Got a TV Licence?

You need one to watch live TV on any channel or device, and BBC programmes on iPlayer. It’s the law.

Find out more
I don’t have a TV Licence.

خلاصہ

  1. تین مئی کو سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کی تحقیقات کی نگرانی کے لیے تین رکنی خصوصی بینچ تشکیل دے دیا جو جسٹس اعجاز افضل، جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تھا۔
  2. پاناما کیس سے متعلق تحقیقات کے لیے 20 اپریل کو سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی
  3. مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے دو ماہ کی تحقیقات کے بعد 10 جولائی کو اپنی کی رپورٹ پیش کی
  4. جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کے رہن سہن اور معلوم آمدن میں بہت فرق ہے
  5. کیس کی دوبارے سماعت پر عدالت نے کہا کہ شریف خاندان کو فلیٹس کی ملکیت ثابت کرنی ہو گی

لائیو رپورٹنگ

time_stated_uk

  1. بریکنگیہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا

    پاناما کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کی نگرانی کرنے والے تین رکنی خصوصی بینچ کے سامنے بدھ معاملے کی سماعت عدالت کا وقت مکمل ہونے پر جمعرات کی صبح تک کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔

    عدالتی کارروائی کے بارے میں تفصیلی رپورٹ پڑھنے کے لیے کلک کریں

  2. بریکنگ’کاغذ کی کشتی اب وزیرِ اعظم کو بچا نہیں سکتی‘

    پاناما کیس کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ کے باہر جماعتِ اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کے وکیل ان کا کیس کمزور کر رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ کاغذ کی کشتی وزیرِ اعظم کو اب بچا نہیں سکتی۔

    سراج الحق نے الزام عائد کیا کہ وزیرِ خزانہ نے قوم کے خزانے کو خالی کر دیا ہے۔ ’وزیرِ خزانہ نے خود کو ٹیکس جمع نہیں کروایا تاہم وہ قوم کو ٹیکس جمع کراونے کی نصیحت کرتے ہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس ملک کی عدالتیں آزاد ہیں اور پوری قوم ان کے کھڑی ہے۔‘

  3. بریکنگپاناما کیس کی سماعت جمعرات تک لے لیے ملتوی

    پاناما کیس

    نامہ نگار عابد حسین کے مطابق پاناما کیس سے متعلق سپریم کورٹ میں بدھ کو ہونے والی سماعت مکمل ہو گئی۔ اس دوران شریف خاندان کے وکیل خواجہ حارث اور وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کے وکیل طارق حسن نے دلائل دیے۔ سماعت جمعرات 20 جولائی کو دوبارہ ہوگی۔

  4. بریکنگ’جس کا فیصلہ ہو جائے وہ مقدمہ دوبارہ نہیں کھل سکتا‘

    اسحاق ڈار

    اسحاق ڈار کے وکیل طارق حسن نے کہا کہ بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ حدیبیہ پیپر ملز کیس ری ٹرائل کی طرف جا رہا ہے لیکن قانون کے مطابق جس کیس کا فیصلہ ہو جائے وہ دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا۔

  5. ’اسحاق ڈار بیرونِ ملک کیا کرتے رہے یہ ایک معمہ ہے‘

    جسٹس اعجاز الاحسن کہا کہ ’اسحاق ڈار جے آئی ٹی کے سامنے استحقاق کا مطالبہ کرتے رہے اور اسے اپنی بیرونِ ملک اثاثوں کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ اسحاق ڈار بیرونِ ملک کیا کرتے رہے یہ ایک معمہ ہے۔‘

    طارق حسن نے کہا کہ وہ جے آئی ٹی کے سامنے دیے گئے اپنے موکل کے بیان کو چیلنج کرتے ہیں۔

    اس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ کیا اسحاق ڈار اپنے بیان کو تسلیم نہیں کرتے؟ اس پر وکیل طارق حسن نے سوال کیاا کہ جے آئی ٹی نے کس بنیاد پر ان کے موکل کو قصوروار ٹھہرایا ہے؟

    جسٹس عظمت سعید نے اسحاق ڈار کے وکیل سے سوال کیا کہ کیا انھیں عدالت کے رویے سے بھی شکایت ہے تو جواب میں طارق حسن نے کہا کہ ایسے کوئی بات نہیں ہے۔

  6. پاکستان بار کونسل کی اپیل پر عدالتوں میں جزوی ہڑتال

    وکیل

    پاکستان بار کونسل کی اپیل پر ملک بھر کی عدالتوں میں بدھ کو جزوی ہڑتال کی گئی۔ عدالتوں میں عدالتوں میں ان دنوں موسم گرما کی تعطیلات ہیں اور صرف ضروری اہمیت کے حامل مقدمات کی پیروی کی جاتی ہے۔

    نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق کراچی میں ہائی کورٹ میں مقدمات کی کارروائی متاثر ہوئی جبکہ سٹی کورٹس میں اس اپیل کا کوئی موثر رد عمل نظر نہیں آیا، جبکہ لاہور کی عدالتوں میں بھی ہڑتال جزوی رہی۔

    یاد رہے کہ سپریم کورٹ بار کاؤنسل نے جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ کیا گیا تھا اور عدالت سے یکہجتی کے اظہار کے لیے عدالتوں میں ہڑتال کا اعلان کیا گیا۔

  7. ’جے آئی ٹی سے اختلافات تھے تو ریکارڈ ساتھ لے کر آتے‘

    بینچ کے سربراہ نے اسحاق ڈار کے وکیل سے کہا کہ اگر آپ کو جے آئی ٹی سے اختلافات تھے تو وہ اپنی درخواست کے ساتھ ریکارڈ بھی لے کر آتے۔ انھوں نے مزید کہا کہ آپ جن دستاویزات پر انحصار کر رہے ہیں وہ ہمارے پاس موجود ہی نہیں۔ اس پر وکیل طارق حسن کا کہنا تھا کہ وہ کل عدالت میں تمام ریکارڈ پیش کردیں گے۔

  8. بریکنگ’اثاثوں میں اضافہ آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی تھا‘

    جسٹس اعجاز الاحسن کے مطابق 1994 کے بعد سے اسحاق ڈار کے اثاثے نو ملین سے بڑھ کر 854 ملین روپے ہو گئے۔ اتنی بڑی رقم جے آئی ٹی کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی تھی۔ ان کے مطابق اگر اسحاق ڈار اس عدالت سے کوئی شارٹ کٹ ڈھونڈ رہے ہیں تو وہ انھیں یہاں سے تو شاید نہ ملے لیکن یہ موقع انھیں ٹرائل کورٹ سے مل سکتا ہے۔

  9. Post update

    جسٹس اعجاز افضل خان کا کہنا تھا کہ حدیبیہ پیپر ملز کے معاملے میں درخواست گزاروں نے کہا کہ نیب یہ کیس دوبارہ کھولے لیکن عبوری مرحلے میں عدالتی حکم میں ایسا کچھ نہیں کہا گیا۔

  10. ’اسحاق ڈار بیان سے منحرف ہوئے تو معافی بھی ختم‘

    بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا کہ حدیبیہ پیپر ملز کے معاملے میں اسحاق ڈار شریک ملزم تھے جس کے بعد وہ وعدہ معاف گواہ بنے انھیں حلفیہ بیان کے بعد معافی ملی۔ اگر وہ بیان سے منحرف ہوتے ہیں تو ان کی معافی بھی ختم ہو جائے گی۔

  11. ’گوشوارے نہ ملنے کا مطلب یہ نہیں کہ جمع ہی نہیں کروائے گئے تھے‘

    جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ جے آئی ٹی کے مطابق ایف بی آر نے انہیں اسحاق ڈار کے ٹیکس ریٹرن نہیں دیے اور ایف بی آر تو اسحاق ڈار کی وزارت کے ماتحت ہے۔

    اس پر اسحاق ڈار کے وکیل طارق حسن نے کہا کہ جے آئی ٹی کی جانب سے اسحاق ڈار کی جانب سے معلومات فراہم نہ کرنے کی بات غلط ہے کیونکہ اسحاق ڈار نے تو وہ معلومات بھی دیں جن کی ضرورت بھی نہیں تھی۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اگر جے آئی ٹی کو گوشوارے نہیں ملے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ گوشوارے جمع ہی نہیں کروائے گئے۔

  12. بریکنگ’ممکن ہے کہ جے آئی ٹی کو حاصل شدہ معلومات غلط ثابت ہوں‘

    اسحاق ڈار کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا ہے کہ جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں اسحاق ڈار پر ٹیکس چوری کا الزام عائد کیا۔ الزامات کے مطابق 1982 سے 2001 تک ٹیکس کے گوشوارے جمع نہیں کروائے۔

    رپورٹ کے مطابق انھوں نے ٹیکس چوری کے لیے اپنے ٹرسٹ کو چندہ دیا۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ میں پیش کی جانے والی تمام چیزیں ٹرائل سے گزریں گی اور ممکن ہے کہ جے آئی ٹی کو حاصل شدہ معلومات غلط ثابت ہوں۔

    اسحاق ڈار
  13. صادق اور امین کو تو بخش دیں

    کسی بھی غیر سنجیدہ اور منافق معاشرے میں اصطلاحات اور ان کی روح اور ان کے تاریخی و مذہبی سیاق و سباق کے ساتھ قانون کے نام پر جو کھلواڑ ہوتا ہے وہی پاکستان میں بھی ہو رہا ہے۔

    پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم

  14. سماعت کا دوبارہ آغاز

    نامہ نگار عابد حسین کے مطابق سپریم کورٹ میں پاناما کیس میں وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کے وکیل طارق حسن نے دلائل دینا شروع کر دیے ہیں۔

  15. بریکنگ’وزیراعظم نواز شریف کا یکطرفہ میڈیا ٹرائل ہو رہا ہے‘

    مسلم لیگ نون کی رہنما انوشہ رحمان نے سماعت میں وقفے کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے جے آئی ٹی کے اختیار اور اس کی رپورٹ پر سوالات اٹھائے۔

    ان کا کہنا تھا جے آئی ٹی اپنے مینڈیٹ سے باہر نکل گئی۔ جو سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں دیا تھا لیکن جے آئی ٹی نے اس مینڈیٹ کو پھیلا دیا ۔

    ان کے مطابق رپورٹ کی زبان ایسی نہیں تھی جس کی کسی حکومتی اہلکار سے توقع کی جا سکتی ہے۔ اس کا طریقہ کار، تصویر کے لیک ہونے یا فون ٹیپ کرنے پر ہم نے اعتراض کیا۔ یہ اختیار کیا قانونی طور پر حاصل کیا گیا؟

    جے آئی ٹی نے ریکارڈ اور بیانات کے ساتھ بد دیانتی کی بلکہ وہ ریکارڈ ان لوگوں کو دکھایا بھی نہیں گیا جن سے بیانات لیے گئے۔

    جے آئی ٹی کے سربراہ نے خود کوئسٹ کے نام سے کمپنی سوا کروڑ کے قریب رقم دی۔ اس کمپنی نے کوئی سیرحاصل کام نہیں کیا۔ یہ پاکستانی ٹیکس دہندگان کا پیسہ ہے۔

    جے آئی ٹی جانب سے پیش کردہ ہزاروں صفحوں کے پلندے میں میں اس کمپنی کی بھی رپورٹ ہے اگر یہ سچ ہے تو ساری رپورٹ ردی میں جانے کے قابل ہے۔

    انوشے رحمان کا کہنا تھا کیا اب جے آئی ٹی کی رپورٹ کی تحقیقات کے لیے ایک اور جے آئی ٹی بنائی جائے۔

    انھوں نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف کا یکطرفہ میڈیا ٹرائل ہو رہا ہے۔ کسی قسم کا میڈیا ٹرائل یا وزیراعظم کو ہٹانے کی کوئی بھی سازاش ان کے ووٹر ناکام بنا دیں گے۔

  16. سماعت میں وقفہ

    پاناما کیس کے فیصلے پر عمل درآمد سے متعلق تین رکنی بینچ کی سماعت میں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کے دلائل کی تکمیل کے بعد اس وقت وقفہ ہے۔ وقفے کے بعد وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے وکیل طارق حسن دلائل دیں گے۔

  17. بریکنگ’پوچھ پوچھ کے تھک گئے ہیں کہ فلیٹ کا اصل مالک کون ہے‘

    لندن فلیٹس

    جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ہم یہ سوال پوچھ پوچھ کے تھک گئے ہیں کہ فلیٹ کا اصل مالک کون ہے؟ انھوں نے یہ بھی دریافت کیا ہل میٹل کمپنی کا پیشہ کہاں سے آیا۔

    جے آئی ٹی کی رپورٹ کے مطابق ہل میٹل کمپنی کا 88 فیصد منافع نواز شریف کو ملا۔

    اس پر خواجہ حارث نے بتایا کہ گذشتہ چھ سال میں نواز شریف کو 20 فیصد سے بھی کم منافع ملا جس کی مالیت ایک ارب 17 کروڑ روپے بنتی ہے۔

    اس پر جسٹس عظمت سعید نے خواجہ حارث سے کہا ہل میٹل کے بارے میں آپ نے تو کچھ نہیں بتایا امید ہے کہ حسن اور حیسن نواز نے وکیل کچھ بتا دیں۔

    عدالت کے مطابق ہر معاملے کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے اور کسی بھی معاملے میں آنکھ بند نہیں کر سکتے۔

  18. بریکنگشریف خاندان کے وکیل کے دلائل مکمل

    نواز شریف

    عدالتِ عظمیٰ میں موجود بی بی سی اردو کے نامہ نگار عابد حسین کے مطابق پاناما کیس کے فیصلے پر عمل درآمد سے متعلق سپریم کورٹ کے تین رکنی خصوصی بینچ کے سامنے شریف خاندان کے وکیل خواجہ حارث نے بھی اپنے دلائل مکمل کر لیے ہیں۔

    خواجہ حارث نے اپنے دلائل کے آخر میں کہا جے آئی ٹی نے اپنی پوری رپورٹ میں کہیں نہیں کہا کہ وزیرِاعظم نواز شریف نے اپنے اختیارت سے تجاوز کیا۔ بادی النظر میں وزیرِاعظم کے خلاف کوئی بھی مقدمہ نہیں بنتا اس لیے ان درخواستوں کو خارج کیا جائے۔

  19. بریکنگ’آف شور کمپنیوں کی خدمات حاصل کس نے کیں‘

    جسٹس عظمت سعید نے سوال کیا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ ایسی کوئی دستاویز موجود نہیں جس سے نواز شریف کی لندن فلیٹس کی ملکیت ظاہر ہو۔ انھوں نے کہا آف شورز کمپنیاں شیئر سروسز فراہم کرنے والوں کے نام ہیں۔ انھوں نے استفسار کیا کہ ان کمپنیوں کی خدمات حاصل کس نے کیں؟

  20. بریکنگ’نواز شریف کو کچھ نہ کچھ تو ملا ہوگا‘

    نواز شریف

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ وزیرِ اعظم نے کہا تھا کہ ان کے پاس تمام دستاویزات موجود ہیں۔ انھوں نے سوال کیا کہ اگر لندن کے تمام فلیٹس میاں شریف کی ملکیت تھے تو ان کی وفات کے بعد نواز شریف کو کچھ نہ کچھ ملا ہوگا۔ اس پر خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے تو قطری سرمایے سے بھی کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔