میانمار: مقدس سونے سے ڈھکی سرزمین

  • ویویئین کمنگ
  • بی بی سی ٹریول
میانمار

،تصویر کا ذریعہVivien Cumming

میانمار کو ’سونے کی سرزمین‘ کہا جاتا ہے۔ یہ نام دینے کی وجہ منڈالے اور ینگون جیسے میانمار کے شہروں کا فضائی سفر کرتے ہوئے سمجھ آتی ہے جب فضا سے ہی نیچے گلیوں میں پھیلے چمکتے ہوئے سٹوپا اور پگوڈا نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں۔

آپ کہیں بھی جائیں تو ایسا ناممکن ہے کہ کوئی بدھ مت کا مندر نظر نہ آئے جس پر سونے کا کام یا سونے کا پانی چڑھا ہوا نہ دکھائی دے۔ شہروں کے وسط میں موجود مندر بڑے ہیں جبکہ لوگوں کے گھروں کے باہر پرانے درختوں کے نیچے بھی چھوٹے چھوٹے مندر نظر آتے ہیں۔

ملک بھر میں پھیلے ہزاروں مندروں مِں سے تقریباً سب پر ہی سونے کا کام نظر آتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہVivien Cumming

بگان کے مندر

ایراوادی دریا اس سنہری سرزمین کے بیچ میں سے بہتا ہے۔ اس کے کنارے میانمار کی اصل تصویر پیش کرتے ہیں جہاں پہاڑوں پر بڑے مندر، جنگلات پر منڈلاتے مون سون کے بادل اور پانی کے قریب بنے مکانات نظر آتے ہیں۔

منڈالے بزنس فورم کے مطابق اس شہر کی قریبی پہاڑیوں پر 700 سنہری مندر ہیں۔ بگان شہر کے آس پاس 2200 مندروں کی باقیات پھیلی ہوئی ہیں۔

اپنے دور عروج میں، 11ویں اور 13ویں صدی کے درمیان کے عرصہ میں، پگان کی بادشاہت 10000 مندروں کا گڑھ تھی۔ یہی وہ وقت تھا جب اس علاقے میں دو ہزار سال پرانی تاریخ رکھنے والا مذہب بدھ مت تیزی سے پھیلا۔

،تصویر کا ذریعہVivien Cumming

مقدس سونا

میانمار میں سونا مقدس سمجھا جاتا ہے۔ یہاں کی 90 فیصد آبادی بدھ مت کی پیروکار ہے جن کے لیے سونے کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کیوں کہ یہ سورج کی علامت ہے جسے علم اور روشن خیالی جیسی خوبیوں سے جوڑا جاتا ہے۔

ہارورڈ ڈوینیٹی سکول کے مذہبی تعلیم پراجیکٹ کے مطابق یہاں کے مقامی لوگ بدھا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے مندروں کو سونے سے سجاتے ہیں۔

ستھو ہاتون ینگون کی مقامی گائیڈ ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ’میانمار میں سونا قیمتی ہے کیوں کہ ہم اسے دریا میں ڈھونڈ سکتے ہیں۔ یہ ہماری زمین کا حصہ ہے جو آسانی سے مل جاتا ہے اور اسی لیے ہم اسے بدھا کو پیش کرتے ہیں۔‘

تاہم سونا صرف مندر میں ہی استعمال نہیں کیا جاتا۔ روایتی ادویات، منھ پر لگانے والی کریموں سے لے کر اسے خوراک اور مشروبات تک میں استعمال کیا جاتا ہے۔ خصوصی مواقع پر گولڈ لیف (سونے کے ورق) کو چاول اور دال میں ملایا جاتا ہے اور مشروبات میں ملا کر بھی پیا جاتا ہے۔ سونا یہاں کی زمین اور لوگوں کی زندگی کا حصہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہVivien Cumming

ہاتون نے بتایا کہ ’ہم کیلے اور گولٹ لیف (سونے کے ورق) کو فیس ماسک کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ جلد کے لیے بہت اچھا ہوتا ہے، تین سے پانچ منٹ میں سونا غائب ہو جاتا ہے۔ میرے خیال ہے کہ یہ ہماری جلد میں جذب ہو کر مسکراہٹ بخشتا ہے۔‘

سونے کی تلاش

سونے کے ذرائع میں سب سے اہم تو منڈالے کے گرد موجود کانیں ہیں۔ اس کے علاوہ دریا کی تہہ سے بھی سونا ملتا ہے جہاں مقامی لوگ نئی ٹیکنالوجی کے باوجود پرانے طریقوں سے سونا تلاش کرتے ہیں۔

دریا کی تہہ میں ریت سے سونا الگ کرنے کے لیے پارا استعمال ہوتا ہے تاہم اس کے زہریلے اثرات کی وجہ سے مقامی دریائی مچھلی اور لوگوں کی صحت دونوں متاثر ہوتے ہیں۔ میانمار کے مقامی اخبار ’میانمار ٹائمز‘ کے مطابق غیر قانونی طور پر سونے کی کان کنی سے بھی نقصانات ہو چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ Vivien Cumming

تاہم ’انڈیپنڈنٹ‘ کے مطابق ایسے مقامی پراجیکٹس بھی ہیں جو کان کنی میں بہتری لانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ماحول اور لوگوں کو پہنچنے والے نقصانات سے بچا جا سکے۔

منڈالے کے سونا کوٹنے والے

منڈالے شہر کے وسطی علاقے میں ایک حصے کو ’سونے کا پتہ کوٹنے والا کوارٹر‘ کہا جاتا ہے جہاں لوگ سخت گرمی میں سونے کو پتوں میں ملانے کا کام کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

یہ لوگ بانس کے کاغذ اور پتھر کے درمیان سونا رکھ کر سات پاؤنڈ وزنی ہتھوڑے سے کوٹتے ہیں۔ سونے کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں توڑ کر ایک بار پھر کوٹا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر اس عمل کو تین بار دہرایا جاتا ہے اور آخری بار یہ عمل تقریبا پانچ گھنٹے تک جاری رہتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہVivien Cumming

ہاتون نے بتایا کہ گولڈ لیف ورکشاپ میں سے زیادہ تر خاندانی کاروبار ہیں جہاں مرد سونا کوٹتے ہیں اور خواتین سونے کے اوراق کے ٹکڑے کاٹتی ہیں۔

گولڈ لیف (سونے کا ورق) بنانا

ایک بار سونے کے اوراق کو چوکور ٹکڑوں میں کاٹ لیا جاتا ہے تو اسے بانس کے کاغذ میں رکھ کر بدھا کو پیش کرنے کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ یہاں کی خواتین گولڈ لیف کو بدھا کے مجسموں پر بنے لکڑی کے زیورات پر بھی لگاتی ہیں۔

ہاتون کے مطابق سونا صرف مندروں اور زیورات پر ہی نہیں، بلکہ کیلوں اور ناریل پر بھی لگا کر بطور نذرانہ پیش کیا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہVivien Cumming

یہاں کے لوگ سونے کے پتے کا ایک اور استعمال بھی کرتے ہیں۔ تھناکا نامی لکڑی کی گوند سے سونے کے پتے مل کر اسے جلد پر لگایا جاتا ہے تاکہ سورج کی تپش سے محفوظ رہا جائے۔ اس کے علاوہ اسے آرائش و زیبائش کی نیت سے بھی لگایا جاتا ہے اور جلد کو چمکانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

سونا بطور کرنسی

ماضی میں اور اب بھی، میانمار میں سونا کرنسی کے طور پر بھی استعمال ہوتا پے۔ سیاسی اور معاشی غیر یقینی کی وجہ سے سونے کی قدر مقامی کرنسی سے زیادہ ہے۔

مقامی افراد کے مطابق یہاں کے لوگ بینک میں بچت اکاؤنٹ کھلوانے کی بجائے سونا خرید لیتے ہیں تاکہ اپنی آئندہ کی زندگی میں خوشحالی کی ضمانت کے لیے بطور نذرانہ پیش کیا جائے یا پھر زیور کی شکل میں محفوظ کر لیا جاتا ہے اور کچھ لوگ سونے کے ٹکڑے اپنے پاس رکھ لیتے ہیں جو کسی مشکل وقت میں بطور سرمایہ کام آ سکیں۔

یہاں کے چھوٹے قصبوں میں بھی سونے کی دکانیں موجود ہیں جہاں سے خرید و فروخت کی جا سکتی ہے۔

ہاتون نے کہا کہ ’1948 میں آزادی ملنے کے بعد سے ملک اور معیشت مستحکم نہیں۔ اسی لیے لوگ سونا رکھنا چاہتے ہیں، تاکہ مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔‘

مقامی سخاوت

دہائیوں تک ایک آمرانہ فوجی جنتا کے سائے تلے تنہائی کا شکار ملک چند برسوں قبل ہی میں غیر ملکی سیاحوں کے لیے کُھلا ہے۔ اور ان سیاحتی مقامات پر بدھ مت روز مرہ کی زندگی کا حصہ ہے۔

صبح سویرے بدھ مت کے پیروکار راہب اور راہبائیں گلیوں اور بازاروں میں خوراک کے نذرانے کی تلاش میں نکلتے ہیں۔ یہاں خیرات کرنا مقامی ثقافت کا اہم حصہ ہے جس کا اظہار مقامی لوگوں کی سخاوت اور نرم دلی سے ہوتا ہے جو چائے کی پیالی اور بسکٹ سے آپ کا استقبال کریں گے یا پھر فخر سے جو بھی کھانے کے لیے پیش کر سکیں، وہ کر دیں گے۔

،تصویر کا ذریعہVivien Cumming

ہاتون کہتی ہیں کہ ’یہاں کے لوگ بہت اچھے اور دوستانہ ہیں، وہ ہر وقت مسکراتے رہتے ہیں۔ وہ صرف مدد کرنا چاہتے ہیں، ان کو آپ سے کچھ نہیں چاہیے۔‘

سونے کا نذرانہ

ہر صبح چار بجے منڈالے کے مہامونی پایا مندر، جو یہاں کا سب سے مقدس مندر ہے، کھچا کھچ بھر جاتا ہے۔ راہب یہاں موجود بدھا کے سونے کے مجسمے کا چہرہ ایک تقریب میں دھوتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہVivien Cumming

لوگ سونے کے پتے، جو دو ہزار کیاٹ یا تقریبا ایک ڈالر میں پانچ ملتے ہیں، خرید کر ایک قطار میں کھڑے ہوتے ہیں اور پھر بدھا پر بطور نذرانہ چسپاں کر دیتے ہیں۔

مزید پڑھیے

ہاتون کے مطابق ’ہم ہمیشہ بدھا کو زیادہ سے زیادہ دینا چاہتے ہیں، ہم اور زیادہ مندر بناتے ہیں تاکہ ہم ان کو بھی اپنی زمین سے سونا نکال کر سجا سکیں۔‘