BBC Urdu
آخری وقت اشاعت:  Tuesday, 17 november, 2009, 13:10 GMT 18:10 PST

پاکستان میں شہنائی کا دم توڑتا فن

عزیز اللہ خان

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان میں شادی بیاہ کے موقع پر دلہن کے احساسات کی ترجمانی کرنے والا موسیقی کا ایک اہم ساز شہنائی دم توڑ رہا ہے۔ شہنائی سانس پر مکمل عبور حاصل ہونے پر ہی بجائی جا سکتی ہے۔

شہنائی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا آغاز وادی کشمیر سے ہوا تھا اور یہ ساز برصغیر کا ایک مقبول ساز سمجھا جاتا ہے لیکن اب اس کے استعمال میں بڑی حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ لیکن پاکستان کے کئی پسماندہ علاقوں میں بھی ایسے فنکار موجود ہیں جو مشکلات کے باوجود شہنائی سے اپنا رابطہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

پاکستان کے سرائیکی علاقوں میں شہنائی کا استعمال اکثر کیا جاتا تھا اور خاص طور پر شادی بیاہ میں ڈھول کے ساتھ شہنائی ضرور ہوتی تھی لیکن اب صورتحال مختلف ہے۔ صوبہ سرحد کا جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان شدت پسندی کے واقعات سے بری طرح متاثر ہوا ہے اور اس علاقے میں موسیقی سے وابستہ افراد کا کاروبار ختم ہو کر رہ گیا ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے معروف شہنائی نواز استاد اللہ نواز کو سانس کی تکلیف کی وجہ سے ڈاکٹروں نے شہنائی بجانے سے منع کر دیا ہے لیکن انھوں نے یہ فن اپنے بیٹے قربان عباس کو منتقل کر دیا ہے۔

"شہنائی، سرنا، غزی اور افغانی ٹوٹا اگرچہ شکل میں ایک جیسے ہی ہوتے ہیں لیکن ان کے استعمال اور بجانے میں فرق ہے۔ شہنائی گلے اور سانس کے استعمال سے بجائی جاتی ہے۔ اب بھی ایسے گھرانے ہیں جو اس فن کو زندہ رکھے ہوئے ہیں"

استاد اللہ نواز

استاد اللہ نواز کا کہنا ہے کہ شہنائی، سرنا، غزی اور افغانی ٹوٹا اگرچہ شکل میں ایک جیسے ہی ہوتے ہیں لیکن ان کے استعمال اور بجانے میں فرق ہے۔ ’شہنائی گلے اور سانس کے استعمال سے بجائی جاتی ہے۔ اب بھی ایسے گھرانے ہیں جو اس فن کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔‘

بائیس سالہ قربان عباس کا کہنا ہے کہ تمام تر مشکلات کے باوجود وہ اسی فن سے ہی وابستہ رہنا چاہتے ہیں۔ قربان عباس تعلیم حاصل نہیں کر پائے جس کا انھیں افسوس ہے۔

انھوں نے کہا کہ انھیں مشتبہ افراد نے شہنائی بجانے سے منع کیا ہے اور ان کے گھر خط اور پمفلٹ بھیجے گئے کہ یہ کام چھوڑ دو کیونکہ یہ گناہ ہے۔ لیکن قربان عباس کے مطابق شادی بیاہ کی تقریبات ڈھول اور شہنائی کے ساتھ ہی ہونی چاہیے۔ قربان عباس کو یقین ہے کہ ایک مرتبہ پھر ان کے علاقے میں شادی بیاہ پر شہنائیاں ضرور بجیں گی۔

ایک ماہر موسیقی جہانگیر خان نے کہا ہے کہ شہنائی ہمارے معاشرے میں دلہن کے احساسات کی ترجمانی کرتی ہے۔ ’شہنائی جب شادی بیاہ پر بجائی جاتی ہے تو اس کے دو انگ ہوتے ہیں۔ پہلے انگ میں ایک افسوس اور غم ہوتا ہے، دلہن کا ماں باپ اور گھر والوں سے جدائی کا۔ دوسرے انگ میں دلہن کی پیا سے ملاقات کی خوشی کے جذبات ہوتے ہیں اور ان علاقوں کے لوگ شہنائی میں چھپے ہوئے ان احساسات کو محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔‘

جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور روایتی موسیقی کے آلات میں کمی سے بڑی تعداد میں اس فن سے وابستہ افراد کو مشکلات کا سامنا ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ روایتی موسیقی کے آلات ایک مرتبہ پھر استعمال ہوں گے کیونکہ حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔