BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 21 January, 2006, 11:48 GMT 16:48 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
ہوئے تم دوست جس کے
 

 
 
باجوڑ حملے کے خلاف کئی مظاہرے ہوئے ہیں
پاکستان کے وزیراعظم جناب شوکت عزیز آج کل امریکہ کے دورے پر ہیں اور خیال ہے کہ 24 جنوری کو وہ امریکی صدر جارج بش سے ملاقات کریں گے۔ یہ دورہ حکومت پاکستان کی خواہش پر ہورہا ہے یا صدر بش کی طلبی پر یہ واضح نہیں ہوسکا اور نہ یہ کہ اس دورے کی غرض و غایت کیا ہے۔

تاہم تازہ ترین اطلاع کے مطابق وزیراعظم شوکت عزیز نے کہا ہے کہ جب تک ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں اقوام متحدہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچ جاتی پاک۔ایران گیس پائپ لائن پر پیش رفت معطل رہے گی۔

جناب شوکت عزیز کے اس بیان سے امریکی حکومت کو اس منصوبے سے متعلق جو پریشانی لاحق ہے وہ دور ہوگی یا نہیں یہ تو بتانا مشکل ہے لیکن جو بات بڑی حدتک وثوق سے کہی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ ان کے اس بیان سے پاکستانی عوام میں مایوسی پھیلے گی اور ان کا یہ احساس اور شدت اختیار کر جائے گا کہ امریکی اب دو طرفہ تعلقات تک ہی محدود نہیں بلکہ ملک کی خارجہ پالیسی اور داخلی معاملات پر بھی اثر انداز ہونے لگے ہیں۔

اس سے پہلے پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے قوم سے اپنے حالیہ خطاب میں جہاں آبی ذخائر کے بارے میں اپنی پالیسی اور حکمت عملی کی تفصیل بتائی وہاں باجوڑ ایجنسی پر امریکہ کے حالیہ میزائیل حملے کے بارے میں ایک لفظ نہیں کہا۔ پاکستانی امور کے بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اس انتہائی سنگین مسئلے کے بارے میں صدر مشرف کی خاموشی ایسے لوگوں کے لیے یقینی مایوسی کا باعث ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ صدر اتنے ہی طاقتور اور بااختیار نہیں ہیں جتنا کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں۔

تاہم پاکستان کے وزیراطلاعت جناب شیخ رشید نے کہا ہے کہ اس واقعے کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے تعلقات متاثر نہیں ہوں گے، پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ سے متعلق اپنی پالیسی تبدیل نہیں کرے گا۔

باجوڑ پر مشرف کی خاموشی
  پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے قوم سے اپنے حالیہ خطاب میں جہاں آبی ذخائر کے بارے میں اپنی پالیسی اور حکمت عملی کی تفصیل بتائی وہاں باجوڑ ایجنسی پر امریکہ کے حالیہ میزائیل حملے کے بارے میں ایک لفظ نہیں کہا۔
 

ادھر پاکستان کے وزیراعظم جناب شوکت عزیز نے اس حملے سے متعلق اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور یہ شکایت بھی کی ہے کہ اس سلسلے میں پاکستان کی حکومت کو بالکل لاعلم رکھا گیا۔ بہر حال انہوں نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں وہ یہ یقین دہانی حاصل کرنے کی کوشش کریں گے کہ آئندہ ایسے واقعات نہ ہوں لیکن ان سے کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ اگر وہ یہ یقین دہانی حاصل کرنے میں ناکام رہے تو کیا کریں گے۔

وہ ایک لطیفہ ہے کہ ملازم نے آقا سے کہا: ’تنخواہ بڑھا دیجئے ورنہ‘۔
آقا:’ورنہ؟‘
ملازم: ’ورنہ اسی تنخواہ پر کام کرتے رہیں گے۔‘

پتہ نہیں یہ لطیفہ دونوں ملکوں کے تعلقات پر صادق آتا ہے یا نہیں۔

یہ بات بھی حیرت انگیز ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے اس واقعے کے بارے میں امریکہ سے اب تک کوئی باقاعدہ احتجاج بھی نہیں کیا گیا۔ نہ ہی امریکہ نے کسی معذرت یا پشیمانی کا اظہار کیا ہے۔

یوں لگتا ہے کہ صدر بش کو یورپ میں برطانوی حکومت اور مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی حکومت کے بعد جنوبی ایشیا میں پاکستان کی حکومت کی شکل میں ایک اور ایسا اتحادی مل گیا ہے جس پر وہ ہر کام کے لیے بھر پور اعتماد کر سکتا ہے۔

جنرل مشرف نے قوم سے خطاب میں باجوڑ پر خاموشی اختیار کرلی

مشکل صرف یہ ہے کہ امریکی حکومت اپنے دوستوں سے محمود و ایاز والا تعلق رکھنا چاہتی ہے یعنی وہ جو کہے یا کرے وہ من وعن تسلیم کرلیا جائے، صرف فرق یہ ہے کہ محمود غزنوی بقول علامہ اقبال کم از کم نماز کے وقت ایاز کو برابر میں کھڑے ہونے کی اجازت دے دیتے تھے باقی وقت میں حسب معمول سر تا پا غلامی کرنی پڑتی تھی۔

صدر بش وائٹ ہاؤس کی اخباری کانفرنسوں میں ازراہ مہمان نوازی اپنے برابر کھڑا کر لیتے ہیں۔ ویسے وہی کچھ کرنا پڑتا ہے جو ان کی مرضی اور منشا کے عین مطابق ہو۔

اب برطانوی حکومت کو ہی دیکھ لیجیے کہ وزیراعظم ٹونی بلیئر وائٹ ہاؤس میں اخباری کانفرنس سے خطاب کے دوران تو صدر بش کے برابر میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں لیکن باقی ہر معاملے میں راضی بہ رضا۔ جو صدر بش کہہ دیں اس پر آمنا و صدقنا کہنے کے بڑی حدتک عادی ہوگئے ہیں۔

اس سلسلے میں نہ وہ یہ پروا کرتے ہیں کہ برطانوی عوام کیا سوچیں گے، نہ یہ کہ اس سے ان کی سیاسی جماعت کی مقبولیت پر کیا اثر پڑے گا اور نہ یہ کہ یورپی یونین کی اس سلسلے میں کیا پالیسی ہے۔ ’بس وہی ٹھیک ہے جو صدر بش نے فرمایا ہے باقی سب مایا ہے۔‘

ان کے اس رویے سے خود برطانوی عوام میں ان کی مقبولیت اور ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ اس کا اندازہ گزشتہ عام انتخابات کے نتائج سے لگایا جاسکتا ہے۔
چلیے وزیراعظم ٹونی بلیئر تو ایک ایسے سیاسی نظام کے تابع ہیں کہ آج نہیں تو کل انہیں اپنی پارٹی اور اپنے عوام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا پڑے گا۔ لیکن پرویز مشرف صاحب تو کسی کے سامنے جوابدہ بھی نہیں ہیں، وہ تو یوں لگتا ہے جیسے اپنے وقت کے مارکوس اور آریہ مہر رضا شاہ پہلوی ہوں،وہ کیا کریں گے۔

 
 
پاکستان ڈونر کانفرنس عالمی برداری کے بعد
کچھ توجہ اپنوں پر بھی ہو جائے: علی احمد خآن
 
 
جارج بُشدشمن بڑھاتے بُش
صدر بُش کی پالیسیوں پر پرعلی احمدخان کا کالم
 
 
فارورڈ بلاک
فارورڈ بلاک یا ذاتی اختلافات: علی احمد خان
 
 
برطانیہ  کے عام انتخاباتانتخابات اور جنگ
برطانوی الیکشن اورعراق: علی احمد خان کا کالم
 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد