BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Monday, 04 April, 2005, 15:38 GMT 20:38 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
’بھٹو ضیا کے پہلے قیدی تھے‘
 

 
 
وہ ظالم میرے بچپن کی محبت تھا- وہ بھٹو تھا- میں نے بجپن میں جب ہوش سنبھالا تو اپنے شھر میں اپنے گرد نئی ’پی پل پارٹی‘ کے ترنگے پرچم، سائن بورڈ، بینر، بلے، جلسے، جلوس دیکھے اور جیوے بھٹو جیسے نعرے سنے- تب میری عمر نو اور ’پی پل پارٹی‘ کی تین سال تھی۔

یہ وہ دن تھے جب میرے ہم جولی، سنگی ساتھی میرے گھر والی گلی میں کنچے، گِلی ڈنڈا، اور ’پٹھو گرم‘ کھیلتے پورا محلہ سر پر اٹھا‎ئے رکھتے اور میں گـھر کی اوپری منزل جسے میری بالائی سندہ میں بولی جانیوالی سندھی میں 'کوٹھا' کہتے ہیں، کی کھلی کھڑکی سےگلی میں کھیلتے بچوں کی باتوں اور گالیوں، قریب میں پڑوس والے گھر میں ساس بھہو کے مھا بھاری قسم کے جھگڑوں، گلی میں سے گذرتے با تیں کرتے ہوئے جاتے مردوں اور عورتوں کی باتوں کو غور سے سنا کیا اور انکی حرکات و سکنات کو کو گھنٹوں نوٹ کرتے رھتا-

یھی میرے بچپن کے کھیل تھے- پھر ایک دن ایسا ہوا کہ اسی گلی سے جلوس گذرنے لگا جسے ہم ’جلسہ‘ کہتے تھے- لوگ ’پیپل پارٹی‘ کے ترنگے اٹھائے جیوے بھٹو کے نعرے لگاتے، اور ان نعروں پر تالیوں کی تال پر سندھی جھمر (رقص) کرتے جارھے ہیں-

’قاعد عوام ذولقفار عل بھٹو زندہ آباد،‘ ’قخر ایشیا زندہ آباد‘ ’جیوے جیوے کھیر پیوے‘جیسے نعرے- میں بھی وہاں سے جاتے اس ہجوم کے پیچھے ھو لیا- اس سے پہلے بھی بچے اور لوگ تب کسی کے پچھے لگے جاتے تھے جب پولیس والے کسی شخص کو پکڑ کر تھانے لیے جاتے (ہم بچے ہر پکڑے جانے والے شخص کو ’چور‘ کہا کرتے) یا پھر کوئی غیر ملکی سیاح اور کبھی کبھی سیاحنی وہاں سے گذرتے، ہم ہر ‏غیر ملکی کو انگریز کھتے پھر وہ چاہے کوریائی ھو کہ جاپانی- فوجی اور پولیس والے کو سلام کرتے اور ان سے ہاتھ ملاتے اور اگـر کوئی پٹھان یا ہمارا کوئی ٹیچر دور سے آتے دیکھتے تو بھاگ کر چھپ جاتے۔

اس سے پہلے ہم نے وہاں سے صرف چودہ اگست اور تئیس مارچ والے جلسے دیکھے تھے- یا پھر ایک اور جلوس جو عجیب اور اچھا تو لگا تھا لیکن انھی پولیس والوں نے ہمیں ڈانٹ کر گھر میں چلے جانے کو کہا تھا جو ہم سے بڑے تپاک سے ہاتھ ملاتےتھے تھے اور جنہیں ہم وہاں سے گذرتے سلام کیا کرتے تھے-

یہ جلوس ہائی سکول کے بڑے لڑکو ں کا تھا جن سے ہم ہر وقت متاثر ہوا کرتے تھے اور وہ دکانیں بھی بند کرواتے جارھے تھے اور تب کے صدر ایوب خان کے خلاف نعرے بھی لگاتے جا رھے تھے اور ’ذوالفقار علی بھٹو زندہ آباد‘ بھی کہتے جاتے۔ میں نے تب سمجھا تھا کہ شاید یہ ذوالفقار علی بھٹوا نکے ہیڈ ماسٹر کا نام ھے کیونکہ ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر بھی ’بھٹو صاحب‘ کہلاتے تھے لیکن یہ اور بھٹو تھے-

یہ ’ہائی سکولی‘ ایک اور نعرہ بھی لگا رھے تھے ’چمجہ گیری نہیں چلے گی۔‘
لیکن ہائی اسکولیوں کے کافی دنوں بعد یہ جو وہاں سے گذرنے والا نیا ’جلسہ‘ تھا۔ اس میں سب دیکھے بھالے لوگ تھے جو اب ’جیوے جیوے‘ کی تال پر جھمر کرتے اور نعرے لگاتے گذرے تھے- ’کسان کا قاعد بھٹو ھے‘، ’مزدور کا قاعد بھٹو ھے‘۔

اس میں ریڈیو ساز باغ علی بھی تھا تو میرا بس کنڈکٹر سابق فوجی ماموں خادم حسین شہر کا سماجی کارکن اور دو میں سے ایک شعلہ بیان مقرر اور سابق تھیٹر اداکار محمد خان ( یہ تھیٹر کا وہ زمانہ تھا جب ہیروئین کا رول لڑکے ادا کیا کرتے۔ا س تھیٹر کے مرحوم اور پردیسی ڈائیریکٹر کی قبر پر ہم نے یہ کتبہ دیکھا ’جلتے ھیں ارمان میرا دل روتا ھے، قسمت کا دستور نرالا ھوتا ھے)‘۔

سائیکلوں کے مستری اعظم اللہ ڈنو، اور قریبی شہر کے بڑے راج مستری جالندھری محمد حسین، سیٹھ فتح محمد سموں اور میرے پہلی جماعت کے اور پسندیدہ استاد عبدالرحمان اس ’جلسے‘ میں شامل ہوتے- اور کبھی کبھی اس جلسے میں ترنگوں اور بینروں سے سجی پرانی ویلیز جیپ بھی ھوتی-

یہ جلوس مارکیٹ چوک پر اختتام کو پہنچتا اور میرے لیے زیادہ دلچسپی والا پارٹ اس میں ہونیوالی تفریریں اور شعروشاعری ہوتی- جب راج مستری لہک لہک کر پڑھتے ’اٹھو میری دنیا کے ‏غریبوں کو جگادو، کاخ امرا کے درو دیوار ہلادو' یا پھر ’شاہ مردا ں شیر یزداں‘ وغیرہ وغیرہ-

میرے ماموں خادم حسین کے ہاں اب روزنامہ ’مساوات‘ اور ’نصرت‘ اور ’القتح‘ جیسے جریدے آنے لگے جن کا میں باقاعدہ قاری ھو چکا تھا- میں نے کچھ ’شرفا‘ سے سنا کہ شہر کے تمام لچے لننگے، ’بھنگی چرسی‘، ’شرابی کبابی‘ ناٹکی کاٹکی، چور اچکے، ناچ گانے والے اور مکھن شاہی نئی ’پیپل پارٹی‘ میں جانے لگے ہیں- یہ خانہ بدوش (جو اب اکثر خانہ بدوش نہیں رہے)۔ مکھن شاھی قبیلہ فقط بالائی سندہ کے گھوٹکی اور اسکی سرحد پر واقع جنوبی پنجاب کے رحیم یار خان اضلاع میں ملیں گے-

کچھ سخت بھٹو مخالف تو یہ نعرہ بھی لگانے لگے تھے مثلاً یہ کہ 'سو سے زیادہ مولویوں نے فتوی دیا ھے بھٹو کافر ھے- اور سوشلزم کا مطلب ھے بھائی کی بہن سے شادی۔ مگر یہ میرے شہر کے ’اوائیلی پیپلیے‘ سبھی کے۔ٹو کی دُھن میں مگن، کے مصداق اپنی پارٹی اور بھٹو کے جنون میں رھے-

مجھے انکے نعرے، انکا ناچ گانا اور تقریریں اچھی لگیں- مجھے جو جیب خرچ ملتا اس سے پی پی پی کے سنہری اور رنگین ’بِلے‘ خریدتا اور سینے پر لگا کر گھومتا- میرا بھی دل کرتا کہ میں بھی سرگرم جیالوں کا حلقہ بگوش ہوجائوں- پھر میں نے ان لوگوں سے انکے ایک جلسے میں گذارش کی کہ میں بھی شعر پڑھوں گا- میں نے تب پی پی پی کے اخبار ’ہلالِ پاکستان‘ میں چھپا ھوا پتہ نہیں کس کا شعر بڑے جوش و خروش سے پڑھا:

گھوٹ گولین ماں بچایو ملک جے مالک جبار
قوم جو لیڈر سچو آھے برابر ذوالفقار

(خدا نے اس دولہے کو گولیوں سے بچایا، قوم کا یہ سچا رہنما ذوالفقار علی ہے)

بس پھر کیا تھا پی پی پی کے ہر جلسے جلوس اور انیس سو ستر کے انتخابات کی مہم میں میری تقریروں اور شعربازی کی مانگ ھونے لگی- مجھے میرے بڑے جیالے ’ننھا مجاھد‘ کہنے لگے- لوگ مجھے راستے میں روک کر بھٹو پر شعر یا تقریر کی قرمائش کرتے-

اب رمضان کے آخری دن آنے لگے اور میں نے جیب خرچ میں سے پیسے بچاکر بھٹو کو بھیجنے کےلیے عید کارڈ خریدا جس پر تمام اسلامی ملکوں کے جھنڈے تھے- یہ میرا آجتک کسی کو بھیجا جانے والا پہلا اور آخری عید کارڈ تھا- میں نے پی پی پی کے باغ علی سے بھٹو کا پتہ مانگا- ’جناب ذوالفقار علی بھٹو ستر کلفٹن کراچی،‘ اس نے ایک عا‏غذ کے پرزے پر لکھ کر دیا-

عید سے ایک صبح قبل میں اپنے ابا کے ساتھ خیر محمد کی دکان پر بال کٹوانے کےانتظار میں بیھٹا تھا- لوگ سر کے بڑے بال رکھنے کو ’بھٹو کٹ‘ کہتے- خیر محمد کی دکان کی دیواروں پرلگے شیشے کے فریموں میں ایوب خان کی اپنی اہلیہ کے ساتھ تئیس مارچ کی تقریب میں بگھی میں سے فوجی پریڈ کی سلامی، اور جنرل موسی خان اور یحیٰ خان کی تصویریں تھیں۔

خیر محمد کی دکان کے باہر سڑک پر سے گاڑی پر بندھے لاؤڈ سپیکر سے اعلان ھورھا تھا کا عید کے روز ذوالفقارعلی بھٹو شہر میں پرا‏ئمری سکول کے سامنے والے میدان میں جلسۂ عام سے خطاب کریں گے- یہ میرے شہر کے بہت سے لوگوں کے لیے ’ڈبل عید‘ تھی- ظاھر ہے مجھے تو نظم پزھنا یا تقریر کرنا ھی تھی-

'مرحبا صد مرحبا شانِ گلستان ذوالفقار، مرحبا اے شمعِ زینت فروزاں ذوالفقار، وغیرہ وغیرہ- یہ دسمبر کی رات لاکھ لوگوں کا مجمع تھا۔ ابھی ذوالفقارعلی بھٹو کی آمد کا دور دور تک پتہ نہیں تھا- پھر جب آدھی رات بھی گذر چکی تو بھٹو کی آمد کا اعلان ھوا- وہ واقعی سندہ کا رانو تھا جو نیم شب کا راگ 'رانو' دن کو سنا کرتا تھا-

انتہائی خوش شکل اور خوش لباس حسین و وجیہہ مرد- گیسو دراز ذہین و فطین بھٹو- یہ ہزاروں لاکھوں لوگ اسے سننے سے زیادہ قریب سے اسے دیکھنے اور چھونے میں میں دلچسپی رکھتے تھے- بالکل ایسے جیسے وہ کسی غیر ملکی سیاح یا بھولے سے وہاں سے گذرنے والے فلمی ستارے پر رشک کیا کرتے تھے- اس دھکم پیل میں بھٹو ناراض ھوکر مائیک چھوڑ کر روانہ ھوئے-

’عجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیراں کرگیا وہ‘

پھر اگـلے سال اسی دسمبر کی ایک شب میں نے اسے اپنے پڑوسیوں کے ریڈیو پر سنا- اب وہ آدھے ملک کا صدر اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر تھا اور اپنی قوم سے خطاب میں کہہ رھا تھا: ’یہاں تک کہ میرے بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا- مجھ پر قاتلانہ حملے ہوئے- اور اب تک میری پیٹھ پر پولیس کے لاٹھی چارج کے نشانات موجود ھیں- آئيں اور اب ایک نئے پاکستان کا آغاز کریں- ایک نیا پاکستان، عوام کا پاکستان۔‘

لیکن بھٹو سے میری بچپن کی محبت کا خون ھوتا میں نے ’القتح‘ جیسے جریدوں کے سرورق پر لانڈھي اور کورنگی کے مزدوروں کے لہو لہان جسموں اور لاشوں کی تصویروں کی صورت دیکھا جب بھٹو کی حکومت کے چند مہینوں بعد مزدورں کا قتل اور انہیں جلتی تیل کی کڑھائیوں میں پھینکے جانے کی خبریں آئیں- وہ دن اور آجکا دن بھٹو سے میری محبت ہوا ھوئی- ساحر کے اس شعر کے ساتھ کہ ’اے رہبر قوم و ملک بتا یہ کس کا لہو ھے کون مرا۔‘

بھٹو کی پی پی پی کو شھر میں متعارف کروانے والوں میں سے محمد خان بھی پیپلز پارٹی ہی کے ان بہت سے رہنمائوں اور کارکنوں میں سے ایک تھے جو بھٹو حکومت کے زیر عتاب آئے اور قیدی بنے- اور پھر پانچ جولائی انیس سو سستتر تک بھٹو کا دور پاکستان میں لاٹھی گولی کے راج کا دور تھا- بغیر وردی کے مارشل لاء کا دور- ہر کمال کے بعد ایک زوال اور ھر بھٹو کے پیچھے ایک کوثر نیازی (اور ہر پرویز مشرف کے پیچھے شیخ رشید!) ہوا کرتا ھے-

لیکن پانچ جولائی کی شب سے پہلے والے بھٹو اور پانج جولائی کی شب والے بھٹو میں ’بقول شخصے‘ صرف دن رات کا نہیں تاریخ کا فرق تھا- اب وہ اور پاکستان کے عوام ایک محسن کش فوجی جنرل کی سازش کا شکار ہو چکے تھے- اپنی طاقت کے نشے میں ’جی حضوریوں‘ اور مخبروں کے گھیرے میں عوام سے تنہا ہونے والا بھٹو عوام میں واپس تو آ چکا تھا لیکن وہ ضیاءالیحق حکومت کا پہلا قیدی تھا جو پیپلز پارٹی کے بقول عدالتی قتل کا شکار بنا۔ گڑھا تو اس کے لیے ضیاءالحق سے پہلے اسکے سندہ اور پنجاب کے غلام مصطفی جتوئی اور صادق قریشی جیسے وزرائے اعلیٰ کھود چکے تھے جنھوں نے اسے انیس سو ستتر میں ’بڑی اکثریت سے جیت‘ کی نوید سنائی تھی-

’ہمارے کسی نوکر کو بھی کسی جرم میں سزا نہیں ھوئی اور ذوالفقار علی بھٹو جیسے آدمی کو قتل کے مقدمے میں سزا ھوئی۔‘ یہ ذوالفقار علی بھٹو کی پہلی بیگم ‏شیریں امیر نے مجھے ایک انٹرویو میں بطور تاسف کہا تھا-

’درداں دی ماری دلڑی علیل ہے‘ سرائیکی کا یہ مصرع بھٹو نے اپنی سزائے موت کی اپیل سننے والی سپریم کورٹ کے سامنے اپنی دفاعی تقریر میں پڑھا تھا- بھٹو نے اپنی اسی تفریر میں پارٹی کے کارکنوں کی قذاقی سٹیڈیم میں پولیس کے ہاتھوں لاٹھی چارج کے دوران بیيگم نصرت بھٹو کے زمیں پر گرتے ہوئے خون سے اپنی چادریں رنگنے کی بھی بات کی-

بھٹو کی سپریم کورٹ کے دفاعی تفریر سننے کے لیے اس کے مقدمے کی سماعت کے دوران موجود رہنے والے قاضی عابد بھی بعد میں جاکر ضیاءالحق کے وزیر بنے-

سپریم کورٹ میں بھٹو کی سزائے موت برقرار رکھے جانے والے فیصلے سے اختلاف کرنے والے واحد جج جسٹس دراب پٹیل نے اپنے آخری دنوں میں میری ایک صحافی ساتھی کوایک انٹرویو میں ذوالفقارعلی بھٹو کیس کی اندرونی کہانی سے پردہ اٹھایا تھا-

جسٹس دراب پٹیل کے اس انٹرویو کی یہ ٹیپ میری ساتھی صحافی نے مجھے بھی سنائی کہ کس طرح چیف جسٹس انوارالحق نے دوران سماعت انھیں (جسٹس دراب پٹیل کو) محتاط رھنے کا 'مشورہ' دیا۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد