BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 30 July, 2005, 16:19 GMT 21:19 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
سیاست سے مذہب کو الگ رکھیں
 

 
 
صدر مشرف نے گزشتہ چند روز میں شدت پسندی سے نپٹنے کے لیے متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے
پاکستان کے صدر جناب پرویزمشرف نے اپنے ملک کے دینی مدارس میں غیر ملکی طلبا کے داخلے پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے اور خیال ہے اس سلسلے میں جلد ہی کوئی قانون بھی آجـائے گا۔ یہ فیصلہ غالباً انہوں نے ان انکشافات کے بعد کیا ہے کہ ان دینی مدارس میں دینی تعلیم کے بجائے فقہ وارانہ نفرت اور تنگ نظری سکھائی جاتی ہے جس سے پاکستان کی بدنامی ہورہی ہے۔

میں جناب صدر کی ذہنی کیفیت کا اندازہ لگا سکتا ہوں۔ صرف فرق یہ ہے کہ جو بات پاکستانی حکمرانوں کو 1980 میں سمجھ لینی چاہیے تھی وہ اب ان کی سمجھ میں آئی ہے اور وہ بھی بعد از خرابیِ بسیار۔ 1992 کے شروع میں بھی جب روسی افغانستان سے گئے پاکستان کے حکمرانوں کو بار بار خبردار کیا جاتا رہا تھا کہ مغربی طاقتوں کی ہدایت پر مذہب کی آڑ میں جو کچھ افغانستان میں کیا جارہا ہے اس کی سزا پورے ملک کوبھگتنی ہوگی لیکن کسی کو بہر سماعت وقت تھا نہ دماغ۔

ایک موقعہ پر سوویت افواج کی واپسی کے بعد بقول شخصے نجیب اللہ نے پیغام بھی بھجوایا کہ آؤ ملکر قومی حکومت بناتے ہیں لیکن اس زمانے میں فوج اور جماعت اسلامی کے رہنما بڑے فخریہ انداز میں کہا کرتے تھے کہ روسی افواج کو ابھی افغانستان سے نکالا ہے اب سویت یونین کو بھی توڑ کے رہیں گے۔ ممکن ہے امریکہ بہادر بھی یہی کہہ رہے ہوں ، ان کی یہ مراد پوری تو ہوگئی لیکن ظاہر ہے ہر چیز کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے ۔یہ کامیابیاں جتنی عظیم تھیں ان کی قیمت بھی اتنی ہی ’ عظیم‘ ادا کرنی پڑ رہی ہے۔

پاکستانی مدرسوں میں اس وقت تقریباً چودہ سو غیر ملکی طلباء زیر تعلیم ہیں
لندن میں دہشت گردی کی حالیہ وارداتوں کے بعد مسلمان رہنماؤں اور برطانوی حکومت کے اہلکاروں کے جتنے بھی بیانات آئے ہیں یا آرہے ہیں ان میں ایک بات پر خاصا زور دکھائی دیتا ہے اور وہ یہ کہ اسلام امن اور سلامتی کا مذہب ہے اور جو لوگ اسلام کے نام پر دہشت گردی کا ارتکاب کر رہے ہیں وہ حقیقی معنوں میں اسلام کے احکامات کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ حالا نکہ اسلام ہی نہیں دنیا کا ہر مذہب امن اور سلامتی کا مذہب ہے دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ اس کی لگام کس کے ہاتھ میں ہے۔ اس لیے کہ جہاں وہ سلامتی اور امن و رواداری کا سر چشمہ ہوتا ہے وہاں وہ تنگ نظر اور بوالہوس اور استحصالی حکمرانوں اور دو رکعت کے امام جیسے مولویوں کا آلہ کار بھی بن جاتا ہے۔

آپ کسی بھی مذہب کا تاریخی تناظر میں جائزہ لیں تو اندازہ ہوگا کہ ابتداء میں وہ برسراقتدار اور استحصالی طبقات کے خلاف ایک تحریک کی شکل میں جنم لیتا ہے اور بعد میں انہیں طبقات کے ہاتھوں میں کھلونا بن جاتا ہے۔

آپ یقین مانیں بچپن میں، جب میں سلطان صلاح الدین ایوبی، محمود غزنوی، الپ ارسلااور تیمور لنگ وغیرہ کے قصے سنتا اور اپنےنسیم حجازی صاحب کی تحریریں پڑھتا تو اسلامی جوش جنون کی حدوں کو چھونے لگتا لیکن جب اسلامی تاریخ کے مطالعے کا تھوڑا سا موقع ملا تو اندازہ ہوا کہ وہ ہمارے ہیرو اور آئیدیل تو حقیقی معنوں میں صرف بادشاہ تھے ۔

ان میں نہ کوئی کالی کمبلی اوڑھتا تھا نہ بوریے کو بچھونا بناتا، نہ پیوند لگے ہوئے کپڑے پہنتا ، نہ انصاف اور دیانتداری کو ملحوظ رکھتا، نہ دوسروں کی دلشکنی سے گریز کرتا تھا ، نہ عاجزی اور انکساری میں یقین رکھتا تھا، اپنے مطلب کے لیے بت شکن بھی بن جاتا تھا اور اپنے بھائی بھتیجوں سمیت بڑی برگزیدہ اور اللہ والی ہستیوں کے قتل سے بھی دریغ نہیں کرتا تھا۔

اب باقیوں کے بارے میں تو میں نہیں جانتا لیکن حجاج بن یوسف کو تو قرآن کریم میں اعراب لگوانے کا بھی اعزازحاصل ہے۔ اب آپ غور فرمائیں کہتے ہیں کہ اس کے ہاتھ سے کوئی ایک لاکھ افراد تہہ تیغ ہوئےاور مشہور ہے کہ جب مرض الموت کی تکلیف ناقابل برداشت ہوگئی تو اس نے حصرت حسن بصری کو بلایا اور ان سے اپنے لیے دعا کی درخواست کی۔ حضرت حسن بصری نے دعا کی ’اے اللہ حجاج کو اٹھالے‘ حجاج نے شکایت کی’یہ آپ میرے مرنے کی دعا کر رہے ہیں‘۔ حضرت حسن بصری نے کہا ’ تمہارے لیے یہی دعائے خیر ہے تاکہ تم کو جان کنی کی اذیت سے اور لوگوں کو تمہارے ظلم وتشدد سے نجات مل جائے۔‘

میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ مسلمانوں میں اگرہوسِ ملک گیری کے دلدادہ یہ صرف بڑے بڑے سلطان اور ان کے ہم نوا ’دو رکعت کے امام‘ ہی پیدا ہوتے رہتے تو مسلمانوں کا کیا حشر ہوا ہوتا۔ یہ تو خیر ہوئی کہ اللہ میاں نےان جابر سلطانوں کے ساتھ ساتھ کچھ سرمد و منصور بھی پیدا کردیے جس سے بندگان خدا کی ذرا بچت ہوگئی۔

اچھا یہ بھی ایک حقیقت ہے اسطرح کے بوالہوس اور تنگ نظرصرف اسلام میں ہی نہیں بلکہ ہر مذہب میں موجود نظر آتے ہیں۔

عیسائی ہوں یا یہود یا ہندو سب ان کی چیرہ دستیوں کا شکار ہیں یا رہے ہیں۔

وہ تو خیر ہوئی کہ یورپ کے صنعتی انقلا ب میں جہاں بادشاہوں کا عمل دخل ختم ہوا وہاں کلیسا اور پادری سے بھی اللہ میاں نے نجات دلا دی ورنہ انہوں نے تو اپنے زمانے میں خلق خدا کو تنگ کرنے کا کوئی دقیقہہ فرو گزاشت نہیں کیا تھا۔

ہندومولویوں کو دیکھیے۔ جب تک بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما جناب لال کرشن ایڈونی بابری مسجد کے قضیے میں مبینہ طور پرپیش پیش تھے ان کی واہ واہ کرتے رہے جیسے ہی انہوں نے پاکستان سے دوستی اور بھائی چارہ بڑھانے کا عندیہ دیا ان کے پیچھے پڑگئے۔ اور چلئے جناح صاحب تو جناح صاحب تھے ، ان لوگوں نے تو مہاتما گاندھی کو بھی ابھی تک نہیں بخشا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ سارے مذاہب اب اپنی اپنی افادیت کھو چکے ہیں، ان پر ان کے مولوی اتنے حاوی آگئے ہیں کہ وہ دلوں کو جوڑنے کے بجائے صرف تنگ نظری اور نفرتوں کو فروغ دے سکتے ہیں، اس لیے چاہیے یہ کہ سیاست اور حکومتی معاملات میں مذاہب کا عمل دخل ختم کیا جائے اور لوگوں میں انسان دوستی، برداشت اور رواداری اور دیگر جمہوری قدروں کو فروغ دیا جائے اس لیے کہ آپس میں نسلی اور مذہبی امتیاز ختم کرنے اور مل جل کر رہنے کا یہی ایک ذریعہ ہے۔

 
 
66مہاجروں کا دکھ
مہاجروں کا دکھ ایک ساہوتا ہے:علی احمد خان
 
 
66بھارت کو کس کا ڈر
امریکہ سے دفاعی معاہدہ کیوں؟علی احمد خان
 
 
66یہ بربریت ہے
لندن بم حملوں پر علی احمد خان کا کالم
 
 
66ہم اب بھی وحشی ہیں
آج شدت سے احساس ہو رہا ہے، علی احمد خان
 
 
66برطانیہ کو طعنے
صدر مشرف کے قوم سے خطاب پر علی احمد کا کالم
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد