Got a TV Licence?

You need one to watch live TV on any channel or device, and BBC programmes on iPlayer. It’s the law.

Find out more
I don’t have a TV Licence.

لائیو رپورٹنگ

time_stated_uk

  1. یہ لائیو پیج اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!

    ہ پیج اب مزید اب ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ کورونا وائرس کی عالمی وبا سے متعلق تازہ اطلاعات کے لیے آپ بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج پر آسکتے ہیں جس کے لیے یہاں کلک کریں!

  2. پاکستان میں خواتین کرکٹرزکو ویکسین لگا دی گئی

    CORONA

    پاکستان میں خواتین کھلاڑیوں اور سپورٹ سٹاف کی کوویڈ 19 ویکسینیشن پیر کو لگائی گئی۔

    نامہ نگار رشید شکور کے مطابق ویکسینیشن کا یہ عمل کراچی کے ہائی پرفارمنس سنٹرز میں ہوا اور کھلاڑیوں اور سپورٹ سٹاف کو سنگل ڈوز ویکسینیشن لگائی گئی۔

    اپنے تحریری بیان میں پی سی بی کا کہنا ہے کہ ’این سی او سی کے اشتراک سے ہم نے ویکسینیشن کا دوسرا مرحلہ شروع کیا، پی سی بی پہلے مرحلے میں تینوں طرز کی کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے مرد کرکٹرز اور سپورٹ سٹاف کی ویکسینیشن مکمل کی گئی۔‘

    پی سی بی پی سی بی دنیا کا پہلا بورڈ ہے جس نے سب سے پہلے اپنے کھلاڑیوں اور سپورٹ اسٹاف کی کوویڈ 19 ویکسینیشن کا آغاز کیا تھا۔

    ایچ بی ایل پی ایس ایل 6 میں شریک کھلاڑیوں، میچ آفیشلز، سپورٹ سٹاف اور ایونٹ سٹاف کی ویکسینیشن بھی منگل سے کی جائے گی۔

    CORONA
  3. خیبر پختونخوا میں مزید 20 اموات

    CORONA

    پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں حکام کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 20 افراد کورونا کے باعث ہلاک ہو گئے ہیں۔

    حکام کی جانب سے جاری تازہ ترین اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ مزید 304 چار مصدقہ کیسز کے بعد صوبے بھر میں کورونا کے ایکٹو کیسز کی تعداد 6231 ہو گئی ہے۔

    بتایا گیا ہے کہ 255 مریض صحت یاب ہوئے ہیں اور پیر کو زید 3250 ٹیسٹ کیے گیے۔

  4. پنجاب میں کووڈ-19 ویکسینیشن کارڈ کا اجرا

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی خصوصی ہدایت پر سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر نے کووڈ۔19 ویکسینیشن کارڈ کا اجرا کر دیا ہے۔

    کارڈ کے اجرا سے شہریوں کو اپنی ویکسینیشن کی ڈوز اور اگلی تاریخ کا ریکارڈ پاس رکھنے میں آسانی ہو گی۔

    ویکسینیشن کارڈ پر فرد کا نام، پتہ اور متعلقہ کوائف درج کیے جائیں گے۔

    سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے مطابق شہریوں سے درخواست ہے کہ ویکسینیشن کارڈ پر لکھی گئی تاریخ کے مطابق دوسری ڈوز لگوائیں۔

  5. سندھ میں بڑھتے کیسز، بغیر کسی معقول وجہ کے شب 8 بجے کے بعد گھر سے نہ نکلیں

    sindh

    سندھ حکومت نے کورونا وائرس کی شدت کے پیش نظر مناسب وجوہات کے علاوہ رات 8 بجے کے بعد سے لوگوں کی غیر ضروری نقل و حرکت، پیدل یا گاڑیوں میں سفر کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔

    وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں صوبائی وزرا، ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، سعید غنی ، جام اکرام ، مشیر قانون مرتضیٰ وہاب دیگر حکام اور متعلقہ اداروں کے افسران نے شرکت کی۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ گذشتہ 17 سے 23 مئی کے دوران کورونا وائرس سے ضلع شرقی بری طرح متاثر ہوا جہاں 21 فیصد کیسز اور 19 اموات رپورٹ ہوئیں۔

    بتایا گیا ہے کہ ضلع جنوبی میں 16 فیصد کیسز اور 9 اموات ہوئیں ، وسطی میں 10 فیصد کیسز اور 12 اموات رپورٹ ہوئیں۔ حیدرآباد میں 11 فیصد کیسز اور 22 اموات رپورٹ ہوئیں۔

    ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق کراچی میں کورونا وائرس کی تشخیص کی شرح 12.67 فیصد ، حیدرآباد میں 10.79 فیصد اور صوبے کے دیگر حصوں میں 4.53 فیصد رہی۔

    مئی کے رواں مہینے میں اب تک کورونا وائرس سے 261 مریض اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جو مارچ اور اپریل مہینوں سے کہیں زیادہ ہیں جب بالترتیب 151 اور 154 اموات رپورٹ ہوئیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں سندھ میں 1529 مریض ، پنجاب 802 ، خیبرپختونخواہ 470 ، اسلام آباد 106 ، گلگت بلتستان 18 ، بلوچستان 66 اور آزاد جموں کشمیر میں 69 مریض سامنے آئے ہیں۔ جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ملک میں سب سے زیادہ کورونا کیسز سندھ میں ہیں۔ .

    وزیر اعلیٰ سندھ نے پالیسی فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ منگل سے شام 8 بجے کے بعد لوگوں کو بغیر کسی معقول وجہ کے شہر میں گھومنے پھرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ دکانیں شام 6 بجے بند کی جائیں گی اور پھر دو گھنٹے تک لوگوں کو گھروں کو واپس جانے کا وقت دیا جائے گا۔

    شام 8 بجے کے بعد پولیس غیر ضروری عوامی نقل و حرکت کی حوصلہ شکنی کے لیے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کردے گی۔

    وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ شام 8 بجے ٹہلنے/جاگنگ والے پارکوں کی لائٹس بند کر دیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے وزیر محنت سعید غنی اور وزیر صنعت جام اکرام دھاریجو کو ہدایت کی کہ وہ صنعت کاروں سے یا ان کی انجمنوں سے بات کریں تاکہ وہ اپنے صنعتی علاقوں میں ورکرز کی بڑے پیمانے پر ویکسینیشن شروع کرنے کے لیے حکومت کا ساتھ دیں۔

  6. گھوڑے کی آخری رسومات میں شرکت کرنے والوں کے خلاف تحقیقات

    انڈین ریاست کرناٹکا میں انتظامیہ ایسے سینکڑوں افراد سے متعلق تحقیقات میں مصروف ہے جنھوں نے کورونا وائرس سے متعلق ریاست میں عائد پابندیوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ سینکڑوں کی تعداد میں ان افراد نے ایک گھوڑے کی آخری رسومات میں شرکت کی۔

    اس گھوڑے سے متعلق کہا جا رہا ہے کہ یہ خاص طاقتوں کا حامل تھا اور اسے مقامی ہندو آشرم سے گذشتہ ہفتے ہی آزاد کیا گیا تھا۔

    ایک مقامی مذہبی شخص جنھوں نے اس گھوڑے کی آخری رسومات ادا کرنے میں اہم کرداد ادا کیا، یہ کہہ کر علاقہ مکینوں کو اس تقریب میں شامل ہونے کا کہتے رہے کہ ایسا کرنا اُنھیں کورونا وائرس سے بچا جا سکتا ہے۔

    گھوڑے کی آخری رسومات میں شامل ہونے والے لوگوں سے متعلق منظر عام پر آنے والی ویڈیو میں اُنھیں بنا ماسک کے ایک ہجوم کی صورت میں تقریب میں شامل ہونے کی لیے جاتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    ریاست کرناٹکا میں چند دیگر جنوبی ریاستوں کی طرح لاک ڈاؤن نافز ہے اور عوامی اجتماعات پر بھی پابندی ہے۔

  7. سونگھ کر وائرس کا پتا چلانے والے کتوں کو تربیت کیسے دی جاتی ہے؟

    Corona

    ایک نئے سائنسی تجربے سے معلوم ہوا ہے کہ سونگھ کر بیماری کا پتا چلانے والے کتوں کو ائیرپورٹس یا دیگر بڑے اجتماعات والی جگہ پر کورونا وائرس متاثرین کا پتا چلانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    ان کتوں کی ایسی تربیت دی گئی ہے کہ وہ اس وائرس کی خاص بو کو سونگھ کر پتا چلا سکتے ہیں کہ کون اس سے متاثر ہے۔ انسان کے لیے اس طرح سونگھ کر اندازہ لگانا ممکن نہیں ہے کیونکہ انسانی ناک سے اس کا پتا نہیں چلایا جا سکتا ہے۔

    ان کتوں کو تربیت دینے والے خیراتی ادارے کے ڈاکٹر کلائیر گیسٹ کا کہنا ہے کہ ان کتوں کو ان لوگوں کی پہنی ہوئی جرابیں دی جاتی ہیں جو کورونا وائرس متاثر ہوئے ہوں۔ ایسا اس وجہ سے کیا جاتا ہے تا کہ یہ اس بو کی پہچان کر سکیں۔

    اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کس انسان پر اس وائرس کی کتنی علامات ظاہر ہوئی ہیں کیونکہ یہ کتے اس بات کا پتا چلا لیتے ہیں کہ کون اس وائرس سے کتنا متاثر ہے۔

    ڈاکٹر کلائیر کہتی ہیں کہ یہ کتے ائیرپورٹس جیسی جگہوں پر بہت جلد وائرس سے متاثرہ لوگوں کا پتا چلا سکتے ہیں۔ ٹیسٹ کی زریعے متاثرین کا پتا چلانے کے لیے خاصا وقت درکار ہوتا ہے۔

    وہ کہتی ہیں کہ ایسے دو کتے آدھے گھنٹے میں با آسانی 30 متاثرین کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ جن اشخاص کی یہ کتے نشاندہی کریں گے اس کے بعد صرف ایسے افراد کا ہی ٹیسٹ کیا جائے گا۔

    لندن سکول کے پروفیسر جیمز لوگن کے مطابق ان سونگھ کر متاثرین کا پتا چلانے والے کتوں کے صیحح نتائج بہت حیرت انگیز ہیں۔

  8. 2020 میں بیرون ملک سے برطانیہ آنے والوں کی تعداد میں 73 فیصد کمی

    برطانیہ

    برطانیہ کے اعدادوشمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ سال 2020 میں بیرون ملک سے آنے والے سیاحوں کی تعداد میں 73 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

    گذشتہ برس صرف 11.1 ملین سیاحوں نے برطانیہ کا رخ کیا۔ یہ تعداد سال 2019 کے مقابلے میں 73 فیصد کم بنتی ہے۔

    سال 2020 میں غیر ملکیوں نے کل 6.2 بلین پاؤنڈز خرچ کیے جو سال 2019 کے مقابلے میں 78 فیصد کم رقم بنتی ہے۔

    کورونا وائرس کی وجہ سے برطانیہ سے بھی اتنی ہی کم تعداد میں شہریوں نے دوسرے ممالک کا رخ کیا۔

    گذشتہ برس 23.8 ملین برطانوی شہریوں نے بیرون ملک سفر کیا جو سال 2019 کے مقابلے میں 74 فیصد کم تعداد بنتی ہے۔

    برطانوی شہریوں نے بیرون ملک 13.8 بلین خرچ کیے جو کہ 2019 کے مقابلے میں 78 فیصد کم رقم بنتی ہے۔

  9. ’ایک منٹ میں نتائج بتانے والا کووڈ ٹیسٹ‘

    سنگاپور میں بریتھلائزر ٹیسٹ کی عارضی منظوری

    سنگاپور، کووڈ

    روئٹرز کے مطابق سنگار پور میں حکام نے ابتدائی طور پر کووڈ کے ایک ایسے ٹیسٹ کی عارضی منظوری دی ہے جس سے ایک منٹ کے اندر اندر نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

    یہ بریتھلائزر یعنی ایک ایسا آلہ ہے جس سے سانس کے ذریعے کووڈ کے وائرس کی موجودگی کا پتا لگایا جاسکتا ہے۔

    اسے ایک مقامی سٹارٹ اپ کمپنی نے بنایا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ سنگاپور میں طبی آزمائش کے دوران بریتھونکس نامی اس ڈیوائس نے 90 فیصد سے زیادہ درست نتائج دیے ہیں۔

    تاہم اس ٹیسٹ کے نتائج کا موازنہ کووڈ کے موجودہ ریپڈ ٹیسٹ کے ساتھ کیا جائے گا۔

  10. جاپان میں کورونا کی نئی لہر، ویکسینیشن مہم تیز کر دی گئی

    جاپان میں کورونا کی نئی لہر، ویکسینیشن مہم تیز کر دی گئی

    جاپان نے اپنے شہروں ٹوکیو اور اوساکا میں بڑِے پیمانے پر ویکسینیشن مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ یہاں کووڈ کے نئے متاثرین سے صورتحال خراب ہوئی ہے۔

    فوج نے کئی مراکز قائم کیے ہیں جہاں ہزاروں لوگوں کو روزانہ ویکسین دی جا رہی ہے جبکہ معمر افراد کو ترجیحی بنیادوں پر ویکسین دے کر وائرس سے محفوظ کیا جا رہا ہے۔

    جاپان کی قریب پانچ فیصد آبادی کو مکمل طور پر ویکسین دی جاچکی ہے۔ حال ہی میں ملک میں نئے متاثرین سے موثر سمجھے جانے والے صحت کے نظام پر بوجھ پڑا ہے۔ جاپان کے بعض ہسپتالوں میں بیڈز اور وینٹیلیٹرز کی قلت کا سامنا کیا گیا ہے۔

    ان حالات میں لوگوں کی طرف سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ جولائی میں ہونے والے ٹوکیو اولمپکس کو موخر کیا جائے۔

    جاپان میں اکثر علاقوں میں عالمی وبا سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔ اس سے مقامی حکام وبا کو روکنے کے لیے اقدامات کر سکتے ہیں۔

    ملک میں وائرس سے سات لاکھ سے زیادہ متاثرین اور 12 ہزار اموات ہوئی ہیں۔

  11. پاکستان میں کووڈ سے مزید 57 اموات

    View more on twitter

    پاکستان میں 24 مئی کو جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 58670 ٹیسٹ کیے گئے جبکہ 3060 افراد میں کووڈ کی تشخیص ہوئی ہے۔

    ملک میں مثبت کیسز کی شرح 5.21 فیصد بتائی گئی ہے۔

    اسی دوران کورونا سے مزید 57 اموات ہوئی ہیں۔

  12. انڈیا میں کووڈ سے اموات کی کل تعداد تین لاکھ سے تجاوز کر گئی

    انڈیا میں کووڈ سے اموات کی کل تعداد تین لاکھ سے تجاوز کر گئی

    انڈیا میں کووڈ سے ہونے والی اموات کی مجموعی تعداد تین لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے اور ملک میں عالمی وبا کے متاثرین مسلسل بڑھ رہے ہیں۔

    ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ اموات کی اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔ انڈیا میں تاحال کل دو کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ متاثرین کی تصدیق کی گئی ہے۔

    عالمی وبا سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں امریکہ کے بعد یہ دوسرے نمبر پر ہے۔ امریکہ اور برازیل کے بعد کووڈ سے سب سے زیادہ اموات انڈیا میں ہوئی ہیں۔

    انڈیا میں اخری ایک لاکھ اموات کو ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں ریکارڈ کیا گیا ہے جو کہ تشویشناک ہے۔

    عالمی وبا کی دوسری لہر نے ملک کے صحت کے نظام کو مفلوج کر دیا ہے۔ ہسپتالوں میں آکسیجن کی قلت، بستر اور ادویات کی کمی جیسے مسائل کا سامنا کیا گیا ہے۔

    اسی دوران کووڈ سے جڑے بلیک فنگس انفیکشن کے کیسز مسلسل بڑھ رہے ہیں۔

  13. پاکستان نے چین سے مزید 20 لاکھ ویکسین کی خوراکیں حاصل کر لیں

    پاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے والے ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول اتھارٹی (این سی او سی) کے مطابق پاکستان نے وائرس سے بچاؤ کے لیے مزید دو ملین ویکسین کی خوراکیں حاصل کر لی ہیں۔

    View more on twitter

    پاکستان نے یہ ویکسین چین سے حاصل کی ہے۔

    پی آئی اے کے طیارے کے زریعے سائنو ویک کی دو ملین خوراکیں لائی گئی ہیں۔ این سی او سی کے مطابق یہ ویکسین پہنچنے کے بعد پاکستان نے چین سے کل 11 ملین خوراکیں حاصل کر لی ہیں۔

  14. امریکی دوا ساز کمپنی ماڈرنا نے انڈین پنجاب کو ویکسین فروخت کرنے سے انکار کر دیا

    Corona

    امریکہ کی دوائیاں بنانے والی کمپنی ماڈرنا نے انڈیا کی ریاست پنجاب کی ویکسین کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ کوئی بھی ڈیل براہ راست انڈیا کی مرکزی حکومت سے کرے گی۔

    حکام کے مطابق پنجاب حکومت نے تمام ویکسین بنانے والی کمپنیوں سے براہ راست رابطہ کیا۔

    صوبائی حکومت کے ایک اہلکار وکاس گارگ کے مطابق وہ اس بات کے امکانات تلاش کر رہے ہیں کہ وہ کسی طریقے سے براہ راست ویکسین خرید سکیں۔ وہ سپوتنک فائیو، فائزر اور جانس اینڈ جانسن کی خریداری کی بھی کوشش کریں گے۔

    کورونا

    واضح رہے کہ پنجاب کی حکومت نے ویکسین کی قلت کی وجہ سے ویکسینیشن کا عمل بند کر دیا ہے۔

    اس سے قبل حکمراں جماعت بی جے پی کے ایک رکن اسمبلی نے ٹویٹ کرتے ہوئے ریاستوں سے کہا تھا کہ وہ براہ راست کمپنیوں سے ویکسین خرید لیں اور اس کا بل پھر مرکزی حکومت کو بھیج دیں۔

    تاہم ماڈرنا کے انکار کے بعد ایسا لگ رہا ہے کہ ریاستوں کے لیے براہ راست ویکسین حاصل کرنا اتنا آسان مرحلہ نہیں ہو گا۔

  15. صوبہ سندھ میں بندشوں میں نرمی کی کوئی گنجائش نہیں، مراد علی شاہ

    کورونا وائرس

    سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علیٰ شاہ نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے عوام سے ایس اوپیز پر سختی سے عملدرآمد کرنے کا کہا ہے۔ ان کے مطابق ابھی پابندیوں میں نرمی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

    صوبائی دارالحکومت کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ گذشتہ اور رواں برس عیدالفطر کے دوران کورونا کیسز میں فرق تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ 'یکم شوال کو 831 کیسز رپورٹ ہوئے تھے جبکہ جمعے کو 2 ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے۔

    ان کے مطابق یہ سب عوام کی جانب سے عید کے دوران ایس او پیز نظر انداز کرنے پر ہوا۔

    وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا ہے کہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے پیر سے پابندیاں ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے، 'تاہم صوبائی ٹاسک فورس کے ماہرین نے ہمیں سختی سے ہدایت کی ہے کہ یہ احتیاط کا وقت ہے'۔

    مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ 'موجودہ حالات کے پیش نظر، نرمی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ان کے مطابق گذشتہ برس جون اور جولائی جیسے حالات دہرانا نہیں چاہتے۔

    Karachi

    ان کا کہنا تھا کہ ہسپتالوں میں مریضوں کی گنجائش بھی ختم ہورہی ہے۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ 'آغاخان ہسپتال اور انڈس ہسپتال میں بھی بستر دستیاب نہیں ہیں، وبائی امراض کے ہسپتال میں بھی گنجائش نہیں ہے، ہم نے ایکسپو سینٹر کی سہولت بھی بند کردی ہے لیکن ہمیں دوبارہ کھولنا پڑے گا اور اس وقت 50 فیصد گنجائش ہے'۔ انھوں نے کہا کہ 'یہ اعداد وشمار تشویشناک ہیں اور ہم آنکھیں بند کرکے آگے نہیں بڑھ سکتے ہیں'۔

    ان کا کہنا تھا کہ اسی لیے ٹاسک فورس نے فیصلہ کیا ہے کہ بندشوں پر سختی سے عمل درآمد کروایا جائے گا۔ نرمی کا انحصاف عوام پر ہے کہ وہ کس طرح حفاظتی اقدامات پر عمل کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 'موجودہ حالات کے پیش نظر ہم پیش گوئی نہیں کرسکتے ہیں کہ حالات دو ہفتوں میں بہتر ہوں گے تاہم ہم جو کہہ سکتے ہیں کہ اگر لوگوں نے ایس او پیز پر عمل درآمد کیا تو حالات بہتر ہوں گے، یہ لوگوں کے ہاتھ میں ہے'۔

  16. دلی میں ’آئندہ ہفتے سے لاک ڈاؤن میں نرمی لائی جاسکتی ہے‘

    دلی میں ’آئندہ ہفتے سے سختیوں میں نرمی لائی جاسکتی ہے‘

    روئٹرز کے مطابق انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی کے وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ اگر شہر میں نئے مریضوں میں کمی برقرار رہتی ہے تو آئندہ ہفتے سے لاک ڈاؤن کی سختیوں میں نرمی لائی جاسکتی ہے۔

    انڈیا میں کووڈ کی دوسری لہر نے صحت کے نظام کو مفلوج کر دیا تھا اور ملک میں آکسیجن کی شدید قلت دیکھی گئی تھی جس سے کئی اموات ہوئیں۔

    دلی میں 20 اپریل سے لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تھا اور یہ ملک میں کورونا سے سب سے زیادہ متاثرہ شہروں میں سے تھا۔

    اروند کیجریوال کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں نئے متاثرین میں کمی آئی ہے اور مثبت کیسز کی شرح 2.5 فیصد سے کم ہوگئی ہے۔ گذشتہ ماہ یہ شرح 36 فیصد تھی۔

  17. اپریل کے آغاز میں برطانیہ نے پاکستان کو ریڈ لسٹ میں ڈالا مگر انڈیا کو کیوں نہیں؟

    پاکستان کو ریڈ لسٹ میں ڈالا گیا مگر انڈیا کو کیوں نہیں؟

    بی بی سی کے اینڈریو مار نے برطانیہ کی ہوم سیکریٹری پریتی پٹیل سے انٹرویو کے دوران پوچھا کہ انڈیا کو کب ریڈ لسٹ پر ڈالا گیا تھا، یعنی برطانیہ نے کب انڈیا پر سفری پابندیاں عائد کی تھیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے یہ فیصلہ 23 اپریل کو کیا اور چھ روز بعد کووڈ کی انڈین قسم کو تشویش کا باعث سمجھا جانے لگا۔

    خیال رہے کہ برطانیہ نے پاکستان کو 2 اپریل کو ریڈ لسٹ میں شامل کیا تھا جس پر پاکستان کے وفاقی وزیر اسد عمر نے سوال کیا تھا کہ ’یہ فیصلہ سائنسی بنیاد پر کیا گیا یا خارجہ پالیسی کی بنیاد پر؟'

    اینڈریو مار کے مطابق انھیں وزیر صحت میٹ ہینکاک نے بتایا تھا کہ یہ فیصلہ برطانیہ آنے والے لوگوں کی مثبت کیسز کی شرح پر مبنی تھا۔

    ان کا کہنا ہے کہ 25 مارچ اور 7 اپریل کے درمیان پاکستان سے آنے والے مسافروں میں مثبت کیسز کی شرح 4.6 فیصد تھی جبکہ انڈیا میں یہ شرح 5.2 فیصد تھی۔

    پریتی پٹیل سے دریافت کیا گیا کہ اس کے باوجود پاکستان کو ریڈ لسٹ پر رکھا گیا مگر انڈیا کو نہیں رکھا گیا۔

    ان کا جواب تھا کہ سرحد پر درجہ حرارت چیک کرنے کے علاوہ کووڈ ٹیسٹ اور قرنطینہ جیسے اقدامات پہلے سے موجود تھے۔ ’ایسا نہیں ہے کہ لوگوں کو چیک نہیں کیا جا رہا تھا۔‘

    اینڈریو مار نے بتایا کہ برطانیہ میں کووڈ کی انڈین قسم کے کم از کم 3424 متاثرین کی تصدیق ہوچکی ہے۔

    ان میں سے کتنے لوگ براہ راست انڈیا سے آئے؟ پریتی پٹیل کے مطابق انھیں یہ معلوم نہیں مگر حکومت کے پاس ’اس حوالے سے ڈیٹا موجود ہوگا۔‘

  18. انگلینڈ میں اب تک کووڈ19 کی ویکسین کی پانچ کروڑ خوراکیں دی جا چکی ہیں

    COvid

    انگلینڈ میں اب تک کووڈ19 کی پانچ کروڑ سے زیادہ ویکسینز دی جا چکی ہیں۔

    این ایچ ایس کی جانب سے شائع کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق تین کروڑ پندرہ لاکھ افراد کو ویکسین کی پہلی خوراک دی جا چکی ہے جبکہ ایک کروڑ 86 لاکھ سے زیادہ کو دو خوراکیں دی جا چکی ہیں۔

    وزیر صحت میٹ ہینکوک نے اسے ایک اہم کامیابی قرار دیا اور کہا کہ یہ ‘ہماری تاریخ کی اہم ترین کاوشوں میں سے ایک ہے۔‘

    انگلینڈ میں اس وقت 32 اور 33 سال کے افراد کو ویکسینیشن کی پہلی خوراک کی بنکنگ کے لیے کہا جا رہا ہے۔

  19. پاکستان: صوبہ پنجاب میں کورونا کے 901 نئے کیس، متاثرین کی تعداد 333,958 ہو گئی

    پاکستان کے صوبہ پنجاب میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے 901 نئے کیس سامنے آئے ہیں جس کے بعد صوبے میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 333,958 ہو گئی ہے۔

    صوبے میں کورونا وائرس سے مزید 29 ہلاکتیں ہوئی ہیں جس کے بعد وائرس سے ہونے والی اموات کی کل تعداد 9768 ہو چکی ہے۔ مرنے والوں میں سے 6 کا تعلق لاہور سے تھا۔

    صوبہ پنجاب کے محمکہ صحت کے مطابق 24 گھنٹوں کے دوران صوبے میں 28,973 ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔