Got a TV Licence?

You need one to watch live TV on any channel or device, and BBC programmes on iPlayer. It’s the law.

Find out more
I don’t have a TV Licence.

لائیو رپورٹنگ

time_stated_uk

  1. Post update

    پاناما کیس کے پانچویں روز کی سماعت کی لائیو اپ ڈیٹس اختتام پذیر ہوئیں۔ تفصیلی خبر کے لیے کلک کریں

  2. کیا انھیں پہلے سے فیصلے کی خبر ہے؟

    معروف کالم نگار زاہد حسین نے ٹوئٹر پر پیغام میں سوال کیا کہ ’پاناما کیس کا فیصلہ محفوظ ہونے کے بعد تمام ٹی وی چینلز نواز شریف کے جانشین کے بارے میں بات چیت کر رہے ہیں۔ کیا انھیں پہلے سے ہی فیصلے کی خبر ہے؟

  3. Post update

    بلاول

    سپریم کورٹ میں پاناما کیس کا فیصلہ محفوظ ہونے کے بعد پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی سربراہی میں اہم رہنماؤں کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔

    پیپلز پارٹی ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں سپریم کورٹ کے متوقع فیصلے کے مختلف پہلووں پر غور کیا گیا۔

    خیال رہے کہ رہے کہ دیگر اپوزیشن جماعتوں کی طرح پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما بھی سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران وہاں مسلسل دکھائی دیتے رہے اور ان کی جانب سے یہی موقف اختیار کیا گیا کہ وزیراعظم اپنے عہدے پر رہنے کا اخلاقی جواز نہیں رکھتے۔

  4. ظفر حجازی کو حراست میں لے لیا گیا

    وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے سپیشل جج سینٹرل کی جانب سے درخواست ضمانت مسترد کیے جانے کے بعد چیئرمین سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی پی) ظفر حجازی کو حراست میں لے لیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ظفر حجازی کی 17 جولائی تک کی عبوری ضمانت منظور کی تھی۔

  5. بریکنگفیصلے کا پتہ نہیں لیکن۔۔۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں شیریں رحمان اور قمر الزمان نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ گذشتہ روز لواری ٹنل میں وزیراعظم نے جو کچھ کہا ہے وہ حکمران وقت کو نہیں کہنا چاہیے۔

    قمر الزمان نے کہا میاں صاحب اور ان کے ساتھوں کو گھبراہٹ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت کے کندھوں پر اب بڑی ذمہ داری ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے عدالت کے سامنے بہت سے مواقع ایسے آئے جنھیں ملک کو بدلنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا لیکن نہیں کیا گیا۔

    کائرہ
  6. بریکنگ’پاکستان کا تاریخی کیس‘

    پاکستان تحریک انصاف اسد عمر کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھے ہوئے شخص کا احتساب کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میاں صاحب بار بار پوچھتے ہیں کہ ہم پر الزام کیا ہے جبکہ ان کے خلاف 28 کیس نیب پر کھلے ہوئے ہیں۔

    پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری نے کہا کہ انھیں توقع ہے کہ عدالت اگلے چند دن میں کیس کا فیصلہ سنا دے گی۔

    اسد عمر
  7. بریکنگپاناما کیس کا فیصلہ محفوظ

    بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پاناما کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

  8. ’مقدمہ الیکشن کمیشن کو نہ بھجوائیں‘

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے اپنے دلائل میں عدالت سے درخواست کی کہ وہ وزیراعظم کے خلاف مقدمہ الیکشن کمیشن کو بھجوانے کے بجائے خود ہی فیصلہ کرے۔

    ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اب صادق اور امین نہیں رہے۔ انھوں نے دبئی کے حکام کو بھی یہ نہیں بتایا کہ وہ پاکستان میں وزیراعظم کے عہدرے پر کام کر رہے ہیں۔

  9. ’صرف مقدمہ ختم ہونے نہیں جا رہا‘

    مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چوہدری نے اپوزیشن جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج صرف مقدمہ ختم ہونے نہیں جا رہا بلکہ اب مخالفین کا آسرا ختم ہو رہا ہے اور ان کے پاس 2018 کے الیکشن میں جانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔

    عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ سیاسی مخالفین اداروں کا کندھا استعمال کرکے نواز شریف کو گرانا چاہتے ہیں۔

  10. ’بدعنوانی ثابت نہیں ہوئی‘

    سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران وفقہ نہیں لیا گیا۔ تاہم سپریم کورٹ کے باہر حکمراں جماعت مسلم لیگ ن کے رہنما وزیراعظم نواز شریف کے حق میں میڈیا کے نمائیندوں سے گاہے بگاہے گفتگو کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

    وزیرِ مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعظم اور ان کے خاندان پر بدعنوانی ثابت نہیں ہوتی۔

    MARYAM AURANGZEB
  11. شیخ رشید کی جانب سے جواب الجواب

    اب عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید جواب الجواب دے رہے ہیں۔

    sheikh rashid
  12. اگر قطری خط کو نکال دیں تو ۔۔۔۔

    پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری نے جواب الجواب میں کہا کہ اگر قطری خط کو ساری کہانی میں سے نکال دیا جائے تو نواز شریف کی لندن فلیٹس کی ملکیت ثابت ہوتی ہے۔

    اس کے ساتھ ہی ان کے دلائل مکمل ہوگئے ہیں۔

  13. نعیم بخاری کی جانب سے جواب الجواب جاری

    سپریم کورٹ کے اندر پاناما کیس کی سماعت کے دوران اس وقت پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری کی جانب سے جواب الجواب جاری ہیں۔

    NAEEM BUKHARI
  14. نیب حدیپیہ پیپر ملز کیس کے فیصلے کے خلاف اپیل کرے گا

    نامہ نگار آصف فاروقی نیب کے قائمقام پراسیکیوٹر اکبر تارڑ نے عدالت کو بتایا کہ وہ حدیبیہ پیپر ملز کا کیس اپنے طور پر نہیں کھول سکتے کیونکہ اسے لاہور ہائی کورٹ نے خارج کر دیا تھا۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم سوچ رہے ہیں کہ حدیپیہ پیپر ملز کے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف عدالت میں اپیل دائر کریں۔`

    نیب کے قائمقام پراسیکیوٹر کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کیس کے خلاف اگلے ایک ہفتے کے اندر اپیل دائر کی جائے گی۔ جواب میں عدالت نے ان کا شکریہ ادا کیا۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے قومی احتساب بیورو (نیب) سے اس اجلاس کی کارروائی کی تفصیلات مانگ لی ہیں جس میں حدیبہ پیپرز ملز کے مقدمے میں ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

    اس مقدمے میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی طرف سے پیش گئی معافی کی درخواست کو نیب نے قبول کیا تھا جس کے بعد اُن کا اعترافی بیان ریکارڈ کیا گیا تھا۔

    NAB
  15. بریکنگاسحاق ڈار کے وکیل طارق حسن کے دلائل مکمل

    جسٹس عظمت سعید نے طارق حسن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے اسحاق ڈار کے ساتھ انصاف کر لیا ہے، ہمیں بھی کرنے دیں اور ہم وعدہ کرتے ہیں کہ جو دستاویز آپ نے پیش کی ہیں اس کو ضرور دیکھیں گے اور قانون سے انحراف نہیں کریں گے۔ جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ ہم بنیادی حقوق کو روندیں گے نہیں اور درخواست گزاروں کے حقوق کا بھی خیال رکھیں گے، درخواست گزار ایک دوسرے کو برا بھلا کہتے رہتے ہیں لیکن ہماری درخواست ہے کہ ہمیں اس معاملے میں مت گھسیٹیں۔

    اسحاق ڈار کے وکیل طارق حسن کے دلائل مکمل ہوگئے ہیں۔

  16. بریکنگ’ بلاوجہ کے احتساب میں گھسیٹنا قبول نہیں‘

    وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے وکیل طارق حسن کے دلائل جاری ہیں۔ انھوں نے عدالت کو بتایا کہ جب جے آئی ٹی کے پاس اسحاق ڈار کا ریکارڈ ہی موجود نہیں تھا تو پھر ان کے خلاف فائنڈنگ کیسے دے دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ڈرامائی کہانی ہے جس کو اب ختم ہونا چاہیے، اسحاق ڈار کافی عرصے سے سکروٹنی کی زد میں ہیں اور اب وہ تھک چکے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ معاملہ ختم ہو اور بلاوجہ کے احتساب میں گھسیٹنا انھیں قبول نہیں ہے۔ اس پر بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ ایک طرف آپ یہ بات کر رہے ہیں اور دوسری طرف اسحاق ڈار جے آئی ٹی میں استحقاق مانگتے رہے، ابھی تک واضح نہیں ہے کہ وہ کرنا اور کہنا کیا چاہتے ہیں۔

    dar
  17. پاناما جیسے حساس مقدمے کی رپورٹنگ کس قدر مشکل اور تھکا دینے والا کام ہے؟

    کیا کبھی آپ نے غور کیا کہ کمرہ عدالت میں گھنٹوں جاری رہنے والی سماعت کن مراحل سے گزر کر اخبارات یا ٹیلی وژن کی زینت بنتی ہے اور پاناما جیسے حساس مقدمے کی رپورٹنگ کس قدر مشکل اور تھکا دینے والا کام ہے؟ یہ تو وہی جانتے ہیں جو اس مشق کا حصہ ہیں یعنی رپورٹر اور کیمرہ مین۔ پڑھیے اس رپورٹ میں۔

    media
  18. اسحاق ڈار کے خلاف جے آئی ٹی کی رپورٹ ’بدنیتی پر مبنی‘

    نامہ نگار آصف فارقی کے مطابق اسحاق ڈار کے وکیل طارق حسن ایڈوکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اسحاق ڈار کو حدیبیہ پیپرز مِل میں بے گناہ قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے موکل ٹیکس ادا کرتے رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ جے آئی ٹی نے جان بوجھ کر ان کے خلاف رپورٹ دی ہے اور اس کی رپورٹ بدنیتی پر مبنی ہے اور اگرعدالت چاہے تو اسحاق ڈار کا ٹیکس ریکارڈ کسی بھی انٹرنیشنل آڈٹ فرم سے آڈٹ کروا سکتی ہے۔

  19. بریکنگاسحاق ڈار کا 34 سالہ ٹیکس ریکارڈ

    ٹیکس ریکارڈ

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے وکیل طارق حسن نے ان کی جانب سے ٹیکس کا 34 سالہ ریکارڈ بڑے بڑے بکسوں میں بند کر کے عدالت میں پیش کیا۔ جس پر جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ اگر اس میں کوئی کام کی چیز ہے تو ہمیں بتائیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ دوسری صورت میں یہ بکسے صرف ٹی وی کی زینت ہی بنیں گے۔

    جسٹس اعجاز افضل کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان بکسوں کی سکیورٹی کلیئرینس کیسے ہو گئی۔

  20. بریکنگ’وزیراعظم نے ہمارے کا لفظ استعمال کیا‘

    جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ وزیراعظم نے قومی اسملبی میں کی جانے والی تقریر میں اپنے اثاثوں اور کاروبار کا ذکر کرتے ہوئے ’ہمارے‘ کا لفظ استعمال کیا ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ اپنے آپ کو خاندان سے الگ نہیں کر رہے۔ وزیراعظم نے قومی اسمبلی کے سپیکر کو اپنی جو دستاویز دی تھیں اس کی نقل ہمیں نہیں دی گئی۔ اگر دے دی جاتی تو ہو سکتا ہے کہ نوبت یہاں تک نہ آتی۔

    nawaz