BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Wednesday, 26 January, 2005, 13:36 GMT 18:36 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
بلوچ، سیٹلائٹ گوریلے ہیں؟
 

 
 
بلوچ گڈریا حکومت کی نظر میں شر پسند اور میڈیا کے کیمرا شٹر جنگجوؤں کے لیے’سیٹلائیٹ گوریلا‘
آج کا اسلامی جمہوریہ پاکستان کیا ہے ؟ ایک سندھی لڑکی کی بلوچستان کی تانبہ بنتی ہوئی دھرتی پر پاکستانی فوج اور اس کے اہلکاروں کے ہاتھوں آبروریزی !

کاش آپ نے بھی سندھی افسانہ نگار نورالہدیٰ شاہ کا وہ افسانہ پڑھا ہوتا جس میں بلوچستان آپریشن کے دنوں میں تعینات ایک فوجی افسر غالباً تعطیلات پر جب لاہور اپنے گـھر واپس آتا ہے تواپنی محبوبہ کے لیے بلوچی کڑھائی والا کرتا یا شیشے کے کام کی جڑت والی ’ گج‘ تحفے میں لاتا ہے۔

وہ اپنی محبوبہ کو ’غدار‘ بلوچوں کے خلاف اپنی کارروائیوں اور مہم جوئیوں کے قصے سناتا ہے- فوجی افسر کی محبوبہ، جو کہ پنجاب یونیورسٹی کی طالبہ ہوتی ہے بلوچوں کے ساتھ ’پاک فوج‘ کے سلوک کی کہانیاں سن کر ششدر رہ جاتی ہے اور ’ گج‘ کا تحفہ پھینکتے ہوئے کہتی ہے ’مجھے ایسے لگتا ہے جیسے اس کرتے پر جڑے آئینوں کے ان ٹکڑوں میں فوج کے ہاتھوں مارے گئے بلوچوں کے چہرے دکھائی دے رہے ہیں‘۔

میرے جیسے لوگ جو آج بھی انیس سو ستر کی دہا‎ئی میں رہتے ہیں، ان کے لیے جنرل پرویز مشرف کی بلوچستان کے قوم پرستوں کو یہ دھمکی کہ ’ انہیں پتہ بھی نہیں چلےگا کہ وہ کس چیز سے ’ہٹ‘ ہوئے ہیں‘ کو دیکھتے اور سنتے ہوئے میں سوچ رہا ہوں کاش اس جنرل نے حبیب جالب کا شعر سنا ہوا ہوتا:

’ تم سے پہلے بھی جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا
اسکو بھی اپنا خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا‘

اگرچہ یہ انیس سو ستر کا زمانہ نہیں ہے لیکن پاکستانی فوجی حکمرانوں کے بے دستور و با دستور وردی پہنے رکھنے کا شوق انیس سو ستر کی دہائی سے بھی قدیم ہے، اور اب تو جنرل پرویز مشرف کی ’وردی‘ کے ساتھ ساتھ ’ کالابا‏غ ڈیم‘ اور ’ بگٹی‘ بھی گویا ان کے اقتدار کے ’ تین اجزائے ترکییی‘ بنے ہوئے ہیں۔اس دن مجھ سے ایک سندھی واقف کار کہہ رہا تھا ’صدر جنرل پرویز مشرف کا وردی پہنے رکھنا کالا باغ ڈیم بنوانے سے مشروط ہے‘۔

جنرل پرویز مشرف کے ان پاکستانی پیشرو حکمرانوں جن میں ذوالفقار علی بھٹو' جنرل ضیاءالحق اور نواز شریف جیسے حکمران بھی جنہیں ان کی طرح اپنے آپ پر خدا ہونے کا اتنا ہی یقین تھا ان جیسی باتیں کیا کرتے تھے- وہ باتیں کہ جو علوم نفسیات کے کسی بھی شاگرد کے لیےدلچسپی سے خالی نہیں ہیں-

بھٹو نے اپنے زوال اقتدار سے محض ڈیڑھ دن پہلے کہا تھا ’میں نہیں لیکن میری کرسی مضبوط ہے‘ ۔ بھٹو نے بلوچستان میں پہاڑوں پر بلوچی ہلچل کے بارے میں کہا تھا ’اب امریکہ اتنا ترقی کر چکا ہے کہ وہ بلوچستان کی پہاڑورں پر بلوچ گوریلوں کی سرگرمیوں پر سیٹلائیٹ کے ذریعے نظر رکھ سکتا ہے‘۔ ’ اگر میں چاہوں تو تمام اخبارات پر پانچ سال تک پابندی لگا سکتا ہوں اور ان کے ایڈیٹروں اور صحافیوں کو الٹا لٹکا کر کوڑے لگوا سکتا ہوں‘۔ ضیاءالحق نے کہا تھا۔ اور نواز شریف نے جو پاکستان میں طاقت کے ہر منبع اور مرکز سے محاذ آرائی کرتا رہا تھا(سواۓ خدا کے!) ، کہا تھا ’میں محاذ آرائی سے ہی اقتدار میں آیا ہوں‘ ۔اور پھر سب نے دیکھا کہ انکی طاقت و جاہ و حشم کے تمام تر ہیولے مٹی کے مادھو ثابت ہوئے- اسی پر حبیب جالب نے کہا تھا:

’ کوئی ٹھہرا ہے جو لوگوں کے مقابل تو بتاؤ‘

ایسی باتیں صرف ’سرکار بہادر‘ کو زیب نہیں دیا کرتی تھیں لیکن ’سردار بہادر‘ بھی ایسی بڑھکوں میں پیچھے نہیں ہٹے- سندھ کے بلوچستان کی سرحد پر ضلع جیکب آباد کے کندھکوٹ سے میرا یار مختیار شاہ مجھے اپنی انیس سو ستر کی یادداشتوں سے بتاتا ہے کہ تب اپنی انتخابی مہم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئےایک بلوچ سردار نے کہا تھا:

’ گنوکہ (‏غیر بلوچ کیلیے تضحیک آمیز بلوچی لفظ) کے قتل کا خوں بہا کیا ہے؟ ایک کالے خچر کی پشت پر رکھی ہو‎ئی جوؤں کی بوری، لیکن بلوچستان کے سب سردار اسی طرح نہیں تھے- کچھ وہ بھی تھے اور ہیں جنہیں دیکھ کر لیبیا میں اطالوی استعماریت کے خلاف لڑنے والا بوڑھا باغی عمر مختیار یاد آتا ہے اور کچھ ایسے بھی جنہیں دیکھ کر لگے کہ انتھونی کوئین ’عمر مختار‘ کی ایکٹنگ کر رہا ہے۔

اگرچہ اسی بلوچستان میں قوم پرست رہنماؤں اور کارکنوں کی وہ نسل بھی اکبر بگٹی کی طرح کب کی بوڑھی ہوچکی ہے لیکن ان کا ان کے عوام اور دھرتی کے ساتھ وفاق اور پاکستانی ریاست کے ہاتھوں ہونیوالی زیادتیوں پر اٹھنے والا غصہ اور زخم ایسے جوان ہیں جن پر یہ شعر یاد آتا ہے کہ عقاب اگرچہ بوڑھے بھی ہوجائیں لیکن ان کی پہاڑوں کو اپنی جگہ سے ہٹانے کی خواہش اپنی جگہ موجود رہتی ہے۔ یا وہ شعر کہ جو کسی سندھی شاعر نے سندھی قوم پرست رہنما جی ایم سید کے لیے کہا تھا: ’غیرت کے زندان کے قیدی شیر او بوڑھے تیری قسم!‘

ہاں وہ انیس سو ستر کا زمانہ تھا جس میں پاکستانی فوج کے ہاتھوں مارے جانے والے بلوچ سردار لونگ خان نصیر اور بلوچی قومی شاعر گل خان نصیر کا بھتیجا انیس سو نوے کی دہائیوں تک اسی فوج کا کور کمانڈر بنا- کل کے گوریلے صوبے کے گورنر بنے- اور کل کا گورنر آج کا ’باغی سردار‘! کل جب بلوچستان میں فوجی آپریشن جاری تھا اور اکبر بگٹی صوبے کا گورنر تھا تو حبیب جالب نے کوئٹہ میں ہی یہ شعر پڑھا تھا:

سنو بھائی اکبر بگٹی
میں بات کہوں یہ چبھتی
یہ جہموریت کی تحریک
گولی سے نہیں دبتی

پاکستان میں کسی بھی سیاسی لیڈر (سوائے بھٹووں کے آپ کہہ سکتے ہیں) اور قوم پرست رہنماؤں نے اپنے بیٹے اور بھائی تحریکوں کی نذر نہیں کیے لیکن بلوچستان کے ان ’باغی سرداروں‘ کے لیے آپ کہہ سکتے ہیں کہ جب بھی بلوچستان کی دھرتی پر تاریخ کی کٹھور گھڑی آئی تو بلوچستان کے ایسے سردار اور رہنما بھی تھے جنہوں نے اپنے آپ بمع اپنے بھائیوں اور بیٹوں کے پاکستانی فوج اور اسکی ایجنسیوں کے ’چڑھاوا‘ چڑھایا۔ سردار نوروز خان اور اسکے ساتھی لونگ خان نصیر اور عطاءاللہ مینگل کی مثالیں موجود ہیں-

بھٹو حکومت کے دنوں میں ٹکا خان کی زیر کمان فوجوں کی بلوچستان میں
کارروا‎ئی کے دوران عطاءاللہ مینگل کے بیٹے اسدا للہ مینگل کو فوج کی مبینہ ایجنسیوں نے اغواء کر کے گم کردیا تھا جس کی آج تک لاش نہیں ملی۔

بلوچستان کے پہاڑوں پر لڑنے والے بھی تو میرے بیٹے ہیں۔ کراچی کے جناح ہسپتال کے دل کی بیماریوں کے شعبے میں زیرعلاج مگر نظربند مینگل نے کہا تھا-ان ترقی کے دشمن اور ’استحصالی‘ سرداروں کی اپنی دھرتی اور لوگوں کے ساتھ وابستگی اور وارفتگی کوئی مارکسی فلسفہ اور لبرلزم نہیں سمجھا سکتا، چہ جائے کہ ایسے سرداروں کے جلسوں اور دیگر نشست و برخواست میں ڈاکٹر حئی بلوچ یا کبھی جام ساقی جیسے لوگوں کی قربت سے انکے سوٹوں اور ماتھوں پر شکنیں ضرور پڑتی تھیں-

نچلے طبقوں سے آنے والے بلوچ قوم پرست رہنماؤں اور کارکنوں کی کم از کم وہ دو نسلیں جو انیس سو ستر کی دہائی سے بعد کی پیداوار ہیں اور جن پر جدید بلوچ قوم پرستی اور خیالات کا اثر ہے، وہ بلوچی عوام کے ساتھ ہونیوالی زیادتیوں کے ’حال‘ پاکستان کی پارلیمان ہو کہ کوئٹہ کے قہوہ خانے یا مری، بگٹی کوہلو کے پہاڑ، ہر جگہ اپنے اندر میں آتش فشاں رکھتے ہوئے بھی کاریزوں کے پانیوں کی طرح سناتے رہے ہیں-

یہ نسل یہ شعر سن کر جوان ہوئی ہے:

تو پہ کشک دستاں مدار، ماہم ترا بستہ کفن

اور پھر بلوچ جلاوطنوں کی وہ نسل ہے جو کل کے مشرقی یورپ میں پڑھی اور جوان ہوئی، بلوچ قبائلی اور ان کے سردار کہ جن کی تاریخ و ثفافت کردوں اور قدیم امریکی باشندوں سے ملتی جلتی ہے اور عبدالعزیر بلوچ سے لے کر قادر بخش نظامانی کے افکار اور نظریات کے پھوٹتے سوتوں سے پروان چڑھتی ہو‎ئی جدید بلوچ قوم پرستی کا درخت-

اگر چہ کسی بھی بندوق بازی کو کم از کم میرے جیسا آدمی تو جائز قرار نہیں دے سکتا جو اپنے مرشد کامیو کے اس قول پر یقین رکھتا ہے کہ میں سیاست میں اس لیے حصہ نہیں لے سکتا کہ میں اپنے مخالف کی موت نہیں دیکھ سکتا لیکن پاکستانی فوج نے اس خطے میں سکیولر اور ترقی پسند بلوچوں کے ساتھ ایک نیا محاذ کھول کر تاریخی طور اڑتا تیر اپنی طرف کر لیا ہے-

ایک خاتون ڈاکٹر کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام کا داغ چھپانے کے لیے بلوچستان میں فوجوں کی مزید کمک بھیجتے ہوئے اور اس پر شیخ رشید جیسے بنیادی طور سیاسی جگت بازوں سے گوئرنگ اور گوئبلز کی زور دار خطابت والے بیان دلوانا محض چھوٹے صوبوں کے عوام کے احساسات کی آبروریزی کے مترادف ہے۔ شیخ رشید کہ جنھوں نے کچہ عرصہ قبل کالابا‏غ ڈیم کی مخالفت کے حوالے سے جامشورو کو سندھ کا اسٹالن گراڈ قرار دیا تھا سے کوئی پوچھے کہ اس سے پہلے لاہور کہ جسے ’ تو ہے اسٹالن گراڈ اس سرزمین پا ک کا‘ کہا گیا تھا، کیا ہوا؟

مجھے ڈر ہے کہ اگر جنرل مشرف اور ان کے دربار ميں کورنش بجا لانے والوں کی ایسی بڑھکیں اور کور کمانڈروں کی سندھ اور بلوچستان کے بارے میں انیس سو ساٹھ اور ستر کی دہائیوں والی سوچ اور تعصبات جاری رہے تو پھر تاریخ نے طارق علی کی کتاب ’ کیا پاکستان باقی رہ سکتا ہے‘ کے عنوان کا جواب اس مرتبہ نفی میں دینا ہے- اگر یہ اکیسویں صدی کی سرزمین پاک انیس سو نوے کے اسٹالن گراڈ یا روس نہیں بنے تو پھر خطے میں دہشت گردی کیخلاف امریکی جنگ میں مصروف کار ہونے کی دعویدار پاکستانی فوج کو خطے میں ترقی پسند، سیکولر اور بنیاد پرستی مخالف لیکن جنگجو بلوچوں اور پرامن اور صوفی مزاج سندھیوں سے میانہ روی اور انصاف کا راستہ اپناناہوگا۔ میرے برعکس’ بقول شخصے‘ بلوچ بھی اب انیس سو ستر کی دہائی میں نہیں رہ رہے۔

لیکن میں نے پورے پاکستان کوگرم و روشن رکھنےوالے سوئی میں ان بلوچ گڈریوں کو دیکھا ہے جو اپنے ایک کاندھے پر ڈالے کپڑے کی گرہ میں گندھا آٹا اٹھائے پھرتے ہیں اور دوسرے میں رائفل۔پھر پہاڑی پتھروں میں وہ گندھا ہوا آٹا ڈال کر آج بھی پتھروں سے آگ جلاتے اور روٹی پکاتے ہیں- اس بلوچ کے لیے اوپر خدا اور دھرتی پر صرف اسکا شیکسپیئر پرگھنٹوں باتیں کرنے والا ’ نواب صاحب‘ ہے جو اس کے لیےخود ’حکومت‘ ہے-

اس بلوچ گڈریے کو اس علاقے میں نہ تو پٹ فیڈر کینال نکلنے سے آج تک فائدہ ہوا اور نہ ہی سوئی میں گیس نکلنے سے- اپنی بیگناہی کا ثبوت دہکتے انگاروں پر دینے والے اس بلوچ گڈریےکی زندگی میں’ بقول شخصے‘ اگر کو‎ئی دور جدید کی نشانی ہے تو وہ اسکی آٹو میٹک رائفل۔ اور یہی فوٹوجینک بلوچ گڈریا اسلام آباد کی حکومت کی نظر میں شر پسند اور تخریب کار ہے اور میڈیا کے کیمرا شٹر جنگجووں کے لیے ’سیٹلائیٹ گوریلا‘۔

اور پھر ایسی صورتحال میں آزاد بلوچ تو آ ہی جاتے ہیں!

 
 
اسی بارے میں
بلوچستان کی داستان
22 January, 2005 | قلم اور کالم
قانون اور سلامتی کے نئے پردھان
12 January, 2005 | قلم اور کالم
انسان کے ساتھ مدر نیچر کا ہاتھ
03 January, 2005 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد