Got a TV Licence?

You need one to watch live TV on any channel or device, and BBC programmes on iPlayer. It’s the law.

Find out more
I don’t have a TV Licence.

لائیو رپورٹنگ

time_stated_uk

  1. تین بار کے وزیر اعظم کو تین بار عدالت میں ناکامی کا سامنا

    عابد حسین، بی بی سی اردو

    bbc

    پاکستان مسلم لیگ کے تاحیات قائد اور ملک کے تین بار منتخب ہونے والے وزیر اعظم کو شاید اندازہ نہیں تھا کہ اپریل 2016 میں پاناما پیپرز کے انکشافات ان کی ذات اور ان کے خاندان کے لیے کس قدر مشکلات پیدا کریں گے۔

    گذشتہ سال اپریل میں سپریم کورٹ میں وہ دو کے مقابلے میں تین ججوں کی رائے میں صادق اور امین ٹھیرے لیکن اس کے بعد ان کی ناکامیوں کا ایک نا رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔

    پہلے جولائی 2017 میں انھیں پانچ صفر سے ہزیمت اٹھانی پڑی جب سپریم کورٹ کے کمرہ عدالت نمبر ایک میں پانچ رکنی بینچ نے متفقہ طور پر ان کے خلاف فیصلہ صادر کیا کہ وہ نہ صادق ہیں اور نہ امین، جس کے نتیجے میں وہ نہ صرف وزارت اعظمی سے ہاتھ دھو بیٹھے، بلکہ اسمبلی سے بھی نا اہل ہو گئے۔

    ستمبر 2017 میں قومی احتساب بیورو کی جانب سے دائر کیے گئے تین ریفرنسز کی سماعت کا سلسلہ شروع ہوا تو 107 سماعتوں کے بعد اس سال جولائی میں نتیجہ ایک بار پھر ان کے خلاف آیا۔

    ایون فیلڈ اپارٹمنٹ ریفرنس میں انھیں اپنی بیٹی اور داماد کے ہمراہ سزا ہوئی اور وہ اڈیالہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے چلے گئے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ سے ریلیف ملنے کے باوجود ان کے سر پر العزیزیہ ریفرنس اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس کی تلوار لٹک رہی تھی اور ان کی سالگرہ سے ایک روز قبل، پیر 24 دسمبر کو انھیں ایک مرتبہ پھر عدالت سے مایوسی ملی جب فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں بری ہونے کے باوجود العزیزیہ ریفرنس ان کو ایک بار پھر جیل لے گئی۔

    نواز شریف کے کہنا ہے کہ ستمبر 2017 سے لے کر اب تک وہ تقریباً 165 مرتبہ عدالتوں کا چکر لگ چکے ہیں۔

    اس اثنا میں انھیں جیل میں رہتے ہوئے اپنی اہلیہ کی وفات کے غم سے بھی گزرنا پڑا اور عام انتخابات میں اپنی جماعت کی شکست کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

    دیکھنا ہوگا کہ ان کی یہ مشکلات کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا۔ اس آخری اپ ڈیٹ کے ساتھ یہ لائیو پیج اب مزید اپ ڈیٹ نہیں ہوگا۔

  2. بریکنگنواز شریف کو اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا

    bbc
    Image caption: file photo
  3. اس طرح تو ملک سے باہر کام کرنے والا ہر پاکستانی مجرم ہے: خاقان قباسی

    سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی العزیزیہ ریفرنس کے فیصلے کے بعد صحافیوں سے بات چیت

    ’جس (ریفرنس) میں سزا دی گئی ہے، اس کے حقائق بھی پورے پاکستان کے سامنے موجود ہیں۔۔۔ نہ کوئی ثبوت ہیں نہ کوئی گواہ ہیں۔ بلکہ گواہوں نے یہ کہا کہ اس مل سے نواز شریف کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

    سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ مل اُس زمانے میں بنی جب میاں نواز شریف صاحب ملک بدر تھے، نہ وہ ملک کے اندر تھے، نہ وہ اقتدار میں تھے، نہ ہی انھوں نے اس مل کے لیے کسی پاکستانی بینک سے قرضہ لیا! اگر اس ثبوت پر انھیں سزا سنائی دی گئی ہے پھر ہر پاکستانی جو ملک سے باہر کرتا ہے وہ مجرم ہے۔

    یہی بدنصیبی ہے اور پاکستان میں سیاستدانوں کے خلاف جو تاریک فیصلے کیے گئے ہیں آج ان میں ایک اور فیصلے کا اضافہ ہوا ہے۔ ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں لیکن یہ وہ فیصلے ہیں جن کو نہ پاکستان کے عوام قبول کرتے ہیں نہ تاریخ قبول کرتی ہے۔ ہم ہر فیصلے کو مانتے ہیں لیکن پاکستان کے عوام نہیں مانتی اور تاریخ نہیں مانتی۔ کسی قانون دان کو دیکھا دیں، یہاں دونوں کیسز میں کوئی ثبوت نہیں ہے، پوری دنیا ہنستی ہے کہ آپ کے ملک میں کس قسم کے فیصلے ہو رہے ہیں۔

    جس طرح پہلے ریفرنس میں دیکھا تھا کہ اُس میں کوئی حقیت نہیں تھی اور (عدالت نے) اس کو ختم کر دیا تھا تو انشا اللہ اس کیس کا بھی وہی حشر ہوگا۔ عوامی احتجاج ہم کریں، وہ ہمارا حق ہے، پارلیمنٹ میں بھی کریں گے، پارلیمنٹ کے باہر بھی کریں گے لیکن ہم نے تشدد کا راستہ نہیں اپنانا، ہم نے پرامن رہنا ہے ہم کوئی ایسا عمل نہیں کریں جس سے ملک میں جمہوریت کو خطرہ ہو۔‘

    Shahid Khaqan Abbasi
  4. نواز شریف پر پونے چار ارب روپے کا جرمانہ، جائیداد کی ضبطگی کے حکم

    محمد نواز شریف کو احتساب عدالت نے العزیزیہ ریفرنس میں سات سال قید، دس سال کے لیے کسی بھی عوامی عہدے پر فائز ہونے پر پابندی، ان کے نام تمام جائیداد ضبط کرنے کا فیصلہ دیا ہے اور ساتھ ساتھ تقریباً پونے چار ارب روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ان کے خلاف دوسرے ریفرنس فلیگ شپ انویسٹمنٹ میں نواز شریف کو باعزت بری قرار دیا گیا جس کے خلاف نیب حکام نے اپیل کا فیصلہ کیا ہے۔ نواز شریف کے علاوہ ان کے دونوں بچوں حسین اور حسن نواز کے خلاف ان کی غیر موجودگی میں دائمی وارنٹ جاری کر دیے گئے ہیں۔

    bbc
  5. نیب کا فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس کے فیصلے پر اپیل کا فیصلہ

    قومی احتساب بیورو نے اسلام آباد کی احتساب عدالت کی جانب سے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں بری قرار دینے پر اپیل کا فیصلہ کیا ہے۔ چئیرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے نیب کی قانونی ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ اس سلسلے میں مکمل تیاری کی جائے اور ٹھوس شواہد جمع کیے جائیں۔

    بی بی سی
  6. ’ایک ہی شخص کو کتنی بار نشانہ بناؤ گے؟ کتنی بار سزا دو گے؟‘

    کئی ماہ کی خاموشی کے بعد آج مریم نواز نے اپنے والد کے خلاف آنے والے فیصلے کے خلاف وقتاً فوقتاً ٹویٹس کیں جس میں انھوں نے نواز شریف کی ثابت قدمی کو سراہا اور فیصلے کی تنقید کی۔

    View more on twitter
    View more on twitter
  7. جیل میں نواز شریف کو کیا سہولیات دستیاب ہوں گی؟

    جولائی میں جب نواز شریف اور مریم نواز کو اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا تھا تو اس وقت ہمارے قارئین کے ذہن میں بڑا سوال تھا کہ وہاں انھیں کیا سہولیات ملیں گی۔ اس کے بارے میں جاننے کے لیے ہمارا مضمون پڑھیے جہاں جیل مینوئیل کے قوانین کا جائزہ لیا گیا ہے۔

    getty
  8. بریکنگنواز شریف کی کوٹ لکھپت جیل منتقلی کی درخواست منظور

    نواز شریف کی جانب سے اڈیالہ کی بجائے کوٹ لکھپت جیل منتقل کرنے کی درخواست احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے منظور کر لی ہے جس کے بعد اب نواز شریف کو لاہور منتقل کیا جائے گا۔

  9. بریکنگالعزیزیہ سٹیل مل ریفرنس کیا ہے؟

    عابد حسین، بی بی سی اردو

    مقدمے کی تفصیلات میں جائیں تو بظاہر العزیزیہ سٹیل ملز نواز شریف کے والد میاں محمد شریف نے 2001 میں سعودی عرب میں قائم کی تھی جس کے انتظامی امور نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز چلا رہے تھے۔

    شریف خاندان کی جانب سے دلائل میں کہا گیا کہ سٹیل مل لگانے کے لیے کچھ سرمایہ سعودی حکومت سے لیا گیا تھا۔

    البتہ نیب کے وکلا کا کہنا ہے کہ شریفوں کے دعوے کسی بھی دستاویزی ثبوت سے بغیر ہیں اور یہ علم نہیں کہ اس مل کے لیے رقم کہاں سے آئی۔ ان کا دعوی ہے کہ شریف خاندان نے پاکستان سے غیر قانونی طور پر رقم حاصل کر کے اس مل کے لیے سرمایہ لگایا۔

    حسین نواز کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے دادا سے پچاس لاکھ ڈالر سے زیادہ رقم دی گئی تھی جس کی مدد سے انھوں نے العزیزیہ سٹیل ملز قائم کی۔ ان کے مطابق اس مل کے لیے زیادہ تر سرمایہ قطر کے شاہی خاندان کی جانب سے محمد شریف کی درخواست پر دیا گیا تھا۔

    اس ریفرنس کی تفتیش کرنے کے لیے قائم ہونے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے مطابق العزیزیہ سٹیل ملز کے اصل مالک نواز شریف خود ہیں۔

    نیب حکام کا نواز شریف کے خلاف دعویٰ ہے کہ انھوں نے حسین نواز کی کمپنیوں سے بڑا منافع حاصل کیا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اصل مالک وہ ہیں، نہ کہ ان کے بیٹے۔

    واضح رہے کہ اس ریفرنس کی سماعتوں کے دوران نیب کے حکام اس الزام کو ثابت کرنے کے لیے کوئی دستاویزی ثبوت فراہم کرنے سے قاصر رہے ہیں۔

  10. بریکنگفیصلہ آ گیا: نواز شریف ایک ریفرنس میں مجرم ، ایک میں بری

    شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    احتساب عدالت کی جانب سے نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں سات سال قید اور ڈھائی کروڑ ڈالر اور 15 لاکھ برطانوی پاؤنڈ جرمانے کی سزا سنا دی گئی ہے۔

    تاہم نواز شریف کو فلیگ شپ ریفرنس میں عدالت نے باعزت بری کر دیا ہے۔

    سزا ہونے کے بعد نواز شریف کو کمرہ عدالت سے ہی گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    ببث
  11. بریکنگاحتساب عدالت کے باہر پولیس کی جانب سے شیلنگ

    نیر عباس، بی بی سی اردو

    بی بی سی کے نیر عباس کے مطابق عدالت کے احاطے کے باہر پولیس کی جانب سے لیگی کارکنان پر شیلنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

  12. بریکنگنواز شریف فیصلہ سننے کے لیے احتساب عدالت پہنچ گئے

    نواز شریف العزیزیہ سٹیل مل اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرینسز میں اپنے خلاف قومی احتساب بیورو کی جانب سے دائر کردہ مقدمات کا فیصلہ سننے کے لیے احتساب عدالت پہنچ گئے ہیں۔

    نواز شریف
  13. سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور دیگر وکلا کوعدالت میں داخل ہونے نہیں دیا گیا

    فاران رفیع، بی بی سی

    احتساب عدالت کے گیٹ پر سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور دیگر وکل عملے سے بحث کرتے رہے لیکن انھیں بتایا گیا کہ عدالت نے حکم دیا ہے کہ کسی کو آنے کی اجازت نہیں۔

    Video content

    Video caption: ’کورٹ کا آرڈر ہے کہ کورٹ میں کوئی داخل نہیں ہو سکتا‘