Got a TV Licence?

You need one to watch live TV on any channel or device, and BBC programmes on iPlayer. It’s the law.

Find out more
I don’t have a TV Licence.

لائیو رپورٹنگ

time_stated_uk

  1. آئی جی پولیس 24 گھنٹوں میں رپورٹ پیش کریں: چیف جسٹس

    پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے آئی جی پنجاب پولیس سے 24 گھنٹوں میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔

  2. بریکنگڈی پو او قصور کو او ایس ڈی کر دیا گیا

    ڈی پی او قصور ذلفقار احمد کو ان کے عہدے سے ہٹا کر افسر بکارِ خاص بنا دیا گیا ہے۔

  3. قصور میں مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ

    قصور میں زینب کے قتل کے واقعے کے بعد مظاہرے ہوئے جن میں مبینہ طور پر پولیس کی فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہوئے۔

    Video content

    Video caption: قصور میں مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ
  4. چیف جسٹس کا از خود نوٹس

    پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے قصور میں لاپتہ ہونے والی آٹھ سالہ زینب کی تشدد زدہ لاش ملنے کے بعد اس واقعے کا از خود نوٹس لے لیا ہے۔

    ضلع قصور کی پولیس کا کہنا ہے کہ بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کرنے والے بظاہر ایک ہی شخص ہے اور اس کا کھوج لگانے کے لیے پولیس کے دو سو سے زیادہ افسران کوشاں ہیں۔

  5. بریکنگ’تھانے کے باہر احتجاج ہو رہا ہے ہمیں وقت دیں‘

    قصور کے تھانہ اے ڈویزن سٹی جس کی حدود میں زینب کا قتل ہوا وہاں رابطہ کرنے پر ڈیوٹی پر موجود اہلکار نے بتایا کہ ’میڈم ہمیں ادھر حفاظت کرنے دیں پلیز تھانے کے باہر احتجاج ہو رہا ہے اور توڑ پھوڑ ہو رہی ہے۔ ہمیں وقت دیں محفوظ ہونے کے لیے۔‘

    خیال رہے کہ اس سے قبل بدھ کی صبح مشتعل مظاہرین نے ڈی پی او کے دفتر پر بھی حملہ کیا تھا۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق واقعے میں دو ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

  6. بریکنگ’قصور میں ایسے واقعات کے سلسلے میں 5000 افراد سے تفتیش کی جا چکی ہے‘

    ڈی پی او قصور ذوالفقار احمد کا کہنا ہے کہ یہ بات درست نہیں کہ ان واقعات کے سلسلے میں پولیس کی جانب سے کچھ نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت انھوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج کو پنجاب فورینزک لیب میں بھجوایا ہوا ہے تاکہ اس سے کوئی شواہد حاصل کیے جا سکیں۔

    انھوں نے بتایا کہ اس سے قبل دو سال سے جاری ایسے واقعات کے سلسلے میں پولیس کے پاس کوئی شواہد نہیں تھے۔ تاہم پولیس نے مختلف کارروائیوں میں 67 افراد کا ڈی این اے ٹیسٹ کروایا ہے اور تقریباً 5000 افراد سے تفتیش کی جا چکی ہے۔

  7. آرمی چیف کا ہر ممکن مدد کا اعلان

    پاکستان کی برّی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے قصور میں معصوم بچی زینب کے قتل کی مذمت کی ہے۔ مقتول بچی کے والدین کی جانب سے کی جانے والی اپیل کے جواب میں انھوں نے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے تک لاکر مثال بنانے کے لیے سول انتظامیہ کو پر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔

  8. بریکنگ’13 کیمروں کی فوٹیج حاصل کی ہے مگر قاتل کی نشاندہی نہیں ہو سکی ہے‘

    قصور پولیس کے ڈی پی او ذوالفقار احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈی سی او دفتر پر ہونے والی ہلاکتیں افسوسناک ہیں تاہم دفتر پر دھاوا بولنے والا ہجوم انتہائی مشتعل تھا۔ اس کے علاوہ کیس کی تفتیش کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے اب تک 13 سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کر لی ہے تاہم ابھی تک قاتل کی نشاندہی نہیں ہو سکی ہے۔

    قصور
  9. بریکنگ’مظاہروں میں دو افراد ہلاک‘

    قصور پولیس کے ڈی پی او ذوالفقار احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈی سی او دفتر پر دھاوا بولنے والا ہجوم انتہائی مشتعل تھا۔

    انھوں نے تصدیق کی کہ مظاہروں میں دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

  10. Post update

    چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سینیٹر رحمان ملک نے قصور میں زینب کے ساتھ زیادتی و قتل کے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہا ہے کہ پنجاب پولیس پانچ دنوں کے اندر زینب کے ساتھ زیادتی و قتل کی رپورٹ کمیٹی میں جمع کرائیں۔

  11. بریکنگقومی اسمبلی میں جماعتِ اسلامی کی تحریکِ التوا

    حزب مخالف سے تعلق رکھنے والی پارٹی جماعت اسلامی نے قصور واقعے کے بارے میں ایک تحریک التوا قومی اسمبلی میں جمع کروائی ہے۔ تحریک التوا میں کہا گیا ہے کہ زینب کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے سے پہلے اسے اغوا کیا گیا لیکن بازیاب نہیں کروایا گیا۔

    اس تحریک التوا میں مزید کہا گیا ہے کہ قصور میں اس سے پہلے بھی کمسن بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے واقعات رونما ہو چکے ہیں لیکن پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حکومت نے اس ضمن میں عملی اقدامات نہیں کیے جس کی وجہ سے ایسے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس تحریک التوا میں کہا گیا ہے کہ چونکہ یہ انتہائی اہمیت کا معاملہ ہے اس لیے ایوان کی معمول کی کارروائی معطل کرکے اس معاملے کو زیر بحث لایا جائے۔

  12. بریکنگ’زینب کی تدفین تب تک نہیں جب تک مجرم پکڑا نہیں جائے گا‘

    سعودی عرب سے پاکستان واپس پہنچنے پر زینب کے والدین نے میڈیا سے مختصر گفتگو میں حکومت سے انصاف کا مطالبہ کیا۔

    زینب کی والدہ کا کہنا تھا کہ ’مجھے کچھ نہیں چاہیے صرف انصاف چاہیے۔ ان کے والد نے کہا کہ زینب کی تدفین تب تک نہیں کریں گے جب تک اس واقعے کا مجرم پکڑا نہیں جائے گا۔

  13. بریکنگاگر بچے کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آئے تو والدین کیا کریں؟

    90 فیصد لوگ ایف آئی آر اور زیادتی کے واقعے کے بعد کیے جانے والے ضروری اقدام سے لاعلم

    بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنئظم ساحل کے سینئر پروگرام افسر ممتاز گوہر نے بی بی سی کو بتایا کہ ریپ کے کیسز میں مجرم کا پتا لگانے میں جہاں پولیس کی انتظامی کارروائی میں کمزوریاں ہیں وہیں کچھ کوتاہی والدین کی جانب سے بھی ہو جاتی ہے جس کی بڑی وجہ لاعلمی اور معاشرے میں آگاہی کا نہ ہونا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اگر خدانخواستہ کسی کے بچے کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آجائے تو وہ

    1) پہلے 24 گھنٹوں کے اندر اندر مقامی سرکاری ہسپتال سے میڈیکل کروا کر رپورٹ لے لیں کیونکہ 24 گھنٹوں کے بعد کروایا جانے والی رپورٹ پوزیٹیو نہیں آئے گی تو یہ ثابت نہیں ہو سکے گا کہ بچے یا بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ عدالت میڈیکل رپورٹ کو دیکھتی ہے۔

    2) متاثرہ بچے یا بچی نے جو کپڑے پہن رکھے ہوں وہ سنھبال کر رکھے جائیں کیونکہ یہ ثبوت ہوتا ہے جو تفتیش میں کام آتا ہے۔

    3) جائے وقوعہ سے جو بھی شواہد ملیں انھیں بھی محفوظ کیا جائے ہو سکتا ہے وہاں مجرم کوئی ایسی چیز چھوڑ گیا ہو جو تدفیشیں میں مدد دے سکے۔

    4) اوپر بتائی گئی تمام معلومات کو ایف آئی آر میں ضرور شامل کیا جائے کیونکہ اس میں جتنے شواہد ہوں گے کیس اتنا ہی مضبوط ہوگا۔

  14. Post update

    ابو ذر
    Image caption: ہلاک کی گئی زینب کے بھائی ابو ذر مکان کے بھائی کھڑے ہیں۔
  15. بریکنگ’پولیس افسران کو ہٹایا گیا مگر متعلقہ تھانے کے انچارج کو نہیں‘

    نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ قصور میں بچوں کے ساتھ ہونے والے زیادتی کےزیادہ تر واقعات تھانہ صدر کے علاقے میں ہوئے ہیں اور ان واقعات کی وجہ سے متعدد متعلقہ پولیس افسران کو ان کے عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔ تاہم متعلقہ تھانے کے انچارج کو ان کے عہدے سے نہیں ہٹایا گیا۔ ایس ایچ او ملک طارق کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ان کے والد خادم حسین ایک ریٹائرڈ پولیس افسر ہیں اور وہ اپنی سروس کا زیادہ تر حصہ قصور میں ہی گزار چکے ہیں۔

  16. ماضی پر ایک نظر: 2016 میں قصور میں ہی ایک جنسی ويڈيو سکينڈل ہوا تھا

    لاہور میں 2016 میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے قصور جنسی ويڈيو سکينڈل کیس میں دو ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ تفصیلات پڑھیے۔

    قصور جنسی ويڈيو سکينڈل: دو کو عمر قید کی سزا

  17. ’اب زبانی جمع خرچ نہیں چلے گا‘

    پنجاب کے وزیرِاعلیٰ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ انھوں نے ’ابھی ابھی پولیس اور انتظامیہ کے افسران کے ایک اجلاس کی صدارت کی ہے اور انھیں واضح کر دیا ہے کہ اس حوالے سے زبانی جمع خرچ نہیں چلے گا۔ میں چاہتا ہوں کہ اس گھناؤنے جرم میں ملوث لوگ سلاخوں کے پیچھے ہوں۔ جو اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر سکیں گے ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔ بہت دردناک واقعہ ہے!‘

  18. Post update

    مریم

    سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیٹی مریم نواز کا کہنا ہے کہ ’میں امید اور دعا کرتی ہوں کہ نہ صرف مجرمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا بلکہ انھیں مثال بھی بنایا جائے گا۔‘