Got a TV Licence?

You need one to watch live TV on any channel or device, and BBC programmes on iPlayer. It’s the law.

Find out more
I don’t have a TV Licence.

خلاصہ

  1. 13 اپریل 2017 کو خیبر پختونخوا کے شہر مردان میں عبدالولی خان یونیورسٹی میں مشتعل طلبا نے توہین رسالت کے الزام پر یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان کو تشدد کرکے ہلاک کیا
  2. پولیس کے مطابق تحقیقات کے دوران مشال خان اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے نازیبا یا توہین آمیز کلمات کے استعمال کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا
  3. اس قتل کے الزام میں 57 افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں سے بیشتر کا تعلق عبدالولی خان یونیورسٹی سے ہی ہے ان میں یونیورسٹی کے ملازمین بھی شامل ہیں
  4. ایبٹ آباد میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج فضل سبحان خان مقدمے کی سماعت کے بعد 30 جنوری کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا

لائیو رپورٹنگ

پیشکش: ذیشان حیدر، طاہر عمران، ذیشان ظفر شیراز حسن، ظفر سید

time_stated_uk

  1. مشال کیس کے فیصلے پر بی بی سی اردو کی لائیو کوریج اختتام کو پہنچی

    مشال کیس کے فیصلے کے بارے میں تفصیلی رپورٹ اور اس بارے میں مزید خبروں کے لیے کلک کریں

    فیصلہ
  2. بریکنگ’ایسا لگتا ہے کہ انصاف نہیں ہوا‘

    مشال خان کے والد اقبال خان لالہ نے کہا ہے کہ یہ بات ان کی سمجھ سے بالاتر ہے کہ اتنی واضح وڈیوز اور ثبوت کے باوجود کیسے مشال خان قتل مقدمے میں 26 ملزمان کو بری کیا گیا۔

    برطانیہ کے شہر برمنگم سے اقبال خان لالہ نے بی بی سی نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ان کے ساتھ انصاف نہیں ہوا۔

    اقبال خان
  3. مشال کیس کے اہم مجرمان کون ہیں؟

    مشال کیس کے اہم مجرمان کا تعارف پڑھنے کے لیے کلک کیجیے

    مشال کیس کے اہم مجرمان
    Image caption: دائیں سے بائیں: بلال بخش، عمران علی، وجاہت اللہ
  4. Post update

    مطالبہ یہ نہیں کہ پورے ہجوم کو پھانسی پر لٹکا دیا جائے بلکہ پاکستان میں جو اسطرح رسم چل پڑی ھے کہ پبلک بنا سوچے سمجھے اپنا حصّہ ڈالنے آجاتی ھے اسکی بیخ کنی کی جاتی۔

    View more on twitter
  5. بریکنگ31 کو سزائیں، 26 بری، تین مفرور

    • مرکزی ملزم عمران علی کو سزائے موت
    • پانچ ملزمان کو 25 سال قید
    • 25 ملزمان کو چار سال قید
    • 26 ملزمان کو بری کر دیا گیا
    • ایک ملزم زیرِ حراست
    • تین ملزمان تاحال مفرور
    ہری پور
  6. بریکنگ’صرف یہی اپیل ہے کہ دیگر ملزمان کو بھی انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے‘

    مشال خان کے بھائی ایمل خان نے مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم اپنے وکلا سے رابطہ کریں گے اور دیکھیں گے کہ کیا ہم اس فیصلے سے مطمئن ہیں۔ میری خیبرپختونخوا پولیس سے صرف یہی اپیل ہے کہ وہ دیگر ملزمان کو گرفتار کرے اور انھیں انصاف کے کٹہرے میں لائے۔‘

    خیال رہے کہ مشال خان کے والد لالہ اقبال خان اس وقت لندن میں ہیں جبکہ صوابی میں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر مشال خان کے گھر کے باہر سکیورٹی تعینات کی گئی ہے۔

    مشال
  7. مرکزی ملزم عارف سمیت چار ملزمان اشتہاری قرار

    عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ مشال قتل کیس کے مرکزی ملزم عارف سمیت چار ملزمان پر استغاثہ الزامات ثابت کامیاب رہا ہے لہٰذا عدالت حکم دیتی ہے کہ انھیں اشتہاری قرار دیا جائے اور گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ ان پر مقدمہ چلایا جا سکے۔

  8. بریکنگپانچ مجرمان کو عمرقید

    عدالت نے پانچ ملزمان بلال بخش، فضل رازق، مجیب اللہ، اشفاق خان اور مدثر بشیر کو عمر قید کی سزا سنائی ہے جبکہ ان مجرمان کو جرمانہ بھی دینا ہوگا۔

  9. بریکنگمشال قتل کیس: عمران علی کو سزائے موت

    مشال خان قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے مجرم عمران علی کو دفعہ 302 اور سیون اے ٹی اے کے تحت سزائے موت اور ڈیڑھ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔

    عمران علی
  10. بریکنگفیصلہ سنانے کا عمل ابھی جاری

    ہری پور جیل کے باہر موجود بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق تاحال انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے سرکاری طور پر مشال قتل کیس کے فیصلے کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا گیا ہے تاہم جیل ذرائع کے مطابق جہاں کچھ ملزمان کو سزا سنا دی گئی ہے وہیں دیگر کے بارے میں فیصلہ سنانے کا عمل ابھی جاری ہے۔

  11. بریکنگمشال قتل کیس کا فیصلہ سنانے کا عمل جاری

    نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق مقدمے کے ملزمان کو ہری پور جیل میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج کے سامنے پیش کر دیا گیا ہے اور جج فضل سبحان نے اپنا فیصلہ سنانا شروع کر دیا ہے۔ 57 ملزمان کو فردا فردا فیصلہ سنایا جا رہا ہے۔

  12. بریکنگمشال کے گھر کے باہر پولیس تعینات

    نامہ نگار اظہار اللہ کے مطابق صوابی میں مشال خان کے آبائی گھر کے باہر بھی پولیس تعینات کر دی گئی ہے جبکہ میڈیا کے نمائندے بھی وہاں جمع ہیں

    مشال کا مکان
  13. مشال کے قتل کے دن عبدالولی خان یونیورسٹی میں کیا ہوا تھا؟

    Video content

    Video caption: مشال خان کے قتل کے دن کیا ہوا تھا؟
  14. بریکنگجیل کے باہر سکیورٹی مزید سخت

    نامہ نگار کے مطابق فیصلے کا وقت قریب آتے ہی ہری پور جیل کے باہر سکیورٹی مزید سخت کردی گئی- پولیس کی مزید نفری جیل کی طرف روانہ ہوئی ہے۔

    ہری پور
  15. ’نو گو ایریا‘

    سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ہری پور جیل جانے والا راستہ نوگو ایریا بنا ہوا ہے۔

    ہری پور
  16. Post update

    ہری پور جیل کے باہر پولیس کی جانب سے میڈیا کے نمائندگان کی چائے سے تواضع کی جا رہی ہے

    ہری پور
  17. بریکنگہری پور جیل میں عدالتی کارروائی جاری

    ہری پور جیل میں عدالتی کارروائی جاری ہے جبکہ جیل کے احاطے کے باہر میڈیا کے نمائندگان اور ملزمان کے عزیز و اقارب فیصلے کے منتظر ہیں۔

    ہری پور
  18. ملزم عمران علی کا اعتراف جرم

    مشال خان کی ہلاکت کے الزام میں گرفتار عمران علی نے قتل کے دو ہفتے بعد مجسٹریٹ کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا تھا۔ اپنے بیان میں انھوں نے کہا تھا کہ مشال خان سال 2014 سے ان کا ہم جماعت تھا اور اس کے خیالات سیکولر طرز کے تھے اور وہ مبینہ طور پر گستاخانہ گفتگو کرتا تھا جس وجہ سے اس نے مشال سے تعلقات ختم کر دیے تھے۔

    عمران علی کے اعترافی بیان کے مطابق وقوعہ کے روز ہزاروں کی تعداد میں طلبہ اور دیگر عملہ مشتعل ہو گیا تھا۔ اپنے بیان میں عمران علی نے کہا کہ انھوں نے اپنا پستول لیا اور دیکھا کہ مشال ان لوگوں سے بھاگ رہا ہے تو انھوں نے فائر کیا اور پھر وہاں سے چلے گئے جس کے بعد دیگر طلبہ نے مشال خان پر مزید تشدد کیا۔

  19. بریکنگانتظار ختم، جج صاحب جیل پہنچ گئے

    انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج فضل سبحان خان، مشال قتل کیس کا فیصلہ سنانے کے لیے ہری پور سنٹرل جیل پہنچ گئے ہیں

    View more on facebook
  20. میڈیا کے نمائندے فیصلے کے منتظر

    ہری پور جیل کے باہر میڈیا کے نمائندوں کی بڑی تعداد بھی موجود ہے تاہم انھیں بھی جیل کے احاطے میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔

    میڈیا