BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 05 July, 2005, 02:54 GMT 07:54 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
’پانچ جولائی محض ایک تاریخ نہیں‘
 

 
 
ضیا الحق
بھٹو نے ضیا الحق کو کئی جرنیلوں پر سبقت دے کر آرمی چیف بنایا تھا
پانچ جولائی۔ یہ صرف دیوار پر لگے کیلنڈر پر جولائی کےمہینےکی ایک تاریخ ہی نہیں۔ یہ کچھ کے لیے نسیم صبح بہار تھی توکچھ کے لیے ایک بھونچال تھا۔ جیسےمیرے شاعر دوست حسن درس نےلکھا ہے کوئی کوئی دور آدمی کے حلق میں پھرتی تلواروں جیسا ہوتا ہے- یہ دور مور کے پاؤں تھا یا چور کے پاؤں۔ میں نے اسکے پیروں کے نشانات وہاں سے اٹھائے ہیں جہاں سے یہ دور شروع ہوا تھا۔ یعنی پنڈی (راولپنڈی) سے۔

ایک ایسا دن جس پر مٹھائیاں بھی بٹيں تو چھولے بھی بٹے تھے۔ کسی کے لیے جیلوں کے دروازے کھلے تو کسی کے لیے بند ہوئے تھے۔ بالکل اسی گانے کی طرح ’آج کسی کی ہار ہوئی ہے اور کسی کی جیت‘۔ یہ پاکستان میں ضیاء الحق اور ان کے مارشل کی آمد کا دن تھا۔ ’سب ٹرپل ون برگیڈ یا گیارہ کور کا کرشمہ ہے‘، مجھے کوئی کہہ رہا تھا-

ریڈیو، ٹی وی سٹیشنوں، وزیر اعظم ہاؤس اور پارلیمان ہاؤس پر قبضہ اور پھر یہ آواز: ’میرے عزیز ہم وطنو! اسلام و علیکم‘۔ جیلوں کے پھاٹک وا ہوگئے تھے، ہتھکڑیاں گـنگنانے لگی تھیں اور پھانسی کی رسیوں پر مکھن ملا جارہا تھا-

پاکستان میں ہر آدمی اور ہرگھر کے پاس اس دورِ پر آشوب کے متعلق ایک ذاتی یاد داشت اور ایک ذاتی قصہ کہانی ضرور ہے- یہ وہ دور تھا جب ایک پوری نسل اپنی کمر پر کوڑے کھانے کے لیے ’میڈیکلی فٹ‘ قرار دے دی گئی تھی-

ننگی پشت سے بھی نیچے کی ادھڑتی کھال اور گوشت سے بہتے ہوئے خون والا کوئی سیاسی قیدی جلاد کو گـالیاں دیکر کہتا تھا- مارو!

’لڈی ہے جمالو پاؤ لڈی ہے جمالو‘ اسی دور کی فلم ’صاحب جی‘ کا گانا تھا- اس نسل نے اپنے آپ کو ’لڈی ہے جمالو‘ میں گـم کردیا تھا اور پھر ایسی راہ پر چل پڑے تھے جو تلوار سے تیز اور بال سے بھی نرم تھی-

شاید ایسے سفر کو ہی’جو راہ ادھر کو جاتی ہے، مقتل سے گذر کر جاتی ہے‘ کہا گیا تھا- کہنے والوں کی زبان میں یہ ’سرمے والی سرکار‘ کا دور شروع ہوا تھا۔ یہ ضیاء الحق تھے۔ ’تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو۔‘

ویسے میرا خیال ہے کہ بر صغیر نے اورنگزیب اور رنجیت سنگھ کے بعد ہی ایسا حاکم دیکھا ہوگا- اگر وہ حضرات بھی 1977 میں ہوتے تو چیف مارشل لا ایڈ منسٹریٹر کہلاتے-

’ظل سبحانی‘ جنرل محمد ضیا‏ء الحق کا یہ دور وہ ’کمبل‘ ہے جس کو پاکستان تو چھوڑ چکا لیکن وہ آج تک پاکستان کو نہیں چھوڑتا- ’مارشل لا بھنگ‘، ان دنوں پنجاب سے بھونے ہوئے پتوں والی بھنگ کو کہا جاتا تھا- اس کا نشہ انقلاب کے نشے سے زیادہ زور آور تھا-

مجہے نہیں معلوم کہ حیدرآباد سندھ میں پکے قلعے کے صدر دروازے پر لگا ہوا ضیاءالحق کا کٹ آؤٹ اب بھی موجود ہے یا نہیں لیکن وہاں ایک ’قیوم چریا‘ نامی شخص ضیاالحق کا زبردست مداح تھا جو سنہ انیس سو پچاسی کے غیر جماعتی انتخابات میں ایم پی اے بھی بنا۔ اس نے کہا تھا کہ اگر جنرل ضیاء نے ملک سے مارشل لا اٹھا دیا تو وہ اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دے دے گا- لیکن ہنسی بھول جانے والے اس عہد میں ہنسنے کی جو چیزیں ہوتی تھیں وہ قیوم چریا کی تقریریں ہوا کرتی تھیں۔

نیاز سٹیڈیم میں کالے خان کو چینی کی بلیک مارکیٹنگ کے الزام میں سرعام کوڑے لگائے گئے جسے دیکھنے کے لیے ہزاروں لوگ آئے اور انہوں نے یہ مناظر بھی ویسے ہی دیکھے جیسے وہ وہاں کرکٹ کے میچ دیکھا کرتے تھے۔

سٹیڈیم میں ٹنگی ٹکٹکی پر اوندھےمنہ شلوار گھٹنوں تک اتری ہوئی۔ کالے خان کے منہ کے آگے لاؤڈ سپیکر فٹ کیے گئے تھے اور جلاد جب اسے کوڑ ے مارتا تو کالے خان کی چیخیں کسی ذبح ہوتے ہوئے بکرے کی رونگٹے کھڑے کرنے والی آواز کی طرح سارے سٹیڈیم میں پھیل جاتیں۔ لوگ اس پر ’نعرۂ تکبیر‘ ’مرد مومن مرد حق، ضیاء الحق‘ اور ’اسلام زندہ باد‘ کے نعرے بلند کرتے۔

کہتے ہیں کہ کالے خان اور اس وقت کے مارشل لا انتظامیہ کے افسر کی رشوت کی رقم پر آپس میں نہیں بنی تھی۔ پر نانگو لین کوٹری کے میخانے میں چرس کی چلم پیتے ہوۓ ’فقرا‘ کہتے کہ ’تھانیدار غلام علی خان نے کیس کے کاغذات ہی ایسے بنائے ہیں کہ کالے خان چھوٹ ہی نہیں سکتا۔

کالے خان تو کیا صحافیوں سے لیکر نابینا عورت تک سب کو کوڑے لگائے گئے۔ ایسا لگتا تھا کہ پورے ملک کو ’تو کہ ناواقفِ آداب غلامی ہے ابھی‘ اور کوڑوں کی تھاپ پر رقص سکھایا جا رہا تھا۔

بس شیما کرمانی ایک اسی عورت تھی جس نے سچ مچ میں رقص کی جرآت کرلی تھی- کارٹونسٹ فیکا تھا جو ضیاءالحق کے کارٹون بنایا کرتا تھا۔ میں نےخود تو اسکے منہ سے نہیں سنا لیکن مجھے ایک دوست بتا رہا تھا کہ ضیاء الحق کے مرنے پر فیقا نے کہا ’میرے کارٹونوں کے لیے کیریکٹر مرگیا۔‘

گلیاں تو پانچ جولائی انیس سو ستتر کی شب سے ہی سونی ہوچکی تھیں لیکن ان میں کوئی کوئی مرزا یار پھرنے کی ہمت کرتا تھا۔ پنڈی سے مری بریور ی روڈ تو اس سے بھی پہلے بند ہوچکی تھی۔ کہتے ہیں چار جولائی کو اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے میں امریکہ کے یوم آزادی کے موقع پر دیے جانے والے استقبالیے میں چیف آف آرمی سٹاف ضیاء الحق موجود نہیں تھے۔ وزیر اعظم بھٹو نے اپنے سٹاف سے پوچھا تو بتایا گیا کہ وہ کہیں مصروفیت کی وجہ سے شریک نہیں ہوسکے۔

پنڈی لگی وینی آں میں پنڈی لگی وینی آں
میڈا کم سنیارے نال
ماہی گلاں کرے میں سنڑاں سہارے نال

پنڈی میں پیدا ہونے والا میرا دوست خاور مہدی اس پر کڑھتا ہے کہ بہت سے غیر واقف لوگ پنڈی کو صرف جی ایچ کیو، جنریلوں، کرنیلوں، ٹرپل ون، اور سازشوں کے حوالوں سے کیوں جانتے ہیں۔ وہ کہتا ہے راولپنڈی بڑے بڑے 'جگرے والے' لوگوں اور محنت کشوں کا شہر ہے- ان دنوں میری نینڈ میں رہنے والے خاور سے میں نے پاکستان میں ضیاءالحق اور ان کے مارشل لاء پر اسکی اپنی یاد داشتیں پوچھیں تو اس نے کہا: ’ایک عجیب قسم کا احساس زیاں تھا۔ایک ایسا عہد جو میری عمر کے لڑکے لڑکیاں انتظار اور ملنے میں گذار رہے تھے اور جسے میں نے پولیس سے چھپتے گذار دیا- میرے کپڑ ے پنڈی کی دیواروں پر مارشل لا مخالف نعرے لکھتے سیاہی کے دھبوں اور رنگوں میں رنگے ہوتے تھے۔ لیکن مجھے اسپر کوئی پچھتاوا نہیں۔ میں نے اپنا کام کیا۔‘

اور پہر ملک میں اٹھنے والی حکومت مخالف تحریکوں کی شروعات کرنے والے اپنے ’گورڈن کالج‘ کے دنوں میں گم ہو گیا- راجہ انور، ’چاچا‘ صفدر ہمدانی (اس عاشقی میں عزت سادات بھی گئی)، شیخ عبدالرشید (موجودہ وزیر نہیں بلکہ اپنے دور کا ایک اور طالبعلم رہنما جو جب جیل سے رہا ہوا تو اسکا بھٹو سے بھی بڑا استقبال ہوا تھا) خود موجودہ وزیر شیخ رشید احمد-

ضیاء الحق کےانہی دنوں میں لندن میں جلاوطن بینظیر بھٹو کے اپارٹمنٹ کے دوازے پر دستک ہوئی تو دروازہ کھلنے پر وہاں پنڈی کی ایک لڑکی کھڑی تھی اور وہ تھی ناہید خان جس سے بینظیر کی پہلے کوئی ملاقات نہیں تھی- یہ اپارٹمنٹ جہاں نیر حسین ڈار، جام صادق علی، وکٹورشیفیلڈ، بشیر ریاض اور بھٹو برادران ہوا کرتے تھے- جریدہ اور پمفلیٹ نکالے جاتےتھے۔

نیر حسین ڈار مجھے گزشتہ دنوں شکاگو میں بتا رہے تھے کس طرح وہ ضیاءالحق کے دنوں میں چھپتے ہندستان سے لندن پہنچے تھے- پاکستانی سیاسی جلاوطنوں کی ایک پوری نسل ہے جو دنیا کے بہت سے ملکوں میں پھیلی ہوئی ہے- اب وہ ان ملکوں کی ہو گئی ہے۔

مجھے اب کینیڈا میں رہنے والے اسلام آباد کے ایک سابق استاد بتا رہے تھے کہ کس طرح ضیاءالحق کے پاکستان میں انہوں نے غیر ملکیوں سے ہنگاموں میں لوٹی ہوئی ولایتی وہسکی کی بوتل جمعیت کے ایک پرجوش کارکن طالبعلم سے پچاس روپے میں خریدی تھی۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد