Got a TV Licence?

You need one to watch live TV on any channel or device, and BBC programmes on iPlayer. It’s the law.

Find out more
I don’t have a TV Licence.

خلاصہ

  1. پاناما لیکس کے معاملے کی تحقیقات کے لیے بنائی جانے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کا حکم پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے 20 اپریل کو سنائے گئے فیصلے میں دیا گیا تھا۔
  2. تین مئی کو سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کی تحقیقات کی نگرانی کے لیے تین رکنی خصوصی بینچ تشکیل دے دیا جو جسٹس اعجاز افضل، جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تھا۔
  3. پانچ مئی کو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم جس کی سربراہی ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل واجد ضیا کو سونپی گئی۔
  4. اس مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے چھ مئی کو کام شروع کیا اور دو ماہ کے عرصے میں ٹیم کے 59 اجلاس منعقد ہوئے اور اس دوران اس نے وزیراعظم پاکستان نواز شریف اور ان کے اہلخانہ سمیت 23 افراد سے تفتیش کی۔
  5. قطر کے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے شہزادہ حمد بن جاسم کو دو مرتبہ ٹیم کے سامنے پیش ہونے کے لیے بلایا تاہم انھوں نے پاکستان آ کر یا قطر میں پاکستانی سفارتخانے میں جا کر بیان دینے سے معذرت کی۔
  6. تحقیقاتی عمل کے آغاز میں پاکستان مسلم لیگ کے رہنماؤں کی جانب سے تحقیقات میں تعاون کرنے کے بارے میں بیانات سامنے آتے رہے وہیں اختتامی ہفتوں میں ان بیانات کا لہجہ سخت اور تلخ ہوتا گیا۔

لائیو رپورٹنگ

time_stated_uk

  1. بڑی رقوم میں ’بےقاعدگیاں‘

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑی رقوم کو قرض یا تحفے کی صورت میں دینے سے متعلق بےقاعدگیاں پائی گئی ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس رقم سے وزیر اعظم کے علاوہ ان کے دونوں بیٹے حسن نواز اور حسین نواز مستفید ہوئے اس لیے اس معاملے کو قومی احتساب بیورو میں بھیجا جائے۔

    رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اس ضمن میں جب حسن نواز اور حسین نواز سے اس رقوم کے بارے میں دریافت کیا گیا تو وہ تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔

  2. جے آئی ٹی کی سفارشات

    وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے خلاف پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اپنی حتمی رپورٹ وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے خلاف قومی احتساب بیورو میں ریفرنس دائر کرنے کی سفارش کی ہے

  3. بریکنگ’سارا راز والیئم 10 میں ہے‘

    دانیال عزیز

    مسلم لیگ نواز کے رہنما دانیال عزیز نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے والیئم 10 کو جس میں قانونی دلائل شامل ہیں، اسے عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔

    خیال رہے کہ یہ اس رپورٹ کا وہی حصہ ہے جسے عدالت نے جے آئی ٹی کی درخواست پر خفیہ رکھنے کا حکم دیتے ہوئے باقی رپورٹ فریقین کے حوالے کرنے کو کہا ہے۔

    دانیال عزیز نے کہا کہ سارا راز تو اسی والیم میں ہے اور سوال اٹھایا کہ جے آئی ٹی کی اس والئیم کو خفیہ رکھنے کی وجہ کیا ہے۔

    انھوں نے مطالبہ کیا کہ اس حصے کو بھی منظر عام پر لایا جائے۔

    ’اگر تصویر لیک ہو سکتی ہے تو کیا والیئم 10 نہیں لیک ہو سکتا؟ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اسے کل عوام کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ یہ معلوم ہو کہ اس میں ایسا کیا ہے؟

  4. بریکنگسماعت 17 جولائی تک ملتوی

    پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی نے سپریم کورٹ میں اپنی حتمی رپورٹ پیش کی جس کے بعد عدالت نے سماعت اگلے پیر یعنی 17 جولائی تک ملتوی کر دی ہے۔

    عدالت نے فریقین سے کہا ہے کہ وہ اس رپورٹ کی کاپی رجسٹرار آفس سے حاصل کر سکتے ہیں۔

    سماعت ملتوی کرتے ہوئے عدالت نے فریقین سے یہ بھی کہا کہ اگلی پیشی پر وہ دلائل نہ پیش کیے جائیں جو اب تک دیے جا چکے ہیں۔

    عدالت نے جے آئی ٹی کی درخواست پر رپورٹ کے والیئم نمبر 10 کو عام نہ کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

    عدالی نے یہ بھی حکم دیا کہ جے آئی ٹی کے ارکان اور ان کے اہل خانہ کو تاحکم ثانی سکیورٹی فراہم کی جائے۔

  5. بریکنگسپریم کورٹ ’جنگ گروپ پر برہم‘

    سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پاکستانی اخباروں روزنامہ دی نیوز اور جنگ میں جے آئی ٹی کی رپورٹ کے حوالے سے شائع ہونے والی خبر کا نوٹس لیتے ہوئے خبر دینے والے صحافی احمد نورانی، جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان اور پبلشر میر جاوید الرحمان کو توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے سات دن میں جواب طلب کر لیا ہے۔

    بی بی سی کے شہزاد ملک کے مطابق عدالت نے یہ نوٹس حسین نواز کی تصویر لیک ہونے کے معاملے پر عدالتی کارروائی کی کوریج کے علاوہ احمد نورانی کی اس خبر پر جاری کیا جس میں کہا گیا تھا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے معاملات فوج کا خفیہ ادارہ آئی ایس آئی دیکھ رہا ہے۔

  6. بریکنگایس ای سی پی کے چیئرمین کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ نے سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین ظفر حجازی کے خلاف ریکارڈ ٹیمپرنگ کے معاملے میں مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ یہ بھی معلوم کیا جائے کہ انھوں نے یہ ٹیمپرنگ خود کی یا کسی کے احکامات پر یہ کام کیا۔

  7. ’ثبوتوں کی ٹرالی دیکھ لیں!‘

  8. بریکنگ’حکومت تصویر لیک کرنے والے کا نام معلوم کروائے‘

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کی تحقیقات سے متعلق وزیر اعظم کے صاحبزادے حسین نواز کی تصویر لیک ہونے کے بارے میں کہا ہے کہ پہلے تصویر لیک کا معاملہ سنیں گے۔

    سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا کہ تصویر لیک کے معاملے پر کمیشن بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔

    انھوں نے حکم دیا کہ حکومت تصویر لیک کرنے والے کا نام معلوم کرائے۔

    حسین نواز کی یہ تصویر اس وقت کی ہے جب وہ آخری بار مشترکہ تحققیاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے تھے۔ حسین نواز کی یہ تصویر سرکاری ٹی وی سمیت نجی ٹی وی چینلز میں دکھانے کے علاوہ مختلف اخبارات کی بھی زینت بنی تھی۔

  9. بریکنگ’پاکستان میں اب پرانا سکرپٹ نہیں چلے گا‘

    پاکستان مسلم لیگ کے رہنما طلال چوہدری نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں ہمیشہ ایک ہی سکرپٹ چلتا جو کہ اب پرانا ہو چکا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اس سکرپٹ میں پہلے ایک وزیراعظم پر کرپشن کا الزام لگایا جائے گا اور پھر اسے حکومت سے نکال دیا جائے گا اور بعد میں معلوم ہو گا کہ وہ بے قصور ہے۔ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ اب یہ سکرپٹ نہیں چلے گا اور یہ پتلی تماشہ کرنے والے بے نقاب ہونے چاہیں۔

    انھوں نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا، میڈیا اور آگاہی کی وجہ سے پتلی تماشہ کرنے والے ناکام ہو چکے ہیں۔

    انھوں نے اس کے ساتھ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

    انھوں نے کہا کہ اب قانون چند لوگ ہی نہیں سمجھتے بلکہ پوری عوام سمجھتی ہے۔

  10. بریکنگجے آئی ٹی کی حتمی رپورٹ پیش کر دی گئی

    سپریم کورٹ کے حکم پر پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اپنے حتمی رپورٹ عدالتِ عظمیٰ کے تین رکنی خصوصی بینچ کے سامنے پیش کر دی ہے۔ اس جے آئی ٹی نے اپنی تحقیقات دو ماہ کی مدت میں مکمل کیں اور اس دوران سپریم کورٹ میں اپنی کارکردگی کی تین رپورٹس بھی پیش کیں جبکہ چوتھی اور حتمی رپورٹ آج پیش کی گئی ہے۔

  11. بریکنگمشترکہ تحقیقاتی ٹیم سپریم کورٹ پہنچ گئی

    پاکستان کی سپریم کورٹ کے تین رکنی خصوصی بینچ کے سامنے پاناما لیکس کے معاملے میں حتمی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے کے لیے جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم سپریم کورٹ پہنچ گئی ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ بینچ جسٹس اعجاز افضل، جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل ہے۔

  12. بریکنگجے آئی ٹی سپریم کورٹ روانہ

    مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے ارکان حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرنے کے لیے جوڈیشل اکیڈمی سے روانہ ہو گئے ہیں۔

    مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے ارکان سخت سکیورٹی میں سپریم کورٹ کے لیے روانہ ہوئے ہیں۔ ان کی سکیورٹی کے لیے پولیس کے علاوہ رینجرز بھی تعینات ہیں۔

  13. بریکنگدونوں طرف سے وکٹری سائن

    ہماری نامہ نگار نازش ظفر نے بتایا کہ حکومت اور حزب اختلاف کے رہنماؤں کی سپریم کورٹ میں آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور فریقین پراعتماد نظر آ رہے ہیں اور ’وکٹری‘ سائن بناتے ہوئے سپریم کورٹ کے اندر داخل ہو رہے ہیں۔

  14. بریکنگ’تابوت یا ثبوت جو نکلے گا، قبول کریں گے۔‘

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے سپریم کورٹ کے باہر بات کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی کوشش ہے کہ انھیں آئینی و قانونی طریقے سے نہ نکالا جائے اور کوئی اور طریقہ اپنایا جائے اس لیے جلد فیصلہ آنا چاہیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی میں کچھ ثابت ہوا یا نہیں یہ فیصلہ کرنا عدالت کا کام ہے۔ ’تابوت یا ثبوت جو نکلے گا، جو فیصلہ ہو گا قبول کریں گے۔‘

    انھوں نے چیف جسٹس سے استدعا کی کہ عدالت کے وقار کا خیال رکھا جائے کیونکہ ناشائستہ زبان استعمال کر کے عدالت کے وقار کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔

    ’یہ ججوں سے بھی ٹکرانا چاہتے ہیں۔ جس قسم کی زبان استعمال کی جا رہی ہے، جو ان کے ارادے ہیں۔ اس کا نوٹس لیا جائے۔‘

    سپریم کورٹ
  15. جہانگیر ترین کی آمد

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں۔

    ترین
  16. سپریم کورٹ کے باہر لیڈی پولیس بھی موجود

    police
  17. بریکنگ’عدالتی فیصلوں کو ادب اور احترام سے دیکھا جاتا ہے‘

    وزیر اعظم پاکستان کے معاون خصوصی بیرسٹر ظفر اللہ نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلوں کو ادب اور احترام سے دیکھا جاتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’عدالت میں عمرانی اصول نہیں چلتے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ ’مستند ہے میرا فرمایا ہوا‘ مان لیا جائے۔

  18. بریکنگابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا

    جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں۔ سپریم کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں چاہتا ہوں کہ اس معاملے کا فیصلہ سپریم کورٹ میں ہو۔ سپریم کورٹ جلد فیصلہ دے اور اس معاملے کو مزید طول پکڑنا نہیں چاہیے تاکہ معاملہ یا آر ہو یا پار ہو۔‘

    انھوں نے کہا کہ یہ کیس اس معاملے کی انتہا نہیں ہے بلکہ آغاز ہے۔ ’یہ انتہا نہیں بلکہ احتساب کی ابتدا ہے۔ ہم سب کا احتساب چاہتے ہیں۔ 20 کروڑ عوام کے لیے پانچ چھ ہزار افراد جیل جائیں تو یہ بڑی بات نہیں ہے۔‘

    ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا

    آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا

    پاناما سکینڈل میں دیگر افراد بھی ملوث ہیں۔ یہ معاملہ انجام تک پہنچے تو ان کرداروں کے چہروں سے بھی پردہ اٹھانے کا وقت آئے گا۔

    انھوں نے مزید کہا ’میری خواہش ہے کہ فیصلہ کرپشن کے خلاف آئے اور یہی کہتا ہوں کہ میری جدوجہد کا محور کرپٹ نظام ہے اور یہ جدوجہد قانونی دائرے اور عوام کے درمیان جاری رہے گی۔‘

  19. میڈیا اور پولیس موجود

    ہماری نامہ نگار نازش ظفر نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے باہر میڈیا کی بڑی تعداد موجود ہے جبکہ جو دعوے پولیس کی نفری کے بارے میں کیے جا رہے تھے اتنی تعداد موجود نہیں ہے۔ پولیس نفری میں لیڈیز پولیس بھی شامل ہے۔