BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 10 September, 2005, 07:46 GMT 12:46 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
’انصاف ملنے تک لڑتی رہوں گی‘
 
ڈاکٹر شازیہ
ڈاکٹر شازیہ انصاف کی متمنی ہیں
ڈاکٹر شازیہ خالد نے بی بی سی کو جو انٹرویو دیا اس میں سوال جواب کے دوران انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والے واقعے کے حوالے سے کئی باتیں بتائیں۔ان کے شوہر خالد نے بھی کئی سوالوں کے جواب دیئے۔ انٹرویو کے شروع میں ڈاکٹر شازیہ نے اپنے اوپرگزرنے والے حالات کے بعد کی صورتِ حال کا جواب کچھ یوں دیا:

ڈاکٹر شازیہ خالد: انسیڈنٹ کے بعد میں اٹھی، میری حالت خراب تھی اور مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ میری ڈریسنگ ٹیبل پہ چابی رکھی ہوئی تھی وہ چابی میں نے اٹھائی۔ باہر جو دروازہ تھا وہ باہرہی سے بند کیا گیا تھا۔ اس پہ تالا لگا ہوا تھا۔ کھڑکی سے میں نے ہاتھ ڈال کر باہر کی طرف تالا کھولا اور شال لے کر میں نرسنگ ہوسٹل چلی گئی۔ وہاں سسٹر سکینہ کے شوہر نے دروازہ کھولا۔ سسٹر سکینہ مجھ سے ملیں اور مجھ سے پوچھنے لگیں کہ کیا ہوا تمہارے ساتھ۔ میں نے انہیں بتایا کہ میرے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا ہے اور اس بندے نے- - - -، چار گھنٹے وہ میرے کمرے میں رہا۔ مجھے مارا، مجھے پیٹا۔‘

’میری بہت حالت خراب تھی۔ میرے سر سے خون نکل رہا تھا۔ مجھے ٹیلیفون کے ریسیور سے مارا گیا۔ میں ریسیور اٹھانا چاہ رہی تھی کہ کسی کو مدد کے لیے پکاروں۔ اس نے میرے سر پہ ریسیور دے مارا اور ٹی ٹی پسٹل سی مجھے دھمکیاں دینے لگا اور کہا اگر تم شور کروگی تو باہر ایک آدمی کھڑا ہے جس کا نام امجد ہے وہ تمہیں- - - - - اس کے ہاتھ میں مٹی کا تیل ہے- - - - - میں جلا دوں گا خاموش رہو‘۔

’میری حالت بہت خراب تھی میرے ہاتھ سوجے ہوئے تھے، رسٹ میں ٹیلیفون کی تاریں بندھی ہوئی تھیں، میری آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی تھی۔ تو جب میں نرسنگ ہوسٹل گئی تو میری حالت ایسی تھی۔ سسٹر سکینہ بھی رونے لگی، وہ صدمے میں آگئی کہ کیا ہوا تمہارے ساتھ۔ میں نے بتایا کہ یہ ہوا ہے میرے ساتھ۔ لیکن میں نے اسے زیادتی کا نہیں بتایا کہ میرے ساتھ کیا ہوا ہے۔‘

’لیکن میں نے اسے یہ بتایا ہے کہ میرے پیسے میری جیولری (چھین لی گئی ہے)، مجھے اس نے مارا مجھے پیٹا، مجھے دھمکیاں دینے لگا۔ سب میں نے اسے بتایا۔ اس وقت میں سسٹر سکینہ کے کمرے میں ہی تھی۔ اس نے سینیئر کو کال کیا۔ سینیئرز آئے، ایم ڈی، مینیجر آئے، فیلڈ کے مینیجر، پرویز جمولہ آئے، سلیم اللہ آئے اور ڈاکٹر محمد علی آئے سی ایم اور عثمان وادوہ آئے۔ مجھ سے پوچھنے لگے کہ آپ کے ساتھ کیا ہوا ہے۔میں نے ان کو بتایا تو انہوں نے کہا کہ ہمیں پتہ ہے کہ تمہارے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا ہے۔ ہم تمہارے کمرے میں گئے تھے۔ تو وہاں سے ہمیں ایویڈینس ملے ہیں۔ لیکن تم خاموش رہو، تم کسی سے کوئی ذکر نہیں کرنا اور صرف تم یہ کہنا کہ میرے ہاں ڈاکہ پڑا ہے۔ اور کچھ بھی نہیں ہوا۔‘

سوال: کیا آپ سے یہ بات ایم ڈی نے کہی تھی؟

جواب: نہیں مینیجر تھے، پرویز جمولہ اور سی ایم او ڈاکٹر عثمان وادوہ، سلیم اللہ، یہ تینوں تھے۔ تو اس وقت میری حالت ایسی تھی کے کچھ سمجھ میں ہی نہیں آ رہا تھا کہ میرے ساتھ یہ کیا ہوا ہے۔ میں اکیلی عورت تھی وہاں۔ میں نے ان سے کہا کہ میرے بھائی کو بھابھی کو کال کریں میں ان سے ملنا چاہتی ہوں، میں ان سے بات کرنا چاہتی ہوں۔ تو کہنے لگے کہ نہیں ہم ان کو کانٹیک نہیں کر سکتے اور ناں ہی ہم انہیں بلاسکتے ہیں۔ انہوں نے مجھے انجیکشن بھی لگائے تاکہ میں پولیس کو بیان بھی نہ دے سکوں۔ مجھے کہا گیا کہ اب پولیس آئے گی اور مجھے خاموش رہنا ہے۔ تم نے کچھ بھی نہیں کہنا، تمہاری عزت کا سوال ہے۔ آپ پڑی لکھی عورت ہو بدنام ہو جاؤ گی اور ہماری کمپنی کے امیج کا بھی سوال ہے۔ مجھے تو انجکشن دیتے رہے۔ میں نیم خوابیدہ تھی۔ پولیس آئی لیکن میں بالکل ڈراؤزی تھی میری سمجھ میں ہی نہیں آ رہا تھا اور پولیس ایسے ہی چلی گئی واپس۔ ڈاکٹر ارشاد اینیستھیٹک ہیں۔ انہوں نے مجھے انجکشن لگائے۔ میں ان سے کہتی رہی کہ کیوں انجکشن لگا رہے ہیں؟ ایک بار آپ مجھے انجیکشن دے چکے ہیں، دو بار مجھے ایسیسڈیٹو دے چکے ہیں، تو کہنے لگے کہ سی ایم او کے آرڈر ہیں کے میں آپ کو انجکشن لگاتا رہوں۔

سوال: سی ایم او معنی
جواب: سی ایم مینز چیف میڈیکل آفیسر، پی پی ایل کے ہیں۔

سوال: آپ کو کیا لگتا ہے انہوں نے ایسا کیوں کیا؟

جواب: وہ شاید اپنی کمپنی کا امیج خراب نہیں کرنا چاہتے تھے۔ وہ یہ سمجھتے کہ اگر یہ دنیا کو پتہ چل گیا کہ ایک لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ ایسا واقعہ ان کی کمپنی میں پیش آیا ہے تو اس کے بعد کوئی لیڈی ڈاکٹر، کوئی عورت، ان کے یہاں کام کرنے کی راضی نہیں ہو گی۔تو وہ یہی چاہتے تھے کہ بات ڈھکی چھپی رہے۔ کسی کو پتہ ہی نہیں چلے۔

’ان کو پتہ تھا کہ بلوچستان میں ایسے زیادتی کے واقعے کی بات بہت کم ہوتی ہیں۔ اور جب پی پی ایل والوں کو پتہ ہے کہ ان کی جو فیلڈ ہے وہ بہت ہی سیکیور ہے اور ہر جگہ پر، موڑ پر ان کے ڈی ایس جی گارڈز، جو ڈیفنس سیکیوریٹی گارڈز ہوتے ہیں وہ کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کے علاوہ کوئی بھی بندہ اگر ہسپتال میں آتا ہے تو اسے لازماً اسے اپنی شناخت دکھانی پڑتی ہے۔ ایسا کوئی بندہ تو پی پی ایل کے ہسپتال میں داخل نہیں ہو سکتا۔ اور جس طرح سے یہ واقعہ پیش آیا ہے- - - - وہ بندہ رات کو آیا اور صبح سویرے گیا ہے۔ بغیر کسی ڈر کے، خوف کے، وہ اتنی دیر تک کمرے میں رہا ہے، ٹی وی بھی دیکھتا رہا۔ ٹی وی میں اس نے جیو چینلز، دیکھا، بی بی سی دیکھا اور سی این این دیکھا۔ انگلش چینیلز وہ دیکھتا رہا ہے اور بالکل اونچی آواز میں، مطلب اس کو کوئی ڈر نہیں تھا۔

سوال: آپ کا شک کس کی طرف ہے؟

جواب: میں اس ملزم کی شکل دیکھ نہیں پائی کیونکہ کمرے میں اندھیرا تھا اور مجھے بلائینڈ فولڈ کر دیا تھا۔ میں کچھ نہیں کہ سکتی کہ وہ کون تھا۔ لیکن جو بھی تھا تو وہ کوئی طاقتور بندہ ہو گا۔ اس کے ہاتھ بہت لمبے ہونگے، اس کی پہنچ بہت دور تک ہو گی۔اور حکومت کی طرف سے تفتیش جو بتاتی ہے اور ابھی تک وہ پکڑا نہیں گیا تو اس کا مطلب ہے کہ وہ کلپرٹ عام آدمی نہیں ہے۔

سوال: یہ جو ٹریبیونل ہے انہوں نے آپ کو دوائیاں بھی دی تھیں۔ آپ کو لگتا ہے کہ یہ ریپ میں شریک تھے۔ پی پی ایل کےافسران نے اس آدمی کی کیا مدد کی تھی۔

جواب: بس پی پی ایل والے چاہ رہے تھے کہ کسی کو پتہ ناں چلے اور جب مجھے ایسیڈیٹو دینے لگے تو مجھے نیکسٹ ڈے مجھے جو سی ایم او ہیں ڈاکٹر عثمان باجوہ۔ انہوں نے مجھ کہا کہ یہاں سے مجھے شفٹ کر رہے کراچی اور ہم آپ کو ڈائیرکٹ یہاں سوئی سے، سوئی کی فلائیٹ سے نہیں لے جائیں گے۔

’وہ کہنے لگے ہم آپ کو بالکل سیکیور لے جائیں گیں تاکہ کسی کو بھی پتہ ناں چلے کہ آپ یہاں سے جا رہی ہیں۔ ایمبولنس میں پہلے ہم آپ کو کہکول لے کر جائیں گے اور لوگوں کو یہی پتہ چلے گا کہ اس میں کوئی پیشنٹ جا رہا ہے۔ پھر انہوں نے مجھے سٹریچر پر بالکل لٹا دیا گیا تاکہ لوگوں کو یہ پتہ چلے کہ اس میں کوئی مریض جا رہا ہے۔ جب میں ایمبولنس میں بیٹھی تو ڈاکٹر ارشاد میرے ساتھ تھے، اینیستھیٹک ڈاکٹر ہیں جو۔ ان کی بیگم بھی میرے ساتھ تھیں تو انہوں نے مجھے بتایا کہ کسی کو ہم نے نہیں بتایا کہ اس میں آپ جا رہی ہیں۔ اور ہم نے بالکل سیکیور رکھا ہے تاکہ کسی کو پتہ بھی ناں چلے۔ اور جب ہم کراچی پہنچیں گے تو وہاس ڈاکٹر امجد اور ڈاکٹر خورشید آپ کو لینے کے لیےآئیں گے اور وہ پھر آپ کو ہسپتال لے کر جائیں گے۔

سوال: انہوں نے آپ کو فوراً بلوچستان سے کراچی کیوں بھیج دیا؟

جواب: میں تین دن وہاں رہی، سیکنڈ کو یہ واقع پیش آیا۔ تین دن میں وہاں رہی اور شام مجھے وہاس سے شفٹ کیا گیا۔ اور جو میرا جوڑا پہنا ہوا تھا انسیڈینٹ کے وقت، وہیں انہوں نے وہ جوڑا غائب کروا دیا تھا۔ انہوں سے سارے میرے ایویڈنسز غائب کروا دئیے گئے۔ پولیس جب کراچی میں ہمارے پاس آئی ملنے کے لئیے تو پولیس نے خود کہا کہ آپ کا کمرہ کسی نے سیل نہیں کیا اور آپ کے کمرے سے ہمیں کوئی فنگر پرنٹس نہیں ملےاور آپ کے ایویڈنس بھی پی پی ایل والوں نے غائب کروا دئیے۔ تو ہمیں کوئی ثبوت نہیں ملا آپ کے کمرے سے۔

’ٹریبیونل کی جو فائنڈنگز آئیں ہیں اس میں ہمیں، رزلٹ بھی ہمیں بتایا گیا تھا۔ لیکن جب ہم یو کے میں پہنچے تو ہیومن رائٹس کے لوگوں نے ہمیں دی۔ وہ 35 صفحوں کی انکوئری رپورٹ ہے۔ اس میں یہ لکھا ہے کہ ایس ایچ او اور پولیس نے پی پی ایل کے ڈاکٹرز کو وارننگ دی تھی کہ ڈاکٹر شازیہ کو بغیر کسی سٹیٹمنٹ کے کراچی شفٹ نہیں کر سکتے۔ اور ان کو بہت سختی سے بھی کہا تھا لیکن اس وقت پی پی ایل کے جو ڈاکٹرز تھے، جو مینیجمنٹ تھی انہوں نے کسی بھی قسم کا پولیس کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں رکھا۔ یعنی وہ پولیس کو معاملے میں شامل ہی نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اب جیسے مجھ پر سی ایم او نے الزام لگایا ہے کہ وہ خود نہیں چاہ رہی تھی کہ پولیس کو سٹیٹمنٹ دے اور پولیس کے چکروں میں پڑے، لیکن انہوں نے تو خود زبردستی اس سے (مجھ سے)سٹیٹمنٹ سائن کروائے تھے کہ میں ایف آئی آر نہیں کٹوانا چاہتی اور میں پولیس میں بیان نہیں دینا چاہتی۔ میرے ساتھ صرف ’روبری‘ ہوئی ہے اور کچھ نہیں ہوا۔

سوال: اس وقت جب انہوں نے بیان سائن کراوئے تھے تو آپ بے ہوش تھی؟
جواب: انکونشنس نہیں تھی، میں ایسیڈیٹو مجھے دیا تھا، ڈراؤزی تھی میں اور مجھے دھمکیاں دینے لگے۔ آپ اگر ایف آئی آر کٹواؤ گی تو آپ کو دھکے کھانے پڑیں گے۔ آپ کو جیکب آباد جانا پڑے گا اور سبی جانا پڑے گا، در در کی آپ کو ٹھوکریں کھانیں پڑیں گی۔

سوال: یہ سب کس نہ کہا آپ سے؟

جواب: یہ سی ایم او نے کہا اور جب میں سائن نہیں کر رہی تھی تو غصے سے انہوں نے مجھے کہا کہ جلدی سائن کرو تمہارے ہاتھوں میں لگ جائے گی ہتھکڑی اور میرے ہاتھوں میں بھی ہتھکڑی لگ جائے گی۔ جلدی سے اس پر سائن کرو۔ میں اکیلی عورت وہاں کیا کرتی میں بے بس تھی۔

سوال: یہ کون سی تاریخ کو ہوا، اسی دن انہوں نے سائن کروائے کہ اگلے دن؟

جواب: اسی دن انہوں نے مجھ سے سائن کروائے۔

سوال: کیپٹن حماد کا نام پہلے کب آیا۔

جواب: کیپٹن حماد کا نام ہم نے میڈیا میں سنا تھا۔

سوال: شروع کے دنوں میں جب آپ نے پی پی ایل آفیسرز کو واقعے کے بارے میں بتایا تھا تب کیپٹن حماد کا نام سامنے نہیں آرہا تھا۔

جواب: نہیں، جب میں سوئی میں تھی تو میں نے اس کا نام نہیں سنا لیکن جب میں کراچی آئی تو اس کا نام ہم نے سنا تھا۔

سوال: میڈیا کے تھرو
جواب: جی میڈیا کے تھرو۔

سوال:کیا اس سلسلے میں ایک خاکروب نے بھی گواہی دی تھی؟

جواب: جی، جب ہم کراچی میں تھے تو پولیس ہمارے پاس آئی تھی۔ ڈی آئی جی آئے تھے ان کے ساتھ ایس ایس پی تھے۔ مجھ سے غلط قسم کے سوالات کرنے لگے۔ ڈی آئی جی نے مجھ سے یہ پوچھا کہ 25000 آپ کے پاس کہاں سے آئے، کس نے آپ کو دئیے اور اتنی جیولری جو آپ کے پاس تھی وہ آپ کہاں سے لے کر آئے۔ کیوں آپ نے اپنے پاس رکھی۔ کن موقعوں پر آپ پہنتی تھی۔ اور اس نے کہا کہ سویپر کا یہ بیان ہے کے کسی ایک دن میرے کمرے سے ایک وٹنس ملا ہے۔ کونڈم ملا ہے جو اس نے فلش کر دیا ہے۔اب آپ مجھے یہ بتائیں وہ سویپر ان پڑھ بندہ جس کو اپنی عمر یاد نہیں ہو گی۔ اس کو وہ وقت وہ ٹائم کیسے یاد آ گیا کہ اسے میرے کمرے سے یہ ایویڈنس ملا۔

’جب پولیس کو کوئی سراغ نہیں ملا اور کسی ہائی پریشر کی وجہ سے ملزم پکڑ نہیں پائے تو مجھ ہی پر الزام ٹھہرانے کی کوشش کی۔ عورتوں کے ساتھ تو ہمیشہ یہی ہوتا آیا ہے۔ عورت پر ہی لوگ انگلی اٹھاتے ہیں۔ اسی کو ہی بدنام کر دیتے ہیں۔

سوال:یہ بھی کہا گیا ہے کہ شازیہ کے لئے کچھ لوگوں نے دو ایسے شاہدین سے بیان لئیے ہیں کہ وہ ماڈرن کپڑے پہنتی تھی۔

ڈاکٹر شازیہ: اگر پاکستانی ماڈرن کپڑے شلوار قمیض اور دوپٹہ کہلاتے ہیں تو میں ماڈرن ہوں۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کی ساری عورتیں موڈرن ہیں۔

سوال: آپ کا کیا ری ایکشن تھا جب آپ نے سنا کہ پریزیڈنٹ(جنرل پرویز مشرف) صاحب نے یہ کہا ہے کہ کیپٹن حماد سو فیصد بے قصور ہے۔

جواب: ہم کیا کرتے۔ ہمیں جب پاکستان کے صدر نے ہی کہ دیا کہ وہ بے قصور ہے اور وہ بھی میری آئڈنٹیفیکیشن پریڈ سے پہلے۔ اور کیپٹن حماد کے ٹربیونل سے پہلے انہوں نے یہ اناؤنس کر دیا کہ وہ بے قصور ہے۔

سوال: کیا اس وقت ری ایکشن تھا آپ کا۔

جواب: ہم تو شروع سے چاہتے تھے کہ ہم کیس کریں، میڈیا میں آئیں تاکہ لوگوں کو پتہ چل سکے کہ میرے ساتھ کیا ہوا ہے اور ٹریبیونل کے لیے ہم کوئٹہ جانا چاہتے تھے۔

دیکھیں انہوں نے اپنی ایجینسیز کی رپورٹ پر کہہ دیا ہو گا کہ وہ بے قصور ہے لیکن ایک جگہ پہ انہوں یہ بھی کہا ہے کہ ڈاکٹر شازیہ کے کیس میں ان کو بہت کچھ پتہ ہے۔ لیکن اگر وہ اپنی بات فاش کریں گے تو ڈاکٹر شازیہ کی جان کو خطرہ ہے۔ اس کا مطلب ان کوپتہ تھا کہ ملزم کون ہے۔ مگر ٹھیک ہے اگر وہ چیف سسپکٹ نہیں ہے کوئی اور ہے تو ان کو پتہ ہے وہ کون ہے کیوں نہیں بتاتے۔

جب میری شناخت پریڈ ہوئی تھی تو شناخت پریڈ کے دوران ملٹری انٹیلیجنس کا ایک میجر آیا۔ اس نے کہا کہ جی آپ کی جانوں کو خطرہ ہے آپ ملک سے نکل جائیں تو اچھا ہے آپ کے لیے اور ہم آپ کو خوشخبری سنائیں گے آپ ملک سے باہر جہاں بھی جائیں گے تو ہم آپ کو خوشخبری سنائیں گے کہ ملزم پکڑا گیا ہے۔ ہمیں پتہ ہے، ایم آئی اے کے لوگوں کو پتہ ہے۔ یہ ٹربیونلز یہ پولیس انوسٹیگیشنز آپ ان کو چھوڑ دیں، یہ سب ہمارے اوپر ہے، ہم جانتے ہیں کہ اصل مجرم کون ہے۔وہ کہہ رہے ہیں کہ ان کو پتہ ہے۔اب جب ایم آئی اے کے لوگ کہہ رہے ہیں۔ وہ کور کمنانڈر کا پیغام لے کر آیا تھا میجر۔

سوال: کون سا کور کمانڈر
مسٹر خالد: نام نہیں بتایا۔ لیکن انہوں نہ کہا کہ میں بلوچستان سے آیا ہوں۔

سوال: اس نے آپ کو اپنا کارڈ دکھایا تھا، ایم آئی سے ہی تھا۔

جواب: وہاں ایس ایس پی جو تھا وہاں پہ، جج تھا جو ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ ان سے بھی وہ ملا تھا، ان سے بھی وہ باتیں کر رہا تھا۔ ہمیں اس نے کچھ نہیں بتایا کہ وہ ایم آئی کا آدمی تھا۔ میجر نے بتایا کہ دو طرح کے پیغام ہیں اس کے پاس، بلوچستان سے کچھ لوگ مارنا چاہ رہے ہیں آپ کو، کراچی میں گھوم رہے ہیں ہتھیاروں کے ساتھ، اس لیے آپ کی جان کو خطرہ ہے، ملک سے باہر چلے جائیں اور دوسرا یہ کہ جو کلپرٹ ہے اس کے بارے میں ہم جانتے ہیں۔ پولیس نہیں جانتی۔

سوال: اچھا یہ بھی بات ہو ئی تھی کہ آپ کے جو گرینڈفادر ہیں انہوں نے لوگوں کواکٹھا کیا ہے شازیہ کو کاری کرنے کے لیے۔

مسٹر خالد: جی اس طرح کی بات ہوئی تھی، میرے والد اور میری والدہ۔ جو میری سٹیپ مدر ہیں وہ تو اس کے حق میں نہیں تھیں لیکن میرے جو دادا ہیں وہ ایک فیوڈل ذہن کے انسان ہیں۔ انہوں نے کچھ لوگوں کو اکٹھا کیا تھا۔جو میری والدہ نے ہمیں خبر پہنچائی تھی اور دوسری شرط یہ رکھی تھی کہ شازیہ کو طلاق دے دیں تاکہ یہ ہماری عزت کا سوال ہے۔

سوال: تو آپ کو کیسے محسوس ہوا؟
ڈاکٹر خالد: مجھے بہت حیرت ہوئی تھی اور میں نے کہا کہ کس طرح کی وہ باتیں کر رہے ہیں۔ انہیں یہ نہیں پتہ کہ شازیہ بے قصور ہے، وہ کیا کر سکتی ہے۔ میں نے کافی سٹینڈ لیا تھا اس بات پر۔

سوال: آپ اس وقت سعودی عرب میں تھے؟
جواب: مسٹر خالد: نہیں میں اس وقت لیبیا میں تھا۔

سوال: اور اس وقت آپ کی نوکری تھی۔
مسٹر خالد: میں جاب کر رہا تھا۔

سوال: اب وہ چھوڑ کر آئے ہیں یہاں آپ؟
مسٹر خالد: جی میری جاب چلی گئی ہے کیونکہ میں شازیہ کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتا اس وقت۔

سوال: ارینجڈ شادی تھی آپ کی؟
جواب: مسٹر خالد: ارینجڈ بھی تھی اور اپنی مرضی بھی۔

سوال: آپ کب پہنچے؟
مسٹر خالد: مجھے شازیہ کی سسٹر ان لا نے ای میل کیا تھا اور اس کے بعد میں نے اس سے بھی فون پر بات کی۔ گیارہ تاریخ کو میں کراچی پہنچا کیونکہ میری جہاں جاب تھی وہ علاقہ سہارا ڈیزرٹ کہلاتا ہے۔ ایک ہفتہ مجھے یہاں لگ گیا تھا آنے میں۔

سوال: یہ بتائیں کہ آپ کا اب کوئی کانفیڈنس ہے۔ یہ ٹریبیونل کی انکوائری ختم ہو گئی ہے۔

جواب: ٹربیونل نے تو اپنی فائنڈنگز دے دی۔ جب ہم اسلام آباد میں تھے تو ٹریبیونل اناؤنس ہوا تھا۔تو ہم چاہتے تھے کہ ٹربیونل کی فائنڈنگز ہمیں ملیں تو ہم کیس کریں لیکن ہمیں فائنڈنگز کا کچھ پتہ نہیں چلا۔ جب ہم یہاں پہنچے تو کچھ ایک مہینہ پہلے ہیومن رائٹس کی طرف سے ہمیں یہ رپورٹ ملی ہے تو اب میں چاہتی ہوں کہ میں کیس کروں۔ میں چاہتی ہوں کہ میرے کیس کی انکوائری ایماندار پولیس افسر اور جج کریں اور کسی کے بہکاوےمیں نہ آئیں۔اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے ملک میں ایسے لوگ موجود ہیں جن کے ہاتھوں میں قانون محفوظ ہے۔

سوال: آپ نے کہا کہ آپ گھر میں نظر بند تھیں۔کس کس کو اجازت تھی کہ آپ سے مل سکے؟

جواب: جب ہم اسلام آباد میں تھے تو ہمیں کسی سے بھی ملنے کی اجازت نہیں تھی۔

سوال: اسلام آباد میں آپ کون سی تاریخ کو تھے؟

جواب: ہم پانچ مارچ کو کراچی سےاسلام آباد پہنچے اور ہمیں تھریٹ کیا گیا۔ آپ اپنے موبائل بالکل بند رکھیں۔ کسی سے ملنے جلنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اور اب آپ فیڈرل حکومت کے ہاتھوں میں آ گئے ہو اور ایجنسیز والے بڑے ظالم ہیں اور باہر بیٹھے ہوئے ہیں ہتھیاروں سمیت۔ اور جو ہم کہیں وہ آپ کو کرنا ہو گا۔ آپ بالکل خاموش ہو جاؤ۔

مسٹر خالد: اصل میں دیکھیں کہ جب ہم کراچی سے اسلام آباد آئے تو ہمارا سب لوگوں سے رابطہ نہیں ہونے دیا گیا۔ اس وقت ہمیں پتہ چلا کہ ٹریبیونل کی فائنڈنگز آنے والی ہیں اور خود بلوچستان حکومت نے جو انوسٹیگیشن کروائی تھی اس کا پتہ چلنے والا تھا۔ جب ہم نے جج سے یہ کہا کہ شازیہ کہ سٹیٹمنٹ کی کاپی ہمیں دے دیں تو اس نے کہا کہ اس کی ایک کاپی گورنر بلوچستان کے پاس جائے گی اور دوسری کاپی اس کی پریزیڈنٹ کے پاس جائے گی۔

سوال: آپ ٹریبیونل کےسامنے پیش کیوں نہیں ہوئی تھیں؟
جواب: ٹریبیونل کی سٹیٹمنٹ جب میں نے دی تھی تو وہاس صرف ایک جسٹس تھے اور وکیل تھا ایک اور ایک ٹائپسٹ تھا۔ جب ہمیں ٹربیونل کے لیے بتایا گیا کہ آپ کو کوئٹہ جانا ہے تو ہم نے کراچی کے سی ایس اسلم سنجرانی کو بتایا کہ ہم جانا چاہیں گے تو انہوں نہ کہا کہ آپ کی جان کو خطرہ ہے اور بلوچستان کے حالات بہت خراب ہیں۔ آپ کا ٹریبیونل یہیں کراچی میں ہو گا۔ اپلیکیشن میں لکھا گیا کہ میری طبیعت خراب ہے۔اسی لیے میں کوئٹہ نہیں جانا چاہتی۔ اور اگر آپ پھر بھی جانا چاہتے ہیں تو آپ اپنی زندگی کے خود ذمہ دار ہونگے۔

سوال: اور یہ ملٹری کے لوگ تھے یا پولیس کے؟
جواب: یہ چیف سیکریٹری تھے اسلم سنجرانی سندھ کے۔ انہوں نے ہم سے کہا تھا۔

مسٹر خالد: لیکن جب ہمیں یہ اطلاع ملی کہ آپ کا ٹریبیونل ہم کراچی میں کریں گے تو اس وقت ہمیں ایک خط ملا بلوچستان حکومت سے کہ سندھ ہائی کورٹ میں شازیہ کا ٹریبیونل ہوگا۔ اور پولس کے ساتھ شازیہ جائیں گی۔ لیکن دس منٹ پہلے پولیس کو ہٹا کے رینجرز جیپ لے کر آ گئے۔ وہ ہمیں لینے آ گئے اور ہم یہ سوچ رہے تھے کہ سندھ ہائی کورٹ جائیں گے وہاں جج ہو گا۔ کھلی عدالت ہو گی۔ لیکن پتہ چلا ہمیں تو الیکشن آفس میں لے گئے۔ یہ خفیہ طور سے تحقیقات کرنے کا مطلب کیا ہوا۔

’یہ کیس بہت ہی حساس قسم کا کیس تھا۔ پاکستان گورنمنٹ کے لیے اور میں جہاں تک سمجھتا ہوں کہ جو شکوک اور شبہات آرمی کے اوپر آئے تھے، آرمی کے کیپٹن کے اوپر آئے تھے۔ جیسے نواب اکبر بگٹی نے کہا تھا کہ وہی کلپرٹ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ جو فوج اور قبائلیوں کے درمیان چپکلش ہو گئی تھی اس میں ایک انا کا مسئلہ بھی تھا گورنمنٹ آف پاکستان کے لیے۔

سوال: آپ کو لگتا ہے کہ آپ میں ہمت تھی ان کا سامنا کرنے کی کیونکہ ہم نے ایک اور بھی کیس دیکھا ہے مختار مائی کا؟

جواب: جی بالکل ہم تو چاہتے تھے کہ ہم میڈیا کے سامنے آئیں، اپنا کیس میڈیا کے سامنے لائیں لیکن پھر ہمیں ہاؤس اریسٹ کر دیا گیا۔ہمیں شروع سے یہ کہا گیا، حکومت نے ہم سے کہا کہ آپ لوگ خاموش رہیں۔ ہم آپ کو انصاف دلوائیں گے۔ ہمیں انہوں نے فریب اور مکاری سے ملک سے باہر نکال دیا۔ اور اب وہی لوگ میرے کیس کو ختم کر دینا چاہتے ہیں۔ تو میں صرف اپنے لیے نہیں بول رہی ہوں بلکہ پاکستان کی تمام عورتوں کے لیے میں حق اور انصاف کی آواز اٹھائی ہے اور میں تب تک لڑتی رہوں گی جب تک ہم عورتوں کو پاکستان میں انصاف نہیں ملتا۔

سوال: کیا ’وہ لوگ‘ سے مطلب حکومت ہے؟
جواب: جی بالکل۔

سوال: آپ کو لگتا ہے گورنمنٹ ٹارگٹ کرتی ہے عورتوں کو؟

جواب: جی بالکل، ہمیں تو انہوں نے یہ ہی کہا کہ آپ کو انصاف ملے گا۔ ہم خاموش بیٹھے تھے، جب گورنمنٹ ہی ہمیں خود کہہ رہی ہے، قانون نافذ کرنے والے ہمیں کہہ رہے ہیں کے آپ کو انصاف ملے گا۔ لیکن جب ہم یہاں پہنچے تو نیوز آن لائن والوں کی طرف سے ہمیں یہ اخبار میں رپورٹ ملی کہ ہمارے یو کے جانے سے پہلے میں نے ٹیلیفون پر بات کی ہے بگٹی صاحب سے اور میں نے ان سے رو کے التجا کی ہے کہ خدارا میری عزت کو مت اچھالیں۔ اور میں اپنی مرضی سے پاکستان چھوڑ کر جا رہی ہوں۔ حکومت نے مجھے انصاف دیا ہے خدارا آپ خاموش ہو جائیں اور حکومت نے مجھے ایک لاکھ ڈالر بھی دیے ہے۔ لیکن آج تک میں نے ان سے ٹیلیفون پر بات نہیں کی۔ یہ ساری جھوٹی خبریں ہیں جو نیوز آن لائن والوں نے دی ہیں تاکہ لوگوں میں یہ تاثر پھیلے کہ ڈاکٹر شازیہ ایک ٹھاٹھ باٹھ کی زندگی گزار رہی ہیں جیسا کے ابھی کچھ دن پہلے اخبار میں آیا تھا کہ شازیہ کو یو کے کی شہریت مل چکی ہے اور یو کے گورنمنٹ ان کو دو ہزار پاؤنڈ ماہانہ دے رہی ہے اور ان کے ہیزبینڈ کو بہت جلد جاب ملنے والی ہے۔ ایسی کوئی بات نہیں۔ ہم یہاں خانہ بدوشوں کی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ در در کی ٹھوکر کھا رہے ہیں۔ پاکستان میں تھے تو اپنے گھر سے نکالے گئے، وہاں سے نکلے تو ہمیں ایک اولڈ بلوچ گھر میں رکھا گیا۔ وہاں سے نکالے گئے تو ہمیں اسلام آباد میں رکھا۔ پھر جب ہماری ساری امیدیں ختم ہوگئیں تو خود کیس فائل کیا اور یہاں عام پناہ گاہ میں رہ رہے تھے۔ اب کچھ دن پہلے اس گھر میں شفٹ ہوئے ہیں۔ ہمارا سارا مستقبل ختم ہو گیا۔ میں اپنے بچے سے دور ہوگئی۔

سوال: واپس جانا چاہتی ہیں؟

جواب: وقت اور حالات کیا صورت اختیار کرتے ہیں مجھے تو نہیں پتہ اور میں جو پناہ کی طالب بن کر زندگی گزار رہی ہوں اس کا مجھے کوئی شوق ہی نہیں ہے۔ لیکن مجبوری یہ ہے کہ حکومت ہمیں پروٹیکشن نہیں دے سکی۔ لیکن امید رکھتی ہوں کہ اگر وقت اور حالات نے ساتھ دیا تو ضرور جاؤں گی۔

سوال: اگر حکومت بدلی تو جائیں گی؟
جواب: جی بالکل جانا چاہوں گی۔

سوال: آپ کی بے نظیر صاحبہ سے بھی ملاقات ہوئی تھی۔ کیا ان سے باتیں ہوئیں اور کیا انہوں آپ کو سپورٹ کیا۔؟

جواب: جی انہوں نے مجھے سپورٹ کیا اور کہا کہ آپ نے بہت اچھا کیا اپنے حق اور انصاف کے لیے لڑ رہی ہیں، اپنے لیے نہیں بلکہ پاکستان کی تمام عورتوں کے لیے آپ لڑ رہی ہیں، بہت اچھا کام کر رہی ہیں آپ۔

سوال: آپ کہ رہی ہیں کہ آپ کا بیٹا بھی وہیں پر ہے۔ اپنے بیٹے کے بارے میں کچھ بتائیں۔
جواب: میرا یہ بیٹا لے کر پالا ہوا ہے ۔ جب چار سال کا تھا تو اس کے والد کی وفات ہوگئی تھی تو اس کی امی نے دوسری شادی کر لی تھی۔تب سے میں ہی اس کی دیکھ بھال کر رہی ہوں۔ لیکن مجھے ڈر لگ رہا ہے کیونکہ جب ہم اسلام آباد میں تھے تو وہ لوگ کہہ رہے تھے کے یہاں آپ کا بیٹا بھی ہے اور آپ تو چلے جائیں گے ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں۔

سوال: یہ کس نے کہا تھا آپ کو؟

جواب: یہ نیوز آن لائن کے جو ڈائریکٹر ہیں محسن بیگ، انہوں نے کہا تھا۔

سوال: آپ کا جو بیٹا ہے اس کو انہوں نے آپ کو لے جانے نہیں دیا کہ آپ خود اس کو وہاں چھوڑ کر آئے ہیں۔

جواب: جب ہم کراچی میں تھے تو ڈاکٹر شاہد مسعود اے آر وائی کے اور محسن بیگ ہمارے پاس ملنے کے لیے آئے تو شاہد مسعود نے کہا کہ محسن بیگ حکومت کا بندہ ہے۔ ہم آپ کی مدد کریں گے۔ آپ کی جانوں کو خطرہ ہے۔

سوال: جانوں کا خطرہ کس سے ہے؟

جواب: کہنے لگے کہ اسلام آباد کی ایجنسیز سے ہم ملے ہیں تو آپ لوگوں کو بہت رسک ہے اور بلوچستان کے حالات آپ کی اشو کی وجہ بہت خراب ہو گئے ہیں۔

مسٹر خالد: ہم سے ملنے سے پہلے وہ اسلام آباد گئے تھے۔ محسن تو وہ ظاہری بات ہے کہ وہ ایجنسی کا بندہ ہی ہے اور شاہد مسعود نے بھی اس کا اقرار کیا۔ اس نے مجھے کہا تھا کہ محسن بیگ گورنمنٹ کا آدمی ہے۔ میں (شاہد مسعود) اور محسن آپ کی مدد کریں گے۔ اب گورنمنٹ شاہد مسعود اور محسن بیگ کے درمیان جو کھچڑی پک رہی تھی اس کا ہمیں تو علم نہیں۔ شاہد مسعود ہم سے اسلام آباد میں انٹرویو لینے کے بعد غائب ہو گیا تھا۔ پھر دوبئی سے اس نے فون کیا تھا۔ بڑا ڈرا ہوا تھا اور ایجنسیز کے لئیے اس نے کافی بری طرح سے باتیں کی تھیں کہ وہ تو ’مجھے ہی مار دینا چاہتے تھے اور میں اپنی جان بچا کے چار ائیرپورٹس سے اپنے ٹکٹ بک کرواکے اور جان بچا کے نکلا ہوں‘۔ پھر اس کے بعد محسن صاحب آ کے کھڑے ہو گئے جی شاہد مسعود صاحب کو ہم نے فرنٹ پہ رکھا ہوا تھا۔ سارا کام اور آپکا ویزہ وغیرہ تو ہمارا کام ہے، وہ تو ہم نے کیا ہے۔ پریزیڈنٹ سے بھی میں آپ کو اجازت دلوا رہا ہوں اور طارق عزیز جو سپیشل ایڈوائزر ہیں ان سے بھی اس نے ملاقات کروائی لیکن اس نے کہا تھا کہ- - - -

سوال: طارق عزیز سے ملے؟
جواب: مسٹر خالد: جی ان سے ملاقات ہوئی۔

سوال: انہوں نہ کیا کہا تھا آپ سے؟

مسٹر خالد: طارق عزیز سے جو ملاقات ہوئی تھی اس سے پہلے محسن بیگ صاحب نے ہمیں کہا تھا کہ آپ طارق عزیز صحاب کو کچھ نہ کہیں، آپ ان کی باتیں سنیں۔ میں نے کہا ٹھیک ہے۔ اور پھر ان سے ملاقات ہوئی انہوں نہ کہا کہ آپ نے تو بہت اچھا کیا ہے اور آپ کی سٹیٹمنٹ جو خود ہی انہوں تیار کی تھی اسی سٹیٹمنٹ کی بات کی۔

سوال: سٹیٹمنٹ میں کیا لکھا ہوا تھا؟

مسٹر خالد: سٹیٹمنٹ میں کچھ ایسی چیزیں تھیں جس طرح سے پی پی ایل کو بچایا گیا تھا کہ پی پی ایل نے شازیہ کو ٹریٹمنٹ دیا تھا، میڈیکل سپورٹ دی تھی۔ ایسی کوئی بات نہیں، دنیا کو پتہ ہے کہ پی پی ایل نے کیا رویہ اختیار کیا وہ تو آن ریکارڈ ہے، پولیس کے ریکارڈ سے آپ دیکھ لیں کہ انہوں نے کوئی تعاون پولیس کے ساتھ بھی نہیں کیا۔ تو وہ تو جھوٹ نہیں بول رہے۔ اور سینٹ میں بھی اس چیز کو اچھالا گیا ہے۔ ایم ڈی کو بلایا گیا ہے۔ بلکہ ٹریبیونل میں جو انکی یکطرفہ رپورٹس ہیں ان میں بھی یہ بتایا گیا ہے کہ پی پی ایل کی یہ ذمہ داری ہے۔

سوال: سٹیٹمنٹ میں یہ لکھا ہوا تھا کہ شازیہ کو پی پی ایل نے بڑی اچھی طرح سے ٹریٹ کیا۔

مسٹر خالد: جی

سوال: اور یہ وہ خود لکھ کے لائے ہوئے تھے؟

مسٹر خالد: جی لکھ کے لائے ہوئے تھے۔

ڈاکٹر شازیہ: اور ا س میں یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ میں اپنی مرضی سے ملک چھوڑ کے جا رہی ہوں اور حکومت نے میرا بہت ساتھ دیا ہے۔ تو میں نے کہا کہ میں اس سٹیٹمنٹ پہ سائن نہیں کروں گی۔ تو محسن بیگ نے کہا کہ اگر تم سائن نہیں کرو گی تو ایجنسیز والے یہ کہتے کہ اگر ہم خالی کاغذ پر لکیریں بھی ڈالیں تب بھی آپ اس پر - - - -سائن کرکے یہاں سے اپنی جان بچاؤ اور بھاگو۔

سوال: اس میٹنگ میں جب آپ طارق عزیز سے ملے تھے تو آپ تھیں آپ کے خاوند تھے،محسن بیگ تھے اور طارق عزیز تھے بس۔ (تاہم محسن بیگ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تردید کی ہے کہ انہوں نے ڈاکٹر شازیہ کی ملاقات طارق عزیز سے کروائی تھی)۔

مسٹر خالد: نہیں شازیہ کی جو بھابھی تھی وہ ان کے ساتھ تھی، تو طارق عزیز کو بھی ہم نہ کہا تھا کہ عدنان کو وہ ہمارے بیٹے جیسا ہے ہم اس کو لے جانا چاہتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ جی آپ اس وقت چلے جائیں آپ کے پاس وقت بہت کم ہے۔ آپ یو کے جائیں اور اس کے بعد محسن وغیرہ بھی ہیں ہم آپ لوگوں کی مدد کریں گے اور عدنان بھی آپ کو آ کر مل لے گا۔

سوال: پاسپورٹ آپ کے کس پاس تھے؟

مسٹر خالد: پاسپورٹ ہمارے شاہد مسعود کے پاس تھے اور جب اس کو انہوں نے نکال دیا تو اس نے پاسپورٹ جو تھے کسی دوست کو دئیے تھے اور ان کا دوست ہمارے پاس تقریباً رات ایک بجے آیا تھا اور پاسپورٹ ہمیں دے کر چلا گیا۔

سوال: ویزہ کس نے لگوایا تھا۔
جواب: دونوں نے۔ شاہد مسعود نے
مسٹر خالد: شاہد مسعود نے، محسن بیگ نے لگوایا ہے۔ اب کس نے لگوایا ہے ہمیں نہیں پتہ اس بات کا۔
ڈاکٹر شازیہ: دو دن میں وہ ہمارا پاسپورٹ لے کر گئے اور دو دن میں واپس کر دئیے۔ تو دو دن میں ویزا کون لگوا سکتا ہے۔

شیخ رشید صاحب کا بیان آیا تھا کہ ہم نے نہیں بھیجا اور کوئی این جی او ہے جس نے یہاں ان لوگوں کو بلوایا ہے۔

مسٹر خالد: شیخ رشید کا بیان اس طرح آیا تھا کہ ہمیں تو پتہ ہی نہیں ہے کہ ڈاکٹر شازیہ کیسے فلائی کر گئیں اور ہم نے امیگریشن سے پتہ کروایا کہ اس طرح کا کوئی بندہ نہیں گیا۔

سوال: ایک اخبار نے ایک فائنڈنگ کی تھی اور آپ کی تصویر آئی تھی ائیرپورٹ پر۔ وہ ائیرپورٹ پر ہی کھینچی گئی تھی، اس کے پیچھے جو صوفہ تھا وہ تو کہیں نہیں پایا گیا۔

جواب: نہیں جب مجھ سے سٹیٹمنٹ لی گئی تھی اسلام آباد میں اس وقت میرے فوٹوز نکالے تھے انہوں نے۔

مسٹر خالد: اس وقت گیسٹ ہاؤس میں فوٹو لئیے تھے۔ اچھا شیخ رشید صاحب کی بات کریں کیونکہ وہ تو اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں کہ ہمیں جی پتہ نہیں ہے اور این جی اوز نے بھیجی ہیں۔ اس کے بعد ہیومن رائٹس اور این جی اوز نے اس باتوں کی تردید کی تھی۔ اب یہ بتائیں کہ حلومت اس طرح کے جھوٹ کب تک بولتی رہے گی۔

سوال: آپ کی کسی این جی اوز نے مدد نہیں کی تھی۔

مسٹر خالد: کسی این جی اوز نے نہیں۔ جب ہم طارق عزیز سے مل کر جا رہے ہیں اور ان سے اجازت لے کر جا رہے ہیں تو سمجھیں کہ بات تو ختم ہو گئی۔ ہم سمجھ رہے تھے جیسے کے صدر سے مل کے جا رہے تھے۔

اس وقت جو حالات تھے ہم خود گھبرائے ہوئے تھے اور ہمیں ڈرایا جا رہا تھا۔ اور محسن بیگ اس طرح کی باتیں کرتے تھے اور کہتے تھے یہاں سے نکل جائیں آپ کی زندگی بچ جائے گی۔

سوال: آپ وہاں سے جانا چاہتے تھے۔
جواب: ذاتی طور پہ ہم نہیں نکلنا چاہتے تھے لیکن حالات جو ہو گئے تھے تو ہم مجبور ہو گئے کہ ہم نکلیں۔اس اشو اتنا پولیٹیسائز کیا جا رہا تھا اور انصاف تو مل ہی نہیں پا رہا تھا۔ ایم آئی کے کرنل مجھے ملے تھے، کرنل حفاظت صاحب ملے تھے انہوں نے کہا کہ 48 گھنٹوں کے اندر آپ کو ایک بندہ ملے گا۔ کلپرٹ ملے گا۔ ایم آئی کے جنرل نے کہا کہ وہ میرے ہاتھ میں ہے۔

سوال: جس دن ٹریبیونل بیٹھا تھا رپورٹ یہ آئی کہ سب سے پہلے ایم آئی کے لوگ آپ سے وہاں ملے تھے۔ یہ بات سچ ہے؟

مسٹر خالد: نہیں ایم آئی کے کرنل مجھے گیارہ جنوری کو ہی ملے تھے۔

سوال: یہ جو شناخت پریڈ ہوئی تھی تو اخباروں میں تو یہ آیا تھا کہ وہ لوگ نہیں دکھائے گئے تھے صرف ان کی آڈیو اور ویڈیو دکھائی گئی تھی۔

جواب: نہیں آئڈنٹیفیکیشن پریڈ میں گیارہ بندے سامنے لے کر آئے تھے تو میں نے کہا کہ شکل تو میں پہچان ہی نہیں پاؤں گی لیکن آواز جو ہے میں وہ پہچان پاؤں گی۔ کبھی نہیں بھول سکتی مرتے دم تک اس بندے کی۔

سوال: کیپٹن حماد اس پریڈ میں تھے۔
جواب: مجھے بتایا تو نہیں گیا کہ اس میں کیپٹن حماد ہے۔ آج تک ناں تو کسی نے مجھے اس کی فوٹو دکھائی اور ناں ہی اس کی وڈیو۔ مجھے نہیں پتہ کہ اس میں کیپٹن حماد تھا کہ نہیں تھا۔ جو لوگ بلائے گئے تھے وہ ایک ایک کر کے پردے کے پیچھے سے ایک منٹ تک بولتے رہے لیکن ان میں سے کسی کو میں شناخت نہیں کر پائی۔ جب آئڈنٹیفیکیشن پریڈ ہو رہی تھی تب وہ گیارہ لوگ شیشے کے پیچھے کھڑے ہوئے تھے۔ لیکن میں نے کہا کہ ان کی شکل تو میں نہیں پہچان پاؤں گی اور آواز جو ہے وہ میں کبھی بھی نہیں بھول سکتی۔

خالد: اگر اس آئڈنٹیفیکشن پریڈ میں کیپٹن حماد تھا اور اس نے ڈاکٹر شازیہ سے بات کی ہے تو وہ بالکل بے قصور ہے۔ کیونکہ جن لوگوں نے بات کی تھی کلپرٹ ان میں نہیں تھا۔

سوال: آئڈنٹیفیکیشن پریڈ جب ہوئی تھی اس میں جسٹس تھے آپ تھیں اور کوئی ملٹری پرسنل بھی تھے وہاں پر۔

جواب: وہاں پر کافی پولیس کے لوگ تھے۔ ایس ایس پی تھے اور ہمیں جہاں لے جایا گیا وہ ایک تھانہ تھا۔

سوال: یہ پہلے بھی کبھی ایسا ہوا ہے سوئی میں۔
جواب: نہیں کبھی بھی ہم نے نہیں سنا اور جب مجھے اپائنٹ کیا گیا تو پی پی ایل کے ہیڈ آفس والوں نے مجھے یہ بھی یقین دہانی کرائی تھی کہ ہم خالد کو بھی جاب دیں گے اور کپلز ہی کو پسند کرتے ہیں کیونکہ یہ ایک ریموٹ ایریا ہے۔اور جب ہم وہاں کام کے لیے گئے تو وہاں کے سی ایم نے ہمیں یقین دہانی کرائی کہ شازیہ یہاں اپنے گھر زیادہ محفوظ ہے۔

سوال: اب کیا امیدیں ہیں۔ آپ کو امید ہے کہ جو بھی کلپرٹ ہے پکڑا جائے گا۔
جواب: میں یہی چاہتی ہوں کہ میں کیس کروں اور ابھی بھی ایسے لوگ موجود ہیں جن کے ہاتھوں میں قانون محفوظ ہے جیسے کہ پولیس میں ایس ایس پی ثنااللہ عباسی ہیں اور اے ڈی خواجہ ہیں اور وکیلوں میں ہماری ہیومن رائٹس کی عاصمہ جہانگیر ہیں۔

سوال: آپ اپنا کیس فائل کریں گی۔
جواب: جی انشااللہ۔

سوال: آپ نے ابھی تک کیوں نہیں کیا۔
جواب: ہم کچھ ہیومن رائٹس تنظیموں کے ساتھ مل کر کریں گے۔

سوال: کیا اسی سال کریں گے۔
جواب: جی ہماری کچھ ہیومن رائٹس کی تنظیموں سے بات چیت چل رہی ہے۔

سوال: کیا واپس آنے دیں گے آپ کو۔
جواب: مسٹر خالد: واپس آنے کا جہاں تک تعلق ہے ہمارا ملک ہے۔ ہم جب چاہیں جا سکتیں ہیں۔ لیکن مسئلہ پروٹیکشن کا ہے۔

سوال: ادھر انٹیلیجنس کے لوگ آپ کو تنگ کرتے ہیں۔
مسٹر خالد: جی ابھی تک تو ایسی کوئی بات نہیں ہوئی۔ شازیہ نے جو آواز اٹھائی ہے یہ اپنے انصاف کے لیے لڑ رہی ہے۔اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ابھی ایک اور کیس ہوا ہے سونیا ناز کا۔ حکومت کے ہی رکھوالے ہیں۔
ڈاکٹر شازیہ: پاکستان میں تو محفوظ ہی نہیں ہوں میں۔ قانون نافذ کرنے والے عورتوں سے زیادتی کرتے ہیں۔

سوال: اس انسیڈنٹ کے بعد دنیا کے بارے میں انسان کا نظریہ بدل جاتا ہے۔آپ کا بدلا ہے؟

جواب: میں نے جو آواز اٹھائی ہے ویسٹ میں، عورتوں کو پاکستان میں انصاف نہیں ملتا تو میں کہاں جاؤں۔ جہاں تک ویسٹرن ملکوں کی بات ہے اور اگر یہاں پر کسی سے زیادتی ہوتی ہے تو انصاف بھی ملتا ہے۔

سوال: اخبار میں پڑھا تھا کہ یہ رات کو سو نہیں سکتیں۔
جواب: مسٹر خالد: اب بھی ان کی سائکو تھیراپی چل رہی ہے۔ ہفتے میں ایک بار یہ جاتیں ہیں۔ لیکن میں یہ چاہ رہا ہوں کے ان میں حوصلہ آئے۔وکٹم سے سروائیور بنیں ہیں۔

سوال: شازیہ آپ کیسا محسوس کر رہی ہیں۔ جب یہ واقعہ ہوا تھا تب سے لے کر اب تک؟
جواب: میں جو بول رہی ہوں وہ اچھا تو نہیں لگ رہا لیکن اس لئیے بول رہی ہوں تاکہ پاکستان میں عورتوں کو انصاف مل سکے اور لا اور آرڈر ٹھیک ہو سکے۔

سوال: تو کیا آپ اب زیادہ مضبوط محسوس کر رہی ہیں؟
جواب: جی میں وکٹم سے سروائیور بن گئی ہوں اور مجھے تو انصاف نہیں ملا لیکن میری یہ کوشش ہو گی کہ عورتوں کی آواز بن جاؤں اور اگر ایک عورت کو بھی انصاف ملتا ہے تو وہ میری جیت ہوگی۔

ایک آرٹیکل چھپا تھا جس سے پتہ چلا کے آپ نے خودکشی کی کوشش کی ہے۔
جواب: جی حالات کچھ اس طرح کے ہو گئے تھے کیونکہ آپ تو جانتے ہیں پاکستان میں عورتوں عزت نہیں ملتی۔اوپر سے خالد کے دادا نے جرگہ بلایا ہوا تھا اور ان کا فیصلہ تھا کہ شازیہ کو طلاق دے دی جائے۔ اس وقت میں نے خودکشی کرنے کی کوشش کی لیکن خالد اور گھر والوں نے مجھے بچا لیا۔ایک اور آرٹیکل اسلام آباد میں چھپا تھا جس میں لکھا گیا تھا کے شازیہ پریگننٹ ہیں اور خالد لیبیا میں ہیں تو وہ کیسے پریگننٹ ہوئیں۔ تو ایسی باتوں سے تنگ آ کر میں نے باتھ روم میں جا کے خودکشی کرنا چاہی مگر عدنان اور خالد دونوں میرے ساتھ تھے۔ اور عدنان کے کہا کہ ماما اگر آپ اپنے آپ کو مار دیں گی تو میں بھی اپنے آپ کو مار دوں گا دروازہ کھولیں۔ اگر گھر والوں کا اور میرے خاوند کا ساتھ نا ہوتا تو میں کب کی جا چکی ہوتی اس دنیا سے‘۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد