شاہدرا کا ڈھولی
 
عابد
عابد
 
شاہدرہ کا ڈھولی، ڈِرگ روڈ کے روزہ دار
 


تحریرو تصاویر: ارشد علی

 

’میرا نام عابد ہے۔ میری عمر ابھی پچیس سال ہے۔ دو میرے بچے ہیں۔ تین سال پہلے میرے باپ نے میری شادی برادری میں کر دی تھی۔ لڑکی میرے باپ کو پسند تھی، اب مجھے بھی پسند ہے۔ میں یہاں ڈرگ روڈ کے گوٹھ میں رہتا ہوں۔

ابھی اللہ کے حکم سے رمضان کا مہینہ ہے، ہم اپنے مسلمان بھائیوں کو سحری میں جگاتے ہیں۔ آواز لگاتے ہیں ’سائیں عابد ڈھول والا، سحری والا، اٹھو مومنو، روزے رکھو تے نمازاں پڑھو۔‘ رات کو تین بجے نکلتا ہوں اور ریتہ پلاٹ کے لوگوں کو جگاتا ہوں۔ میرے علاقے میں پچیس گلیاں ہیں، اس سے آگے کا علاقہ کسی اور کے پاس ہے۔ علاقے کے لوگ عزت کرتے ہیں اور میں بھی ہر گھر کا خیال رکھتا ہوں۔ ہماری بہنوں بھائیوں کا گھر ہے۔

ڈھول بجانا ہمارا خاندانی کام ہے۔ پیچھے سے ہم شاہدرہ، لاہور کے پاس کے ایک گاؤں سے ہیں۔ میں، میرا بھائی اور باپ تینوں ڈھول بجا کر اپنے خاندان کو پالتے ہیں۔ ہم نے کبھی کسی اور کام کا نہیں سوچا، نہ ہی اپنے خاندان میں کسی کو کرتے دیکھا۔ بس ایک آدھ بندہ ٹین ڈبے کا کام کرلے تو کرلے، باقی ہمارا کام ڈھول بجانا ہی ہے۔‘

 
 
شاہدرہ کا ڈھولی
 
 
 
 
^^ تازہ ترین خبریں>>پاکستان>>ملٹی میڈیا>>