BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 December, 2005, 12:26 GMT 17:26 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
اردو فکشن 2005: دو متنازعہ کتابیں
 

 
 
دونوں متنازع کتابوں میں ’دہشت گردی‘ اور ’جہاد‘ کو موضوع بنایا گیا ہے
ہر سال کی طرح اس سال بھی افسانوی مجموعے کم اور ناول بہت ہی کم آئے ہیں اور ان میں ایسے گنتی سے بھی کم کے ہیں کہ جن کا ذکر ناگزیر ہو۔

ایک عرصے سے اردو میں ایسی کوئی کتاب نہیں آئی جس کا شور اٹھے اگرچہ مجموعی طور پر اب کتابوں کی اشاعت میں تیزی آئی ہے لیکن تقسیم کا نظام اب بھی ایسا ہے کہ رسائی دسترس سے باہر ہے۔

اس سال ایک ناول اور افسانوں کا ایک مجموعہ ایسا آیا ہے جن میں مجموعی انداز سے زیادہ ان کے متن کے معاملے کو موضوع بنانے پر اصرار کیا گیا ہے۔

’میں یہاں ہوں‘کے نام سے آنے والا افسانوں کا یہ مجموعہ اردو کی جانی پہچانی افسانہ نگار اور ایک ناول کی مصنفہ خالدہ حسین کا ہے اور ناول ممبئی کے ایک نوجوان کا رحمٰن عباس کا جو ’نخلستان کی تلاش‘ کے نام سے شائع ہوا ہے۔

ان دونوں کو قابلِ ذکر بنانے والی قدرِ مشترک مسلمانوں میں گزشتہ کچھ برسوں سے مزاحمت کے نام پر پیدا ہونے والی وہ رو ہے جسے بیک وقت ’جہاد‘ اور ’دہشت گردی‘ کا نام دیا جاتا ہے۔

خالدہ حسین کے انداز میں تبدیلی کے آثار سب سے زیادہ انتظار حسین کو چبھے ہیں۔ بالعموم خالدہ حسین کو انتظار حسین کے اسلوب کا اور انتظار حسین کو کچھ مغربی ادیبوں کے اسلوب کا پیرو کار قرار دیا جاتا ہے اگر وہ اس سے انکار کرتے ہیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ کافکا نے ناول اور کہانیوں کا ماحول تخلیق کرنے اور ہوزے سراماگو نے ایک مؤثر ہمہ جہتی استعارے کی تشکیل کا ہنر انہی سے سیکھا ہے۔

آصف فرخی، انتظار حسین کے حوالے سے، اسے خالدہ حسین کا، امریکی معنوں میں بنیاد پرستی کی طرف جھکاؤ قرار دیتے ہیں اور انتظار حسین کا کہنا ہے کہ جہاد کے اس سکّے کو مقبولیت کی غرض سے، سب سے پہلے مستنصر حسین تارڑ نے استعمال کرنے کی

انتظار کے پیرو: کافکااور سراماگو؟
 بالعموم خالدہ حسین اور انتظار حسین کا اور انتظار حسین کو کچھ مغربی ادیبوں کا پیرو قرار دیا جاتا ہے اگر وہ انکار کریں تو کہہ سکتے ہیں کہ کافکا نے ماحول تخلیق کرنے اور ہوزے سراماگو نے ایک مؤثر ہمہ جہتی استعارے کی تشکیل کا ہنر انتظار حسین سے لیا ہے
 
کوشش کی۔ انتظار حسین کا کہنا ہے کہ خالدہ کی چند ایک کہانیوں سے لگتا ہے کہ ان کے اندازِ فکر میں تبدیلی آئی ہے۔ شاید وہ اپنے اب تک کے اس تجربے پر قانع نہیں ہیں جو انہیں ارد گرد رونما ہونے والے واقعات سے جڑنے نہیں دیتا۔ انتظار حسین کے مطابق باہر جو ہو رہا ہے اس میں اور زیادہ کنفیوژن ہے۔ ’باہر ایک نظریاتی لڑائی ہے جو اسلام اور مغرب بلکہ امریکہ کے درمیان جاری ہے‘ پہلے یہ مارکسیوں اور مغربی سرمایہ داروں کے درمیان تھی لیکن مارکسسٹوں کے پاس ایک بہت سوچا سمجھا ادبی نظریہ تھا جب کہ موجودہ نظریاتی لڑائی لڑنے والوں کے پاس ایسی کوئی سہولت نہیں ہے۔ اسلام کے نام پر اس دہشت گردی نے جاری کنفیوژن کو مزید بڑھایا ہے‘۔

ان کا کہنا ہے ’سب سے پہلے تارڑ نے افغانستان پر امریکی حملے کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا یہاں تک کہ انہوں نے طالبان میں ایک چی گویرا بھی تلاش کر لیا۔ اب خالد اس رستے پر چلی ہیں لیکن ان دونوں میں ایک فرق ہے۔ تارڑ ایک چالاک ادیب ہیں انہوں ضرور مقبولیت کے لیے اس کو استعمال کیا لیکن انہیں جلد ہی اندازہ ہو گیا کے ان تلوں میں تیل نہیں ہے لیکن خالدہ اس معاملے میں سنجیدہ ہیں کم از کم ان کی دو کہانیاں ابنِ آدم اور جزیرہ اس کا عندیہ ضرور دیتی ہیں تاہم دو کہانیوں کے بنایاد پر سارے مستقبل کے پیشگوئی نہیں کی جا سکتی‘۔

انتظار حسین ہمیں انتظار کرو اور دیکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ اگر اسلام کی بنا پر کسی کو نظریاتی ہونے کا حق حاصل ہے تو وہ خود انتظار حسین ہی ہیں کیونکہ جب ترقی پسندوں سے لڑائی میں عسکری صاحب نے اسلام کی تلوار اٹھائی تھی تو ان کے ایک مجاہد انتظار حسین بھی تھے اب عسکری صاحب تو ہیں نہیں انتظار صاحب چاہیں تو اس سے انکار کر سکتے ہیں کیونکہ اب یہ دعویٰ مہنگا پڑ سکتا تب اسلام کی پشت پر امریکہ بھی تھا لیکن اب وہ سامنے ہے اور اسلام کے نام پر ’دہشت گردی‘ کرنے والے تو خود بھی ایک دہشت گردی کا نشانہ ہیں جس کا سلسلہ کہیں نہ کہیں امریکہ سے ہی جا ملتا ہے لیکن اس بحث سے قطع نظر خالدہ اور مستنصر میں ایک فرق تخلیقی قوت کا ہے ورنہ تو مستنصر بہت زود نویس ہیں اور ان کا اصل میدان ڈائجسٹ اور ادب کے درمیان ہے۔

افضل توصیف کا افسانوں کا مجموعے لاوراث آیا ہے

ساجد رشید کا کہنا ہے کہ ’افسانوں میں اس سال ہندوستان میں صرف ذکیہ مشہدی کے افسانوں کا مجوعہ ’صدائے بازگشت‘ قابلِ ذکر ہے۔ اس مجموعے کے افسانوں کا موضوع تو نسائیت ہی ہے لیکن یہ عام اور رائج مظلومانہ نسائیت نہیں ہے۔ ان کے افسانوں کے نسائی کردار جدو جہد کرتے ہوئی نظر آتے ہیں‘۔

ساجد رشید کے مطابق ’ناولوں میں وید راہی کا ’اندھی سرنگ‘ ہے جو جموں و کشمیر کے تناظر میں ایک انتہائی متاثر کن کہانی بیان کرتا ہے لیکن رحمٰن عباس کا ناول ’نخلستان کی تلاش‘ انتہائی ہنگامہ خیز رہا۔ اس ناول کی اشاعت کا معاملہ اسمبلی میں اٹھا اور ناشر کو گرفتار بھی کیاگیا۔

بتیس سالہ رحمٰن عباس کا یہ پہلا ناول ہے اور اس کی وجہ سے انہیں اپنی ملازمت سے بھی ہاتھ دھونے پڑے۔ناول ممبئی میں یونیورسٹی کے ایک طالبِ علم اور اس کی محبت کی کہانی ہے۔ اس ناول میں 1992 کے بعد پیدا ہونے والے ان حالات کا بھی زکر جنہوں نے مسلمانوں ایک مختلف قسم کے اکیلے پن سے دوچار کر دیا۔

نیر اقبال علوی کے تین افسانوی مجوعے ایک ساتھ آئے ہیں

رحمٰن عباس کا اعتراض کرنے والوں کے بارے میں کہنا ہے’ان کے خیال میں ناول فحش ہےکیونکہ اس میں دو محبت کرنے والے ایک دوسرے سے ہم بوسہ ہوتے ہیں اور شادی نہ کرنے کا فیصلے کرتے ہیں اور اس پر انہوں نے مجھے کافر قرار دے دیا‘۔

ساجد رشید کا کہنا ہے کہ ناول کا مرکزی کردار جہاد سے دلچسپی رکھتا ہے اور اس کے جنسی مسائل بھی ہیں۔ ساجد رشید کے مطابق زیادہ تنازعہ ناول کی زبان پر رہا۔

اب بے روزگار رحمٰن عباس ایک ناول کی تیاری میں لگے ہیں جس میں وہ ’مسلمانوں میں منافقت کے رحجان‘ کو موضوع بنانا چاہتے ہیں۔

پاکستان میں افسانوں کا ایک مجموعہ افضل توصیف کا لاوارث شائع ہوا ہے۔ وہ ترقی پسند ادب کی تاریخ کے حوالے سے نہایت معتبر مقام کی حامل ہیں۔ سیاسی و سماجی اعتبار سے ان کی تحریریں کسی تعارف کی محتاج نہیں اور یہ ان کی اٹھائیسویں تصنیف ہے۔

اظہر غوری نے ان کی تصانیف کے نام بھی گنوا دیے ہیں اور ہمیں یہ بھی بتا دیا ہے کہ افضل توصیف ایک ایسی لائبریری کی خواہاں ہیں جہاں لاوارث کتابیں محفوظ کی جا سکیں یعنی لاوارث کتابوں کے لیے ایک قیام گاہ یا اگر دل نہ دکھے تو کتابوں کا یتیم خانہ۔ اس لاوارثیت کے تذکرے کا ان اس افسانوی مجوعے سے کیا علاقہ ہے آپ اس کا اندازہ افسانے پڑہ کر ہی کر سکتے ہیں۔

اس سال جرمنی والے نیر اقبال علوی کے افسانوں کے تین مجموعے آئے ہیں۔ کم و بیش تمام افسانوں سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کے یہ افسانے ملک سے باہر رہ کر لکھے گئے ہیں۔ سلسلۂ روز و شب، جہانِ رنگ و بو اور عالمِ سوز و ساز ان کے ان مجموعوں کے نام ہیں۔ ان کے یہ مجموعے ایک ساتھ شائع ہوئے ہیں۔ روجیت کے برخلاف اس سے پہلے ان کے کم ہی افسانے جرائد میں شائع ہوئے اور اس اعتبار سے ایک

رحمٰن عباس کہتے ہیں:
 ان کے خیال میں ناول فحش ہےکیونکہ اس دو محبت کرنے والے ایک دوسرے سے ہم بوسہ ہوتے ہیں اور شادی نہ کرنے کا فیصلے کرتے ہیں اور اسی پر انہوں نے مجھے کافر قرار دے دیا
 
غیرروایتی افسانہ نگار ہیں لیکن افسانوں کے حوالے سے وہ نئے ترقی پسندوں سے قریب ہیں۔ ان کے افسانے اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ آج تخلیق میں مقصدیت کی ضرورت ماضی کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔ نئے ترقی پسند وہ ان معنوں میں ہیں کہ گلوبلائزیشن کے عفریت سے دنیا بھر کے معصوم لوگوں کو محفوظ کرنے کی تدابیر کرتے نظر آتے ہیں۔انہوں نے اپنے افسانوں میں انسانی احساس کو بھی فنی اعتبار سے ایک نئے قرینے سے آشنا کیا ہے اور یہ سب ان کی خود اختیاری نقلِ مکانی کی دین ہے۔

ڈنمارک کی حکومت نے دو ہزار پانچ بچوں کا ادب تخلیق کرنے والے شہرہ آفاق ادیب کو ہانس کریسٹین آنڈرسن کا سال قرار دیا تھا اور اسی مناسبت سے اسکی کچھ مقبول کہانیوں کو فارسی، عربی، ترکی، صومالی اور کئی دیگر زبانوں کے علاوہ اردومیں بھی ترجمہ کرانے کا اہتمام کیا۔ ڈنمارک کی رائل لائبریری، وزارت تعلیم، وزارت امور مہاجرین اور تارکین وطن کی لائبریری کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ بچوں کی کہانیوں کی یہ کتاب ہر رُخ سے ایک کامیاب پیشکش ہے کیونکہ اس میں شامل آنڈرسن کی کہانیاں ہر ملک کے بچے کو اسی کی اپنی کہانیاں لگتی ہیں۔

اردو میں شائع ہونے والی اس کتاب کے مترجم ڈنمارک ریڈیو کی اردو سروس کے سربراہ اور متعدد اردو و پنجابی کتابوں کے مصنف معروف لکھاری نصر ملک ہیں اور ڈینش زبان جاننے والوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ترجمے کا حق ادا کر دیا ہے۔

 
 
فیودور دوستو ئیفسکیدوستوئیفسکی سالگرہ
فیودور دوستوئیفسکی لاہور پہنچ گئے
 
 
اردو شاعری 2005
اردو ادب میں زیادہ کتابیں شاعری کی آئیں
 
 
سالنامہاجتماعی شرمندگی
پاکستان میں خواتین کے مسائل اور مشرف کا بیان
 
 
اس سال کوئی بہت عمدہ کتاب نہیں آئیبہت شورسنتےتھے۔۔۔
2004 میں کتابوں کا کوئی شور ہی نہیں اٹھا
 
 
اسی بارے میں
شہوت انگیز ادب کا جدید کلاسک
09 August, 2005 | قلم اور کالم
ڈوما کے ناول کی دریافت
05 June, 2005 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد