاصل ہو کہ وہ میری ای میل پڑھ سکے۔

نوید عاصم، جدہ، سعودی عرب:
میں یہ ضرور چاہوں گا کہ میرے مرنے کے بعد میرا بھائی میری میل کو پڑھ سکے۔

 
 
انٹرنیٹ پر کنٹرول کس کا؟آپ کی رائے
انٹرنیٹ پر کنٹرول نجی کمپنیوں کا ہی کیوں؟
 
 
ان دس سالوں میں کیا کھویا کیا پایا؟ آپ کی رائےنیٹ کیفے دس کے ہوئے
ان دس سالوں میں کیا کھویا کیا پایا؟ آپ کی رائے
 
 
آن لائن قبرستان: مستقبل کی حقیقت؟آپ کی رائے
آن ڈیمانڈ فاتحہ: انٹرنیٹ پر قبرستانوں کی سروس
 
 
کیا وائرس ڈیجیٹل دہشتگردی ہیں؟ آپ کی رائےڈیجیٹل دہشتگردی
وائرس یا ڈیجیٹل دہشتگردی؟ آپ کی رائے
 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد