http://www.bbc.com/urdu/

Friday, 13 October, 2006, 16:10 GMT 21:10 PST

سلمان رشید
لاہور

ٹلہ جوگیاں: ایک تاریخی اثاثہ

موسم اگر صاف ہو اور آپ جہلم شہر میں کسی اونچی عمارت پر کھڑے جنوب مغرب کو نظر ڈالیں تو افق پر ایک دھندلا سا پہاڑ دکھائی دیتا ہے۔ اور اگر آپ شیر شاہ سوری کے مشہور قلعہ رہتاس میں ہوں تو یہی پہاڑ عین جنوب کو نظر آئے گا۔ یہ ہے ٹلہ جوگیاں کا پہاڑ جو کے ایک ہزار میٹر یا تین سو فٹ اونچا ہے۔ اس کی چوٹی پر خستہ کھنڈرات ہیں جو کہ ایک قدیمی خانقاہ کی باقیات ہیں۔ یہاں آپ دو راستوں سے پہنچ سکتے ہیں۔ اول تو جیپ کا رستہ ہے جو قلعہ رہتاس سے ہوتا ہوا سیدھا یہاں پہنچتا ہے۔اس کے علاوہ کئی اور رستے ہیں جو پیدل سفر کے ہیں اور جو پہاڑ کے دامن میں مختلف آبادیوں سے نکلتے ہیں۔ اور یہی وہ رستے ہیں جن کے ذریعے کئی صدیوں تک یاتری ٹلہ جوگیاں کے بیساکھی کے میلے پر آتے رہے ہیں۔

ہم یقینی طور پر نہیں جانتے کہ ٹلہ کی خانقاہ کب وجود میں آئی لیکن ہمیں سیالکوٹ کے راجہ سلواہن کے پہلوٹی کے بیٹے پورن کی داستان میں اس خانقاہ کا ذکر پہلی مرتبہ ملتا ہے۔ داستان کے مطابق پورن کو اس کی سوتیلی ماں کے لگائے ہوئے بد کاری کے الزام کی وجہ سے ہاتھ پاؤں کاٹ کر شہر سے باہر ایک کنویں میں ڈال دیا گیا۔ وہ وہاں زندگی اور موت کی کشمکش میں پڑا تھا کہ ایک روز ادھر سے گرو گورکناتھ کا گزر ہوا۔ گرو کے ایک چیلے نے کنویں میں پورن کو دیکھا اور گرو کے ہدایت پر اسے باہر نکالا۔ پورن کے گورو کو اپنی کہانی سنائی جس پر گرو بہت رنجیدہ ہوئے۔ بس گرو کا پورن کے مسخ شدہ جسم پر ہاتھ پھیرنا تھا کہ وہ معجزاتی طور پر ٹھیک ہوگیا۔

اب گرو نے تو پورن کو یہ ہدایت کی وہ اپنے باپ کو ساری حقیقت بتا دے تا کہ وقت آنے پر سلواہن کے بعد سلطنت کاکام خود سنبھال سکے۔ لیکن پورن کو تخت و تاج کی بجائے فلسفہ اور جوگ سے لگاؤ تھا۔ چنانچہ اس نے ایک چیلے کی حیثیت سے گرو کے جلوس میں شامل ہونے کی اجازت مانگی۔ اور یوں اِس قدیم داستان کے مطابق پورن گرو کے ساتھ ٹلہ جوگیاں آ گیا۔ یہاں کچھ عرصہ گزارنے کے بعد وہ ایک بھگت جوگی ہوگیا۔

ٹلہ جوگیاں کی قدامت کا دوسرا تاریخی حوالہ اجین کے راجہ بھر تری سے متعلق ہے۔ یہاں ہمیں یہ پتا چلتا ہے کہ راجہ نے سلطنت کا کام اپنے چھوٹے بھائی وکرم جیت کے حوالے کیا اور خود نکل پڑا جوگیوں کے رستے پر۔تاریخ کے مطابق راجہ بھرتری نے بھی جوگ یہیں ٹلہ میں آ کر پایا۔

راجہ وکرم جیت کا زمانہ پہلی صدی قبل مسیح کا ہے کیونکہ تاریخ بتاتی ہے کہ کہ وہ وکرم جیت ہی تھا جس نے سنہ اٹھاون قبل مسیح میں سقوں کی ایک بڑی فوج کو شکست دی تھی۔ دوسرا ہم یہ بھی جانتے ہیں کے وکر جیت اور راجہ سلواہن ہم عصر تھے۔ اس ساری تمہید سے واضح ہوتا ہے ٹلہ جوگیاں کی خانقاہ کم از کم پہلی صدی قبل مسیح کی ہے۔

ٹلہ پنجابی میں پہاڑی کو کہتے ہیں اور مذکورہ پہاڑ تاریخ میں ٹلہ جوگیاں، ٹلہ گورکناتھ یا ٹلہ بالناتھ بھی کہلاتا رہا ہے۔گو کہ گرو گورکناتھ کا ذکر توہمیں تاریخ اور روایت دونوں میں ملتا ہے لیکن مالناتھ کا کچھ معلوم نہیں کہ وہ کون تھا اور کس زمانے میں گزرا۔

ایک اگریز مؤرخ کا خیال تھا کہ بالناتھ ایک بڑا جوگی تھا جس کا زمانہ پندرھویں صدی عیسوی تھا۔اسی بالناتھ نے خانقاہ قائم کی اوراسی کی وجہ سے یہ ٹلہ بالناتھ کہلائی۔

لیکن یہ قیاس غلط لگتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ابوالفضل کا اکبرنامہ بتاتا ہے کہ بادشاہ اکبر کے زمانے، یعنی سولہویں صدی میں بھی ٹلہ بالناتھ کو اتنا قدیم سمجھا جاتا تھا کہ اس کے آغاز کا کسی کو علم نہیں تھا۔ یہ تو طے ہے کہ برصغیر کے ’کن پھٹے‘ یا وہ جوگی جو اپنے کان چھدوا کر ان میں ہالے ڈالتے ہیں، گرو گوکناتھ کو ہی اپنا مرشد اور اور اپنے فرقہ کا بانی مانتے ہیں اور یہ فرقہ پندرہوں صدی سے کہیں پہلے سے وجود میں ہے۔ بالناتھ کے بارے میں یہ گمان گزرتا ہے کہ وہ گورکناتھ کے بعد نامی گرامی گرو گزرے۔

اکبر نامہ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہ نے دو مختلف مواقع پر ٹلہ جوگیاں کی سیر بھی کی۔ انہی شاہی دوروں کا نتیجہ قد آور چیڑ کے پیڑوں کی چھاؤں میں گھرا ہوا مغل طرز کا تالاب ہے۔ یقیناً وہ خشک سالی کا دور ہوگا اور جوگیوں نے بادشاہ سے پانی کا ذخیرہ کرنے کے لیئے تالاب کی درخواست کی ہوگی۔ چند سال پہلے تک تالاب کے بالکل ساتھ ہی کوئی بارہ پندرہ سمادھیاں تھیں لیکن کچھ لالچی لوگوں نے خزانے کے لالچ میں ان سب کو تباہ کر ڈالا۔

تالاب سے شمال کی جانب نظریں کریں تو بوسیدہ اور خستہ حال عمارتوں کا ایک جھمگھٹا ہے۔ یہاں پیپل اور جنگلی زیتون کے گھنے سائے میں مندر اور سمادھیاں ہیں۔ یہاں بھی انسانی لالچ کے ہاتھوں ہونے والی تباہ کاری واضح ہے۔ اگر آپ آثار قدیمہ کے ماہر والی آنکھ رکھتے ہیں تو آپ بھانپ لیں گے کہ اوپر کی سطح والی عمارتوں کے نیچے ایک تہہ مزید پرانی عمارتوں کی ہے۔ کہیں ملبے تلے محراب، کہیں بوسیدہ دیوار اور کہیں سیڑھیاں جو کسی گم گشتہ عمارت کے اندر اترتی تھیں۔ اس سب پر طاری ایک گمبھیر خاموشی جس کو صرف ہوا کی سرگوشی اور پرندوں کا چہچہانا توڑتا ہے۔

مغرب کی جانب ٹلہ کی سب سے اونچی چوٹی پر نیلے آسمان تلے ایک عمارت آپکی توجہ اپنی طرف کھینچتی ہے کیونکہ بناوٹ کے لحاظ سے وہ قائد اعظم کے مزار سے مشابہت رکھتی ہے۔ گمبد والی یہ عمارت تقریباً آٹھ فٹ اونچی ہے اور طرز تعمیر سے واضح طور پر سکھ دور کی ہے۔ اپنے زمانے میں عین اسی مقام پر گورو نانک نے چلہ کشی کی تھی۔ اور پھر ساڑھے تین سو سال بعد جب ان کے ماننے والوں نے پنجاب کی حکومت سنبھالی تو اس یاد کو ہمیشہ کے لیئے محفوظ کرنے کی خاطر یہ گمبد کھڑا کیا۔
ٹلہ جوگیاں میں ایک تباہی احمد شاہ ابدالی نے سنہ سترہ سو سینتالیس میں مچائی۔

ٹلہ جوگیاں میں ایک تباہی احمد شاہ ابدالی نے سنہ سترہ سو سینتالیس میں مچائی۔ تب اس نے یاہاں آگ لگا دی اور جوگیوں کا قتل عام کیا۔ دوسری تباہی انیس سو سینتالیس میں آزادی کے بعد ہوئی جب یہاں بسنے والے جوگیاور ان کے گورو نلک بدر ہو کر بھارت سدھار گئے۔ اس وقت تک تویہاں ہر سال بیساکھی کا میلہ دھوم دھام سے لگتاتھا اور یاتری پورے برصغیر سے آیا کرتےتھے۔ لیکن آزادی کے ساتھ ہی یہاں ایک ویرانی گھر چکی ہے۔ اب یہاں کبھی کبھی کوئی سیاح آتا ہے ورنہ گورو گورکناتھ کا ٹلہ تو صرف خزانہ ڈھونڈنے والوں کا مسکن ہے۔۔ وہ جو یہ بھی نہیں جانتے کہ جوگی تو دنیا چھوڑ کر جوگ کے پیچھے جاتے تھے، ان کے پاس کیا خزانے ہوں گے۔