Got a TV Licence?

You need one to watch live TV on any channel or device, and BBC programmes on iPlayer. It’s the law.

Find out more
I don’t have a TV Licence.

لائیو رپورٹنگ

پیشکش: عماد خالق, حسن بلال زیدی اور کومل فاروق

time_stated_uk

  1. ٹرین کے مسافر سامان میں کیا نہیں لے جاسکتے؟

    ٹرین سامان

    پاکستان ریلوے نے جمعرات کو حادثے کے بعد ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ٹرین میں گیس سلنڈر لے جانا منع ہے۔

    تاہم ادارے کی ویب سائٹ پر صاف طور پر مسافروں کو آگاہ کیا گیا ہے کہ کون سی چیز ٹرین میں سفر کے دوران لے جانا منع ہے۔

    ان میں درج ذیل چیزیں ٹرین میں لے جانا منع ہے:

    • دھماکہ خیز یا خطرناک مواد
    • جانوروں کی کھال جن کی پیکنگ درست نہ ہو۔
    • سامان میں حد سے زیادہ کوئی چیز جس کے اضافے پیسے درکار ہوں
    • تیل، گھی، گریس یا پینٹ جو اپنی پیکنگ کی وجہ سے لیک کر سکتا ہو
  2. ریسکیو عملہ: ’ہمیں پتہ نہیں تھا بوگیوں میں کتنے افراد ہیں‘

    ریسکیو کارروائیاں

    رحیم یار خان کے ریسکیو 1122 کے میڈیا کورڈینیٹر عدنان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’حادثے کے وقت ریسکیو کارروائیوں میں سب سے بڑی مشکل یہ تھی کے ہمیں پتہ نہیں تھا کہ بوگیوں کے اندر کتنے افراد موجود ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ جب ریسکیو کارروائیوں کا آغاز کیا گیا اس وقت ٹرین کے اندر کا درجہ حرارت بہت زیادہ تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ٹرین کی آگ بجھانے کے عمل میں ایک گھنٹے کا وقت لگا جبکہ کولنگ کا عمل 30 منٹ میں مکمل کر لیا گیا۔

  3. وزیر اعلی عثمان بزدار کا رحیم یار خان میں بھی برن یونٹ بنانے کا اعلان

    عثمان

    رحیم یار خان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں اعلان کیا ہے کہ رحیم یار خان میں بھی ایک برن یونٹ کھولا جائے گا۔

  4. رحیم یار خان ٹرین حادثہ: ’ہر آدمی موت کو دیکھ چکا تھا‘

    Video content

    Video caption: رحیم یار خان ٹرین حادثہ: ’ہر آدمی اپنے طور پر موت کو دیکھ چکا تھا‘

    رحیم یار خان ٹرین حادثہ کے عینی شاہدین کے مطابق آگ لگنے کے بعد ہر طرف افراتفری کا عالم تھا، کچھ لوگوں نے گاڑی کی زنجیر کھینچ کر اور باہر نکل کر بہت مشکل سے اپنی جان بچائی۔

    عینی شاہدین نے مزید کیا کہا، جاننے کے لیے دیکھیے یہ ویڈیو۔

  5. میرے دور میں سب سے کم ٹرین حادثے ہوئے: شیخ رشید

    وفاقی وزیر ریلوے نے ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعوی کیا کہ ان کے دور میں سب سے کم ٹرین حادثات ہوئے ہیں۔

  6. شیخ رشید: سانحہ تیز گام کی انکوائری جلد ہوگی

    وفاقی وزیر ریلوے نے ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سانحہ تیزگام ایکسپریس کی انکوائری ہوگی جس کے رپورٹ 15 دن میں ملے گی اور جو بھی ذمے دار ہو گا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ تیزگام ایکسپریس زنجیر کھینچنے کی وجہ سے رکی ورنہ پوری ٹرین جل جاتی۔

  7. بریکنگوفاقی وزیر ریلوے کی ملتان میں پریس کانفرنس

    وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ٹرین حادثے میں 74 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

  8. حادثہ کہاں پیش آیا؟

    نقشہ

    اطلاعات کے مطابق تیزگام ایکسپریس میں آتشزدگی کا واقعہ رحیم یار خان کے قریب لیاقت پور تحصیل کے علاقے چنی گوٹھ میں پیش آیا۔

  9. سوشل میڈیا صارفین کی حکومت پر تنقید

    View more on twitter

    صحافی ضرار کھوڑو نے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کی جانب سے ٹرین حادثے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے مسافروں کو امدادی معاوضے کے اعلان کے بعد تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ ’بنیادی سکیورٹی اقدامات اٹھانے کے لیے یہاں پیسے نہیں ہیں لیکن ہلاک ہونے والوں کو ’امدادی معاوضہ‘ دینے کے لیے بہت پیسے ہیں۔

  10. پاکستان میں اتنے ٹرین حادثات کیوں پیش آتے ہیں؟

    ٹرین حادثات

    بی بی سی کے نامہ نگار دانش حسین نے اپنی جولائی 2019 کی رپورٹ میں بتایا تھا کہ ٹرین حادثات کی بڑی وجوہات میں ٹرینوں کا پٹڑی سے اتر جانا یا ٹرینوں کے درمیان تصادم شامل ہے۔

    سیکریٹری ریلوے سکندر سلطان راجہ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ پاکستان میں ٹرین حادثات کی تین بڑی وجوہات میں سرِفہرست ریلوے ٹریک سے متعلقہ مسائل ہیں جبکہ رولنگ سٹاک (ریل کے انجن اور بوگیاں) اور ریلوے سگنل کا نظام بھی حادثات کی وجہ بنتا ہے۔

    ان کے علاوہ ہیومن ریسوس یا افرادی قوت کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

  11. رائیونڈ کا تبلیغی اجتماع کیا ہے؟

    شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام

    تبلیغی اجتماع

    لاہور کے علاقے رائیونڈ میں تبلیغی اجتماع قیام پاکستان سے پہلے سے منعقد ہورہا ہے اور اس کی بنیاد مولانا محمد الیاس نے سنہ 1926 میں رکھی تھی۔

    مولانا محمد الیاس مسلمانوں کے دیوبند مسلک سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ مذہبی اجتماع ہر سال اکتوبر کے آخری ہفتے میں شروع ہوتا ہے اور 6 دن تک جاری رہتا ہے۔

    اس اجتماع میں شرکت کرنے والے محمد اشفاق خان کے مطابق چونکہ اس اجتماع میں پورے ملک سے لوگ شرکت کرتے ہیں اور جگہ بھی کم ہے، اس لیے اجتماع کی انتظامیہ نے دو دو صوبوں کو دو مختلف گروپوں میں تقسیم کیا ہوا ہے۔

  12. وزیر اعظم عمران خان کا تیز گام ایکسپریس ٹرین حادثے پر اظہار افسوس

    View more on twitter

    وزیر اعظم عمران خان نے تیز گام ٹرین حادثے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’تیزگام کو پیش آنے والے المناک حادثے پر دل نہایت رنجیدہ ہے۔‘انھوں نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے حادثے کی فوری تحقیقات ہنگامی بنیادوں پر مکمل کرنے کے احکامات بھی کیے۔

  13. تبلیغی اجتماع کے حوالے سے نئے احکامات

    پاکستان ریلوے کی جانب سے تبلیغی اجتماع میں شامل ہونے والے افراد کے لیے نئے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں:

    • نوٹیفکیشن کے مطابق رائیونڈ لاہور ریلوے اسٹیشن پر ہر مسافر سفر کے دوران اصل شناختی کارڈ پاس رکھے گا اور فوٹو کاپی جمع کروانے کا پابند ہوگا۔
    • ریلوے پولیس ہر مسافر کو جامہ تلاشی لینے کے بعد داخلے کی اجازت دے گی۔
    • کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو ریل گاڑی میں سوار ہونے نہیں دیا جائے گا۔
    احکامات
  14. پاکستان میں پیش آنے والے حالیہ ٹرین حادثے

    ٹرین حادثات

    جولائی 2019: رحیم یار خان کے قریب کوئٹہ جانے والی اکبر ایکسپریس ایک مال گاڑی سے ٹکرائی جس کے نتیجے میں 20 سے زیادہ مسافر ہلاک ہوئے تھے۔

    اکتوبر 2016: پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر مچھ کے قریب ریلوے ٹریک پر ہونے والے دھماکوں میں چھ افراد ہلاک اور 21 زخمی ہوگئے تھے۔

    نومبر 2015: پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع بولان میں ریل گاڑی کے حادثے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔ کوئٹہ میں ریلوے کنٹرول کے مطابق یہ حادثہ کوئٹہ سے راولپنڈی جانے والی جعفر ایکسپریس کو پیش آیا تھا۔

    جولائی 2015: پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر وزیرِ آباد کے قریب فوجیوں کو لے جانے والی خصوصی ٹرین کی چار بوگیاں نہر میں گرنے سے 18 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

  15. رواں برس رحیم یار خان میں ٹرین حادثات

    صادق آباد کے قریب کوئٹہ جانے والی اکبر ایکسپریس کو پیش آئے حادثے میں اب تک 20 سے زائد افراد ہلاک جبکہ 60 سے زائد زخمی ہوئے ہیں

    یہ رواں برس رحیم یار خان کی حدود میں کسی ریل گاڑی کو پیش آنے والا دوسرا بڑا حادثہ ہے۔

    اس سے قبل جولائی میں رحیم یار خان کے قریب ہی کوئٹہ جانے والی اکبر ایکسپریس ایک مال گاڑی سے ٹکرائی تھی اور اس حادثے میں 20 سے زیادہ مسافر ہلاک جبکہ 60 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

  16. وزیر ریلوے شیخ رشید شیخ زید ہسپتال رحیم یار خان پہنچ گئے

    وفاقی وزیر ریلوے کی تیز گام ٹرین حادثے کے زخمیوں کی عیادت

    وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے شیخ زید ہسپتال رحیم یار خان میں زخمیوں کی عیادت کرتے ہوئے امدادی معاوضے کا کا اعلان بھی کیا۔ شیخ رشید احمد نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات بھی جاری کیں۔ وزیر ریلوے سی ایم ایچ ملتان کا دورہ بھی کریں گے۔

    وزیر ریلوے کی مریضوں کی عیادت
  17. ’بھائی کا فون آیا کہ ٹرین میں آگ لگ گئی‘

    حادثے میں متاثرہ شخص محمد عمران

    میرپور خاص سے تعلق رکھنے والے ایک 32 سالہ شخص محمد عمران بھی حادثے میں متاثر ہوئے ہیں۔

    ان کے بھائی حاجی محمد عارف نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس وقت میرپور خاص سے سکھر پہنچ چکے ہیں۔وہ کہتے ہیں ’مجھے صبح چھ بج کر 40 منٹ پر بھائی عمران کا فون آیا۔

    اس نے بتایا کہ جب ٹرین میں آگ لگی تو میں کود گیا۔ وہ بتا رہا تھا کہ میں بہت زیادہ زخمی ہوں، بہت ہی زیادہ زخمی ہوں۔ ‘

  18. آگ کیسے شروع ہوئی؟

    ریسکیو

    آتشزدگی کا شکار ہونے والی تیزگام ایکسپریس ٹرین کے ایک مسافر عرفان، جو اس حادثے کے عینی شاہد ہیں، نے بتایا ’کچھ علم نہیں کہ کیا ہوا بس شروع میں ٹرین کی بوگی میں ایک دم دھواں بھرگیا اور 10 منٹ تک دھواں ہی رہا جس کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔ دھواں بھرنے کی اتنی شدت تھی کہ کچھ سمجھ نہیں آیا۔ ہم نے اپنی جان بچانے کے لیے ٹرین کو رکوایا اور کھڑکی توڑ کر باہر نکلنے کی کوشش کی۔ بوگی میں مسافر حیدرآباد سے سوار ہوئے تھے اور لاہور کے نواحی قصبے رائیونڈ میں تبلیغی اجتماع میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔‘

  19. لواحقین کہاں رابطہ کرسکتے ہیں؟

    پاکستان ریلوے

    پاکستان ریلوے نے زخمی اور ہلاک ہونے والے مسافروں سے متعلق معلومات کے حصول کے لیے خصوصی ہیلپ لائن قائم کردی ہے۔ ریلوے ترجمان کے مطابق لواحقین ان نمبروں پر فون کر کے معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔

  20. ہلاک ہونے والوں کی شناخت میں تاخیر

    اپنے ویڈیو پیغام میں شیخ رشید کا کہنا تھا ’ٹرین کی دو بوگیاں تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے امیر حسین کے نام پر بک کی گئیں تھیں۔ ان میں سے دو بوگیاں اکانومی جبکہ ایک بزنس کلاس کی تھی۔‘

    مسافروں کی مکمل تفصیلات نہ ہونے کی وجہ سے حکام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا مسافروں کا تعلق صوبہ سندھ کے علاقوں محراب پور، نوابشاہ اور حیدرآباد سے ہے۔