Got a TV Licence?

You need one to watch live TV on any channel or device, and BBC programmes on iPlayer. It’s the law.

Find out more
I don’t have a TV Licence.

خلاصہ

  1. وزیرِخارجہ نے جمعے کو پارلیمان کو بتایا کہ ان کے احتجاج کے باوجود اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی اجلاس میں ان کی انڈین ہم منصب شرکت کریں گی اور اسی لیے انھوں نے اجلاس میں شرکت کرنے سے معذرت کر لی
  2. جمعرات کو پاکستان کے وزیراعظم نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں انڈیا کے پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن کو آج یعنی جمعے کو رہا کرنے کا اعلان کیا تھا۔
  3. بدھ کی صبح پاکستان نے دعویٰ کیا کہ اس کی فضائیہ نے پہلے ایل او سی کے پار اہداف کو نشانہ بنایا ہے اور پھر پاکستان میں داخل ہونے والے دو انڈین طیارے مار گرائے ہیں جبکہ ایک پائلٹ کو حراست میں لے لیا گیا
  4. پاکستانی فوج کے مطابق جوابی کارروائی کے نتیجے میں انڈین طیارے واپس چلے گئے اور انھوں نے جلدی میں اپنا گولہ بارود گرا دیا جو بالاکوٹ کے قریب جابہ کے علاقے میں گرا
  5. انڈین سیکریٹری خارجہ وجے گوکھلے نے اس کے برعکس دعویٰ کیا کہ ان کی فضائیہ نے بالاکوٹ میں واقع جیشِ محمد کے کیمپ پر حملہ کیا جس میں درجنوں دہشت گرد ہلاک ہوئے

لائیو رپورٹنگ

پیشکش: ذیشان حیدر، طاہر عمران، حسن زیدی شجاع ملک، حمیرا کنول

time_stated_uk

  1. لائیو پیج کا اختتام

    یہ صفحہ اب مزید اب ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔

  2. نریندر مودی کی مبارکباد

    انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے بھی ایک ٹویٹ کے ذریعے پائلٹ ابھینندن کو خوش آمدید کہتے ہوئے لکھا کہ ’پوری قوم کو آپ کی مثالی جرت پر فخر ہے۔‘

    View more on twitter
  3. انڈینز کا ابھینندن کی واپسی پر اظہار مسرت

    انڈیا میں مشہور شخصیات بشمول سیاسیتدانوں کے پائلٹ ابھینندن کی واپسی پر مسرت کا اظہار کر رہے ہیں اور انہیں خوش آمدید کہا جا رہا ہے۔ کانگرس کے رہنما راہول گاندھی کا ایک ٹویٹ میں کہنا تھا ’ونگ کمانڈر ابھینندن آپ کا وقار، شعور اور بہادری پر ہمیں فخر ہے۔ واپسی پر خوش آمدید، بہت پیار‘

    View more on twitter
  4. ’انڈین میڈیا آگ لگاتا ہے‘

    انڈین پائلٹ ابھینندن کی وطن واپسی سے قبل کی تازہ ویڈیو میں انھوں نے پاکستان میں اپنے طیارے کے تباہ ہونے سے لے کر پاکستانی فوج کی تحویل میں آنے تک کی تفصیات بتائیں۔ جس میں انھوں نے نہ صرف پاکستانی فوج کے رویے کی تعریف کی بلکہ انڈین میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا ’وہ بات کو بڑھا چڑھا کر آگے لگانے کے لیے پیش کرتے ہیں جبکہ پاکستانی میڈیا ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا ہے۔‘

  5. بریکنگابھینندن انڈین حکام کے حوالے

    پاکستان کی فضائی حدود خلاف ورزی کرنے والے جہاز کے پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن کو انڈین حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ انہیں واہگہ بارڈر پر دستاویزی کارروائی کے بعد انڈین حکام کے حوالے کیا گیا۔

    ابھینندن
  6. بریکنگابھینندن کی حوالگی میں تاخیر

    انڈیا کے پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن کو جمعے کی شام انڈین حکام کے حوالے کیا جانا تھا۔ پاکستان اور انڈیا کے متعلقہ فوجی حکام سرحد کی دونوں جانب موجود ہیں تاہم ابھی تک اس حوالے سے کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے کہ آیا یہ حوالگی عمل میں آ چکی ہے یا نہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ ضروری دستاویزی کارروائی کے باعث تاخیر ہو رہی ہے۔

  7. ’بارڈر کو خصوصی طور پر کھولا جا سکتا ہے‘

    واہگہ بارڈر پر موجود بی بی سی کے نامہ نگار عمر دراز نگیانہ نے بتایا کہ پاکستان کی طرف سے پرچم کشائی کی تقریب کے بعد بارڈر کو بند کر دیا گیا ہے۔ لیکن انڈین پائلٹ ابھینندن کی حوالگی کے لیے بارڈر کو خصوصی انتظامات کر کے کھولا جا سکتا ہے۔

    Video content

    Video caption: ’بارڈر خصوصی طور پر کھولا جا سکتا ہے‘
  8. بریکنگانڈیا پاکستان بارڈر پر کشیدگی برقرار، فائرنگ کا تبادلہ جاری

    صحافی مرزا اورنگزیب، پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر

    پاکستان اور انڈیا کے درمیان سرحد پر کشیدگی برقرار ہے۔ مقامی حکام کے مطابق بھارتی فوج کی جانب سے نکیال، کھوئی رٹہ، سماہنی، بٹل سیکٹرز میں فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے جس کا پاکستانی فوج نے بھرپور جواب دیا۔

  9. بریکنگ’پاکستانی فوج کے سربراہ کی امریکہ، برطانیہ، اور آسٹریلوی فوجی نمائندوں سے بات چیت‘

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعالقاتِ عامہ کے ڈائریکٹر جنرل عاصف غفور نے ایک ٹویٹ کے ذریعے کہا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا ٹیلیفونک رابطہ امریکی، برطانوی اور آسٹریلوی عسکری کمانڈ سمیت پاکستان میں امریکی، برطانوی اور چینی سفیروں سے ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کا پاکستان اور انڈیا میں کشیدگی اور خطے میں امن اور استحکام پر تبادلہ خیال ہوا۔ ان کے مطابق آرمی چیف نے تبادلہ خیال میں یہ بات واضح کی کہ ’پاکستان اپنے دفاع کے لیے کسی بھی جارحیت کا یقیناً جواب دے گا۔‘

    View more on twitter
  10. ’ابھینندن کو دیکھنے آئے تھے‘

    فیصل آباد سے آئے طلحہ کا کہنا تھا کہ ’ہم پہلی دفعہ واہگہ بارڈر آئے ہیں تاکہ انڈین پائلٹ کو دیکھ سکیں۔ ہمیں یقین ہے کہ ہمارے لیڈر نے انڈین پائلٹ کی واپسی کا فیصلہ سوچ سمجھ کر لیا ہو گا۔‘

    Video content

    Video caption: ’ونگ کمانڈر اببھینندن کو دیکھنے آئے تھے‘
  11. بریکنگاٹاری کے برعکس واہگہ پر پاکستانی سرحدی فورسز کی پریڈ حسبِ معمول

    نامہ نگار عمردراز ننگیانہ نے بتایا کہ واہگہ کے مقام پر پاکستانی سرحدی فورسز نے حسبِ معمول پرچم کشائی کی تقریب اور پریڈ کا انعقاد کیا ہے۔ یاد رہے کہ آج انڈین پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن کی متوقع رہائی کے پیشِ نظر انڈین حکام نے اعلان کیا تھا کہ انڈین باڈر سکیورٹی فورس کی جانب سے اٹاری کے مقام پر روزانہ سرحد کی بندش کے وقت کی جانے والی پریڈ جمعے کے روز کے لیے منسوخ کر دی گئی ہے۔

    India
    India
    India
  12. وِنگ کمانڈر کے ساتھ اب کیا ہوگا؟

    بی بی سی ہندی

    ابھینندن

    ابھینندن کو انڈیا کے حوالے کیے جانے سے پہلے اور اس کے بعد کیا کیا ہوگا، اس بارے میں بی بی سی نے میجر جنرل راج مہتا سے بات کی۔

    انھوں نے بتایا: ’سب سے پہلے انٹرنیشنل ریڈ کراس سوسائٹی ابھینندن کو اپنے ساتھ لے کر جائے گی اور ان کا مکمل معائنہ کیا جائے گا۔ اس معائنے کا مقصد یہ طے کرنا ہوگا کہ انہیں کوئی جسمانی نقصان تو نہیں ہوا۔‘

    ’انھیں کسی طرح کے ڈرگس دیے گئے ہوں، اور جسمانی یا ذہنی اذیت دی گئی ہو تو جنیووا کنوینشن کے تحت اس کی تحقیق کرنا ذمہ داری بنتی ہے۔ اس معائنے کے دستاویزات تیار کیے جائیں گے اور انڈین فضائیہ کے حوالے کیے جائیں گے۔‘

    ’انڈیا پہنچنے کے بعد فضائیہ کی میڈیکل ٹیم ابھینندن کا مکمل معائنے کرے گی۔ اس وقت تک اس کام کے لیے ماہرین کو نام زد بھی کر دیا گیا ہوگا۔ اس کے بعد وِنگ کمانڈر سے بات کی جائے گی۔‘

    ’پھر انٹیلیجنس ڈیبریفِنگ ہوگی کہ ان کے ساتھ کیا ہوا، کیسے ہوا۔ پاکستان میں ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا گیا، ان سے کیا پوچھا گیا اور کس بارے میں بات ہوئی۔ اس کے بعد حکومت کو رپورٹ پیش کی جائے گی۔ اگر انڈیا کو لگے کہ اس سب میں کچھ قابل قبول نہیں ہے تو انہیں بین الاقوامی سٹیج پر پیش کیا جائے گا۔‘

  13. فوجی گاڑیوں کے کانوائے کی واہگہ بارڈر آمد

    گاڑیاں

    نامہ نگار عمر دراز کے مطابق نیول پولیس کی گاڑیوں کی نگرانی میں ایک کانوائے واہگہ بارڈر پہنچ چکا ہے، تاہم ابھی یہ معلوم نہیں کہ انڈین پائلٹ ابھینندن بھی ان کے ہمراہ آئے ہیں یا نہیں۔

  14. ’میڈیا کو بارڈر سے ڈیڑھ کلو میٹر دور روک دیا ہے‘

    دلجیت آمی، بی بی سی پنجابی، اٹاری

    دلجیت

    امرتسر سے لاہور کی جانب 26 کلومیٹر کے فاصلے پر اٹاری چیک پوسٹ پر لوگوں کا ایک بڑا ہجوم انڈین ونگ کمانڈر ابھینندن کی حوالگی کو دیکھنے کے لیے جمع ہے۔

    پاکستانی حکام ونگ کمانڈر ابھینندن کو واہگہ-اتاری بارڈر کی بین الاقوامی چیک پوسٹ پرانڈین حکام کے حوالے کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس تقریب کو مقامی، قومی اور بین الاقوامی میڈیا کی توجہ حاصل ہے۔

    امرتسر بارڈر پر روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں سیاح آتے ہیں۔ عموماً آنے والے لوگوں کے علاوہ مقامی میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد بھی آج یہاں موجود ہے۔

    بارڈر سکیورٹی فورس کے مطابق انڈین فضائیہ کے خصوصی اتاشی ونگ کمانڈر ابھینندن کا استقبال کریں گے۔

    تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ وہ کتنے بجے بارڈر پار کریں گے اور اس بارے میں حکام کی جانب سے بھی کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

    یہاں جمع لوگ ڈھول کی تھاپ اور مقبول پنجابی گانوں پر بھنگڑے ڈال کر اپنےاحساسات کا اظہار کر رہے ہیں۔

    میڈیا کو بارڈر سے ڈیڑھ کلو میٹر دور روک دیا گیا ہے جس سے یہ کہا جا سکتا ہے ونگ کمانڈر ابھینندن کے بارڈر پار کرنے کے فوری بعد حکام ان کی تلاشی لیں گے۔

  15. ’پریڈ دیکھنے آئے ہیں، ابھینندن کی رہائی میں بھی دلچسپی ہے‘

    لاہور کے قریب واہگہ کے مقام پر بھی لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔

    نامہ نگار موسیٰ یاوری کے مطابق یہاں آنے والے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ حسبِ معمول واہگہ کے مقام پر پریڈ دیکھنے کے لیے آئے ہیں مگر وہ پاکستان کی جانب سے انڈین پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن کی واپسی میں بھی دلچسپی رہتے ہیں اور انھیں دیکھنا چاہتے ہیں۔

    India
    India
    India
  16. ’آج انڈین باڈر سکیورٹی فورس پریڈ نہیں کرے گی‘

    سربجیت سنگھ دھالیوال، بی بی سی، اٹاری

    امرتسر کے ڈپٹی کمشنر شیو دولار سنگھ نے بتایا ہے کہ انڈین باڈر سکیورٹی فورس کی جانب سے اٹاری کے مقام پر روزانہ سرحد کی بندش کے وقت کی جانے والی پریڈ جمعے کے روز کے لیے منسوخ کر دی گئی ہے۔

    india
  17. سشما سواراج: ’صرف فوج، انٹیلیجنس یا سفارتی ذرائع دہشت گردوں سے نہیں لڑ سکتے‘

    سشما

    ابو ظہبی میں او آئی سی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انڈین وزیر خارجہ سشما سواراج نے پاکستان کا نام لیے بغیر کہا ہے کہ ’اگر ہم انسانیت کو بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں دہشتگردوں کی پشت پناہی کرنے والی ریاستوں کو بتانا ہوگا کہ وہ اُس ملک میں بسنے والے شدت پسندوں کے انفراسٹرکچر کو ختم کریں، شدت پسند تنظیموں کو فنڈنگ اور تحفظ فراہم کرنا بند کریں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا ’اس کے ساتھ ساتھ میں یہ کہنا چاہوں گی کہ صرف فوج، انٹیلیجنس یا سفارتی ذرائع کا استعمال کر کے اس خطرے سے نہیں لڑا جا سکتا۔‘

    اپنے خطاب میں سشما سواراج کا کہنا تھا ’یہ ایک ایسی جنگ ہے جو ہماری اقداروں کی مضبوطی اور مذاہب کے اصل پیغام کے ذریعے سے جیتی جا سکتی ہے۔ اس کام کو ریاستوں، معاشروں، داناؤں، سکالرز، روحانی پیشواؤں اور خاندانوں کو اپنے ذاتی روابط اور سوشل میڈیا پر جاری رکھنا چاہیے۔`

  18. بریکنگابھینندن کی حوالگی کے خلاف دائر درخواست مسترد

    شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    ابھیندن

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے پائلٹ ابھینندن کو انڈیا کے حوالے نہ کرنے کے بارے میں دائر کی گئی درخواست کو مسترد کردیا ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اس درخواست کو رد کرتے ہوئے کہا کہ جب پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں تمام ارکان پارلیمنٹ نے وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے انڈین پائلٹ کو واپس بھیجنے سے متعلق اعلان پر اعتراض نہیں کیا تو پھر منتخب ارکان کی حب الوطنی پر کیسے شک کیا جاسکتا ہے۔

    درخواست گزار کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے انڈین پائلٹ کو اس کے وطن واپس بھیجنے کا اعلان اپنی تقریر ختم کرنے کے بعد کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ عمران خان اپنی تقریر کرنے کے بعد اپنی نشست پر بیٹھ چکے تھے اور پھر اچانک اُنھوں نے کھڑے ہوکر بھارتی پائلٹ کو واپس بھیجنے کا اعلان کردیا۔ اُنھوں نے کہا کہ عوامی جذبات وزیر اعظم کے اس فیصلے کے ساتھ نہیں ہیں۔

    بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وزیر اعظم نے کس وقت اس بات کا اعلان کیا لیکن سب سے اہم معاملہ یہ ہے کہ وزیر اعظم کے اس اعلان کے بعد کسی بھی منتخب نمائندے نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔

    درخواست گزار کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کے انڈین پائلٹ کو ان کے ملک واپس بھیجنے کا اعلان پارلیمنٹ کے ارکان کو اعتماد میں لیے بغیر کیا جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ ایک پالیسی کا معاملہ ہے اور ہمیں پارلیمنٹ کا احترام کرنا چاہیے۔

  19. بریکنگپاکستان کی فضائی حدود جزوی طور پر کھولنے کا اعلان

    طاہر عمران، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    View more on twitter

    پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پاکستان کی فضائی حدود کی بندش جزوی طور پر ختم کرنے فیصلہ کیا ہے۔

    اس بارے میں ایک نیا نوٹیم جاری کیا جا رہا ہے جس میں اس کی تفصیلات بیان کی جائیں گی۔ ابتدا میں اسلام آباد، پشاور، کراچی اور کوئٹہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کھولے جائیں گے جہاں پروازیں اتر اور روانہ ہو سکیں گی۔

    اس کے بعد مزید ہوائی اڈے کھولنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ لاہور کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ بند رہے گا۔

    پروازوں کی آمد و رفت شام چھ بجے شروع ہوگی۔

    تاہم وہ تمام بین الاقوامی ایئرلائنز جو پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرتی ہیں انھیں 4 مارچ تک فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے اور پاکستان کی مشرقی سرحد کے قریب فضائی حدود اب بھی بند ہے۔

    کراچی سے اسلام آباد اور پشاور جانے والی پروازوں کو کراچی سے ناب شاہ کا راستہ اپنانے کی بجائے اب پنجگور، تربت اور بلوچستان کے اوپر سے گزر کر ہنگو اور آگے اسلام آباد یا پشاور جانا ہو گا۔

  20. زرداری: ’شاہ محمود قریشی کو او آئی سی اجلاس میں جانا چاہیے تھا‘

    زرداری

    پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر آصف علی زرداری نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو یکم مارچ سے 2 مارچ تک ابو ظہبی میں ہونے والی او آئی سی کانفرنس میں شرکت کرنی چاہیے تھی۔

    انھوں نے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے او آئی سی میٹنگ کو بائیکاٹ کرنے کے فیصلے پر اپنا ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’کل میں نے پارٹی کو ہدایات بھیجی تھیں کہ او آئی سی سے دستبردار نہیں ہونا چاہیے۔‘

    انھوں نے کہا کہ انڈیا خطے میں قومی اور بین الاقوامی سُپر پاور بننا چاہ رہا ہے اور اپنا وجود بنانا چاہ رہا ہے۔

    کانفرنس میں شرکت کرنے والے ممالک کے بارے میں انھوں نے کہا کہ یہ ممالک ہمارے پرانے دوست ہیں اور انڈیا کے پرانے دوست نہیں ہیں۔

    ’یہ ممالک ہماری دھرتی پر آتے ہیں، ہمارے پاس آتے ہیں کیونکہ ہمارے ان سے مزہبی مراسم ہیں، ہم سے اُن کے تاریخی مراسم ہیں۔‘

    آصف علی زرداری کا کہنا تھا ’ہاؤس کا یہ فیصلہ ہے اور میرا سرِ خم ہے بالکل میں جمہوری آدمی ہوں اور جمہوریت پہ یقین رکھتا ہوں اور اگر ہاؤس کی یہ منشا ہے کہ وزیر خارجہ نہ جائیں اور حکومت نہ جائے تو میں اس بارے میں زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا۔‘

    انھوں نے کہا ’میری پوزیشن یہ ہے کہ پاکستان کی حکومت کو حصہ لینا چاہیے، حصہ نہ لینا کوئی حل نہیں ہے۔ نہ حصہ لینے سے انڈیا ہمیں نکال باہر کرے گا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ مودی کا ’ایڈونچریزم‘ الیکشن تک تھا اور یہ اللہ کا کرم ہے کہ وہ بیک فائر ہو گیا۔