Got a TV Licence?

You need one to watch live TV on any channel or device, and BBC programmes on iPlayer. It’s the law.

Find out more
I don’t have a TV Licence.

لائیو رپورٹنگ

پیشکش: عابد حسین, بلال کریم مغل اور حسن بلال زیدی

time_stated_uk

  1. بریکنگبی بی سی اردو کی بجٹ پر زوم نشست کا اختتام

    بجٹ سے متعلق بی بی سی اردو کی زوم لائیو نشست ختم ہو چکی ہے۔ ہم نے کوشش کی کہ اس گفتگو میں آپ کے سوالات کا جواب دیا جائے۔

    آپ یہ گفتگو ہمارے یوٹیوب چینل پر دیکھ سکتے ہیں جہاں یہ آپ کے لیے دستیاب رہے گی۔ اس کے علاوہ آپ اسے ہمارے فیس بک پیج پر بھی دیکھ سکتے ہیں۔

    View more on youtube
    View more on facebook
  2. پاکستانی نظامِ صحت میں کورونا سے نمٹنے کے لیے کتنے وسائل موجود ہیں؟

    بجٹ

    پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد دو ہفتے قبل 9000 کے قریب تھی اور اب 30000 سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ یکم اپریل سے کووڈ 19 سے متاثر ہونے والوں کی تعداد میں روزانہ کی بنیاد پر تقریباً ایک ہزار نئے مریضوں کا اضافہ ہو رہا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ 'اگر حفاظتی تدابیر نہ اختیار کی گئیں تو جولائی کے وسط تک پاکستان میں کورونا کے مریضوں کی تعداد دو لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے۔' اس کے بعد ان میں اضافہ ہو گا یا کمی واقعہ ہو گی وہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوں گے۔

    ڈاکٹروں اور طبی ماہرین کو ڈر ہے کہ اگر ایسا ہوا تو ملک میں صحت کا نظام اس بوجھ کو برداشت نہیں کر پائے گا کیونکہ پاکستان میں تمام تر سرکاری ہسپتالوں کو ملا کر بھی تو مریضوں کی اتنی گنجائش نہیں۔

    کورونا کے تمام متاثرین کو ہسپتال جانے کی ضرورت نہیں ہو گی لیکن اگر ان میں سے نصف یا ایک چوتھائی افراد بھی ہسپتال آ گئے تو کیا ان کے لیے وہاں جگہ ہوگی بھی یا نہیں؟

    اس حوالے سے مزید ہماری اس تفصیلی رپورٹ میں پڑھیے۔

  3. بلوچستان کو بجٹ میں کم حصہ کیوں ملتا ہے؟

    bal

    شاہ بخش شاہ نے سوال کیا ہے کہ بلوچستان کو سالانہ بجٹ میں سب سے کم حصہ کیوں ملتا ہے جبکہ وہاں پر غُربت بہت زیادہ ہے؟

    شجاع ملک کہتے ہیں کہ بلوچستان کو این ایف سی ایوارڈ میں حصہ آبادی کم ہونے کی وجہ سے کم ملتا ہے لیکن انھیں ایک فیصد حصہ اضافی دیا جاتا ہے جیسا کہ خیبر پختونخوا کو دہشتگردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے دیا جاتا تھا۔

  4. اس بجٹ میں تعمیراتی شعبے کے لیے کیا مراعات دی گئی ہیں؟

    pak

    عبداللہ گُل نے پوچھا ہے کہ کیا تعمیراتی سامان سستا ہوگا، مہنگا ہوگا، یا اس کی قیمت مستحکم رہے گی؟

    وفاقی بجٹ میں سیمنٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں فی کلو 25 پیسے کمی کی گئی ہے جس سے 15 روپے سیمنٹ کی بوری پر کم ہوں گے۔ اس کے علاوہ مختلف صنعتوں کے 40 خام مال پر کسٹم ڈیوٹی کم کی گئی ہے۔

    اسی طرح سٹیل اور لوہے کی صنعت کی جانب سے مختلف سامان کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں تخفیف کی گئی ہے۔ سابقہ فاٹا میں نئی صنعتوں کیلئے درآمدات پر 2023ء تک کسٹمز ڈیوٹی سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔

    سینیٹری کے سامان میں استعمال ہونے والے خام مال پر ڈیوٹی میں چھوٹ دی گئی ہے۔

    ہمارے ساتھی آصف فاروقی کے مطابق تعمیراتی شعبے سے 40 کے قریب صنعتیں منسلک ہیں جو کہ لاکھوں لوگوں کو روزگار فراہم کرتا ہے، چنانچہ حکومت کی اس جانب توجہ رہتی ہے۔

    شجاع ملک کہتے ہیں کہ تعمیراتی شعبہ پاکستان کا تجارتی خسارہ کم نہیں کر سکتا کیونکہ پاکستان گھر برآمد کر کے ڈالر نہیں کما سکتا۔

  5. کیا منفی جی ڈی پی والا بجٹ عوام کے لیے آئندہ سال مزید مشکلات کا باعث بنے گا؟

    epa

    سید موسیٰ کلیم پوچھ رہے ہیں کہ کیا پاکستان کا پہلی بار منفی جی ڈی پی والا بجٹ عوام کے لیے آئندہ سال مزید مشکلات کا باعث بنے گا؟ جبکہ محمد رحمان کا سوال ہے کہ ایسی صورت میں حکومت بیرونی قرضے کیسے واپس کرے گی؟ علی رضا خان جاننا چاہتے ہیں کہ کیا یہ بجٹ آئی ایم ایف کی ایما پر بنایا گیا ہے؟

    لاک ڈاؤن کی وجہ سے جب ملک کی معاشی سرگرمیاں رک گئیں تو اس کا براہ راست اثر ان تینوں شعبوں میں کام کرنے والے افراد اور اداروں پر ہوا جس کا نتیجہ ملک کی مجموعی قومی پیداوار کے منفی ہونے کی صورت میں بر آمد ہوا۔ پاکستان کی نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے مطابق موجودہ مالی سال میں مجموعی قومی پیداوار کی شرح منفی 0.38 فیصد رے گی۔

    70 سال میں یہ پہلا موقع ہے جب ملک کی مجموعی قومی پیداوار منفی رہے گی۔ آخری بار قیامِ پاکستان کے چند سالوں بعد مالی سال 1951-52 میں ملک کی مجموعی قومی پیداوار کی شرح منفی ایک فیصد رہی تھی۔

    آصف فاروقی کہتے ہیں کہ حکومت کو اگلے چند مہینوں میں تین ہزار ارب روپے کا قرضہ واپس کرنا ہے جبکہ ستمبر میں حکومت کو آئی ایم ایف سے ایک مرتبہ پھر گفتگو کرنی ہے جس کی وجہ سے بیرونی قرضوں کا معاملہ حکومت کے لیے مشکل ہو رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ حکومت نے اپنے انتظامی اخراجات کم کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اس کے باوجود خسارہ ہے جس کی وجہ لوگوں کا ٹیکس نہ دینا ہے۔

    ہماری ساتھی سارہ عتیق آئی ایم ایف کے معاملے پر کہتی ہیں کہ حفیظ شیخ نے آج اپنی پریس کانفرنس میں اس تاثر کو رد نہیں کیا کہ یہ بجٹ آئی ایم ایف کی ایما پر بنایا گیا ہے لیکن حفیظ شیخ کا یہ بھی کہنا تھا کہ آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ ہم اپنی آمدنی کے حساب سے ہی اخراجات کریں۔

  6. پاکستان میں مقامی طور پر تیار شدہ سگریٹوں کی قیمت بجٹ کے بعد کیا ہوگی؟

    afp

    سوائی لال جاننا چاہتے ہیں کہ مقامی طور پر تیار شدہ سگریٹوں کا ریٹ کم ہوا ہے یا بڑھا ہے؟

    ہمارے ساتھی شجاع ملک کے مطابق درآمدی سگریٹوں کی قیمت میں اضافہ ہوگا جبکہ مقامی طور پر تیار سگریٹوں کی قیمت وہی رہے گی۔

  7. آئندہ مالی سال کے بجٹ میں زراعت کو کتنی توجہ ملی ہے؟

    pak

    نفی شرحِ نمو کے تناظر میں سوال پوچھا گیا ہے کہ رواں سال صرف زرعی شعبہ ترقی کر سکا، تو موجودہ بجٹ میں زراعت کو کتنی توجہ ملی ہے؟ اسی طرح مدثر علی کا سوال ہے کہ اس بجٹ سے غریب زمیندار کو کیا ریلیف ملے گا؟

    آصف فاروقی کہتے ہیں کہ اس مرتبہ پاکستان کے تمام شعبوں نے بری کارکردگی دکھائی ہے لیکن زراعت کا شعبہ تقریباً اپنے ہدف تک پہنچا ہے۔ ان کے مطابق اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ لاک ڈاؤن سے یہ شعبہ زیادہ متاثر نہیں ہوا ہے۔

    ان کے مطابق کھاد وغیرہ بنانے کے خام مال پر ٹیکس میں چھوٹ دی گئی ہے، زرعی شعبے کے لیے 50 ارب روپے کا پیکج دیا گیا ہے، جبکہ نیشنل ڈزاسٹر ریلیف فنڈ سے یہاں پیسے منتقل کیے جائیں گے تاکہ ٹڈی دل کے حملے سے نمٹا جا سکے۔

    آصف فاروقی کے مطابق یہ کہنا جائز ہے کہ حکومت نے اس جانب توجہ دی ہے۔

    agri
  8. کیا نئے بجٹ میں کسی نئی یونی ورسٹی کے قیام کے لیے رقم مختص کی گئی ہے؟

    pak

    شانی خان لانگاہ کا سوال ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے کتنے فیصد رقم اور اس میں سے نئی یونیورسٹی کے لیے کچھ بجٹ ہوا ہے؟

    سارہ عتیق کے مطابق بلوچستان اور گلگت بلتستان کے علاوہ پاکستان میں کسی بھی مقام پر کسی نئی سڑک کے لیے کوئی پیسے مختص نہیں کیے گئے۔

    ان کے مطابق ترقیاتی بجٹ میں سب سے زیادہ حصہ سی پیک کو دیا گیا ہے جس کے بعد پن بجلی کے منصوبے ہیں۔

    ہماری ساتھی سارہ عتیق یونیورسٹی کے موضوع پر کہتی ہیں کہ ایچ ای سی کے بجٹ میں کمی ہونے کے بعد یہ بھی مشکل نظر آتا ہے کہ کوئی نئی یونیورسٹی قائم کی جائے۔

  9. اس بجٹ میں اوورسیز پاکستانیوں کے لیے کیا آسانیاں پیدا کی گئی ہیں؟

    pak

    موجودہ حکومت نے اوورسیز پاکستانیوں کے بارے میں بہت زیادہ بات کی ہے اور عمران خان خود گاہے بگاہے اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کا تذکرہ کرتے نظر آتے ہیں، اسی تناظر میں صائم علی نے پوچھا ہے کہ اس بجٹ میں اوورسیز پاکستانیوں کے لیے کیا رکھا گیا ہے جبکہ وہ ایک موبائل فون تک ملک نہیں لا سکتے۔

    شجاع ملک کے مطابق اس بجٹ میں ترسیلاتِ زر پر ودہولڈنگ ٹیکس ختم کیا گیا ہے جبکہ ان سے پاکستان میں سرمایہ کاری کروانے کے لیے سٹیٹ بینک ایک نیا انسٹرومنٹ متعارف کروائے گا۔

    ان کے مطابق بجٹ تقریر میں اوورسیز پاکستانیوں کا تذکرہ ہونا یہ بتاتا ہے کہ یہ موضوع پی ٹی آئی حکومت کے لیے کتنا اہم ہے اور یہ آگے بھی جاری رہے گا۔

  10. کیا نان فائلرز کو ہراساں کرنے کا کوئی منصوبہ ہے؟

    فاروق مچرانی جاننا چاہتے ہیں کہ کیا حکومت نے اس بجٹ میں نان فائلرز کو مزید ہراساں کرنے کا کوئی نیا منصوبہ بنایا ہے؟

    آصف فاروقی کے مطابق پاکستان میں زیادہ تر لوگ ٹیکس دیتے ہوئے بھی حکومت کو اپنی ٹیکس کی تفصیلات فراہم نہیں کرتے۔ ان کے مطابق حکومت گذشتہ کئی سالوں سے لوگوں کو ٹیکس دہندہ کے طور پر رجسٹر کروانے کی کوشش میں ہے لیکن لوگ اس پر آمادہ نہیں ہوتے۔

    ان کے مطابق اب حکومت اس عمل کی حوصلہ شکنی کرنے کے لیے سخت اقدامات متعارف کرواتی ہے جیسے کہ گاڑی پر فائلر اور نان فائلر کے لیے رجسٹریشن فیس میں تخصیص شامل ہے۔

    وہ بتاتے ہیں کہ موجودہ بجٹ میں نان فائلر لوگوں کو اپنے بچوں کی سکول فیس پر زیادہ ایڈوانس ٹیکس دینا پڑے گا اور یہ پہلی مرتبہ ہے کہ جس میں سکول فیس وغیرہ کو شامل کیا گیا ہے۔

  11. کیا بیرونِ ملک سے لائے گئے فون پر ابھی بھی ٹیکس نافذ رہے گا؟

    بجٹ

    مہر فاروق، وقار خادم اور دیگر کا سوال ہے کہ بیرون ملک سے آئے موبائل فون پر ٹیکس لاگو رہے گا یا ختم ہو جائے گا؟

    ہماری ساتھی سارہ عتیق کے مطابق اس پر ٹیکس نافذ رہے گا البتہ جو پاکستان میں موبائل فون بنتے ہیں، ان کی تیاری کے لیے درآمد کیے جانے والے سامان پر ڈیوٹی کم کی گئی ہے جس سے ان موبائل فونز کے سستے ہونے کی توقع ہے۔

  12. کیا رکشوں اور موٹرسائیکلوں کی قیمت میں کمی ہوگی؟

    بجٹ

    عثمان علی نے سوال کیا ہے کہ بجٹ میں موٹرسائیکل اور رکشے پر سے ایڈوانس ٹیکس ختم کیے جانے سے کیا ان چیزوں کی قیمت میں کمی واقع ہوگی؟

    شجاع ملک بتاتے ہیں کہ ایڈوانس ٹیکس لگا کر حکومت یہ توقع کرتی ہے کہ ان ٹیکسز کو بعد میں ایڈجسٹ کر لیا جائے گا۔

    کیا ٹیکس واپس ملے گا یا نہیں، اس پر شجاع ملک کہتے ہیں کہ ایڈوانس ٹیکس واپس لینے کے لیے دستاویزات اور دیگر کارروائی میں کافی وقت لگ سکتا ہے جو موٹر سائیکل اور رکشے وغیرہ خریدنے والوں کے لیے مشکل ہوگا۔

    آصف فاروقی کے مطابق یہ ایڈوانس ٹیکس ان گاڑیوں کے بنانے والوں کے لیے ختم کیا گیا ہے جس کے ذریعے لوگوں کو بالآخر ریلیف ملنا چاہیے۔

    ان کے مطابق ایسا بہت سا ریلیف ہے جو ہمارا کاروباری طبقہ حکومت سے لے لیتا ہے لیکن عوام کو واپس نہیں کرتا۔

    شجاع ملک کہتے ہیں کہ روپے کی قدر میں گرواٹ کی وجہ سے پیداواری شعبے کے لیے درآمدات مہنگی ہوئی ہیں۔

  13. تعلیم اور صحت کے لیے کتنا بجٹ رکھا گیا ہے؟

    بجٹ

    ہمارے پاس شاہد اقبال کا سوال ہے جو جاننا چاہتے ہیں کہ تعلیم و صحت کا بجٹ پچھلے سال کی نسبت بڑھا ہے یا کم ہوا ہے اور اگر بڑھا ہے تو کتنے فیصد، اور اسی طرح زیاد بلوچ نے پوچھا ہے کہ کیا اس تعلیمی بجٹ سے پاکستانی طلبا دنیا کا مقابلہ کر سکتے ہیں؟ ملائکہ سعید نے جاننا چاہا ہے کہ اس بجٹ میں طلبہ کے لیے کیا ہے؟

    ہماری ساتھی سارہ عتیق بتاتی ہیں کہ آئین میں اٹھارہویں ترمیم کے بعد صحت اور تعلیم کے شعبے صوبوں کے پاس ہیں لیکن اس کے باوجود ان بجٹس میں اضافہ کیا گیا ہے تاہم ایچ ای سی کے بجٹ میں اضافہ نہیں کیا۔

    وہ کہتی ہیں کہ ایچ ای سی کو اتنا بجٹ نہیں دیا گیا جو ایچ ای سی نے ان سے مطالبہ کیا تھا۔

  14. اعلیٰ تعلیم کے لیے کتنا بجٹ رکھا گیا ہے؟

    بجٹ

    مزمل احمد بھٹو نے پوچھا ہے کہ کیا ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے بجٹ میں اضافہ ہوا ہے یا نہیں۔

    ہماری ساتھی سارہ عتیق کے مطابق ایچ ای سی کے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا ہے۔ ایچ ای سی سے 70 ارب روپے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن اسے حقیقت میں اس سے کم یعنی 64.1 ارب روپے ملے ہیں۔

    پی ایس ڈی پی کے تحت ایچ ای سی کے ترقیاتی بجٹ میں 40 کروڑ روپے کا اضافہ کیا گیا ہے تاہم ایچ ای سی کے مجموعی بجٹ میں اضافہ نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو اس پر مایوسی ہوئی ہے۔

    ان کے مطابق اس سے تحقیق کے شعبے کے لیے فنڈنگ کم ہوجائے گی۔

    انھوں نے کہا کہ اگر سال در سال یہ گرانٹ کم ہوتی جائے تو تحقیق کا شعبہ زوال کا شکار ہوگا۔

  15. دفاعی بجٹ میں کس بنیاد پر اضافہ کیا گیا ہے؟

    بجٹ

    محمد عالم نے سوال پوچھا ہے کہ دفاعی بجٹ میں کس بنیاد پر اضافہ کیا گیا ہے؟ اور کیا تعلیم موجودہ حالات میں دفاع سے زیادہ اہم نہیں ہے؟ یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ اگر معاشی نمو منفی میں جا رہی ہے تو دفاعی بجٹ میں کٹوتی نہیں ہونی چاہیے تھی؟

    دفاعی بجٹ 12 کھرب 89 ارب روپے رکھا گیا ہے جو گذشتہ برس پیش کیے گئے بجٹ سے 11.8 فیصد جبکہ ریوائزڈ بجٹ سے پانچ فیصد زیادہ ہے۔

    ہمارے ساتھی شجاع ملک کے مطابق تعلیم اور صحت کے بجٹ کا موازنہ دفاع سے کرنا مناسب نہیں ہے کیونکہ صحت اور تعلیم ملکی شعبے ہیں جبکہ دفاع کا تعلق علاقائی صورتحال سے ہے۔

    آصف فاروقی کے مطابق دفاع کے بجٹ کے معاملے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اضافہ نہیں ہے بلکہ مہنگائی کی شرح کے حساب سے اضافہ کیا گیا ہے لیکن یہی کلیہ تعلیم اور صحت کے بجٹ پر نافذ نہیں کیا گیا۔

  16. کیا پینشن بھی بڑھائی گئی ہیں؟

    ملک نوید کا سوال ہے کہ کیا پنشن میں اضافہ ہوا ہے؟

    اس سوال پر ہمارے پینلسٹ آصف فاروقی کہتے ہیں کہ پینشن میں اضافہ نہیں ہوا ہے لیکن اس بارے میں بحث ضرور شروع ہوئی ہے کہ کیا پاکستان میں پینشن کا نظام برقرار رکھنا بھی چاہیے یا نہیں کیونکہ یہ ہر سال پاکستانی وسائل کا ایک بڑا حصہ استعمال کر لیتا ہے۔

    بجٹ
  17. ’بڑے لوگوں‘ سے کیسے ٹیکس لیا جائے گا؟

    بجٹ

    ظہیر بلوچ نے ایک بہت ہی اہم سوال پوچھا ہے اور وہ یہ کہ کیا اس بجٹ میں ایسی کوئی پالیسی وضع کی جائے گی جس کے تحت ملازمین کی طرح دیگر طبقے مثلاً کاروباری لوگ، سرمایہ دار، جاگیردار اور وزرا ایمانداری سے ٹیکس ادا کر سکیں گے؟

    ہمارے ساتھی آصف فاروقی کے مطابق پاکستان میں ملازمین کی طرح کاروباری طبقے سے ٹیکس لینا مشکل ہے۔ انھوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنرل مشرف کے دورِ حکومت میں کاروباری طبقہ اپنا کاروبار رجسٹر کروانے پر بھی رضامند نہیں ہوا تھا۔

    کاروباری لین دین پر شناختی کارڈ کی شرط پر شجاع ملک کہتے ہیں کہ حفیظ شیخ نے آج اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ملک کی بحرانی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت معیشت کو دستاویزات میں لانا دور کی بات ہے، حکومت کی توجہ صرف ریلیف فراہم کرنے پر ہے۔

  18. مہنگائی میں کتنا اضافہ ہوا اور عوام کے لیے کیا ریلیف ہے؟

    گہرام آزاد، ماجد علی اور ان جیسے کئی لوگوں نے سوال کیا ہے کہ کہ مہنگائی میں پچھلے سال کی نسبت کتنا اضافہ ہوا، اور اس بجٹ میں غریب عوام کے لیے کیا ریلیف ہے؟

    پاکستان کے اقتصادی سروے کے مطابق گذشتہ سال مہنگائی 10.9 فیصد رہی جبکہ پاکستانی وزیرِ اعظم کے مشیر برائے خزانہ حفیظ شیخ نے پوسٹ بجٹ کانفرنس میں کہا اگلے سال کا ہدف 6.5 فیصد رکھا گیا ہے۔

    گذشتہ سال بجٹ میں احساس پروگرام کے لیے 187 ارب روپے رکھے گئے تھے جسے بڑھا کر 208 ارب روپے کر دیا گیا ہے

    اس مالی بجٹ میں کل پی ایس ڈی پی کا کُل حصہ 1300 ارب روپے ہے جو کہ پاکستان کی مجموعی قومی پیداور کا 2.9 فیصد بنتا ہے۔ صرف بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے دو سو ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

    ہمارے ساتھی شجاع ملک کے مطابق یہ بہت پُرامید بات ہے کہ آپ مہنگائی کی شرح کو تقریباً نصف کی شرح پر لے آئیں۔ لیکن ہمارے ساتھی آصف فاروقی کے مطابق مہنگائی میں کمی کی شرح کا ہدف حاصل کرنا مشکل نہیں ہے کیونکہ کورونا کی وجہ سے اقتصادی سرگرمیاں تھم چکی ہیں۔

    لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر لوگوں کی قوتِ خرید میں اضافہ نہ ہو تو مہنگائی کی شرح میں کمی سے فرق نہیں پڑے گا۔

    بجٹ
  19. تنخواہوں اور اُجرتوں میں کیا اضافہ کیا گیا ہے؟

    بجٹ

    عطا اللہ الیاس، اویس علی اور دیگر نے سوال کیا ہے کہ کیا اس سال کے بجٹ میں مزدوروں کی تنخواہوں اور اُجرتوں میں اضافہ ہوا ہے یا نہیں؟ اور یہ کہ مہنگائی کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہیں کیوں نہیں بڑھیں؟

    اس حوالے سے یہ بات اہم ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ اس مرتبہ نہیں کیا گیا ہے۔

    مزدوروں کے لیے کم سے کم اجرت میں اس سال اضافہ نہیں کیا گیا ہے جو پچھلے سال بڑھا کر پندرہ ہزار کی گئی تھی۔ البتہ کورونا کی صورتحال کے پس منظر میں بیروزگاری کے خطرے سے دوچار ڈیلی ویجرز کے لیے 200 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

    مشیرِ خزانہ حفیظ شیخ نے آج اس حوالے سے کہا کہ کئی لوگوں کی تنخواہیں آ رہی ہیں لیکن ان میں اضافہ نہیں کیا گیا، تاہم لاک ڈاؤن کی وجہ سے زیادہ تر لوگ ایسے ہیں جن کے روزگار ختم ہو گئے ہیں۔

    ہمارے ساتھی آصف فاروقی کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے سے نجی شعبے پر بھی تنخواہوں میں اضافے کے لیے دباؤ پڑتا ہے۔

  20. بی بی سی اردو کی بجٹ پر خصوصی گفتگو میں اپنے سوالات بھجیے

    بی بی سی اردو نے بجٹ کو آپ کے لیے سہل بنانے کی خاطر ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں ہم بجٹ سے متعلق آپ کے سوالات کے جواب دینے کی کوشش کریں گے۔

    آپ ہماری یہ نشریات فیس بک اور یوٹیوب پر دیکھ سکتے ہیں۔

    اگر آپ کے بجٹ کے بارے کوئی سوالات ہوں، تو آپ ہماری درج ذیل فیس بک پوسٹ کے نیچے کمنٹس میں پوچھ سکتے ہیں۔ ہمارے ساتھی کوشش کریں گے کہ ان کا جواب نشریات کے دوران دیا جا سکے۔

    View more on facebook