Got a TV Licence?

You need one to watch live TV on any channel or device, and BBC programmes on iPlayer. It’s the law.

Find out more
I don’t have a TV Licence.

خلاصہ

  1. احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف پر تین مقدمات
  2. مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر پر ایک مقدمہ
  3. حسن نواز اور حسین نواز کو اشتہاری قرار دینے کے لیے کارروائی کے آغاز کرنے کا حکم
  4. عدالت نے حسن اور حسین نواز کے دائمی ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے
  5. حسن نواز اور حسین نواز کا مقدمہ الگ سے ٹرائل کرنے کی استدعا منظور

لائیو رپورٹنگ

time_stated_uk

بریکنگیہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا

’ہم بھاگنے والوں میں سے نہیں‘

’آئین اور قانون کا تماشا نہ بنائیں‘

بریکنگ’ادارے دائرہ کار میں رہ کر کام کریں، لوگ خود عزت کریں گے‘

مریم نواز نے کہا کہ ’ادارے جب اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کریں گے تو پھر یہ کہنے کی ضرورت نہیں پڑے گی کہ ان کی عزت کی جائے، لوگ خود عزت کریں گے۔‘

مریم نواز
BBC

بریکنگ’احتساب کا بھی احتساب ہوگا‘

مریم نواز کا کہنا تھا کہ اگر ایک ٹیم ثبوت لینے اب لندن گئی ہے تو جے آئی ٹی کہ بڑے بڑے صندوقوں میں کیا تھا؟ انھوں نے مزید کہا کہ ’جنہوں نے احتساب کو انتقام بنایا اس احتساب کا بھی احتساب ہوگا۔‘

بریکنگ’شفاف ٹرائل بنیادی حق ہے اس کا تماشا نہ بنائیں‘

فرد جرم عائد ہونے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ ’شفاف ٹرائل ایک بنیادی حق ہے اس کا تماشا نہ بنائیں۔ یہ پہلا مقدمہ ہے جس میں فیصلہ پہلے سنایا گیا ہے اور ثبوت بعد میں اکھٹے کیے جا رہے ہیں۔ میں کہہ چکی ہوں کے ایک ہی بار فیصلہ سنا دیں۔‘

مریم نواز
BBC

بریکنگایک ریفرینس میں فردِ جرم عائد دو کی سماعت جاری

احتساب عدالت میں جمعرات کو نواز شریف پر ان کی غیر موجودگی میں ایک ریفرینس میں تو فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے تاہم باقی دو ریفرینسز میں فردِ جرم عائد کیے جانے کے بارے میں صورتحال تاحال واضح نہیں ہے۔ احتساب عدالت کی کارروائی جاری ہے۔

بریکنگملزمان کی جانب سے صحتِ جرم سے انکار

نواز شریف پر فردِ جرم ان کی غیر موجودگی میں عائد کی گئی اور ان کے نمائندے وکیل ظافر خان نے اپنے موکل کی ہدایت پر صحتِ جرم سے انکار کیا۔ ان کے علاوہ عدالت میں موجود مریم نواز اور کیپٹن صفدر نے بھی صحتِ جرم سے انکار کیا ہے۔

بریکنگنواز، مریم، صفدر پر ایک ریفرینس میں فرد جرم عائد

اسلام آباد کی احتساب عدالت میں جمعرات کو سابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر پر لندن میں فلیٹس کے معاملے یعنی ایون فیلڈ ریفرنس میں فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔

بریکنگکارروائی روکنے کی درخواستیں مسترد

احتساب عدالت نے نواز شریف اور ان کے بچوں کی جانب سے فرد جرم عائد نہ کرنے اور کارروائی روکنے کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔ اس وقت عدالت میں ایک بار پھر وقفے کے بعد کارروائی کا دوبارہ آغاز ہو گیا ہے۔

بریکنگعدالتی کارروائی پھر سے شروع

احتساب عدالت میں ایک بار پھر وقفے کے بعد کارروائی دوبارہ شروع ہو گئی ہے، جبکہ وقفے سے قبل سماعت کرنے والے جج محمد بشیر کا کہنا تھا کہ نیب ریفرنسز سے متعلق فیصلہ آج ہی سنایا جائے گا۔

اسلام آباد
BBC

بریکنگعدالتی کارروائی میں پھر وقفہ

احتساب عدالت میں تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی کارروائی کے بعد دوبارہ وقفہ ہوا ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس وقفے کے بعد عدالت نواز شریف کی جانب سے دائر نیب ریفرنسزکی کارروائی روکنے کی درخواست پر فیصلہ سنائے گی۔

دیوالی کے روز اپنے قائد سے اظہار یکجہتی

وزیر مملکت برائے بین الصوبائی امور ڈاکٹر درشن بھی احتساب عدالت پہنچے۔ ان کا کہنا تھا دیوالی کے روز اپنے قائد سے اظہار یکجہتی کے لیے نیب کورٹ آیا ہوں۔ ڈاکٹر درشن کے مطابق گذشتہ سال سابق وزیر اعظم نے دیوالی ہمارے ساتھ منائی تھی۔ ان کے بقول وزیر پاکستان کی اقلیتی برادری محمد نواز شریف کے ساتھ ہے۔

ڈاکٹر درشن
BBC

بریکنگ نیوز کے منتظر صحافی

احتساب عدالت کے باہر صحافی اور کیمرہ مین عدالتی فیصلے کو سب سے پہلے براڈکاسٹ کرنے کے لیے تیار کھڑے ہیں۔ واضح رہے کہ عدالتی کارروائی ایک وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہو چکی ہے اور اس وقت مریم نواز اور کیپٹن صفدر کمرۂ عدالت میں موجود ہیں۔

عدالت
ْْBBC

فیصلے کا انتظار

اسلام آباد
BBC

احتساب عدالت میں وقفے کے بعد کارروائی جاری ہے۔ تاحال کمرۂ عدالت سے کوئی نئی اطلاع نہیں آئی جبکہ عدالت کے باہر بھی ماحول پر سکون ہے۔ عدالت کے باہر موجود سیاسی کارکن بھی طویل خاموشی سے اکتا کر منتشر ہو چکے ہیں۔

بریکنگعائشہ حامد سابق وزیر اعظم کی وکیل

عائشہ حامد احتساب عدالت پہنچ گئی ہیں جو نواز شریف کی درخواست پر ان کی جانب سے احتساب عدالت میں دلائل دیں گی۔

عائشہ حمید
BBC

نواز شریف کی درخواست

نواز شریف کی جانب سے درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں دائر ایک آئینی درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت ان کے خلاف دائر ہونے والے تینوں ریفرنسز کو ایک ریفرینس میں بدلنے کا حکم دے۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ جب تک سپریم کورٹ آئینی درخواست پر فیصلہ نہیں سنا دیتی اس وقت تک کارروائی روکی جائے۔

احتساب عدالت میں کارروائی روکنے کی استدعا

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست کا فیصلہ آنے تک احتساب عدالت میں کارروائی روکنے کی استدعا کی گئی ہے۔

’تمام دستاویزات فراہم نہیں کی گئیں‘

مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے احتساب عدالت میں کہا ہے کہ نیب ریفرنسز میں تمام دستاویزات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک جے آئی ٹی رپورٹ کی جلد نمبر دس فراہم نہیں کی جاتیں تب تک فرد جرم عائد نہ کی جائے۔

گذشتہ سماعت میں کیا ہوا؟

’آج فرد جرم عائد نہ کی جائے‘

مریم نواز اور کیپٹن صفدر نے احتساب عدالت سے استدعا کی ہے کہ آج ان پر فرد جرم عائد نہ کی جائے۔

بریکنگاحتساب عدالت میں فیصلہ محفوظ

احتساب عدالت نے نیب ریفرنسز پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے سماعت 15 منٹ کے لیے ملتوی کر دی ہے، جس کے بعد دوبارہ سماعت کا آغاز کیا جائے گا۔

عدالت کے باہر صورتحال پرسکون

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق احتساب عدالت کے باہرآج گذشتہ سماعت کی نسبت ماحول کافی پر سکون ہے۔ رینجرز سمیت سکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد کی وجہ سے غیر متعلقہ افراد کو احاطہ عدالت کے اندر آنے کی اجازت نہیں ہے۔ اگرچہ عدالت کے باہر مسلم لیگ ن کے کارکن موجود ہیں لیکن عدالت کے اندر صرف انہی لوگوں کو جانے دیا جا رہا ہے جن کے نام فراہم کردہ فہرستوں میں ہیں۔

اسلام آباد
BBC

سماعت کا آغاز ہو گیا

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت کا آغاز ہو گیا ہے۔

نوآز شریف کی حاضری کے بغیر ہی فردِ جرم عائد ہوگی؟

سابق وزیراعظم نواز شریف اس سے پہلے دو اکتوبر کو ہونے والی سماعت کے دوران احتساب عدالت میں پیش ہوئے تھے لیکن آئندہ سماعت پر انھوں نے اپنی اہلیہ کے علیل ہونے کے سبب عدالت میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی تھی۔ جسے ایک مرتبہ عدالت نے منظور کر لیا تھا۔

جس کے بعد نواز شریف کے وکلا نے عدالت سے گزارش کی تھی کہ مقدمے کی سماعت پندرہ دن کے لیے ملتوی کر دی جائے، جسے عدالت نے مسترد کر دیا تھا۔قانونی طور پر مقدمات میں عدالت کی جانب سے ملزم کی موجودگی میں فردِ جرم عائد کی جاتی ہے تاہم قانونی ماہرین کے مطابق عدالت مخصوص حالات میں ملزم کی عدم موجودگی میں بھی فردِ جرم عائد کر سکتی ہے۔

کیپٹن صفدر بھی پہنچ گئے

کیپٹن صفدر
BBC

کیپٹن صفدر بھی عدالت پہنچ چکے ہیں، آج کی سماعت میں ان کے خلاف بھی ایک ریفرنس میں فردِ جرم عائد کی جانی ہے۔ ان کے علاوہ مسلم لیگ نون کے رہنما بھی احتساب عدالت پہنچے ہیں، جن میں مریم اورنگزیب، دانیال عزیز اور طارق فضل چوہدری شامل ہیں۔

بریکنگ’نواز شریف کو قانون نے جہاں بلایا وہ پیش ہوئے‘

مسلم لیگ ن کی وزیر مریم اورنگزیب نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے عدالت میں پیش نہ ہونے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی اہلیہ کی بیماری کے باعث پیش نہیں ہوئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سے قبل نواز شریف کو آئین اورعدالت نے جہاں بھی بلایا تو وہ ہر بار پیش ہوئے ہیں۔

احاطۂ عدالت میں داخلے کی اجازت نہیں

مریم نواز
BBC

گذشتہ پیشی کے دوران بد مزگی کے باعث اس بار احاطۂ عدالت میں پولیس کے ہمراہ ایف سی اہلکاروں کو بھی تعینات کیا گیا ہے، جبکہ بی بی سی کے نامہ نگار شیراز حسن کے مطابق صحافیوں کو بھی عدالت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔

مریم نواز کی احتساب عدالت آمد

نواز شریف آج بھی نہ آئے

نیب ریفرنسز میں طلبی کے باوجود نواز شریف لندن سے ملک واپس نہیں آئے ہیں۔ وہ اپنی اہلیہ کی علالت کے باعت لندن میں ہیں۔ وہ گذشتہ سماعت پر بھی پیش نہیں ہوئے تھی۔

نواز شریف
Getty Images

بریکنگمریم نواز پہنچ گئیں

مریم نواز
AFP

مریم نواز لاہور سے خصوصی طیارے کے ذریعے اسلام آباد پہنچ گئی ہیں۔

سکیورٹی کے سخت انتظامات

احستاب عدالت میں اس بار مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی پیشی کے لیے سخت سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں اور گذشتہ سماعت کی طرح آج بھی پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ اور احتساب عدالت جانے والے راستوں پر معمول کی آمد و رفت معطل ہے۔

اسلام آباد
BBC

فردِ جرم آج متوقع

اسلام آباد کی احتساب عدالت میں امکان ہے کہ آج جمعرات کو سابق وزیر اعظم نواز شریف،ان کی بیٹی اور داماد پر فردِ جرم عائد کی جائے گی۔ اس سے پہلے 13 اکتوبر کو مقدمے کی سماعت بغیر کسی کارروائی کے ملتوی کر دی گئی تھی۔ گذشتہ سماعت کے آغاز سے قبل ہی عدالت کے اندر وکلا کی بڑی تعداد نے احتجاج شروع کر دیا تھا جس کے فوری بعد مریم نواز واپس چلی گئیں۔

اسلام آباد
BBC