Got a TV Licence?

You need one to watch live TV on any channel or device, and BBC programmes on iPlayer. It’s the law.

Find out more
I don’t have a TV Licence.

خلاصہ

  1. حکومت نے کہا ہے کہ وہ مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں تاکہ احتجاج کرنے والے پرامن انداز میں منتشر ہوجائیں۔
  2. آسیہ بی بی پر جون 2009 میں ان کے ساتھ کھیتوں میں کام کرنے والی خواتین نے الزام لگایا تھا کہ آسیہ بی بی نے پیغمبر اسلام کی شان میں نازیبا کلمات ادا کیے ہیں۔
  3. اگلے سال ٹرائل کورٹ نے اس مقدمے پر فیصلہ سناتے ہوئے ان کو سزائے موت دی۔
  4. سال 2014 میں آسیہ بی بی کی لاہور ہائی کورٹ میں اپیل مسترد کر دی گئی اور سزائے موت کا فیصلہ برقرار رہا جس کے بعد انھوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔
  5. سال 2016 میں اس کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں شروع ہونی تھی لیکن بینچ پر موجود ایک جج نے اپنی شمولیت سے معذرت کر لی۔
  6. اس سال اکتوبر آٹھ کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کیس کی تین گھنٹے طویل سماعت کی جس کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا گیا۔
  7. آسیہ بی بی کی رہائی کے لیے دنیا بھر سے اپیلیں ہوئی ہیں اور ماضی میں پنجاب کے گورن سلمان تاثیر کو ان کے گارڈ ممتاز قادری نے اسی بنیاد پر ہلاک کیا تھا کہ انھوں نے آسیہ بی بی کی حمایت میں بیان دیا تھا۔

لائیو رپورٹنگ

time_stated_uk

  1. آسیہ بی بی کیس: مظاہرین کے مطالبات اور فوج کا موقف، اب تک کیا ہوا؟

    یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔

    توہینِ رسالت کے الزام میں سزا پانے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے بریت کے فیصلے کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ جمعے کو تیسرے روز بھی جاری رہا۔

    اسلام آباد، لاہور، اور کراچی کی متعدد شاہراوں پر مظاہرین نے ٹریفک کو معطل کیے رکھا اور متعدد مقامات پر توڑ پھوڑ کی اطلاعات بھی ملی تاہم بڑے پیمانے پر فسادات کی خبریں سامنے نہیں آئیں۔ جمعے کی صبح آٹھ بجے سے شام تک ملک کے چار شہروں اسلام آباد، لاہور، گوجرانوالا اور راولپنڈی میں موبائل سروس دستیاب نہیں تھی۔

    تحریک لبیک پاکستان کے مرکزی ترجمان اعجاز اشرفی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی جماعت کے دو مرکزی مطالبات ہیں کہ آسیہ بی بی کیس کا فیصلہ دینے والے تینوں ججز استعفیٰ دیں اور ساتھ ساتھ سپریم کورٹ کی جانب سے دیا گیا فیصلہ واپس لیا جائے کیونکہ یہ ’قرآن اور پاکستانی آئین کے خلاف‘ ہے۔

    اعجاز اشرفی نے مزید کہا کہ 'حکومت اور مقتدر ادارے غیر ذمےدارانہ گفتگو کر رہے ہیں جس کی وجہ سے حالات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔'

    اس سے قبل آسیہ بی بی کی بریت کے بعد ہونے والے مظاہروں پر پہلی بار رد عمل دیتے ہوئے پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ’حکومت کے پاس فیصلے کرنے کے مختلف آپشنز ہوتے ہیں اور پہلے پولیس، رینجرز اور پھر فوج کے استعمال کا فیصلہ لیا جا سکتا ہے۔ اور اگر حکومت فوج بلانے کا فیصلہ کرتی ہے تو پھر فوج کے سربراہ اس پر وزیر اعظم کو اپنا مشورہ دیتے ہیں یا اگر وزیر اعظم اپنے حکم کے تحت فوج کو طلب کر سکتے ہیں۔ البتہ ہماری پوری خواہش ہے کہ قانونی تقاضہ پہلے پورے ہونے دیں۔‘

    سرکاری ٹی وی پر بات چیت کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ افواج پاکستان کے خلاف بات کرنا نہایت افسوسناک عمل ہے۔ ’فوج نے دو دہائیوں سے ملک میں دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے اور اب ہم اس جنگ کو جیتنے کے قریب ہیں۔‘

    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج اپنا کام کر رہی ہے اور اپنے خلاف ہونے والی باتیں برداشت کیے جا رہی ہے۔ ’اس میں بھی فوج نے برداشت کا مظاہرہ کیا ہے اور اس کیس میں تعلق نہ ہوتے ہوئے بھی ہماری خواہش ہے کہ انصاف کیا جائے اور ہمیں ایسا کوئی قدم اٹھانے پر مجبور نہ کیا جائے جس کی ہمیں آئین اور قانون اجازت دیتا ہے۔‘

    میجر جنرل آصف غفور کا مزید کہنا تھا کہ’میں نے مولانا خادم رضوی صاحب کا بیان دیکھا ہے، فوج کے خلاف باتیں ہوئی ہیں۔ ایک صورتحال بنی ہوئی ہے جس کو حل کرنے کے لیے حکومت کا وفد گیا ہوا ہے جس میں آئی ایس آئی کا افسر بھی شامل ہے۔ آئی ایس آئی کا افسر وزیر اعظم کی ٹیم کا حصہ ہوتا ہے اور گذشتہ سال کی طرح بھی وہ اس بار گئے ہیں۔‘

    آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ’مذاکرات کے دوران بات چیت کرتے ہوئے کبھی کبھار اونچ نیچ ہو جاتی ہے اور اس قسم کے فیصلے لینے بہت مشکل ہوتے ہیں اور ہمیں اس صورتحال کو قابو میں کرنا ہوتا ہے۔‘

    میجر جنرل آصف غفور کے مطابق یہ مذاکرات حکومت کی سطح پر ہو رہے ہیں اور اس میں حکومت کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ بات چیت کرنا چاہے، اور آگے کیسے جائے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ٹویٹ کے ذریعے بتایا کہ حکومتی وفد جمعے کو بھی تحریک لبیک پاکستان کی قیادت سے ملاقات کرے گا۔ یاد رہے جمعرات کی شب ٹی ایل پی کے سربراہ خادم حسین رضوی کی جانب سے ٹویٹ کی گئی تھی کہ حکومت سے مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں اور آئی ایس آئی کے افسر نے انھیں ’بھون‘ دینے کی دھمکی دی تھی۔

  2. بریکنگ’بچے کو تلاش کر کے نقصان کی تلافی کریں‘

    پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں بتایا ہے کہ انھوں نے پنجاب حکومت سے کہا ہے کہ وہ اُس پھل فروش بچے کو تلاش کر کے اس کے نقصان کی تلافی کریں جس کی ریڑھی سے آج مبینہ مظاہرین نے پھل چرا لیا تھا۔واضح رہے کہ آج سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک گدھا گاڑی پر ایک بچے نے بہت سارے کیلے فروخت کے لیے لادے ہوئے ہیں۔ تاہم ایک ہجوم اس بچے کا تمام مال لوٹنے کی کوشش کر رہا ہے اور بچہ انتہائی مشکل سے وہاں سے اپنی گدھا گاڑی کو بھگانے کی کوشش کر رہا ہے۔

    View more on twitter
  3. مظفرآباد میں تاجر تنظیموں اور مذہبی جماعتوں کا دھرنا

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھی آج دوپہر کے وقت دارالحکومت مظفرآباد میں تاجر تنظیموں اور مذہبی جماعتوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔ نامہ نگار مرزا اورنگزیب جرال نے بتایا کہ احتجاجی مظاہرے میں شریک افراد نے گیلانی چوک میں نماز ادا کی اور وہاں احتجاجی دھرنا دیا جس سے مرکزی شاہراہ ٹریفک کی آمدورفت کے لیے بند رہی۔

    مضطفرآباد
    مضطفرآباد
  4. بریکنگلاہور میں موبائل سروس بحال

    نامہ نگار فرقان الہیٰ کے مطابق لاہور میں موبائل سروس کھلنے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔

  5. بریکنگاسلام آباد: ڈی چوک سے مظاہرین روانہ، جناح ایونیو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا

    نامہ نگار فرحت جاوید کے مطابق مظاہرین ڈی چوک سے چلے گئے ہیں۔ ڈی چوک اور جناح ایونیو ٹریفک کے لیے بھی کھول دیے گئے ہیں۔

    اسلام آباد
  6. بریکنگجلد مثبت پیش رفت کی امید ہے: شہریار آفریدی

    وزیرِمملکت برائے داخلہ امور شہریار آفریدی کا کہنا ہے کہ حکومت ملک میں جاری امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے شدید صبر کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

    پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے ریڈیو پاکستان کے مطابق شہریار آفریدی نے اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کی مذاکراتی ٹیم اور وزیراعلیٰ پنجاب مظاہرین سے بات چیت کر رہے ہیں اور جلد مثبت پیش رفت کی امید ہے۔

  7. بریکنگ’ہر مسئلہ ڈائیلاگ کے ذریعے حل ہونا چاہیے‘

    تنظیم اتحادِ امت نے مظاہرین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنا احتجاج ختم کر دیں اور اس دھرنے سے ملک کی وحدت کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ تنظیم نے آسیہ بی بی کی رہائی کے بارے میں کہا ہے کہ کہ ہمارے ججز نے قانون کے مطابق فیصلہ کیا ہے اور اگر کسی کو اس سے اختلاف ہے تو ان کے پاس قانونی راستہ ہے۔ تنظیم کا موقف ہے کہ ’ہر مسئلہ ڈائیلاگ کے ذریعے حل ہونا چاہیے۔‘

    اسلام آباد
  8. نارووال میں بھی آسیہ بی بی کی بریت کے خلاف مظاہرہ شروع

    نارووال کے علاقے شکر گڑھ میں بھی آسیہ بی بی کی بریت کے خلاف جمعے کے روز مظاہرہ شروع کر دیا گیا ہے۔

    ناروال
    ناروال
  9. لاہور میں گورنر ہاؤس کے باہر پولیس اور مظاہرین کے روڈ بلاک

    حکومت اور مظاہرین کے درمیان گزشتہ روز مذاکرات کا دور ناکام ہونے کے بعد لاہور کے مرکز چیئرنگ کراس پر حالات بدستور خراب ہیں۔ ہمارے ساتھی عمر دراز نے تحریکِ لبیک پاکستان کی جانب سے دیے جانے والے دھرنے کے مقام کی جانب جانے کی کوشش کی۔۔۔

    Video content

    Video caption: بی بی سی کے عمر دراز لاہور میں گورنر ہاؤس کے باہر موجود ہیں
  10. پشاور میں جی ٹی روڈ پر جلسہ

    ہمارے نامہ نگار بلال احمد نے بتایا کہ پشاور کے قریب جی ٹی روڈ پر جمعیت علمائے اسلام کا جلسہ شروع ہوگیا ہے۔

    پشاور
    پشاور
  11. پشاور: فردوس چوک جی ٹی روڈ پر جمعیت علما اسلام کے جلسے کی تیاریاں جاری

    Peshawar
    Peshawar
  12. بریکنگ’کراچی میں 32 سے زیادہ مقامات پر دھرنے جاری ہیں‘

    کراچی ٹریفک پولیس کے مطابق شہر میں 32 سے زائد مقامات پر دھرنے دیے جا رہے ہیں۔

    کراچی کے مشرقی ضلعے میں دو مقامات اسٹار گیٹ اور نمائش پر دھرنا دیا جا رہا ہے جبکہ مغربی ضلعے میں اورنگی، سعید آباد، بلدیہ، حب ریور روڈ، جناح برج، بڑا بورڈ اور ماڑی پور روڈ پر بھی دھرنے جاری ہیں۔

    ادھر جنوبی ضلع میں تین تلوار ٹاور، رنچھوڑ لائن اور رام سوامی شو مارکیٹ میں دھرنے دیے جا رہے ہیں۔

    سینٹرل ضلعے میں سہراب گوٹھ، لیاقت آباد دس نمبر،نیو کراچی فورکے، ناگن چورنگی، ناظم آباد اور سخی حسن میں دھرنے دیے جا رہے ہیں۔

    ملیر فور کے علاقے چورنگی، زیرو پوائنٹ اور ملیر ہالٹ سے ماڈل کی دائیں جانب دھرنے جاری ہیں۔

    کورنگی بلال چورنگی، قیوم آباد فرنیچر مارکیٹ، لانڈھی 89، اور ندی کے دونوں ٹریک اور کورنگی ڈھائی نمبر پر دھرنے جاری ہیں۔

  13. اسلام آباد کا جناح ایوینیو بند کر دیا گیا

    اسلام آباد ٹریفک پولیس کے مطابق بلیو ایئریا کے علاقے میں جناح ایوینیو کو مکمل طور پر ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

    View more on twitter
  14. فیض آباد: تقاریر اور نعت خوانی کا سلسلہ جاری

    بی بی سی نیوز کے نامہ نگار سکندر کرمانی کے مطابق فیض آباد کے مقام پر جمعے کی صبح حالات قدرے پرامن تھے۔ وہاں تقریباً ایک سے دو ہزار مظاہرین موجود تھے۔ تقاریر اور نعت خوانی کا سلسلہ جاری ہے اور سڑکیں بدستور بند ہیں۔

    تاہم حیرانگی کی بات یہ ہے کہ شہر کے دیگر علاقوں کے برعکس اس علاقے میں موبائل فون کے سگنل کچھ دیر کے لیے موجود تھے۔

    فیض آباد
    فیض آباد
    فیض آباد
  15. راولپنڈی میں میٹرو سروس تیسرے روز بھی بند

    آسیہ بی بی کی بریت کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال کے تناظر میں راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان چلنے والی میٹرو بس سروس تیسرے روز بھی بند ہے اور شہر کی دیگر سٹرکیں بھی ٹریفک کے لیے بند ہیں۔ نامہ نگار وقاص علی نے بتایا کہ راولپنڈی کی اہم شہراہ آئی جی پی روڈ کو ٹریفک پولیس کی جانب سے بند کیا جا رہا ہے۔

    تاہم راولپنڈی کے معروف کاروباری علاقے راجہ بازار میں کاروباری سرگرمیاں شروع ہو چکی ہیں۔

    Rawalpindi
    Rawalpindi
    Rawalpindi
  16. ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی پی ٹی وی نیوز سے گفتگو

    آسیہ بی بی کی بریت کے بعد ہونے والے مظاہروں پر پہلی بار رد عمل دیتے ہوئے پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے سرکاری ٹی وی پر بات چیت کی۔

    View more on facebook
  17. ’تینوں ججوں کا استعفیٰ، سپریم کورٹ کا فیصلہ واپس‘

    تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے دو مرکزی مطالبات

    تحریک لبیک پاکستان کے مرکزی ترجمان اعجاز اشرفی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی جماعت کے دو مرکزی مطالبات ہیں کہ آسیہ بی بی کیس کی فیصلہ دینے والے تینوں ججز استعفی دیں اور ساتھ ساتھ سپریم کورٹ کی جانب سے دیا گیا فیصلہ واپس لیا جائے کیونکہ یہ قرآن اور پاکستانی آئین کے مترادف ہے۔

    اعجاز اشرفی نے مزید کہا کہ ان کی جماعت دوپہر دو بجے اپنے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی اور آج ان کی کسی حکومتی وفد سے اب تک ملاقات نہیں ہوئی ہے۔

    اعجاز اشرفی نے مزید کہا کہ ’حکومت اور مقتدر ادارے غیر ذمےدارانہ گفتگو کر رہے ہیں جس کی وجہ سے حالات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔‘

    pak