Got a TV Licence?

You need one to watch live TV on any channel or device, and BBC programmes on iPlayer. It’s the law.

Find out more
I don’t have a TV Licence.

خلاصہ

  1. کلثوم نواز گلے کے سرطان کی مریض تھیں
  2. وہ گذشتہ برس سے لندن میں زیرِ علاج تھیں
  3. لندن میں ان کے بیٹے حسن اور حسین نواز انتقال کے وقت ان کے پاس موجود تھے جبکہ ان کے شوہر نواز شریف اور بیٹی مریم نواز پاکستان میں سزا کاٹ رہے ہیں

لائیو رپورٹنگ

time_stated_uk

یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔

تفصیلی رپورٹ کے لیے یہاں کلک کریں۔

بریکنگ’کلثوم نواز نہ ہوتیں، تو نواز شریف باہر نہ جا سکتے‘

بریکنگ’وہ بیگم کلثوم سے نواز اور مریم کی بھی آخری ملاقات تھی‘

میرواعظ عمر فاروق کا اظہارِ تعزیت

’میاں صاحب سے رابطے کے بعد تدفین کا فیصلہ کیا جائے گا‘

نامہ نگار فراز ہاشمی نے جب حسین نواز سے تدفین سے متعلق پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ان کا میاں صاحب سے رابطہ نہیں ہوا ہے اور ان سے بات کے بعد ہی اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

تاہم جماعت کے بعض مقامی رہنماؤں کے مطابق لندن کی ریجنٹ پارک مسجد میں جنازے کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں اور ’جمعے کو پاکستان میں تدفین‘ کی جائے گی۔

شریف خاندان کی ماڈل ٹاؤن میں رہائش گاہ کے مناظر

لاہور کے ماڈل ٹاؤن کے علاقے میں شریف خاندان کے گھر پر تعزیت کے لیے لوگوں کی آمد شروع ہو گئی ہے۔ بی بی سی کے وقاص انور کی جانب سے تصاویر۔

pakistan
BBC
pakistan
BBC
pakistan
ْْٰBBC
pakistan
BBC

’پیرول پر رہائی کی منظوری ہوم سیکریٹری کے ہی اختیار‘

پنجاب کے محکمۂ داخلہ کے مطابق بیگم کلثوم نواز کی تدفین میں شرکت کے سلسلے میں مجرمان نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدرکی پیرول پر رہائی کے لیے درخواست دینا ضروری ہے۔

پنجاب کے ہوم ڈیپارٹمنٹ کے اہلکار نے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ یہ درخواست ہوم سیکریٹری کو دی جائے گی جس پر ہوم سیکرٹری اڈیالہ جیل کے سپریٹنڈنٹ سے رائے لیں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ چونکہ یہ تینوں مجرمان سزا یافتہ قیدی ہیں اس لیے ان کی پیرول پر رہائی کی منظوری ہوم سیکریٹری کے اختیار میں جبکہ ان کی رہائی کا آرڈر ڈی سی آفس سے جاری کیا جائے گا۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ ہوم سیکرٹری زیادہ سے زیادہ 12گھنٹے تک مجرمان کی پیرول ہر رہائی کے احکامات دے سکتے ہیں۔

تاحال مسلم لیگ نواز یا شریف خاندان کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی درخواست جمع نہیں کروائی گئی ہے

kulsoom
Getty Images

’وہ ایک حوصلہ مند اور باوقار خاتون تھیں‘

وزیر اعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے بھی بیگم کلثوم نواز کی رحلت پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ ان کی تمام ’ہمدردیاں شریف خاندن کے ساتھ ہیں۔‘

View more on twitter

’بیگم کلثوم نواز کی خدمات کو یاد رکھا جائے گا‘

متحدہ قومی موومنٹ کے بانی رہنما الطاف حسین نے بیگم کلثوم نواز کو شاندار خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ جمہوریت کے لیے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

View more on twitter

فاطمہ بھٹو کی جانب سے بیگم کلثوم نواز کی وفات پر اظہار تعزیت

مرتضی بھٹو کی صحابزادی اور معروف مصنف فاطمہ بھٹو نے ٹویٹ میں شریف خااندان سے اظہار افسوس کیا ہے اور لکھا کہ یہ نہایت ہی افسوسناک بات ہے کہ اپنے چاہنے والوں سے دور ہوتے ہوئے اُن کی موت کی خبر سنی جائے۔

View more on twitter

بیگم کلثوم نواز کی نماز جنازہ ’ریجنٹ پارک مسجد میں ادا کی جائے گی‘

بی بی سی اردو کے فراز ہاشمی کے مطابق جماعت کے مقامی رہنماوں کا کہنا ہے کہ بیگم کلثوم نواز کی نماز جنازہ ریجنٹ پارک مسجد میں ادا کی جائے گی جبکہ ان کی میت ہسپتال سے مردہ خانے منتقل کر دی گئی ہے۔

pakistan
BBC

ایک غیر متنازع شخصیت

نامہ نگار آصف فاروقی کے مطابق 1999 میں نواز شریف کی رہائی کی لیے چلنے والی تحریک کی سربراہی بیگم کلثوم نواز کے سپرد کیوں کی گئی، اس بارے میں مختلف نظریات سامنے آئے۔ ان میں سے جو وجہ سب سے اہم بتائی جاتی ہے وہ یہ کہ نواز شریف کے جیل میں جانے کے بعد ان کی جماعت میں پھوٹ پڑنے کا اندیشہ تھا۔

کہا جاتا ہے کہ کلثوم نواز ان مشکل سیاسی حالات میں ایک ایسی غیر متنازعہ شخصیت کے طور پر سامنے آئیں جن کے پیچھے پوری مسلم لیگی قیادت متحد ہو گئی۔ خدشات تھے کہ اگر کلثوم نواز اس وقت سیاسی میدان میں نہ آتیں تو مسلم لیگ ن اندرونی انتشار کا شکار ہو جاتی۔

بیگم کلثوم نواز اس کے بعد بھی مختلف موقعوں پر ان سیاسی رہنماؤں سے ملتی اور ان کی بات سنتی رہیں جو نواز شریف سے ناراض ہوئے۔ انھیں مسلم لیگ ن میں ایک غیر متنازع شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔

’خاندان کے کسی فرد نے اب تک میڈیا سے بات نہیں کی‘

سینٹرل لندن میں ہارلے سٹریٹ پر واقع ہارلے سٹریٹ کلینک کے باہر مسلم لیگ نون کے کارکن اور صحافی موجود ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار حسین عسکری کے مطابق جب ہسپتال کے اہلکار سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ کچھ دیر میں پریس ریلیز جاری کی جائے گی۔

حسین عسکری کے مطابق ہسپتال کی کھڑکی سے حسین نواز نظر آئے لیکن ابھی تک خاندان کے کسی فرد نے باہر آ کر میڈیا سے بات نہیں کی ہے اور اس وقت میت کو حاصل کرنے کے لیے ڈیتھ سرٹیفیکیٹ سمیت دیگر کاغذات تیار کیے جا رہے ہیں۔

pakistan
BBC

ہارلے سٹریٹ کلینک کے باہر کے مناظر

pakistan
BBC
pakistan
BBC
Kulsoom Nawaz
Getty Images

سابق وزیراعظم نواز شریف جب 1999 میں فوج کے ہاتھوں حکومت سے بے دخل ہونے کے بعد اٹک جیل میں قید تھے بیگم کلثوم نواز نے ان کی رہائی کے لیے تحریک چلائی

اپنے شوہر اور خاندان کے دیگر مرد افراد اور مسلم لیگ ن کے بیشتر اہم سیاسی رہنماؤں کی گرفتاری کے باعث وہ اچانک ایک خاتون خانہ سے سیاسی رہنما بن گئیں۔

انہوں نے اس وقت کے فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے خلاف ایک بھرپور سیاسی تحریک چلائی۔

کہا جاتا ہے کہ بعض دوست ملکوں کی مداخلت کے ساتھ ساتھ یہ بیگم کلثوم نواز کی طرف سے جنرل مشرف پر ڈالا جانے والا سیاسی دباؤ تھا جس نے ان کے شوہر کی رہائی ممکن بنائی۔

اپنے سیاسی کیرئیر میں جب دوسری مرتبہ نواز شریف مشکل ترین دور سے گزر رہے ہیں تو کلثوم نواز ان کی مدد کے لیے موجود نہیں ہیں۔

صدر پاکستان کی جانب سے تعزیتی پیغام جاری

پاکستان کے نو منتخب صدر، عارف علوی کی جانب سے بھی تعزیتی پیغام جاری کیا گیا ہے جس میں انھوں نے شریف خاندان سے بیگم کلثوم نواز کی وفات پر اظہار افسوس کیا ہے۔

View more on twitter

بریکنگمسلم لیگ ن کے کارکن ہسپتال کے باہر جمع

لندن میں ہارلے سٹریٹ پر موجود بی بی سی اردو کے فراز ہاشمی کے مطابق پاکستان مسلم لیگ کے کارکن اور رہنما ہسپتال کے باہر جمع ہو چکے ہیں لیکن ہسپتال کی انتظامیہ کچھ نہیں کہہ رہی۔

’اہلیہ، ماں اور خاتون اول‘

پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو کی بہن بختاور بھٹو نے ٹویٹ میں بیگم کثوم نواز کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ وہ نہ صرف ایک اہلیہ اور ماں تھیں بلکہ وہ خاتون اول بھی تھیں۔

View more on twitter

پی ٹی آئی کی جانب سے بیگم کلثوم کی وفات پر تعزیتی پیغام

حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ٹویٹ میں بیگم کلثوم نواز کی وفات پر اظہار افسوس کیا گیا ہے اور اس پیغام میں انھوں نے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا کہ وہ ایک آمر کے سامنے ڈٹ کر کھڑی رہیں۔

View more on twitter

بی بی سی اردو کے شفیع نقی جامعی کچھ عرصے قبل بیگم کلثوم کی عیادت کے لیے ہسپتال گئے

شوہر اور چہیتی بیٹی جیل میں اور بیٹے مفرور

نامہ نگار آصف فاروقی کے مطابق بیگم کلثوم نواز کا انتقال ایسے وقت میں ہوا ہے جب ان کا خاندان مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے۔

ان کےشوہر اور سب سے چہیتی بیٹی جیل میں ہیں اور دونوں بیٹے پاکستان میں قانونی طور پر مفرور قرار دیے جا چکے ہیں۔

سیاسی طور پر اس نا موافق صورتحال کے باعث ان کی آخری رسومات کے موقع ان کے خاندان کا اکٹھے ہونے کے امکانات بہت کم ہیں۔

اگر ان کی تدفین پاکستان میں ہوتی ہے تو حسن اور حسین مفرور ہونے کے باعث پاکستان نہیں آ سکیں گے اور اگر ان کی آخری رسومات لندن میں ہوتی ہیں تو ان میں جانے کے لیے نواز شریف اور مریم نواز کو اجازت ملنے کے امکانات کم ہیں۔

نواز شریف کی اپنی اہلیہ سے آخری ملاقات

13 جولائی کو پاکستان واپسی سے قبل سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف ہسپتال میں اپنی اہلیہ سے آخری ملاقات کرتے ہوئے۔

pakistan
Twitter

آرمی چیف کی جانب سے بھی کلثوم نواز کی وفات پر اظہار افسوس

پاکستانی افواج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے ٹویٹ میں بتایا ہے کہ برّی فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ نے بیگم کلثوم نواز کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور ان کی مغفرت کے لیے دعا کی ہے۔

View more on twitter

’نواز شریف ان کی رائے کو خاص اہمیت دیتے تھے‘

سہیل وڑائچ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ 'میاں نواز شریف بھی ان کی باتیں بہت توجہ سے سنتے ہیں۔ میاں صاحب پر ان کا گہرا اثر رہا ہے۔ بہت سے لوگوں کے بارے میں ان کی رائے ہی غالب ہوتی ہے اور جب وہ درست ثابت ہو تو ظاہر ہے ان کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔'

’کلثوم نواز شریف خاندان میں ایک بائنڈنگ فورس تھیں‘

کچھ عرصہ قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ کلثوم نواز شریف خاندان میں ایک بائنڈنگ فورس کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اپنے بچوں کی شادیوں میں ان کا ہاتھ تھا، بچوں اور خاص طور پر مریم نواز کی ان کے ساتھ گہری قربت تھی۔ بیرونِ ملک کاروبار کے حوالے سے بھی پہلی بار انھوں نے فیصلہ کیا تھا کہ ان کا خاندان ملک سے باہر کاروبار کرے گا۔

Kulsoom Nawaz
Getty Images

بریکنگ’کلثوم نواز ایک بہادر خاتون تھیں‘

وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے تعزیتی پیغام

پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے بیگم کلثوم نواز کی وفات پر تعزیتی پیغام جاری کرتے ہوئے انھیں ’بہادر خاتون‘ قرار دیا ہے۔ عمران خان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ شریف خاندان اور ان کے سوگواران کو قانون کے مطابق تمام تر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

View more on twitter

الیکشن تو جیتا مگر حلف نہیں اٹھایا

بیگم کلثوم نواز نے گذشتہ سال لاہور کے حلقے این اے 120 سے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی لیکن اپنی طبیعت کی خرابی کی وجہ سے وہ انتخابی مہم نہیں چلا پائی تھیں بلکہ انھوں نے رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے حلف بھی نہیں اٹھایا تھا۔

حسن اور حسین کلثوم نواز کے ساتھ رہے ہیں

بیگم کلثوم نواز کے دونوں صاحبزادے حسن اور حسین اس کی علالت میں ان کے ساتھ رہے ہیں لیکن ان کے شوہر اور ان کے بیٹی مریم نواز پاکستان میں کرپشن کے مقدمات میں سزا کی وجہ سے فلحال جیل میں ہیں۔

’کلثوم نواز کا تعلق کشمیری خاندان سے تھا`

بیگم کلثوم نواز عمر میں نواز شریف سے ایک برس چھوٹی تھیں۔ ان کا خاندان کشمیر سے تعلق رکھتا ہے جبکہ ان کی پیدائش لاہور میں ہوئی۔ وہ مشہورِ زمانہ پہلوان گاما کی نواسی تھیں۔

’بہادر پاکستانی‘

لیگی رہنما خرم دستگیر نے بیگم کلثوم نواز کو اپنی ٹویٹ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ’بہادر پاکستانی‘ قرار دیا۔

View more on twitter

صدر پاکستان مسلم لیگ شہباز شریف کی جانب سے تصدیق

صدر پاکستان مسلم لیگ شہباز شریف نے اپنی بھابی کلثوم نواز کی وفات کی تصدیق کی ٹویٹ کی ہے۔

View more on twitter

گذشتہ سال کینسر کی تشخیص ہوئی

بیگم کلثوم نواز کو گذشتہ سال کینسر کے مرض کی تشخیص ہوئی تھی اور پچھلے ایک سال سے برطانیہ میں زیر علاج تھیں۔

کلثوم نواز کے سوگوران میں ان کے شوہر نواز شریف، بیٹیاں مریم صفدر اور اسما اور دو بیٹے حسن نواز اور حسین نواز شامل ہیں۔

مقامی ذرائع ابلاغ میں شریف خاندان کے ذرائع سے شائع ہونے والی خبروں کے مطابق بیگم کلثوم نواز جو سرطان کے مرض میں متبلا تھیں مرکزی لندن کے علاقے ہارلے سٹریٹ میں منگل کی صبح انتقال کر گئیں۔

بریکنگکلثوم نواز انتقال کر گئیں

پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز طویل علالت کے بعد لندن کے ایک نجی ہسپتال میں زندگی کی جنگ ہار گئی ہیں۔

pakistan
AFP