Got a TV Licence?

You need one to watch live TV on any channel or device, and BBC programmes on iPlayer. It’s the law.

Find out more
I don’t have a TV Licence.

خلاصہ

  1. سپریم کورٹ نے جمعہ کو پی ٹی آئی کے چیئرمین اور سیکریٹری جنرل کے خلاف دائر درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کو نا اہل قرار نہیں دیا جبکہ جہانگیر ترین کو نا اہل قرار دیا ہے۔
  2. مسلم لیگ نواز کے حنیف عباسی کی طرف سے دائر درخواستوں میں عمران خان اور جہانگیر ترین پر اثاثے چھپانے کا الزام عائد کیا گیا تھا اور درخواست کی گئی تھی کہ دونوں رہنماؤں کو نااہل قرار دیا جائے۔
  3. تحریکِ انصاف کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کے مقدمے کو الیکشن کمیشن کے پاس بھیج دیا گیا ہے تاکہ اس کی تحقیقات کی جا سکے۔

لائیو رپورٹنگ

time_stated_uk

  1. بریکنگیہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا

    عمران خان اور جہانگیر ترین کی اہلیت سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بارے میں مزید مواد کے لیے یہاں کلک کریں

  2. بریکنگجہانگیر ترین قومی اسمبلی کے رکن نہیں رہے

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سپریم کورٹ کے حکم کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی جہانگیر ترین کی رکنیت ختم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ جہانگیر ترین سنہ 2015 میں لودھراں سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔

  3. ’نئے لوگ آگے آ جاتے ہیں اور نئے انویسٹر سامنے آتے ہیں‘

    جہانگیر ترین کی نااہلی کے حوالے سے شیخ رشید نے کہا کہ ان کی نااہلی پاکستان تحریک انصاف کے لیے بہت بڑا سیٹ بیک ہے۔ جہانگیر ترین نے پی ٹی آئی کو بڑا سہارا دیا ہوا تھا۔ ’سیاست میراتھن ہوتی ہے اور اس میں نئے لوگ آگے آ جاتے ہیں اور نئے انویسٹر سامنے آتے ہیں۔ لیکن جہانگیر ترین پیچھے نہیں ہٹیں گے اور پی ٹی آئی میں اور زیادہ انویسٹ کریں گے۔‘

  4. ’عمران خان کو جمائما خان کا شکر گزار ہونا چاہیے‘

    جمائما

    شیخ رشید نے کہا کہ عمران خان کو اپنی سابقہ اہلیہ جمائما خان کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ ان کی وجہ سے وہ نااہل قرار نہیں پائے۔ ان کا کہنا تھا کہ سابقہ بیوی نے بڑی مدد کی ہے عمران خان کی۔ ’میں تو کونسلر کی حیثیت سے اس محکمے کو دیکھتا رہا ہوں جہاں طلاقیں ہوتی ہیں۔ طلاق کے بعد تو مردوں کو مارنے کے لیے عورتیں اپنے گھر سے سامان لاتی ہیں۔‘

  5. دیانت دار آدمی

    سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے پی ٹی آئی کے رہنما جہانگیر ترین اور عمران خان کے کیس کے تحریری فیصلے کی ابتدا میں دیانت داری کی اہمیت پر بات کی اور لکھا کہ ’ دیانت داری انسانی خصوصیات میں سے عظیم ترین ہے۔‘

    چیف جسٹس نے لکھا کہ جس قوم کو چلانے والے دیانت دار اور ایماندار نہ ہوں وہ ترقی یافتہ ملکوں سے پیچھے رہ جاتی ہے۔ عدالتی فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ اسی وجہ سے ہمیں دیکھنا اور پرکھنا ہوتا ہے کہ ملک چلانے والے عمومی طور پر دیانت دار ہیں اور خاص طور پر قانون کے منتخب نمائندے کی حیثیت سے وہ آرٹیکل 62 ون ایف، پاکستان کے 1973 کے قانون کے مطابق اہل ہیں۔

  6. بریکنگ’عمران خان کو اگلا وزیر اعظم بننے سے اب کوئی نہیں روک سکتا‘

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو اگلا وزیر اعظم بننے سے اب کوئی نہیں روک سکتا۔

    ’اب بہت سے لوگ پاکستان تحریک انصاف میں آئیں گے۔ اور مسلم لیگ نواز کے بھی بہت سے اراکین جو اس فیصلے کے انتظار میں تھے اب عمران خان کو جوائن کریں گے۔‘

  7. ’چلو اب سب ٹی 10 لیگ دیکھو‘

    عارف علی شاہ نے ٹویٹ کیا ’چلو اب سب ٹی 10 لیگ دیکھو سپریم کورٹ کا فیصلہ آ گیا۔ اب میچ انجوائے کرو‘

  8. ’عمران خان کو مبارک ہو‘

    پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہرالقادری نے ٹویٹ کی ’میں عمران خان کو کیس کے فیصلے پر مبارکباد دیتا ہوں۔ عمران خان نے سپریم کورٹ کے سوالات کا تسلی بخش جواب دیا اور منی ٹریل پیش کی۔‘

  9. مسلم لیگ نواز کو مشکل صورتحال کا سامنا ہے!

    حمزہ علی عباسی نے ٹویٹ کیا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کو مشکل صورتحال کا سامنا ہے! ایک طرف تو وہ جہاگیر ترین کی نااہلی کی خوشی منائیں گے لیکن ان کو ساتھ ہی سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کرنا ہو گا کہ عمران خان صادق اور امین ہیں۔

  10. ’چار الزامات مسترد‘

    پی ٹی آئی کے رہنما جہانگیر ترین جو کہ عدالتی فیصلے کے بعد نااہل قرار دے دیے گئے ہیں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر خود پر لگے چار الزامات کے مسترد ہونے کے بارے میں لکھا۔

    پہلا الزام اختیارات کا ناجائزاستعمال اور قرضوں کی ادائیگی۔ دوسرا انسائیڈر ٹریڈنگ تیسرا زرعی آمدن کا غلط استعمال اور چوتھا لندن پراپرٹی سے متعلق تھا۔

  11. سپریم کورٹ کا احاطہ خالی ہونا شروع

    نامہ نگار شیراز حسن کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان اور جہانگیر ترین کیس کا فیصلہ آنے کے بعد اب وہاں موجود تمام لوگ واپس جانا شروع ہو گئے ہیں۔

  12. پی ٹی آئی اور ن لیگ آمنے سامنے

    Video content

    Video caption: پی ٹی آئی اور ن لیگ کے کارکن آمنے سامنے
  13. ’شریف خاندان کے لیے نرم ہاتھ‘

    پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ شریف خاندان کے لیے ’نرم ہاتھ‘ رکھا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کا سب سے اہم کیس تو حدیبیہ کیس تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ حدیبیہ کیس ایک سنگین الزام ہے جسے سنا جانا چاہیے تھا۔

  14. بریکنگپی ٹی آئی اور ن لیگ کے کارکنوں میں ہاتھا پائی

    نامہ نگار شیراز حسن نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے باہر پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے کارکنوں کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی ہے اور پولیس ان کو منتشر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

  15. بریکنگ’نیب نے شریف خِاندان کو بچایا‘

    عمران خان نے حدیبیہ کیس کے حوالے سے نیب کے سابقہ ادوار میں ادا کیے گئے کردار پر تنقید کی اور کہا کہ ’نیب میں شریف خاندان نے اپنے لوگ رکھے ہوئے ہیں‘۔

    انھوں نے مزید کہا کہ جہانگیر ترین کے اوپر مکمل اعتماد ہے۔

  16. بریکنگجہانگیر ترین پر مکمل اعتماد ہے، نظرِ ثانی کی اپیل کریں گے

    عمران

    فیصلے کے بعد کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے کہا ہے کہ وہ عدالت کی جانب سے اپنے بارے میں فیصلے پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں لیکن انھیں جہانگیر ترین کی نااہلی کا افسوس ہے جو تکنیکی بنیادوں پر نااہل ہوئے ہیں۔

    عمران خان نے عدالتی فیصلے کے حوالے سے کہا کہ وہ اسے تسلیم کرتے ہیں تاہم انھوں نے کہا کہ انھیں جہانگیر ترین پر مکمل اعتماد ہے اور عدالت کے فیصلے کے خلاف نظرِ ثانی کی درخواست دائر کریں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین ملک کے وہ بزنس مین ہیں جو سب سے زیادہ ٹیکس دیتے ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ وہ جیو کے خلاف کیس کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

  17. بریکنگ’ایک سال کی تلاشی کے بعد مجھے بری کیا‘

    عمران خان نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ ایک سال کی تلاشی کے بعد عدالت نے مجھے بری کیا ہے۔

  18. فیصلہ تسلیم کرتے ہیں: عمران خان

  19. ’فیصلہ حسب توقع تھا‘

    تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود کا کہنا ہے کہ عمران خان کے حوالے سے فیصلہ حسب توقع آیا۔ پریس کانفرنس سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ساری زندگی قوم کی مدد کی اور ان کے بارے میں سب جانتے تھے۔

  20. بریکنگ’دو مختلف پیمانے استعمال کیے گئے‘

    پاکستان کے وزیرِ داخلہ احسن اقبال نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ مبینہ طور پر عمران خان اور نواز شریف کی نااہلی کے لیے دو مختلف پیمانے استعمال کیے گئے۔