BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 January, 2005, 00:26 GMT 05:26 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
بلوچستان کی داستان
 

 
 
 بلوچ
بلوچستان ، کئی اعتبار سے پاکستان کا نہایت منفرد صوبہ ہے۔ رقبہ کے لحاظ سے یہ ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے جو ایک لاکھ سینتالیس ہزار مربع میل پر پھیلا ہوا ہے یعنی ملک کا چالیس فی صد رقبہ۔ لیکن آبادی اس کی سب سے کم ہے، یہی بہتر لاکھ کے لگ بھگ جو ملک کی کل آبادی کا صرف چار فی صد حصہ ہے-

پھر بلوچستان ، قدرتی گیس ، کوئلہ، سونے، تانبہ اونکس اور دوسری معدنیاتی دولت سے مالامال ہے لیکن اس دولت کے باوجود یہاں کے عوام دوسرے تمام صوبوں کے لوگوں کے مقابلہ میں بے حد غریب اور پسماندہ ہیں-

پھر بلوچستان اس بنا پر بھی منفرد ہے کہ قیام پاکستان کے وقت یہ مشرقی بنگال ، سندھ ، پنجاب اور صوبہ سرحد کی طرح برطانوی راج کا باقاعدہ حصہ نہیں تھا بلکہ سن سینتالیس تک بلوچستان ، قلات ، خاران ، مکران اور لس بیلہ کی ریاستوں پر مشتمل تھا جن پر برطانوی ایجنٹ نگران تھا- ان میں سب سے بڑی ریاست قلات کی تھی جس کے حکمران خان قلات میر احمد یار خان نے قیام پاکستان سے دو روز قبل اپنی ریاست کی مکمل آزادی کا اعلان کیا تھا اور پاکستان کے ساتھ خصوصی تعلقات پر مذاکرات کی پیشکش کی تھی-

خان قلات کے اس اقدام کی دوسرے تمام بلوچ سرداروں نے حمایت کی تھی اور بلوچستان کی علحیدہ حیثیت برقرار رکھنے پر زور دیا تھا-

بلوچستان میں پہلی فوج کشی۔

لیکن پاکستان نے خان قلات کے اس اقدام کو بغاوت سے تعبیر کیا اور پاکستانی افواج نے خان قلات اور ان کی ریاست کے خلاف کاروائی کی آخر کار مئی سن اڑتالیس میں خان قلات کو گھٹنے ٹیک دینے پڑے اور وہ پاکستان میں شمولیت پر مجبور ہو گئے۔ ان کے چھوٹے بھائی شہزادہ میر عبدالکریم نے البتہ قلات کی پاکستان میں شمولیت کے خلاف مسلح بغاوت کی اور آخر کار انہیں افغانستان فرار ہونا پڑا-
یہ پاکستان میں بلوچوں کے خلاف پہلی فوجی کاروائی تھی اور یوں بلوچوں اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی بنیاد کی پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی ثابت ہوئی-

سن تہتر تک پورے پچیس برس تک بلوچستان گورنر جنرل کے براہ راست کنٹرول میں رہا اور وہاں کے عوام اپنے منتخب نمائندوں کی حکومت سے محروم رہے-

سن چھپن کے آئین کے تحت بلوچستان کو مغربی پاکستان کے ایک یونٹ میں ضم کر دیا گیا جس کے خلاف پھر خان قلات کی قیادت میں بلوچوں نے مزاحمتی تحریک شروع کی۔ لیکن ایوب خان کی حکومت نے بلوچستان پر فوج کشی کی اور اس تحریک کو کچلنے کی کوشش کی-
سن ستر میں جب جنرل یحی خان نے مغربی پاکستان کا ون یونٹ توڑا تو بلوچستان ایک الگ صوبہ بنا اور پہلی بار صوبہ کے عوام کو عام انتخابات میں اپنے نمائندوں کے انتخاب کا موقع ملا- بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی فاتح رہی اور سن بہتر میں پہلی بار بلوچستان میں منتخب حکومت قائم ہوئی لیکن یہ دیر پا ثابت نہ ہو سکی-

بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی کی حکومت نے جب داخلی خودمختاری کا مطالبہ کیا تو وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے جن کی پیپلز پارٹی کا اثر صرف پنجاب اور سندھ تک محدود تھا، بلوچستان کے اس مطالبہ کو مرکز سے بغاوت سے تعبیر کیا اور بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی کی حکومت برطرف کر کے اسمبلی توڑ دی اور وہاں گورنر راج نافذ کر دیا-

بھٹو کے اس اقدام کے خلاف بلوچوں نے اپنے سرداروں کی قیادت میں مسلح جدو جہد شروع کی۔ ساٹھ ہزار سے زیادہ بلوچ قبائل چھ سال تک پہاڑوں سے پاکستانی فوج کے خلاف حھاپہ مار جنگ لڑتے رہے اور اپنے دیہاتوں پر فضائی بمباری اور گولہ باری کا سامنا کرتے رہے-

بھٹو کے اقتدار کے خاتمہ تک یہ سلسلہ جاری رہا اور آخر کار جنرل ضیا الحق نے اپنی سیاسی اور فوجی مصلحتوں کے پیش نظر گیارہ ہزار زیر حراست سرداروں اور ان کے چھاپہ ماروں کو رہا کر کے بلوچوں سے صلح کر لی۔

دوسری طرف افغانستان پر سویت فوجوں کی چڑھائی اور وہاں مجاہدین کی مزاحمت کی وجہ سے بلوچ قوم پرستوں کے لیے حالات یکسر بدل گئے اور وہ افغانستان کی ایک بڑی کمین گاہ سے محروم ہوگئے-

بلوچ کون ہیں اور کہاں سے آئے؟

آثار قدیمہ کی دریافتوں سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ بلوچستان میں پتھروں کے دور میں بھی آبادی تھی۔ مہر گڑھ کے علاقہ میں سات ہزار سال قبل مسیح کے زمانہ کی آبادی کے نشانات ملے ہیں۔ سکندر اعظم کی فتح سے قبل بلوچستان کے علاقہ پر ایران کی سلطنت کی حکمرانی تھی اور قدیم دستاویزات کے مطابق یہ علاقہ ُ ماکا ، کہلاتا تھا۔ تین سو پچیس سال قبل مسیح میں سکندر اعظم جب سندھو کی مہم کے بعد عراق میں بابل پر حملہ کرنے جا رہا تھا تو یہیں مکران کے ریگستان سے گذرا تھا۔اس زمانہ میں یہاں براہوی آباد تھے جن کا تعلق ہندوستان کے قدیم ترین باشندوں، دڑاوڑوں سے تھا-

بلوچ کون ہیں اور یہ کہاں سے آئے ہیں اس کے بارے میں مختلف آراء ہیں۔ بعض محقق کہتے ہیں کہ بلوچ آریائی نسل سے ہیں جو البرز کے شمالی علاقوں میں رہتے تھے- کچھ تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ یہ شام کے علاقہ حلب سے نقل وطن کرکے بلوچستان آ کر بسے تھے اور ان کا تعلق در اصل اسرائیل کے دس گم گشتہ قبائل سے ہے-

بعض ریسرچ سکالرز کی رائے ہے کہ بلوچ کیسپئین کے ساحلی علاقہ سے ایران منتقل ہوئے تھے۔ فردوسی کے شاہنامہ میں بلوچوں کا نمایاں ذکر ملتا ہے۔ اور سائیرس کے زمانہ میں بلوچوں کا ایران کے علاقہ کرمان اور سیستان میں زبردست اثر تھا-

بلوچی زبان کا تعلق انڈو یوروپین زبان سے ہے اور اس پر فارسی کی گہری چھاپ ہے اس لیے اس رائے میں وزن ہے کہ بلوچ ایران کے راستہ کیسپئین سے بلوچستان آئے تھے۔

بلوچ لفظ کے بارے میں بھی مختلف آراء ہیں- ممتاز تاریخ دان ہرزفیلڈ کی رائے ہے کہ یہ لفظ مدین کے علاقہ کا لفظ ہے جو برزا واک سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں بلند چیخ۔

بعض تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ بلوچ لفظ بابل کے مشہور بادشاہ بیلوس سے مناسبت رکھتا ہے۔ چند تاریخ دانوں کا تو یہ کہنا ہے کہ لفظ بلوچ سنسکرت کےدو الفاظ سے مل کر بنا ہے ۔ بل یعنی طاقت اور اچ یعنی بلند۔ دوسرے معنوں میں اعلی طاقت ور-

بلوچستان میں بلوچوں کی پہلی مملکت سن چودہ سو ستاسی میں میر چاکر نے براہویوں کو شکست دے کر قائم کی تھی۔ دارالحکومت اس کا سبی میں تھا- لیکن میر چاکر کے رند قبیلہ اور لاشاریوں کے درمیان خانہ جنگی نے اس مملکت کو ملیا میٹ کر دیا-

یہ ستم ظریفی ہے کہ مغلوں کے زمانہ میں براہویوں نے بلوچوں کا تختہ الٹ کر قلات پر اپنی حکمرانی دوبارہ قائم کر لی۔ قلات کا ایک طاقت ور خان میر ناصر تھا جس نے سترہ سو اننچاس سے لے کر اٹھارہ سو سترہ تک حکومت کی اور قلات کی یہی ریاست بعد میں بلوچ قوم کی اہم ریاست بن کر ابھری–

برطانوی راج نے جب بر صغیر کے شمال مغرب میں توسیع پسندی کا بیڑہ اٹھایا اور اٹھارہ سو انتالیس کی پہلی افغان جنگ میں اسے بھاری شکست اٹھانی پڑی تو پسپا ہوتے ہوئے برطانوی فوج نے قلات پر قبضہ کر لیا۔ آخر کاراٹھارہ سو چہتر میں کوئٹہ کے فوجی اہمیت کے علاقہ کا پٹہ حاصل کر کے انگریزوں نے قلات کو آزاد ریاست تسلیم کر لیااور یہی صورت حال قیام پاکستان تک تھی-

بلوچوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کردوں کے ساتھ کیسپئین کے ساحل سے منتقل ہوئے تھے لیکن پیشتر کرد ایران، ترکی ، شام اور عراق میں بکھر گئے اور بلوچ ، ایران ، افغانستان اور بلوچستان میں آکر بس گئے-

ایران میں بلوچوں کا علاقہ جو ایرانی بلوچستان کہلاتا ہے اور جس کا دارالحکومت زاہدان ہے، ستر ہزار مربع میل کے لگ بھگ ہے- بلوچوں کی آبادی ایران کی کل آبادی کا دو فی صد ہے- افغانستان میں زابل کے علاقہ میں بلوچوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے-

یہ امر دلچسپ ہے کہ پاکستان میں بلوچوں کی آدھی سے زیادہ تعداد بلوچستان کے باہر آباد ہے۔ سندھ میں ایک طویل عرصہ تک بلوچوں کی حکومت رہی ہے اور پنجاب کے مغربی علاقوں میں بلوچوں کی بڑی تعداد آباد ہے-

پھر خود بلوچستان میں ایک تہائی آبادی پشتونوں کی ہے خاص طور پر شمالی بلوچستان اور کوئٹہ میں جہاں اکثریت پشتونوں کی ہے- یہی وجہ ہے جب سویت قبضہ کے دوران افغانستان سے بڑی تعداد میں افعانوں نے بلوچستان میں پناہ لی تو بلوچ قوم پرستوں کو بلوچستان میں آبادی کے توازن کے بگڑنے کا شدید خطرہ تھا۔

اب بھی جب بلوچستان کے پشتون اپنے علاقے صوبہ سرحد میں ضم کر کے پختون خواہ کے عظیم صوبہ کا مطالبہ کرتے ہیں تو بلوچوں میں ویسی ہے سخت تشویش پیدا ہوتی ہے جو ستاون سال قبل بلوچستان پر پاکستان کی فوج کشی کے وقت پیدا ہوئی تھی-

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد