Got a TV Licence?

You need one to watch live TV on any channel or device, and BBC programmes on iPlayer. It’s the law.

Find out more
I don’t have a TV Licence.

خلاصہ

  1. امریکہ نے فرانس اور برطانیہ کے ساتھ مل کر شام کی جانب سے گذشتہ ہفتے دوما پر مبینہ کیمیائی حملے کے جواب میں حملہ کیا ہے
  2. شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ شام کی افواج نے کئی درجن میزائلوں کو تباہ کر دیا ہے
  3. اس حملہ کا اعلان کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم یہ جوابی کارروائی اس وقت تک جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں جب تک شامی حکومت ممنوعہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال نہیں روکتی‘
  4. امریکی وزیرِ دفاع جیمز میتھس نے واشنگٹن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ فلحال یہ ایک ’ون ٹائم ہٹ‘ تھی
  5. روس نے امریکہ کو متنبہ کیا ہے کہ امریکہ کو کسی نا کسی قسم کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ روس کے امریکہ میں سفیر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’اس قسم کے اقدامات نتائج کے بغیر نہیں جانے دیں گے‘

لائیو رپورٹنگ

پیشکش: ذیشان حیدر، رضا ہمدانی، شجاع ملک، وقاص علی ذیشان علی، ظفر سید، مرزا اے بی بیگ

time_stated_uk

  1. بریکنگ’حملے میں بین الاقوامی قوانین کو نظر انداز کیا گیا ہے‘

    روس کی درخواست پر بلائے جانے والے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے آغاز پر سیکریٹری جنرل اینتونیو گیتریز نے شام میں جاری تنازع کے سیاسی حل کا مطالبہ کیا ہے جبکہ اجلاس میں موجود روسی سفیر نے کہا کہ ’اس حملے میں بین الاقوامی قوانین کو صریحاً نظر انداز کیا گیا ہے۔‘

  2. سائنٹفک ریسرچ سینٹر کی تباہی

    syria
    syria
    syria
  3. میزائل حملے سے پہلے اور بعد میں

    Video content

    Video caption: میزائل حملے سے پہلے اور بعد میں
  4. وائٹ ہاؤس کی رپورٹ

    وائٹ ہاؤس

    وائٹ ہاؤس نے دوما میں مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیار استعمال کیے جانے کی معلومات پر مبنی رپورٹ شائع کی ہے جس سے اس طرف اشارہ ہوتا ہے کہ کیمیائی ہتھیار استعمال کیے گئے تھے۔

    امریکی رپورٹ میں کہا گیا ہے:

    • معلومات سے اشارے ملتے ہیں کہ شامی حکومت دوما پر بمباری میں کلورین کا استعمال کر رہی تھی اور کچھ دیگر معلومات میں مزید اشارے ملے ہیں کہ شامی حکومت نے سارن بھی استعمال کیا ہے۔
    • ویڈیوز اور تصاویر میں دو استعمال شدہ کلورین بیرل بم دیکھے جا سکتے ہیں جو ان بموں سے مشابہت رکھتے ہیں جو ماضی میں استعمال کیے گئے۔
    • عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بیرل بم ہیلی کاپٹروں سے پھینکے گئے۔ شامی حکومت نے یہی ترکیب پوری جنگ میں شہریوں کو نشانہ بنانے میں استعمال کی ہے۔
    • یہ بیرل بم ممکنہ طور پر کیمیائی حملے میں استعمال کیے گئے۔
    • شامی حکومت کی جانب سے دوما میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال دوما پر دوبارہ قبضہ کرنے کے لیے کیا گیا۔
    • ہماری معلومات یکساں ہے اور کئی ذرائع نے تصدیق کی ہے۔
  5. بریکنگشام کے خلاف ’جارحیت‘ کی مذمت کی قرارداد

    روس نے ہفتے کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ شام کے خلاف ’جارحیت‘ کی مذمت کرے۔

    روس کی جانب سے قرارداد کا مسودہ سکیورٹی کونسل کے ممبران کو دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ، فرانس اور برطانیہ کی کارروائی کی مذمت کی قرارداد منظور کی جائے۔

  6. بریکنگ’شام پر حملہ ناقابل قبول اور خلاف قانون‘

    روسی وزیر خارجہ سرگے لاوروف نے کہا ہے کہ مغربی ممالک کی جانب سے شام پر حملہ ناقابل قبول اور خلاف قانون ہے۔

  7. بریکنگفرانس کے پاس شواہد ہیں تو ہمیں دکھائے: روس

    روسی وزیر خارجہ سرگے لاوروف نے فرانس سے کہا ہے کہ اگر اس کے پاس دوما میں کیمیائی ہتھیار کے استعمال ہونے کے شواہد ہیں تو روس کو بھی دکھائے۔

    ماسکو میں بریفنگ دیتے ہوئے انھوں نے فرانس کے اس بیان پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا کہ اس کے پاس شواہد ہیں۔ ’فرانس نے کہا کہ دوما میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے شواہد ہیں لیکن ساتھ ہی کہا کہ وہ یہ شواہد روس کے ساتھ شیئر نہیں کر سکتے۔‘

    انھوں نے کہا کہ اگر دوما میں کیمیائئ ہتھیاروں کا استعمال ثابت ہو جاتا ہے تو روس سب سے پہلے ایسے حملوں کو روکنے کی کوشش کرے گا۔ شام پر امریکہ، فرانس اور برطانیہ کی جانب سے مشترکہ حملے کے بارے میں بات کرتے ہوئے روسی وزیر خارجہ نے کہا ’یہ کیمیائی ہتھیاروں کے انسپکٹرز کے دوما پہنچنے سے ایک دن قبل ہوا ہے۔‘

  8. ’روسی ٹرولز میں 2000 فیصد اضافہ‘

    پینٹاگون کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں روسی ٹرولز میں دو ہزار فیصد اضافہ ہوا ہے۔

  9. بریکنگشام پر حملے کا مقصد شام میں تصادم نہیں: پینٹاگون

    پینٹاگون کی ترجمان کا کہنا ہے کہ شام کی جانب سے مبینہ کیمیائی حملے کا جواب فوری دینے کی ضرورت تھی۔

    ’ہم بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ شام پر حملے کا مقصد شام میں تصادم نہیں تھا۔

  10. بریکنگ’شامی انفراسٹرکچر کہیں زیادہ ہے‘

    پینٹاگون کا کہنا ہے کہ شامی حکومت کا کیمیائی ہتھیار بنانے کا نظام ان اہداف سے کہیں بڑا ہے جن کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

  11. ’کچھ انفراسٹرکچر بچ گیا ہے‘

    پینٹاگون کی پریس بریفنگ میں لیفٹیننٹ جنرل میکنزی نے کہا ہے کہ شام کا کیمیائی ہتھیار بنانے کا کچھ انفراسٹرکچر بچ گیا ہے لیکن شامی حکومت کو بہت نقصان پہنچا ہے۔

  12. بریکنگ’شامی حکومت کی کیمیائی ہتھیار تیار کرنے صلاحیت کو کافی نقصان پہنچایا ہے‘

    پینٹاگون کی پریس بریفنگ میں لیفٹیننٹ جنرل میکنزی نے دعویٰ کیا کہ امریکہ پراعتماد ہے کہ شام پر حملے میں شامی حکومت کی کیمیائی ہتھیار تیار کرنے صلاحیت کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اس حملے میں تین امریکی بحری جہازوں نے حصہ لیا۔

  13. بریکنگکیمیائی ہتھیاروں سے منسلک زیادہ تر سازو سامان تباہ ہو گیا: پینٹاگون

    ڈائریکٹر آف جوائنٹ سٹاف لیفٹیننٹ جنرل میکنزی کا کہنا ہے کہ شامی سکیورٹی فورسز کا کیمیائی ہتھیاروں سے منسلک زیادہ تر سازو سامان تباہ ہو گیا ہے۔

    پینٹاگون کی پریس بریفنگ میں لیفٹیننٹ جنرل میکنزی نے مزید کہا کہ ایک ہدف میں کچھ کیمیائی ہتھیار موجود تھے۔

  14. بریکنگ’ہر ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا‘

    امریکی وزارت دفاع پنٹاگون نے کہا ہے کہ ہر ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔ پریس بریفنگ میں کہا گیا کہ شام کا ایئر ڈیفنس سسٹم مجموعی طور پر غیر موثر رہا۔

  15. بریکنگمشن مکمل ہو گیا: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام پر کیے جانے والے حملے کی تعریف کی ہے۔ ٹویٹ میں انھوں نے اس حملے کو ’بے عیب طریقے سے رو باعمل لایا گیا اور فرانس اور برطانیہ کا شکریہ ادا کیا۔

    انھوں نے پہلی ٹویٹ میں کہا ’گذشتہ رات بے عیب سٹرائیک کی۔ فرانس اور برطانیہ کا شکریہ ان کی دانشمندی اور ان کی اچھی فوجی طاقت کی۔ اس سے بہتر نتائج نہیں آ سکتے تھے۔ مشن مکمل ہو گیا۔‘

    View more on twitter
    View more on twitter
  16. قانونی جواز

    امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے شام پر حملے کا جو جواز دیا ہے اس کے مطابق کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر عالمی سطح پر ممانعت، صدر بشار الاسد کے پاس کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کو کم کرنا اور شامی حکومت کو دوبارہ شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے سے باز رکھنا ہے۔

    برطانوی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ برطانیہ عالمی قوانین اور برطانوی قومی مفادات کے دفاع کے لیے کھڑا ہو گا۔

    قانوی طور پر یہ پوزیشن اقوام متحدہ کے چارٹر سے قبل کے زمانے کی ہے۔ اقوام متحدہ کا چارٹر دفاع کے لیے طاقت کا استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے اور آبادی کی حفاظت کے لیے جس کو اپنی ہی حکومت سے خطرہ ہو۔ عالمی سطح پر سکیورٹی کو مضبوط رکھنے کے لیے طاقت کا استعمال کرنا بھی ممکن ہے۔ تاہم ان اقدامات کے لیے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے مینڈیٹ کا ہونا ضروری ہے۔

  17. بریکنگ’شامی ایئر ڈیفنس نے 65 میزائل تباہ کیے‘

    شام

    برطانیہ میں قائم سیریئن آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ شام کے ایئر ڈیفنس نے امریکہ اور اس کے دو اتحادیوں کی طرف سے داغے گئے میزائلوں میں سے 65 کو تباہ کیا۔

    آبزرویٹری کے مطابق جن اہداف پر میزائل داغے گئے ان میں:

    • دمشق کے قریب واقع جمرایا اور برزہ میں دو ریسرچ سینٹرز
    • المزہ ملٹری ایئر فیلڈ میں سٹور جو ریپبلیکن گارڈز کی چوتھی ڈویژن کا ہے
    • دمشق کے قریب کسوہ میں سٹور ہاؤسز
    • حمص میں سائنٹیفک ریسرچ سینٹر

    اس سے قبل روس نے کہا تھا کہ امریکی اور اس کے اتحادیوں نے 103 میزائل داغے جن میں سے 71 میزائلوں کو شامی ایئر ڈیفنس نظام نے تباہ کر دیا گیا۔

    روس نے مزید کہا تھا کہ شام میں روس کے زیر استعمال بندرگاہ اور اس سے متصل ایئر فیلڈز جہاں پر روس نے نیا فضائی ڈیفنس سسٹم نصب کیا ہے ان علاقوں میں کوئی مغربی میزائل داخل نہیں ہوا۔

  18. بریکنگروس نے سکیورٹی کونسل کا اجلاس طلب کر لیا

    اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا اجلاس ہفتے کو جی ایم ٹی دوپہر تین بجے ہو گا۔ یہ اجلاس روس کی درخواست پر بلایا گیا ہے۔

    روس نے یہ اجلاس اس وقت بلایا ہے جب امریکہ، فرانس اور برطانیہ نے شام میں ایک سو سے زیادہ میزائل داغے گئے ہیں۔

  19. بریکنگاسرائیل نے جولان کی فضائی حدود بند کر دی

    اسرائیل کی مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ شام پر امریکی اور اتحادیوں کے حملے کے بعد اسرائیل نے مقبوضہ هضبة الجولان کی فضائی حدود کو بند کر دیا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق یہ فضائی حدود اپریل کے آخر تک بند رہے گی۔ ایئر لائنز کمپنیوں کو مطلع کر دیا گیا ہے اور جہازوں کو پانچ ہزار فٹ سے زیادہ کی بلندی پر پرواز کرنے کی اجازت نہیں ہے۔