BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 02 September, 2005, 09:42 GMT 14:42 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
پاک، اسرائیل خفیہ روابط کی کہانی
 

 
 
استنبول میں پاکستان اور اسرائیل کے وزرائے خارجہ کھلم کھلا باہمی سفارتی تعلقات استوار کرنے کے سوال پر مذاکرات کر رہے ہیں
بہت سے لوگوں کے لیے یہ بات پراسرار ہے کہ پاکستان میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال جولائی سنہ دو ہزار تین میں کیمپ ڈیوڈ میں صدر بش سے پاکستان کے صدر جنرل مشرف کے مذاکرات کے بعد نہایت معنی خیزانداز سے ابھرا تھا۔

کیمپ ڈیوڈ کے بارے میں یہ بات مشہور ہے اور تاریخی حقائق بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ امریکا کے صدر جب کسی غیر ملکی سربراہ کا کسی نہایت مشکل ، حساس اور پرخطر معاملے پر ہاتھ مروڑنا چاہتے ہیں اور اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ کرانا چاہتے ہیں تو وہ اسے کیمپ ڈیوڈ مدعو کرتے ہیں۔

کیمپ ڈیوڈ کے گھنے جنگل اور پہاڑوں میں نہ جانے کیا جادو ہے کہ یہ غیر ملکی سربراہ امریکی صدر کی بات مان ہی کر لوٹتے ہیں۔ صدر سادات اور یا سر عرفات کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ صدر سادات نے کیمپ ڈیوڈ میں ہی اسرائیل کے ساتھ امن سمجھوتہ کرنے پر اتفاق کیا تھا اور اسی طرح یاسر عرفات نے اوسلو سمجھوتہ قبول کرنے پر۔

سنہ دو ہزار تین میں کیمپ ڈیوڈ کے مذاکرات کے بعد جس تیزی سے پاکستان میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کا معاملہ ابھرا، اس پرمبصرین کے مطابق بہت سے لوگوں نے یہی نتیجہ اخذ کیا تھا کہ صدر جنرل مشرف اس مسئلے پر امریکی صدر سے وعدہ کر آئے ہیں۔

یہ بات معنی خیز تھی کہ کیمپ ڈیوڈ کے مذاکرات کے فورا بعد پاکستان میں ایک نجی ٹیلی وژن چینل نےاس سوال پر ایک سروے کرایا۔ نتیجہ اس سروے کا حیرت اور تعجب کا باعث نہیں تھا کہ پاکستان کے عوام کی بڑی تعداد اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حق میں ہے۔

 کیمپ ڈیوڈ کے گھنے جنگل اور پہاڑوں میں نہ جانے کیا جادو ہے کہ یہ غیر ملکی سربراہ امریکی صدر کی بات مان ہی کر لوٹتے ہیں۔
 

اس سروے کے فورا بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے اس سوال پر ایک خلاصہ تیار کیا جس میں یہ دلیل پیش کی گئی تھی کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات سے پاکستان کو سیاسی ، فوجی اور اقتصادی فوائد حاصل ہوں گے۔

پاکستان کےدفتر خارجہ کے اس خلاصے کےبارے میں پاکستانی اخبارات میں جو خبریں شائع ہوئی تھیں ان کے مطابق یہ دلیل پیش کی گئی تھی کہ اگر اسرائیل کو تسلیم کر لیا گیا تو پاکستان کوسیاسی ، فوجی اور اقتصادی فوائد حاصل ہوں گے۔

اس خلاصے میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بناء پر امریکا اور دوسرے مغربی ملکوں کی مخاصمت میں کمی ہوگی۔ یہ دلیل بھی پیش کی گئی تھی کہ اس اقدام سے اسرائیل اور ہندوستان کے درمیان تیزی سے بڑھتے ہوئےفوجی تعاون کو روکنے میں مدد ملے گی اور پاکستان میں مغربی ملکوں کی سرمایہ کاری کو فروغ حاصل ہوگا۔

پاکستان میں بیشتر مبصرین کا خیال ہے کہ پاکستان کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے زیادہ فوائد اسرائیل کو حاصل ہوں گے۔ پاکستان عالم اسلام میں اہم جوہری ملک ہے اور اس کے ذریعے اسرائیل کو ایران اور سعودی عرب تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔

ایک عرصہ تک معنی خیز حاموشی کے بعد اب استنبول میں پاکستان اور اسرائیل کے وزرائے خارجہ باہمی سفارتی تعلقات استوار کرنے کے سوال پر مذاکرات کر رہے ہیں لیکن پچھلے پچاس سال کے دوران وقتا فوقتاً اس سوال پر دونوں ملکوں کے درمیان خفیہ روابط کا سلسلہ جاری رہا ہے۔

پہلا رابطہ

پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان نے جنہوں نے سن سینتالیس میں اقوام متحدہ میں فلسطین کی تقسیم کے منصوبہ کے خلاف معرکتہ الاراء تقریر کی تھی اور سارے عالم اسلام کے دل موہ لیے تھے، اس منصوبہ کی منظوری کے فورا بعد دمشق میں ایک مشہور مستشرق یوریل میڈ سے ملاقات کی تھی جو اس زمانہ میں اسرائیل کی خفیہ سروس کے لیے کام کر رہے تھے۔

 بھٹو مرحوم نے اعتراف کیا تھا کہ پاکستان کا مفاد اسی میں ہے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کر لے کیونکہ اسرائیل اب ایک حقیقت ہے
 
شتابل روزینہ

یوریل ہیڈ نے اپنی یاد داشتوں میں یہ انکشاف کیا ہے کہ اس ملاقات میں سر ظفر اللہ خان نے یہ اعتراف کیا تھا کہ فلسطین کی تقسیم ہی اس مسئلہ کا بہترین حل ہے۔

پھر بارہ اپریل سنہ اڑتالیس میں سر ظفر اللہ خان نے نیویارک میں وائزمین سے کی۔ یہ وائز مین وہی تھے جو نوے کی دہائی میں اسرائیل کے صدر بنے۔ سن ترپّن میں سرظفراللہ خان نے اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مندوب ابا ایبان سے ملاقات کی تھی اور پاکستان کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے سوال پر بات چیت کی تھی-

سنہ ستاون میں ذوالفقار علی بھٹو نے اسرائیلی مندوب شتابل روزینہ سے کھانے پر ملاقات کی تھی اور بقول شتابل روزینہ کے اس ملاقات میں مرحوم بھٹو نے کہا تھا کہ پاکستان کا مفاد اسی میں ہے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کر لے کیونکہ اسرائیل اب ایک حقیقت ہے۔

جنرل ضیاء کا مشورہ

جنرل ضیاء میں اردن میں پاکستان کی ایک بریگیڈ کی قیادت کر رہے تھے اور انہوں نے فلسطینی شورش کچلنے میں اتنا اہم رول ادا کیا تھا جس کے لیے انہیں شاہ حسین نے اردن کے اعلٰی ترین فوجی اعزاز سے نوازا تھا۔ انہوں نے مارچ سن چھیاسی میں پی ایل او کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کر لے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ سنہ پچاسی میں اسرائیل کے اس زمانہ کے وزیر دفاع ایرئیل شیرون کے ساتھ جنرل ضیاء کے خفیہ روابط تھے اور ایرئیل شیرون نے اپنے ایک خاص معتمد کو اسلام آباد بھیجا تھا جنہوں نے جنرل ضیاء سے ملاقات کی تھی اور اسلحہ کی فراہمی کا سودا کیا تھا-

بقول مبصرین نواز شریف کے دور میں ان کے صدر رفیق تارڑ کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ جب اکتوبر سنہ اٹھانوے میں وہ ترکی کے دارالحکومت انقرہ کے دورہ پر تھے تو انہوں نےایک استقبالیہ میں اسرائیل کے صدر وائز مین کو دیکھ کر کہا تھا کہ’ آپ امن کے آدمی ہیں اور آپ سے ملاقات ایک بڑا اعزاز ہے‘۔

نواز شریف کی خواہش

اس سے قبل سن ترانوے میں نواز شریف اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کے خواہاں تھے اور انہوں نے دفتر خارجہ کو ہدایت کی تھی کہ اسرائیل کے تئیں پاکستان کی پالیسی پر نظر ثانی کی جائے۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد