http://www.bbc.com/urdu/

Friday, 06 January, 2006, 18:06 GMT 23:06 PST

حسن مجتبٰی
سان ڈیاگو ، کیلیفورنیا

ہیرو اور اینٹی ہیرو

ذوالفقار علی بھٹو کیلیے کہتے ہیں کہ ان میں منصور اور میکاولی ساتھ ساتھ رہتے تھے۔

میں کہتا ہوں کہ آدمی میں ہیرو اور اینٹی ہیرو ساتھ ساتھ چلتا ہے کیونکہ وہ سچ مچ کا اداکار تو ہے نہیں! گھر سے اداکاری کے زبردست شوق میں بھاگنے والے اور بعد میں بھٹو کے ذاتی ملازم عثمان عرف ’فلیش مین‘ نے مجھے بتایا تھا: ’صاحب دلیپ کمار کی کاپی اور نرگس کا عاشق تھا‘۔

میں نے کل سنا کہ اب ان کی زیرِتعمیر( بقول علاقے کے لوگوں کے، تاج محل کی طرز تعمیر والے) مزار پر لوگ منتیں ماننے اور چڑھاوے چڑھانے آتے ہیں۔ وہ تو ’شھید بابا‘ کب کا کہلایا جب سے پاکستان کی تاریخ کے اس پاپولر پرائم منسٹر کی تدفین ایک پھکڑ قیدی کی طرح فوجی پہرے میں ہوئی تھی۔ وہ انگریزوں کے خطاب یافتہ سر اور جوناگڑھ کے وزیرِاعظم اور ایک راجھستانی ناچ گرل کا بیٹا تھا۔ باپ کی طرف سے سندھی وڈیرا اور ماں کی طرف سے غریبوں کا حامی بھٹو۔

’معراج محمد خان انہیں بتاؤ کہ میں غریبوں کی بات کیوں کرتا ہوں، میں سوشلزم کی بات کیوں کرتا ہوں؟ اس لیے کرتا ہوں کہ میری ماں غریب تھی۔‘ اس نے پیپلز پارٹی کے انیس سو ستر میں انتخابی جشن والی رات روتے ہوئے اپنے اس ’جانشین‘ اور پھر اپنے ہی سخت زیرعتاب معراج محمد خان سے کہا تھا۔

’ کیا ہوا اگر تھوڑی سے پی لیتا ہوں۔کسی کا خون تو نہیں پیتا‘، جیسا جملہ کہنے والے اس ہر شام کے مئےخوار نے زبردست منافقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک میں شراب پر پابندی بھی لگائی۔

میں اسے آسکر وائلڈ کے بعد ایک بہت ہی حسین و وجیہ مرد سمجھتا ہوں۔ وہ پاکستان میں مکیش کے گانے کے ایسے بول بنا ہوا ہے’ جتنا جی چاہے پکارو پھر نہیں آئيں گے ہم‘۔ رنگیلا کی فلم ’انسان اور گدھا‘ پاکستان میں اس کے دور کا چربہ تھی۔ وہ پاکستان میں بہت سے لوگوں کیلیے ایک بہت بڑا خواب بننے والا، ایک نعرہ اور ایک آدرش اور جرنیلوں اور ملاّؤں کیلیے ایک موٹی سی گالی بنا ہوا ہے۔

وہ پاکستان کے محسن کش جرنیلوں، کچھ انتقام پسند ججوں اور ملاؤں کی سازشوں کا شکار ہوا۔ موہن جودڑو کا یہ شخص ایک المیاتی کردار بن گیا، اودھ کے معزول بادشاہ واجد علی شاہ کی طرح۔ وہ ایک ایسا جھوٹ ہے جسے پاکستان کے اکثریتی لوگ سچائی اور سچائیوں کا نقیب مانتے ہیں۔ پاکستان میں لوگوں نے اس کی موت پر صف ماتم بچھائی، کیا کشمیر میں بارہ مولا، کیا پاکستان میں لاہور یا لاڑکانہ، اس کی موت پر لوگوں نے ہر جا صف ماتم بچھائی۔ میرے گھر سمیت برصغیر کے بہت سے گھروں میں اس دن چولہا نہیں جلایا گیا۔ کسی نے کہا ’ آؤ فرش پر بیٹھیں اور مرے ہوئے بادشاہ کا ذکر کریں‘۔ یہ فیصلہ وقت کرے گا کہ وہ اصلی موت ضیاءالحق کے ہاتھوں مرا یا اپنی پارٹی اور اولاد کے ہاتھوں!

اس دن جو میں برکلے سے گزر رہا تھا تو سوچ رہا تھا بھٹو میں باغیانہ خیالات اسی برکلے کا نتیجہ ہونگے جہاں وہ پڑھنے کیلیے آیا تھا جو زبردست سماجی نظریات اور آزادیوں کی علمبرار رہی ہے۔ بھٹو لکھتا ہے یہیں برکلے کیلیفورنیا میں اسکی اکیسویں سالگرہ پر تحائف میں اسے نپولین کی سوانح عمری کی جلدیں اور کارل مارکس کا کتابچہ ایک ساتھ ملے تھے اور یہی بھٹو تھا بوناپارٹ ازم اور سوشلزم کی چوں چوں کا مربہ۔

اس نے انتقام پسندی سندھی وڈیرہ شاھی سے، عوامی انداز میراثیوں سے اور فری اسپیچ (صرف اپنے لیے) اور سوشلزم برکلے سے سیکھی۔ ایسا لگتا ہے سندھی کہاوت ’ایک سورج دو سائے‘ شاید بھٹو جیسے آدمی کیلیے ہی بنی تھی۔