BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Thursday, 04 January, 2007, 14:13 GMT 19:13 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
’بغدادی انصاف‘ اور بھٹو
 

 
 
صدام حسین
اس کی کم مثالیں ہیں کہ رہنمائوں کو ان کے اپنے ہی ملک کے قوانین کے تحت سزائے موت دی گئی ہو
عراق کے معزول صدر صدام حسین کی پھانسی کے دوسرے دن اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے ان کی پھانسی یا سزائے موت کی نظیر گزشتہ نصف صدی میں دنیا کی جدید تواریخ میں تلاش کرتے ہوئے کہا تھا کہ گزشتہ پچاس دہائیوں میں ایسی دوچند مثالوں میں ایک پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذولفقعار علی بھٹو کی پھانسی ہے-

’نیویارک ٹائمز‘ کا کہنا تھا:’گزشتہ پچاس برسوں میں ایسی فقط دو چند مثالیں موجود ہیں جس میں رہنمائوں کو ان کے اپنے ہی ملک کے قوانین کے تحت سزائے موت دی گئی ہو۔ انیس سو اناسی میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو جنہیں ایک فوجی بغاوت میں معزول کیا گیا تھا، انکے سیاسی مخالف کے قتل کے الزام میں ایسے مقدمے میں پھانسی دے دی گئی جس پر بہت تنقید ہوتی رہی تھی-‘

مجھے یاد آیا کہ گزشتہ پانچ دہائيوں میں ایک ایسی مثال ترکی کے وزیر اعظم عدنان میندرس کی بھی ہے جن کی حکومت کا تختہ الٹ کر انہیں پھانسی دے دی گئی اور پھر ایک جزیرے پر دفن کر دیا گیا- عدنان میندرس کی پھانسی کے کئی سال بعد ترکی نے ان کا مقدمہ پھر سے کھولا اور انہیں انکے بعد مماتی معافی دے دی اور انکی لاش قدرے گمنام جزیرے سے لاکر استنبول میں دفن کی جہاں انکا بڑا مزار بنوایا-

مجھے یہ تب بھی یاد آیا جب میں نے کہیں پڑھا کہ پاکستانی سپریم کورٹ کے سابق جج اور ملک میں ہمییشہ انگلیوں پر گنے جا سکنے والے باضیمر منصفوں میں سے ایک ناصر اسلم زاہد نے کہا کہ بھٹو کا مقدمہ پھر سے کھولا جا سکتا ہے۔ یعنی کہ پاکستانی ریاست اور سماج کو جن چـھوڑے ،بھوت چھوڑے، بھٹو نہ چھوڑے-

بھٹو کا بھوت پاکستانی شاں شاں کرتی عدالتی کاریڈوروں سے لے کر گھروں کے کواڑوں تک ہوا ایک طرح سر ٹکراتا رہے گا۔ کیونکہ انکے ساتھ بھی عدالتی کٹہرے سے لے کر پھانسی کے تختے تک ’بغدادی سلوک‘ کیا گیا تھا-

کئی دن قبل ایک پاکستانی دانشور نے برکلے (کیلیفورنیا) میں بھٹو کے خلاف اپنے والد کے قتل کا دعوی داخل کرنے والے احمد رضا قصوری سے پوچھا تھا کہ اب کئي سال گزر جانے کے بعد اس مقدمے کے بارے میں انکا کیا خیال ہے؟ کیا اب وہ نہیں سمجھتے کہ بھٹو کی پھانسی ایک عدالتی قتل تھا؟ تو احمد رضا قصوری نے کہا تھا ’نہیں اب بھی وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک فوجداری جرم تھا جس میں انکے والد کو بھٹو کی ہی ایما پر قتل کیا گیا تھا-‘

ذوالفقار علی بھٹو کی نماز جنازہ

اس مقدمے میں سزائے موت کے خلاف اپیل کی سماعت کے دوران اپنی دفاعی تقریر میں بھٹو نے عدنان میندرس کا بھی ذکر کیا تھا اور کہا تھا کہ ’جنرل ترکی کی مثالیں دینے کے بڑے شوقین ہیں۔ میں جب وزیر خارجہ تھا تو ایوب خان نے مجھے عدنان میندرس کی پھانسی پر رحم کی دراخواست کے ساتھ جنرل گرسل کے پاس بھیجا تھا۔میں نے جب جنرل سے وزیر اعظم عدنان میندرس کی جان بخشی کے لیے کہا تھا تو انہوں نے کہا تھا عدنان میندرس کی سزا پر عملدر آمد سے ترکی بحران سے نکل آئے گا جس پر میں نے ان سےکہا تھا ترکی کا بحران شروع عدنان میندرس کی پھانسی سے ہی ہوگا-‘

بہرحال چیف جسٹس انوارالحق (ایک اور جانے پہچانے ’بھٹو ہیٹر‘) کی سربراہی میں قائم چار رکنی بینچ نے جسٹس دراب پٹیل کے اختلافی نوٹ کے ساتھ بھٹو کی اپیل مسترد کردی۔ ’درداں دی ماری دلڑی علیل ہے‘ جیسی سرائیکی شاعری پر اپنی دفاعی تقریر ختم کرنے والے بھٹو نے سپریم کورٹ کے آگے یہ بھی دہرایا تھا کہ کس طرح لاہور ہائيکورٹ میں مولوی مشتاق اور انکے ساتھی ججوں نے ان کے ساتھ ذلت آمیز رویہ اختیار کیے رکھا- ’می لارڈ ہم سندھی میں اسے جہاں خانی انصاف کہتے ہیں-‘

بھٹو کی سزائے موت کی ججمینٹ اتنی ’سکینڈلس‘ بنی کہ بہت سے لوگ کہتے تھے کہ اسے لکھا ہی بابائے 'نظریہ ضرورت‘ اے کے بروہی نے تھا-

اللہ بخش کریم بخش عرف اے کے بروہی جو بنیادی طور پر فلسفے کے شاگرد تھے ان دماغوں میں سے تھے جو ہند یا سندھ کبھی کبھار پیدا کرتے ہیں لیکن مبصرین کہتے ہیں کہ پاکستان کے صفِ اول کے اس قانون دان اورنام نہاد اگرتلہ سازش کیس میں شیخ مجیب الرحمان کے وکیل نے اپنی تمامتر صلاحیتیں زیادہ تر پاکستان میں فوجی آمریتوں کو قانونی جواز و دوام فراہم کرنے میں صرف کیں-

ضیاء الحق کے زمانے میں جس دن اے کے بروہی فوت ہوئے اس دن سندھ کا بدنام لیکن ’رابن ہوڈ شہرت‘ رکھنے والا ڈاکو پرو چانڈیو بھی ایک جعلی پولیس مقابلے میں مارا گیا تھا، پروچانڈیو کے جنازے پر دو ہزار اجرکیں پڑي تھیں (جسکا مطلب ہے کہ دو ہزار لوگوں نے وہ اجرکیں اس کی لاش پر ڈالی تھیں) جبکہ اے۔کے بروہی کے جنازے کو بہت ہی خانگي طور پر ایک فوجی قبرستان میں دفنایاگیا -

اب تو بھٹو کو پھانسی کی سزا سنانے والے ججوں میں سے ایک سابق جج نسیم حسن شاہ بھی کہہ چکے ہیں انہوں نے پھانسی کے حق میں فیصلہ ضیاء حکومت کے دباؤ میں آکر دیا تھا-

 اب تو بھٹو کو پھانسی کی سزا سنانے والے ججوں میں سے ایک سابق جج نسیم حسن شاہ بھی کہہ چکے ہیں انہوں نے پھانسی کے حق میں فیصلہ ضیاء حکومت کے دباؤ میں آکر دیا تھا-
 

جسٹس دراب پٹیل نے اپنی زندگی کے آخری دنوں ایک انٹرویو میں ایک خاتون صحافی کو بتایا تھا کہ مقدمے کے ایک اہم گواہ (غالباً غلام حسین ) کو جیل سے راولپنڈی کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال میں رکھا گیا تھا جہاں اس سے سینئر آرمی عملدار ملاقاتیں کرتے تھے۔ ایک دن انہیں ان کے دوست نے بتایا کہ وہ جب سی ایم ايچ روالپنڈی میں داخل اپنے کسی بیمار عزیز کو ملنے گئے تو انہوں نے مذکورہ گواہ کو وی آئي پی انتظامات میں دیکھا۔ جسٹس دراب پٹیل کا کہنا تھا کہ بھٹو کے خلاف وعدہ معاف گواہ سخت متعصب، ڈرائے گۓ اور خریدے ہوئے تھے اور ان کی گواہی کسی بھی صورت میں قابل اعتبار یا قابل قبول نہیں تھی۔ جبکہ پاکستان کی اعلی عدلیہ کے حلقوں میں مولوی مشتاق اور انوارالحق کا بھٹو کے خلاف عناد کسی سے پوشیدہ نہیں تھا اور وہ چھپاتے بھی نہیں تھے۔ بھٹو نے اکتوبر انیس سو اٹھہتر میں مولوی مشتاق کے ان کے ساتھ عناد کی شکایت کرتے ہوئے انکے مقدمے کا ری ٹرائل کرنے کو کہا تھا-

کیا پاکستان میں وہ وقت بھی آئے گا جہاں ترکی کے عدنان میندرس کی طرح بھٹو کا کیس پھر سے اٹھایا جا سکے گا؟ جنریلوں کی جہاں خانی والا وہ ملک جہاں افواہیں یہ ہوں کہ بھٹو کو پھانسی دینے سے پہلے ان کو تشدد و تذلیل سے گزارا گیا تھا-

قصہ مختصر کہ کل دیکھا کہ بینظیر بھٹو اور بھٹو کے پھانسی کے حکم پر دستخط والے قلم کے گدی دار چودھری شجاعت ایک ہی چھت کے نیچے خوش بیٹھے تھے۔ کاش! ضیاءالحق آنے والے ایسے دنوں کو دیکھ سکنے کی طاقت رکھتا تو نہ ہی قتل اور غارت کا ایسے پرتکلف اہتمام کرتا اور نہ ہی تاريخ میں خواری کے خچر پر سدا سوار رہتا-

 
 
صدر مشرفخط جنرل اور تار
صدر مشرف کے لیئے یہ خط نہیں ’تار‘ ہے
 
 
نیپالنیپال اور پاکستان
’پاکستانیوں کے دل بھی ضرور دھڑکتے ہونگے‘
 
 
حسن مجتبیٰ’غائبستان ریپبلک‘
دلاور خان وزیر کے اغوا پر حسن مجتبیٰ کا کالم
 
 
پاکستان میں صحافت
سانپ کے بل میں ہاتھ ڈالنا: حسن مجتبٰی کا کالم
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد