BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Thursday, 13 May, 2004, 16:09 GMT 21:09 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
پنجابیوں کی مادری زبان؟
 

 
 
پنجاب یونیورسٹی
سب سے پہلے پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر چٹرجی نے پنجابی کو پنجاب میں تعلیم کا ذریعہ بنانے کی تجویز پیش کی اور کڑی تنقید کا نشانہ بنے
لگ بھگ سو سال پہلے پنجاب کو جو مشورہ ایک بنگالی نے دیا تھا وہ اب ایک پنجابی دیا ہے۔ مشورہ ہے کہ پنجاب میں پنجابی کو ذریعۂ تعلیم بنایا جائے لیکن خرابی یہ ہے کہ یہ پنجابی ایک تو مسلمان نہیں اور پھر بھارتی پنجاب کا وزیراعلیٰ ہے ۔

پہلی بار جب یہ تجویز سامنے آئی تو ظاہر ہے پاکستان نہیں بنا تھا اور پنجاب میں بنگالیوں کے بارے میں وہ جذبات نہیں پائے جاتے تھے جاتے تھے جو بعد میں فوج اور بیوروکریسی کی مفاد پرستی اور اکثریت کی بالا دستی کے خوف نے پیدا کیے۔

انہی جذبات اور خوف کے تحت بتدریج بنگالیوں کو نہ صرف مذاق بلکہ تحقیر اور آخرِ کار فوجی آپریشن کا نشانہ بنا کر اس وقت علیحدہ کر دیا گیا جب مشرقی پاکستان کی عوامی لیگ نے وفاق میں تنہا حکومت سازی کے لیے اکثریت حاصل کر لی تھی۔

یہ بنگالی، جسے اُس وقت، اُس کے اِس مشورے پر کہ پنجاب میں تعلیم کا ذریعہ پنجابی کو بنایا جائے خوب رگڑا اور تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا کوئی اور نہیں پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر سر چٹرجی تھے۔

کیا آج آپ کو یہ بات حیرت انگیز نہیں لگتی کہ کبھی پنجاب یونیورسٹی کا وائس چانسلر یا شیخ الجامعہ کوئی بنگالی چٹرجی بھی رہا ہے۔

شیخ الجامعہ پنجاب چٹرجی نے یہ تجویز یکم فروری 1909 کو ہونے والے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے دی۔ اس پر پنجاب میں یعنی مغربی پنجاب میں ان کے خلاف ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا اور یہ طوفان اٹھانے والے مغربی پنجاب کے مسلمان تھے۔

اخبارات نے خصوصی مضامین اور اداریوں میں اس تجویز کو پنجاب کی تہذیبی اور سیاسی تشخص کے خلاف ایک گھناؤنی سازش قرار دیا اور سر چٹرجی کی نیت تک پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ انہوں نے یونیورسٹی کے کانووکیشن ایڈریس میں اس طرح کی بے سروپا بحث کیوں چھیڑی۔

چٹرجی پر تنقید شروع ہوئی تو بڑے کام کی باتیں سامنے آئیں، اس زمانے کے معروف پیسہ اخبار کے ایڈیٹر منشی محبوب اور دوسرے مضمون نگاروں کا استدلال تھا کہ پنجابی اور اردو بنیادی طور پر ایک ہی زبان ہیں پنجابی اردو کا پرانا روپ ہے اور اس کی ترقی یافتہ شکل اردو کو چھوڑ کر ابتدائی شکل پنجابی کو ذریعہ تعلیم بنانے کی تجویز در اصل مسلمانوں کے خلاف سازش ہے۔

اس سازش کو بے نقاب کرنے کی کوشش کرتے ہوئے یہ اندیشہ ظاہر کیا گیا کہ ذریعہ تعلیم بنانے کے نام پر، ’پہلے تو علمی زبان بنانے کے بہانے پنجابی میں سنسکرت الفاظ کی بھر مار کی جائے گی اور پھر قرآنی رسم الخط ( یعنی شاہ مکھی) گور مکھی رسم الخط سے بدل دیا جائے گا۔‘

اس طرح پنجابی اپنے عربی و فارسی ذخیرۂ الفاظ سے محروم ہو کر اپنی ’اس اسلامی شناخت سے محروم ہو جائے گی جو صوفیائے کرام نے اپنی عظیم پنجابی شاعری کی بدولت اسے عطا کر رکھی ہے۔‘

امریندر سنگھ
بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ امریندر سنگھ نے عالمی پنجابی کانفرنس کے دوران پاکستانی پنجاب میں پنجابی کو ذریعہ تعلیم بنانے کی تجویز دی

ان ناقدین کا کہنا تھا کہ یہ صرف پنجابی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ پنجابی مسلمانوں کا مسئلہ ہے جو رفتہ رفتہ ( اس سازش کے نتیجے میں) اپنے تہذیبی سرچشموں سے محروم ہو کر رہ جائیں گے۔

تاہم معاملہ کہیں گڑ بڑ ضرور ہے، ہمارے ایک ساتھی ساجد اقبال نے، جن کی مادری زبان پنجابی ہے اس سلسلے میں ایک ذاتی واقعہ یہ سنایا:

ان کا کہنا تھا کہ جب مردم شماری کے حوالے سے لسانی سروے بھی ہو رہا تھا تو ان کے چھوٹے بھائی نے فارم بھرے اور مادری زبان کے خانے میں تمام گھروالوں کی مادری زبان اردو بتائی۔

ان کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے یہ فارم دیکھے تو انہوں نے بھائی سے اس بارے میں پوچھا کے اس نے مادری زبان پنجابی کی بجائے اردو کیوں لکھ دی ہے۔ تو اسے ان کے سوال پر ہی حیرت ہوئی کیونکہ شاید اس کے گمان میں بھی نہیں تھا کہ مادری زبان لکھنی یا بتانی ہو تو وہ اردو کے سوا کوئی اور بھی ہو سکتی ہے۔

ایک اور پہلو وہ ہے جس کی طرف فرانز فینن نے اشارہ کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ فرانسیسی نوآبادیاتی دور میں الجزائر کے امیروں کا طبقہ فرانسیسی پڑھتا تھا اور گھروں، ہم رتبہ لوگوں اور اپنے خاندان کے لوگوں سے فرانسیسی بولتا تھا اور اسے تہذیب یافتہ ہونے کی علامت سمجھتا تھا لیکن نوکروں اور ملازمین سے بات کرنے کے لیے مقامی عربی زبان کو استعمال کرتا تھا اور اس کی منطق یہ بتائی جاتی تھی کہ اس طرح ان سے کم وقت میں زیادہ سی زیادہ کام لیا جا سکتا ہے اور وہ بھی انتہائی دیانتدارانہ۔

خیر، اس بار پنجابی کو ذریعہ تعلیم بنانے کی تـجویز کے ناقد تلہ گنگ کے پروفیسر فتح محمد ملک ہیں جو اردو میں اپنے تنقیدی مرتبے اور مقام کے لیے کسی تعارف کے محتاج نہیں اور انہیں اس تنقید کی تحریک مشرقی یا بھارتی پنجاب کے وزیراعلی کیپٹن امریندر سنگھ کی اس تجویز سے ہوئی جو انہوں نے پاکستانی پنجاب کے وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کو 29 جنوری سے یکم فروری 2004 کے دوران ہونے والی عالمی پنجابی کانفرنس لاہور میں دی۔

کیپٹن امریندر سنگھ جی کا کہنا تھا پاکستانی پنجاب میں ’بھی‘ ذریعہ تعلیم پنجابی کو بنائیں اور پرائمری تعلیم تک پنجابی کو لازمی قرار دیں۔

جناب فتح محمد ملک صاحب کا کہنا ہے کہ ’اب جب کہ پنجابیوں کی مادری زبان اردو ہونے کی جذباتی صداقت سائنسی حقیقت کا روپ دھار چکی ہے، سو سال پہلے رد کی جانے والی تجویز کو قبول نہیں کیا جانا چاہیے۔‘

وزرائے اعلیٰ
دونوں پنجابوں کے وزرائے اعلیٰ امریندر سنگھ اور چوہدری پرویز الٰہی لاہور میں عالمی پنجابی کانفرنس کے دوران

وہ دعا کرتے ہیں کہ ’کاش پاکستانی پنجاب کے وزیراعلیٰ کو اللہ تعالیٰ اس حقیقت پر غور کی توفیق عطا فرمائے کہ اردو کو دیس نکالا دینے کی تجویز کل اگر انگریز لیفٹیننٹ گورنر نے پیش کی تھی تو یہی تجویز آج ہمارے ’دشمن‘ ملک بھارت کی طرف سی آئی ہے۔‘

فتح محمد ملک سے مکالمے کا فرض تو نجم حسین سید اور مشتاق صوفی پر عائد ہوتا ہے، ہمارا خدشہ تو صرف خوف کی یہ نفسیات ہے جو پتہ نہیں اب اور کہاں لے جائے گی۔

اس کے ساتھ ہی ہم چوہدری پرویز الٰہی اور پنجابیوں کے حق میں خیر کی دعا کرتے ہیں آپ کا دل چاہے تو آپ بھی آمین کہہ لیجئے۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد