Got a TV Licence?

You need one to watch live TV on any channel or device, and BBC programmes on iPlayer. It’s the law.

Find out more
I don’t have a TV Licence.

لائیو رپورٹنگ

پیشکش: ذیشان حیدر، شجاع ملک، وقاص علی، سارہ حسن

time_stated_uk

  1. ٹرمپ کم ملاقات پر بی بی سی اردو کی لائیو کوریج اختتام کو پہنچی

    سنگاپور میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کم جونگ ان کی تاریخی ملاقات پر بی بی سی اردو کی لائیو کوریج اب اختتام کو پہنچی۔

    اس بارے میں مزید تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

  2. بریکنگ’میں شمالی کوریا کو دھمکانا نہیں چاہتا‘

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ شمالی کوریا کو مذاکرات کے دوران دھمکایا جائے۔

    انھوں نے کہا کہ شمالی کوریا میں کسی بھی قسم کی شورش سے جنوبی کوریا میں ہزاروں افراد متاثر ہوں گے کیونکہ سیئول شمالی کوریا کی سرحد کے قریب ہے۔

    جب اُن سے پوچھا گیا کہ انھوں نے شمالی کوریا کو ’آتش اور غضب‘ کی دھمکی دی، انھوں نے جواب میں کہا کہ اُس وقت کے لحاظ سے یہ مناسب زبان تھی۔

  3. جنوبی کوریا اور جاپان شمالی کوریا کی مدد کر سکتے ہیں۔

    ایک رپورٹر نے پوچھا کہ شمالی کوریا کیسے جوہری ہتھیار تلف کرے گا؟

    ٹرمپ نے کہا کہ وہ توقع کر رہے ہیں کہ جنوبی جوریا اور جاپان اُن کی مدد کے لیے تیار ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ وہ پابندیوں کے خاتمے سے قبل انسان حقوق کی صورتحال بہتر کرنے کے لیے اہم پیش رفت چاہتے ہیں۔

  4. ٹرمپ: ’ہم نے کچھ دیا نہیں ہے‘

    ٹرمپ

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے کم جونگ ان سے ملاقات کی رضامندی کے علاوہ ’کچھ دیا نہیں ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ایک شخص جو ٹرمپ کو ناپسند کرتا تھا وہ اب بڑا کام کرنے پر متفق ہے۔‘

    اگرچہ تجزیہ کاروں کا کہنا کہ صدر ٹرمپ سے دو طرفہ ملاقات سے شمالی کوریا کے پراپیگنڈہ کی جیت ہوئی ہے۔

  5. جنگی مشقیں ’مہنگی‘ بھی ہیں اور ’اشتعال انگیز‘ بھی

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس کو نظرانداز کرنا بہت مشکل ہے کہ وہ مشترکہ مشقیں جو امریکہ عموماً جنوبی کوریا کے ساتھ کرتا ہے وہ کتنی اہم ہیں۔ اب یہ ’اشتعال انگیزی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اس پر امریکہ کی بھی کثیر رقم خرچ ہوتی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’پہلے سے طے کی گئی مشقیں مستقبل میں شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرت تک روک لی گئی ہیں۔

    ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ جنوبی کوریا سے بات کی گئی ہے کہ نہیں لیکن ٹرمپ نے اپنی پریس کانفرنس میں اس پر بات کی ہے۔

  6. بریکنگشمالی کوریا پر فی الحال پابندیاں عائد رہیں گی

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پابندیاں اسی وقت ہٹائی جائیں گی جب ہمیں یقین ہو گا کہ جوہری ہتھیار اب ایک عنثصر نہیں رہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ وہ پابندیاں ہٹانا چاہتے ہیں لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہو گا جب وہ ڈی نیوکلیئرئزیشن کے بارے میں پراعتماد ہوں گے۔

  7. بریکنگحقوقِ انسانی پر بات ہوئی: ٹرمپ

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کم جونگ ان سے ملاقات میں شمالی کوریا میں حقوقِ انسانی کی صورتحال پر بات ہوئی۔ ان کے مطابق یہ بات چیت مختصر تھی تاہم یہ موضوع زیرِ بحث آیا

  8. کم ’قابل ہیں‘

    ایک سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ کم جونگ ان ’بہت قابل ہیں۔ وہ بہت کم عمری میں اقتدار میں آئے اور مشکل وقت میں ملک کو سنبھالا۔‘

  9. بریکنگ’مناسب وقت پر کم کو وائٹ ہاؤس میں مدعو کروں گا‘

    صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ مناسب وقت آنے پر خود بھی شمالی کوریا جائیں گے اور چیئرمین کم کو وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت بھی دیں گے۔

  10. ’دنیا کو شمالی کوریا سے رابطہ کرنا چاہتی ہے‘

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم جنگ کی تباہیوں کو امن سے تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’شمالی کوریا کی جانب سے ہتھیاروں کو تلف کرنے کے بعد انھیں جو حاصل ہو گا اس کی کوئی حد ہی نہیں ہے۔‘

    ٹرمپ نے کہا کہ بافی دنیا بھی حقیقی معنی میں شمالی کوریا سے رابطہ رکھنا چاہتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کم جونگ کو اسے ’رہنما کے طور پر یاد کیا جائے گا جو اپنے عوام کے لیے خوشحالی کا نیا دور لایا ہے۔‘

  11. بریکنگامریکہ جنگی مشقیں روک رہا ہے

    ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کا ملک علاقے میں اپنی عسکری موجودگی کو کم نہیں کر رہا تاہم وہ جنوبی کوریا کے ساتھ اپنی جنگی مشقوں کا سلسلہ روک دے گا۔ شمالی کوریا ان مشقوں پر اعتراض کرتا آیا ہے۔

  12. بریکنگشمالی کوریا اہم میزائل سائٹ تباہ کر رہا ہے

    امریکی صدر نے کہا ہے کہ کم ’ایک بڑی میزائل سائٹ تباہ کر رہا ہے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ اس کا اعلان مشترکہ اعلامیے میں اس لیے نہیں تھا کیونکہ دونوں رہنماؤں نے اس پر دستاویز کی تیاری کے بعد اتفاق کیا۔

  13. بریکنگٹرمپ کی پریس کانفرنس کا آغاز

    اعلامیے پر دستخط کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’حقیقی تبدیلی ممکن ہے۔ چیئرمین کم سے میری ملاقات ایماندارانہ، کارآمد اور براہِ راست تھی۔ ہم نے شاندار 24 گھنٹے گزارے ہیں، دراصل شاندار تین ماہ۔ اس جگہ میں بہترین مقام بننے کا مادہ ہے۔‘

  14. شمالی کوریا نے اس سے قبل کیا وعدے کیے ہیں؟

    بہت سے تجزیہ کار امریکی صدر ٹرمپ کے اس دعوے کی نفی کر رہے ہیں کہ یہ اعلامیہ جامع ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے ماضی میں اس سے کہیں زیادہ ٹھوس اعلامیوں پر دستخط کیے ہیں۔

    سو شمالی کوریا نے ماضی میں کون سے معاہدے کیے جن سے وہ بعد میں پھر گیا

    • 1992 میں شمالی کوریا نے جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے اور ان کا تجربہ نہ کرنے کا معاہدہ کیا تھا
    • 1994 میں اس نے کہا تھا کہ وہ امداد کے عوض پلوٹونیم ہتھیاروں کا پروگرام منجمد کر دے گا
    • 2005 میں اس نے کہا تھا کہ وہ تمام جوہری ہتھیار تلف کر دے گا اور اپنا موجودہ جوہری پروگرام بھی ترک کر دے گا
  15. بریکنگچار نکاتی اعلامیہ

    بی بی سی کی لارا بکر نے ٹرمپ کم اعلامیے سے چار اہم نکات نکالے ہیں جو کہ یہ ہیں۔

    • امریکہ اور شمالی کوریا اپنے ملکوں کے عوام کی خوشحالی اور امن کی خواہش کو سامنے رکھتے نئے تعلقات شروع کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
    • جزیرہ نما کوریا میں پائیدار امن و استحکام کے لیے امریکہ اور شمالی کوریا مشترکہ جدوجہد کریں گے۔
    • اپریل 2018 کے پنمنجوم اعلامیے کی یقین دہانی کرواتے ہوئے شمالی کوریا جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے کام کرے گا۔
    • امریکہ اور شمالی کوریا پرعزم ہیں کہ جنگی قیدیوں اور لڑائی میں لاپتہ ہونے والوں کو تلاش کیا جائے گا اور جن کی شناخت ہو چکی ہے انھیں فورًا ملک واپس بھیجا جائے گا۔
  16. کم کی اہم کامیابی

    بی بی سی کے نامہ نگار روپرٹ ونگ فیلڈ ہیز کا کہنا ہے کہ یہ اجلاس شمالی کوریا کے رہنما کے لیے اہم کامیابی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ٹرمپ کا یہ کہنا کہ ماضی کے مقابلے میں تعلقات اب بہت مختلف ہیں اور ان کا کم کے ساتھ ہونا فخر کی بات ہے، یہ بہت بڑا کامیابی ہے۔‘

    ٹرمپ نے غیر معمولی الفاظ کا استعمال ایک ایسے شخص کے لیے کیا جنھیں چند ماہ قبل وہ ’راکٹ مین‘ اور ایک ایسی ریاست کا حکمران، جس دنیا بھر میں برا کہا جائے قرار دیتے تھے۔

  17. ڈی نیوکلیئریئزیشن کیا ہے؟

    ڈی نیوکلیئریئزیشن یا جوہری ہتھیاروں کو تلف کرنے کے لیے کسی معاہدے پر پہنچنے کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ ’وہ اس بارے میں بہت جلد کام شروع کریں گے۔‘ یہاں اس ویڈیو میں یہ اس مشکل اصطلاح کو جاننے کو کوشش کی جائے گی۔

    Video content

    Video caption: جوہری ہتھیاروں پر ٹرمپ اور کم کے متضاد خیالات
  18. کم جونگ ان سینٹوسا سے روانہ

    کم جونگ ان کا قافلہ سینٹوسا سے روانہ ہو گیا ہے۔ خیال ہے کہ وہ جلد ہی سنگاپور سے بھی واپس اپنے وطن چلے جائیں گے۔ امریکی صدر اب بھی سینٹوسا میں موجود ہیں جہاں وہ جلد ہی ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرنے والے ہیں جس میں اس دستاویز کی تفصیل دی جائے گی جس پر انھوں نے شمالی کوریائی رہنما کے ہمراہ دستحظ کیے ہیں

    کم کا قافلہ