BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 March, 2007, 12:28 GMT 17:28 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
'لاٹھی گولی کی سرکار‘
 

 
 
اسلام آباد میں مظاہروں کے دوران نیم فوجی دستوں نے بھی پولیس کی معاونت کی
'لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے نہیں چلے گی،' یہ کتنا مانوس لیکن پرانا نعرہ ہے جو میں بچپن سے سنتا آیا تھا۔ اس نعرے کا اسوقت ایک اور حصہ تھا: ' بھٹو ٹکا کی سرکار نہیں چلے گی نہیں چلے گي۔ فوجی جنتا کی سرکار نہیں چلے گی نہیں چلے گي۔‘

مجھے یاد آیا ایک جلسے میں جب یہ نعرے لگے تھے اس میں ایک اور نعرہ بھی لگا تھا،’شیخ مجیب الرحمان کے قاتل مردہ آباد۔‘

میں اخبار میں کل صبح لاس اینجلس میں شیخ مجبب الرحمان کے مبینہ قاتل ایک سابق فوجی افسر کی امریکی امیگریشن کے ہاتھوں گرفتاری کے متعلق ہی پڑھ رہا تھا جب میرے فون کی گھنٹی بجی۔ یہ خود کو مجھ سے محمد عمران کے طور پر متعارف کروانے والے بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر میرے ایک قاری تھے جو لیہ سے بول رہے تھے۔

 جسٹس افتخار چودھری کے خلاف ریفرنس میں پرویز مشرف حکومت کے ایک وکیل راجہ قریشی کے والد جسٹس عبد الحئي قریشی کی سربراہی میں قائم ٹرائبیونل نے ولی خان کا دفاع کرنے پر ان کے وکیل حسن حمیدی پر قماربازی کا مقدمہ داخل کردیا گيا تھا
 

محمد عمران اسلام آباد سے لوٹے تھے اور کہتے تھے کہ پولیس کے آنسو گیس کے گولوں سے ان کی آنکھیں اب تک سوجی ہوئی ہیں۔ محمد عمران بھی کئی پاکستانیوں کی طرح سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی معطلی پر غم اور غصے میں تھے۔ میں اسے قانونی غدر کہوں گا۔

میں نے سنا ہے باوردی اور بے وردی پولیس اور نہ جانے کئي قسم کی ایجینسوں کے گماشتے کالے کوٹ والوں پر ایسے چڑھ دوڑتے تھے جیسے اسپین میں تھوتھنیوں سے غیض او غضب سے دھواں نکالتا ہوا بیل یا فائٹر بل سرخ کپڑا یا کوئي چیز دیکھ کر چڑھ دوڑتے ہیں۔ پاکستان میں کالے کوٹ والوں کا مقابلہ سفید جھوٹ سے ہے۔ یہ اب فیصلہ ہوجانا چاہیے کہ پاکستان قائم کرنے والے جنرل نہیں وکلاء تھے۔

پاکستان کے تانا شاہ جنرل اور ہمنوائوں نےآئین و قوانین کےساتھ اس دفعہ اتنی اورگي (اجتماعی سیکس) کی ہے کہ ان کے ہمیشہ ڈکٹیٹرشپ کو دوام دینے والے وکلاء بھی ان کا دفاع کرنے کیلیے تیار نہیں ہیں۔

 آج جو کچھ پاکستان کے چیف جسٹس اور اس کے اہل خانہ اور پورے ملک کے ساتھ گزشتہ دس ہفتے سے ہورہا ہے اگر فسطائیت کے سینگ ہوتے تو وہ جنرل مشرف اور اسکے ٹولے کے سر پر نکلے ہوتے۔
 

پاکستان میں نظریہ ضرورت اور فوجی تانا شاہی کے ایسے مہابھاڑو (ہندوستانی میں بڑے وکیل کو کہا کرتے تھے) جنہوں نے عوام کی آرزوؤں کے کفن سے آمروں کو دستاریں پہنائي ہیں۔

کچھ عرصہ قبل میرے ایک دانشور دوست نے برکلے کا دورہ کرنے والے ایس ایم ظفر سے کہا تھا ہم آپ کی کتاب ’ڈکٹیٹر کون؟‘ پڑھ کر بڑے ہوئے تھے اور آپ ہیں کہ اب کہاں کھڑے ہیں!

لیکن جنرل مشرف کہتے ہیں ان وکیلوں کی تعداد دو ڈھائي ہزار ہے جو سڑکوں پر نکلی ہوئي ہے باقی ہزاروں وکیل اور پاکستان کے کروڑہا لوگ ان کے ساتھ ہیں۔

آپ کو یاد ہوگا کہ یہی بات بھٹو اور ضیاء الحق بھی کہتے تھے۔

حبیب جالب نے کہا تھا: ’ کوئی ٹھہرا ہے جو لوگوں کے مقابل تو بتاؤ-‘

اب گجرات کے چودھری اور سندھ کے ارباب یا درانی توظلم کی ایسی داستانوں میں سائیڈ ویلینز ہیں۔ اصل مرکزی منفی کردار تو جنرل مشرف ہے یا اس توپ کے پیچھے طوطے اب بھی اور ہیں؟

اب دیکھنا یہ ہے دو ادارے ہیں اور دو فرد ہیں ان میں سے کون سے ادارے کے کون سے فرد کی ٹوپی یا سفید وگ سے جی ایچ کیو یا جدہ کے جادوگر کّوا یا کبوتر نکالتے ہیں۔

بی بی سی اردو ڈاٹ کام کا ایک قاری اپنی رائے میں اسے ’ٹوپی ڈرامہ‘ قرار دے رہا تھا۔ کاش ایسا نہ ہو! میں کہوں گا کہ اب کے بار پاکستان میں فوجی اور شخصی آمریت کے چل چلاؤ کا موسم ہونا چاہیے۔

اس دن ایک آزاد پاکستانی بلاگر نے پاکستان میں حالیہ صورتحال کے حوالے سے مزاحیہ انڈین فلم ’جسٹس چودھری‘ یاد دلائي جس میں ہیرو جتندرہ (جسٹس آر کے چوہدری) شاید شکتی کپور ویلن اور ہیروئین سری دیوی ہوتی ہیں۔

بلاگر کے پاکستان میں عدلیہ کے حالیہ بحران کے پس منظر میں تخیلاتی پاکستانی فلم ’جسٹس چودھری‘ کے ورزن کے مطابق اس فلم کے ہیرو جسٹس افتخار چودھری، ویلن جنرل پرویز مشرف اور ہیروئین عدلیہ خود ہے۔

وکلاء کی برادری پورے ملک میں عدالتوں کا بائیکاٹ کر رہی ہے

لیکن یہ فلم پاکستانی فسطائی ہتھکنڈے باز حکمران کے گلے میں پڑنی ہے۔

شیخ مجیب کے قاتل بنگلہ دیشی فوج کے افسر۔ پھر مجھے یاد آیا، جب سابق مغربی پاکستان میں اپنے دوست اور عوامی لیگ کے نائب صدر قاضی فیض محمد سے بنگلہ دیش کے وزیر اعظم بننے پر شیخ مجیب الرحمان نے کہا تھا:’یاد رکھو! ہم دونوں ملکوں کے جنرل کاکول کے تربیت یافتہ ہیں وہ نہ مجھے چھوڑیں گے اور نہ تمہیں (پاکستانیوں کو)چھوڑیں گے‘۔قاضی فیض محمد بھی ایک وکیل تھے۔ ہمیشہ تحریکوں میں اپنا سر پھڑوانے والے۔

کچھ دن ہوئے کہ واشنگٹن کی ایک کانفرنس میں بنگلہ دیش کے صحافی کہہ رہے تھے بنگلہ دیش کی فوج کے دماغ سے پاکستان کا نشہ نہیں اترا۔ اسی کانفرنس کا موضوع تھا ’پاکستان میں فاشزم اور انسانی حقوق۔‘ تب تھوڑا کچھ لوگوں کو یہ موضوع ’عجیب‘ سا لگا تھا۔ لیکن آج جو کچھ پاکستان کے چیف جسٹس اور اس کے اہل خانہ اور پورے ملک کے ساتھ گزشتہ دس ہفتے سے ہورہا ہے اگر فسطائیت کے سینگ ہوتے تو وہ جنرل مشرف اور اسکے ٹولے کے سر پر نکلے ہوتے؟ کاکول کے ایک اورفارغ تحصیل فوجی حکمران کی وردی والی سرکار میں اسلام آباد میں جیو کے دفتر پر اس انداز سے اسلام آباد کی گسٹاپو پولیس نے چڑھائي کی جس طرح یحیٰی خان کے فاشی ٹولے نے ڈھاکہ میں اخبار اتفاق کے دفتر پر کروائي تھی-

پاکستان کی جُرات مند ایڈیٹر رضیہ بھٹی کی برسی کے دن اسلام آباد کی گسٹاپو پولیس نے ہرمن گوئرنگ کی یاد دلادی کہ جب بھی کوئی آرٹ کا نام لیتا ہے میرا ہاتھ از خود پستول کے ہولسٹر کی طرف بڑھ جاتا ہے۔’شاید یہ جملہ وردی والی سرکار کے منہ‘ پر زیب دے۔ اور نیز یہ کہ تیس سال بعد بھی لاٹھی گولی کی سرکار آج بھی قائم ہے اور پاکستان کی سڑکوں پر یہ نعرہ پرانا نہیں ہے۔

تقریباً تین دہائی پرانی بات ہے جب شاعر حسن حمیدی وکیل اسی جلسے میں اپنی نظم پڑھ رہے تھے: ’یہ خون ناصر ہے محترم ہے یہ خون تاریخ کا علم ہے۔‘ لیکن آج مجھے لاہور کی سڑکوں پر وکیلوں کے کالے کوٹوں پر بہتے خون کو دیکھ کر سب کچھ یاد آگیا۔۔۔۔۔ ’ہتھکڑی گنگنائے گي‘ کے عنوان سے شعری مجموعے کے اس خالق شاعر اورخان عبدالولی خان کےوکیل حسن حمیدی کا ذکر پھر کبھی سہی۔ بس صرف اتنا بتادوں کہ جسٹس عبدالحئي قریشی (جن کے بیٹے راجہ قریشی اب چیف جسٹس افتخار چودھری کے خلاف ریفرنس میں پرویز مشرف حکومت کے ایک وکیل ہیں) کی سربراہی میں قائم ٹرائبیونل میں ولی خان کا دفاع کرنے پر ان کے وکیل (حسن حمیدی) پر قمار بازی کا مقدمہ داخل کر دیا گيا تھا!

 
 
اسی بارے میں
’سیاسی خواہش کی قبر‘
15 March, 2007 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد