BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Monday, 15 November, 2004, 09:15 GMT 14:15 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
الطاف حسین کا ’امن مشن‘
 

 
 
الطاف حسین
یہ کسی نارمل لیڈر کا ’نارمل حالات‘ میں نارمل ملک کا دورہ نہیں۔ الطاف حسین کا بھارت کی طرف دورہ ایک کردار کا تاریخ کی طرف سفر ہے۔ ’مجھے بھارت اور پاکستان کی سرحد پر کھڑا کرکے دونوں ملکوں کے فوجی میرا جسم گولیوں سے چھلنی کردیں، پھر اس جگہ میرا خون بہنے سے بھارت اور پاکستان کے درمیاں امن قائم ہوجاتا ھے تو یہ سودا مہنگا نہیں۔‘

بھارت کے دورے کے موقع پر الطاف حسین کا یہ بیان لگتا نہیں کہ اس ‏شخص کے الفاظ ہیں جو کبھی پاکستانی نیشنل کیڈٹ کور (این سی سی) کا رنگروٹ تھا اور جسے پاکستانی فوج کی طرف سے سن انیس سو اکہتر کی جنگ میں بھارت کے ساتھ لڑنے کی اسکی خواہش پوری کرنے کےلیے سابق مشرقی پاکستان کے محاذ پر بھیجنے سے انکار کردیا گیا تھااور الطاف حسین کا پاکستان کی ’پنجابی فوج‘ کےخلاف مہاجروں اور سندھیوں کو بھرتی نہ کرنے کا یہ پہلا کیس بنتا ہے۔

امن کے بھاشن دینے والا یہ لیڈر کیا واقعی وہ الطاف حسین ہے جس نے کبھی مہاجر عوام کو ٹی وی ’فریج‘ اور ایئرکنڈیشنر جیسی آرام و آسائش کی چیزیں بیچ کر ’اپنے دفاع‘ کےلیے ہتھیار خریدنے کا مشورد دیا تھا۔ میں وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ اپنے بھارتی دوروں کے دوران ایک سے ایک قیمتی لباس اور سوٹ کس نے زیادہ بدلے، جنرل پرویز مشرف نے یا الطاف حسین نے (اچھی اچھی شرٹیں کس نےپہنی) لیکن انہوں نے (الطاف حسین نے) جیسے کہ بہت سے بڑے بڑے بھارتی اخبارات نے لکھا ’شو لوٹ لیا‘۔

لالوکھیت کی عوامی زبان میں ’الطاف بھائی چھا گئے‘۔ اب کے بار وہ اپنے قول واطوار سے بال ٹھاکرے کا ’پاکستانی ورژن‘ نہیں لگے۔

الطاف حسین کیا ہیں؟ اگر مجھ سے ایک جملے میں پوچھا جائے تو میں کہوں گا ’الطاف حسین بہت بڑی فلم ہیں۔ ’مغل اعظم‘ اور ’شعلے‘ سے بھی بڑی۔

پاکستان کے سیاسی تماشوں سے بھری تاریخ میں اگر بھٹو کے بعد کوئی بڑا مداری دیکھنے اور سننے کو ملا تو وہ ہے الطاف حسین۔ الطاف حسین کراچی کے ٹی گراؤنڈ یا نشتر پارک میں ہزاروں انسانی سروں کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے پرشور اور فلک شگـاف نعروں کے سمندر کو فقط تین کی گنتی گننے تک خاموشی کے پکے قلعے میں تبدیل کرسکتے ہیں۔ ( ویسے کسی جلنے والے نے کہا ’شہر خموشاں‘ میں بھی تبدیل کرسکتے ہیں)۔ کونسا لیڈر ہے جو اپنے جلسوں میں اپنے چاہنے والے عوام کی فرمائش پر لطیفے اور گانے بھی سناتا ہے۔

کوئی کہتا وہ اپنے انداز بیان اور ھنر سخن میں بھٹو، مقتدر شیعہ عالم اور مقررعلامہ رشید ترابی، بال ٹھاکرے اور لالو پرساد یادو کی کھچڑی ہیں۔ میں کہتا ہوں ’آپ اپنا تعارف ہوا بہار کی ہے۔‘

سچ تو یہ ہے کہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیاں دوستی اور امن کےلیے ایک بہت بڑا لیکن ‏غیر فلمی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ’خون میں لتھڑی اور نہلائی ہوئی بر صغیر کی تاریخ‘ (جو کہ مجھے فلم پاکیزہ کی ہیروئین کے ٹوٹے ہوئے فانوس کے شیشوں کی ننگے فرش پر جابجا بکھری ہوئی ہزاروں کرچیوں اور ٹکڑوں پر زخمی پاؤں مجرے کی طرح لگتی ہے) کے صفحات میں وہ اپنا نام سنہرے حروف میں لکھوا سکتے ہیں۔

مسلمانان ہند کو سرزمین ہند کاہی بنکر رہنے کے الطاف حسین کے مشورے نے نہ فقط ابوالکلام آزاد کی روح کو مسرت بخشی ہوگی۔ (کاش دنیا کے سارے وہابی ابوالکلام آزاد جیسے ہوتے تو دنیا بڑے امن کی جگہ ہوتی)۔ بلکہ انکی یہ بات اس شعر کی نفی بھی ہے:

مسافر تھے مسافر ھیں مسافر بن کے رہنا ہے
کراچی ہو کہ دلی ہو مہاجر بن کے رہنا ہے

کسی مغل فرمانروا، پرانے لکھنوی بانکے یا عظیم قوال اورایک ہی وقت میں امریکی ریپ گائیک کا گیٹ اپ لیے الطاف حسین وہاں جیت سکتے ہیں جہاں سے جنرل مشرف ناکام لوٹے تھے۔ اگر کچھ بھی نہیں ہوتا تو کم از کم وہ موناباؤ اور کھوکھرا پار بارڈر کھلوانے کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔ یہ ایم کیو ایم ہی تھی جس کے قیام کے مطالبات میں پاکستان اور بھارت کے درمیاں ڈاک خرچ میں کمی کرنے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔

امروہے کے کسی آم کے پرانے پیڑ میں اٹکی ھو‎ئی جون ایلیا کی روح ہمیں بڑی گالیاں دیتی ہوگی۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد