BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت:
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
جینیاتی خوراک اور گلوبلائزیشن
 

 
 
امریکہ میں جی ایم خوراک کی کاشت
امریکہ میں جی ایم خوراک کی کاشت
جینیاتی طور پر تیار کیے جانے والے بیج اور خوراک کی درآمد میں کمی جو امریکہ اور بہت سے ترقی پذیر ممالک کے درمیان باعث نزاع رہی ہے، اب امریکہ اور یورپی تعلقات میں بھی دراڑ ڈالنے کا سبب بن رہی ہے۔ گزشتہ تیرہ مئی کو سفارت کار اس امریکی اعلان پر حیران رہ گئے کہ امریکہ یورپی یونین کی طرف سے جینیاتی طور پر بنائی جانے والی خوراک (جی ایم خوراک) پر عائد پابندی کے خلاف تحریری شکایت کرے گا۔ اس پابندی کی وجہ سے یہ خوراک یورپی اسٹورز میں نہیں بیچی جا رہی۔

اس اعلان کے ایک ہفتے بعد صدر جارج بش نے الزام لگایا کہ جینیاتی خوراک کی درآمد یورپی یونین کی جانب سے عائد کی جانیوالی پابندی افریقہ میں غربت میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ انہوں نےجینیاتی طور پر تیار کی جانے والی خوراک کو ’زیادہ مفید‘ قرار دیا۔

امریکہ کے تجارتی نمائندے رابرٹ زوئلک نے یورپی یونین کی پالیسی کو غیراخلاقی اور نامنصفانہ تجارتی فعل قرار دیا جس سے امریکی مفادات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ یہ جنگ امریکی حکومت کی سرپرستی میں زراعتی کاروباری طبقے اور دنیا بھر کے کسانوں کےدرمیان بڑھتی ہوئی جدوجہد کا مظہر ہے۔

گلوبلائزیشن کا مطلب؟
 کیا نئی عالمی معیشت میں کسانوں اور تمام ممالک کو اس بات کا اختیار ہوگا کہ وہ جو مرضی کھائیں، جو مرضی اگائیں اور اپنی مرضی کا زراعتی نظام اپنائیں؟
 
کیتھلین میکافی

ہرچند کہ اس بحث کو سائنس کی بحث قرار دیا جاتا ہے لیکن اس میں کچھ ماحولیاتی، معاشی اور تہذیبی معاملات بھی شامل ہیں۔ کیا نئی عالمی معیشت میں کسانوں اور تمام ممالک کو اس بات کا اختیار ہوگا کہ وہ جو مرضی کھائیں، جو مرضی اگائیں اور اپنی مرضی کا زراعتی نظام اپنائیں؟

یورپی یونین نے جی ایم خوراک کی درآمد اور جینیاتی طور افزائش کیے جانے والے آرگینزم ( living organisms) کے ماحول میں چھوڑے جانے پر پابندی عائد کردی ہے۔ اب یہ تجویز زیرِ غور ہے کہ جی ایم درآمد کی اس شرط پر اجازت دے دی جائے کہ مصنوعات کے لیبل پر یہ لکھا ہو ہو کہ یہ جینیاتی طور پر تیار کی جانے والی خوراک ہے۔ یورپ میں زراعتی زمین اور مقامی طور پر تیار شدہ مصنوعات کا بڑا خیال رکھا جاتا ہے۔

’میڈ کاؤ‘ بیماری (mad cow disease) کے حالیہ واقعات نے بڑے پیمانے پر صنعتی فارمنگ کے ذریعے تیار ہونے والی مصنوعات پر لوگوں کی بے اعتباری میں اضافہ کر دیا ہے۔ پیو ریسرچ سینٹر کے ایک سروے کے مطابق مغربی یورپ کے ستر سے اسی فیصد صارفین اب جی ایم غذا کے بارے میں تحفظات رکھتے ہیں۔ امریکہ کے حکومتی ناقدین کا خیال ہے کہ یہ رویہ غیر منطقی ہے اور یورپی یونین کے ضابطوں کی بنیاد صحت اور ماحول کو لاحق خطرات کے مصدقہ سائنسی ثبوت پر نہیں ہے۔

غربت، سیاست اور جنیاتی خوراک
 امریکی ناقدین کا مزید یہ کہنا ہے کہ ترقی پذیر ملکوں کی حکومتیں یورپی یونین کے دباؤ کے زیر اثر اپنے عوام کے مفاد کے خلاف جی ایم مخالف پالیسیاں اپنانے پر مجبور ہیں۔ مثال کے طور پر پچھلے سال کے آخر میں جنوبی افریقہ کی حکومتوں نے قحط کے لئے وہ امریکی امداد مسترد کر دی جو جینیاتی طور پر تیار کی گئی مکئی کی شکل میں تھی۔
 

امریکی ناقدین کا مزید یہ کہنا ہے کہ ترقی پذیر ملکوں کی حکومتیں یورپی یونین کے دباؤ کے زیر اثر اپنے عوام کے مفاد کے خلاف جی ایم مخالف پالیسیاں اپنانے پر مجبور ہیں۔ مثال کے طور پر پچھلے سال کے آخر میں جنوبی افریقہ کی حکومتوں نے قحط کے لئے وہ امریکی امداد مسترد کر دی جو جینیاتی طور پر تیار کی گئی مکئی کی شکل میں تھی۔ بہت کم افریقی برآمدات یورپی یونین کے موجودہ ضابطوں سے متاثر ہوتی ہیں سوائے زمبابوے کے بیف کے اور وہ بھی اس صورت میں کہ اگر جانور کو جینیاتی طور پر تیار کیے گئے دانے کھلائے گئے ہوں۔

تاہم جنوبی افریقہ کی جانب سے امریکی امداد مسترد کرنے کے کچھ دوسرے عوامل بھی تھے۔ ان میں سے ایک تو خام جی ایم مکئی کے استعمال سے صحت کو ممکنہ خطرات تھے۔ یہ خام جی ایم مکئی امریکی خوراک کا حصہ نہیں ہے۔ دوسرے خام جی ایم مکئی کے جنوبی افریقہ کے زراعتی نظام میں چھوڑے جانے کی صورت میں ممکنہ نامعلوم اثرات تھے۔ جنوبی افریقہ میں مکئی بنیادی فصل ہے۔

افریقی حکومتوں نے ان خدشات کے دور ہونے تک امریکہ سے اقوام متحدہ کے ’عالمی ادارۂ خوراک‘ کی ہدایات کے مطابق مقامی طور پر تیار کردہ بہتر اور مناسب خوراک کو خریدنے کے لئے فنڈز کی فراہمی کی درخواست کی۔ باقی امداد دینے والے ممالک بھی ایساہی کرتے ہیں۔ بعد میں زمبابوے نے جی ایم بیج کو قبو ل کر لیا جبکہ زامبیا نے اپنا ایک وفد یورپ اور امریکہ بھیجا جس کی سفارشات کی روشنی میں اس نے امریکی امداد مسترد کر دی۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کی پالیسی غیراخلاقی ہے۔ اس دلیل کی بنیاد یہ ہے کہ جی ایم فصلوں سے صحت اور ماحول کو کوئی قابلِ ذکر خطرات لاحق نہیں۔ اس کا یہ بھی خیال ہے کہ جی ایم فصلیں افریقہ کے قحط کو کم کرنے میں مددگار ہوں گیں کیونکہ جی ایم فصلوں سے حاصل ہونے والی پیداوار روایتی فصلوں سے حاصل کردہ پیداوار سے زیادہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جی ایم فصلوں سے حاصل ہونے والی پیداوار روایتی فصلوں سے حاصل کردہ پیداوار سے کم ہے۔ یہ امر باعث حیرانی نہیں کہ کیونکہ جی ایم فصلوں کا اصل مقصد زیادہ خوراک پیدا کرنا نہیں بلکہ کیڑے مکوڑوں کا خاتمہ ہے۔

اگرچہ راک فیلر فاؤنڈیشن کے ریسرچر بڑے پرامید ہیں لیکن فصلوں کی جینیاتی انجینئرنگ ابھی ایسی کسی قسم بنانے سے بہت دور ہے جس کے ذریعے افریقی ماحول میں زیادہ خوراک پیدا کی جا سکے۔ دریں اثناء ٹرانس نیشنل بائیو ٹیکنالوجی اور ایگرو کیمیکل فرمز جو موجودہ جینیٹک انجینئرنگ ٹیکنالوجی کو پیٹنٹ کرنے کے ذمہ دار ہیں، ان کا مفاد افریقہ جیسے ممالک کے لئے جی ایم فصلیں تیار کرنے میں نہیں کیونکہ وہاں کے کسان اپنی غربت کی وجہ سے مہنگے بیج اور ایگرو کیمکل خریدنے کے متحمل نہیں۔

افریقہ میں اچھے معیار کی فصلوں کی قسموں کی کمی افریقی خوراک کی پیداوار میں رکاوٹ نہیں۔ اصل رکاوٹوں میں افریقہ کی خستہ سڑکیں اور سٹوریج کی سہولتوں کا نہ ہونا، قرضوں اور ٹریکٹروں کی کمی، خراب زمین، افرادی قوت کی کمی اور زراعتی فارمز کی قیمتوں میں امریکہ اور یورپی یونین سے سستی خوراک کی درآمد کے وجہ سے کمی شامل ہیں۔

جنیاتی کاشت کے مضر اثرات
 امریکی اہلکاروں کی امید کے برعکس جنیاتی کاشت کے کھیتوں سے اس کے اثرات کافی دور دوسرے کھیتوں تک سفر کرتے ہیں۔ یعنی اگر ایک کھیت میں مکئی کی کاشت جنتیاتی طور پر کی جارہی ہے تو اس کا اثر دور تک ہوسکتا ہے اور مکئی کی دوسری قسموں میں شامل ہو کر مضر اثرات چھوڑ سکتا ہے۔ کچھ سائنسدانوں نے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ مصنوعی جینز ایسے جرثوموں کے خاتمے کا باعث بھی بن سکتی ہیں جو زراعتی زمین کے نشو نما میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
 

مزید برآں ماحول کو لاحق خطرے کا سوال اب جی ایم کے حامیوں کے لئے درد سر بنا ہوا ہے۔ امریکی اہلکاروں کی امید کے برعکس جنیاتی کاشت کے کھیتوں سے اس کے اثرات کافی دور دوسرے کھیتوں تک سفر کرتے ہیں۔ یعنی اگر ایک کھیت میں مکئی کی کاشت جنتیاتی طور پر کی جارہی ہے تو اس کا اثر دور تک ہوسکتا ہے اور مکئی کی دوسری قسموں میں شامل ہو کر مضر اثرات چھوڑ سکتا ہے۔ کچھ سائنسدانوں نے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ مصنوعی جینز ایسے جرثوموں کے خاتمے کا باعث بھی بن سکتی ہیں جو زراعتی زمین کے نشو نما میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

یہ بھی پتہ چلا ہے کہ چند ہی سال میں کیڑوں میں ایسی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے ان پر جی ایم فصلوں سے متعلق جراثیم کش ادویات اثر نہیں کرتیں۔ صرف کپاس کی فصل ایسی ہے جس کی جی ایم قسم کے لئے کم زہریلی چھڑکاؤ کی ضرورت ہے اور جس کے نتیجے میں ماحول کو خطرہ نہیں ہوتا۔ ان ماحولیاتی مسائل کے حل ہونے تک ان ممالک کے لئے بہتر یہ ہے کہ وہ جی ایم بیجوں کی کاشت کی اجازت نہ دیں۔

لیکن امریکی محکمہ صحت، ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی اور آفس برائے تجارت کے نمائندے نے جی ایم فصلوں کے فروغ کو اپنی پالیسی کی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ عالمی تجاری تنظیم یعنی ڈبلیو ٹی او کے کیس کے علاوہ امریکہ نے کارٹاجینا پروٹوکول برائے بائیو سیفٹی کے خلاف بھی مہم شروع کی ہوئی ہے۔ یہ ایک نیا عالمی معاہدہ ہے جس کے تحت کسی بھی ملک کو ماحولیاتی، سماجی اور سیاسی وجوہ پر جی ایم بیج کی درآمد سے انکار کا حق حاصل ہوگا۔

یورپ اور کینیڈا کے برعکس امریکی زراعتی اور کاروباری طبقہ جی ایم بیجوں کو غیر جی ایم بیجوں سے علیحدہ کرنے سے انکار کررہا ہے۔ زراعتی برآمدات امریکی تجارتی توازن کے لئے بہت اہم ہیں اور زراعتی اور کاروباری طبقے کا امریکی سیاست پر اثر بھی ہے۔ امریکی فارم درآمدات کے مبلغ یہ دلیل دیتے ہیں کہ کم آمدنی والے ممالک خوراک میں خود کفالت کی صلاحیت سے محروم ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ عالمی منڈیاں معیار میں ان سے بہتر ہیں۔

دنیا کی منڈیوں میں امریکی زراعتی مصنوعات کی یلغار سے دوسروں پر انحصار کا خطرناک رویہ جنم لے رہا ہے۔ اس سے ترقی پذیر ممالک میں کسانوں کا نہ صرف روزگار چھن رہا ہے بلکہ دیہی آبادی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ افریقہ میں قحط کے خاتمہ کے لئے امریکہ کو چاہئے کے افریقہ کے سماجی ڈھانچہ، مارکیٹنگ، مناسب قیمتوں، فصلوں اور فارم مینیجمینٹ پر ریسرچ میں مدد کرے۔ سب سے اہم یہ کہ امریکہ کو چاہیے کہ وہ ’اخلاق‘ کے بارے میں دوسروں کولیکچر دینا بند کر دے۔

ہمیں لکھئے: عالمگیریت یعنی گلوبلائزیشن سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟

نوٹ: یہ مضمون بی بی سی اردو آن لائن اور ییل سنٹر فار دی اسٹڈی آف گلوبلائزیشن کے درمیان پارٹنرشِپ کے تحت شائع کیا جارہا ہے اور ییل گلوبل کی کائپ رائٹ ہے۔

 
 
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
 
  
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
 
اسی بارے میں
 
 
بیرونی لِنک
 
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد