BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت:
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
عصمت فروش کون؟
 

 
 
جامعہ حفصہ کی طالبات
کیا اسلام آباد میں سرکاری پردے میں طالبانیت کا شو کیس سجايا گیا ہے؟
پاکستان کے دارالخلافہ اسلام آباد جہاں واقعی پرندہ پر نہیں مارسکتا، جہاں قانون کے ہاتھوں سے زیادہ وزیر قانون کی زبان اور بازو لمبے ہوتے ہیں، وہاں گزشتہ ماہ کئي دنوں تک ایک مدرسے کی برقعہ پوش ڈنڈہ بردار طالبات نے بچوں کی سرکاری لائبریری کی عمارت پر قبضہ کر رکھا تھا۔

اب انہی طالبات نے اپنے ساتھی ڈنڈہ بردار طالبان کی مدد سے محلے کی تین خواتین کو یرغمال بنالیا ہے۔ اس سے پہلے انہوں نے دو پولیس والوں کو ان کی وین سمیت یرغمال بنالیا تھا جن کی رہائی ان کی گرفتار شدہ استانیوں کی رہائي کے عوض عمل میں آئي۔

میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ اسلام آباد جیسے شہر بابل پر اصل حکومت کس کی ہے۔ ذرا تصور کیجیے، بلوچستان میں خانہ بدوش بلوچ قبائل کی صرف ایک علاقے سے دوسرے علاقے نقل حرکت کرنے پر پاک فضائیہ اور پاک فوج کے طیاروں سے گولہ بارود برسایا جاتا ہے، اسلام آباد میں چیف جسٹس کو سرکاری گاڑی میں بیٹھنےسے انکار کرنے پر پولیس والے یا ایجنسیوں والے بالوں سے کھینچ کر زبردستی بٹھاتے ہیں اور لاہور کے احتجاجی وکلاء کو صرف ہائیکورٹ کا پھاٹک عبور کر کے مال روڈ پر نکلنے پر لہو لہان کردیا جاتا ہے وہاں گزشتہ تین ماہ سے حکومت اپنی رٹ سمیت مولویوں اور مستقبل کے ملاؤں اور مولویانیوں کے ہاتھوں تگنی کا ناچ ناچنے پر مجبور ہے! کیا یہ بھی مشرف کے خلاف کوئی سازش ہے؟

سب کچھ ہوتے ہوئے بھی
 جی ایچ کیو، آرمی ہاؤس، وزیر اعظم ہاؤس، آئي ایس آئی کا صدر دفتر، پارلیمان ہاؤسز، سپریم کورٹ، پی ٹی وی، ٹرپل ون برگیڈ اور کیا کچھ نہیں۔ وہاں سب کچھ ہوتے ہوئے بھی یہ تین خواتین غیر قانونی طور پر اپنے گھر سے اللہ کے نام پر اٹھا لی جاتی ہیں اور پھر یرغمال بنائي جاتی ہیں!
 
بیشک فوج کے بعد مولوی ہی پاکستان کا فائر پاور ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ سرکاری یا خانگي زمین پر مسجد یا امام بارگاہ کے نام پر قبضے، لینڈ مافیا یا انفرادی قبضہ خوروں کا قدیم کلچر ہے اور اسلام آباد میں ایسے قبضے چھڑانے کے لیے جب انتظامیہ نے تھوڑی خانہ پری کرنے کی کوشش کی تو مدرسے کی طالبات نے اس کے خلاف بچوں کی لائبریری کی سرکاری عمارت پر مسلح قبضہ کرلیا-

بچوں کو علم سے محروم کردینا یا ڈنڈوں اور خوف کے سائے میں ان کی لائبریری کو ان پر کھول کر رکھنا کون سا عین اسلام تھا؟

اسلام آباد کی انتظامیہ جو ویسے تو زلزلے کے متاثرین پر لاٹھی چارج کرنے سے نہیں چونکتی اور انٹیلیجنس ایجینسیوں کے ہاتھوں مبینہ گمشدہ کی بازیابی کے لیے احتجاج کرتے اس کے ٹین ایج بیٹے کو بيچ سڑک پر ننگا کردیتی ہے وہاں ان قبضہ گير ڈنڈہ بردارمولویوں سے مذاکرات کر کے انہیں قبضے اور ان قبضوں پر گرائي جانیوالی عمارات کو سرکاری خرچ پر تعمیر کرنے کے مطالبات مان لیتی ہے، ان شعلہ بیان مقررین و مبلغین کے آگے ہتھیار پیھنک دیتی ہے جو مسجدوں کے لاؤڈ سپیکروں سے لوگوں کو خودکش بمبار بننے کی ترغیب دیتے ہیں۔

اب اس لال مسجد کی ان طالبات نے جی سِکس اسلام آباد میں ایک گھر پر چھاپہ مار کر تین خواتین کو مبینہ طور پر اغوا کر کے مدرسے میں یرغمال بنا رکھا ہے، جیسا کہ اس گھر کی پرائیویسی یا چادر و چاردیواری نہیں تھی۔ اچھے خاصے اخبارات نے بھی بغیر ان تین خواتین پر کسی قانونی عدالت میں مقدمے ثابت ہونے کے ان کے گھر کو ’قحبہ خانے‘ سے تعبیر کیا ہے۔

پہلے اسکواڈ بن کر یہ کام پنجاب میں کبھی ’خبریں‘ اخبار والے بھی کرنے نکلے ہوئے تھے- یہ فیصلہ کرنا واقعی کسی کے بھی ضمیر کے لیے مشکل ہے کہ اسلام آباد جیسے شہر بابل یا راولپنڈی میں سب سے بڑا قحبہ خانہ کون سا ہے یا وہاں سب سے بڑے قحبے خانے کون سے ہیں؟

اسلام آباد میں جی ایچ کیو، آرمی ہاؤس، وزیر اعظم ہاؤس، آئي ایس آئی کا صدر دفتر، پارلیمان ہاؤسز، سپریم کورٹ، پی ٹی وی، ٹرپل ون برگیڈ اور کیا کچھ نہیں۔ وہاں سب کچھ ہوتے ہوئے بھی یہ تین خواتین غیر قانونی طور پر اپنے گھر سے اللہ کے نام پر اٹھا لی جاتی ہیں اور پھر یرغمال بنائي جاتی ہیں! خدائي خدمتگاروں کے بعد اب یہ خدائي خدمتگارنیاں، میں نے سنا ہے کہ اسلام آباد میں تو کئي لوگ ان کو آئی ایس آئی کی نئي پیشکش سے تعبیر کررہے ہیں-

اسلام کی ایسی پاسدارنیاں پنجاب کی خاتون صوبائي وزیر ظل ہما کے بہیمانہ قتل اور قاتل کیخلاف احتجاج نہیں کرتیں پر بچوں کی لائـبریری اور ’اہل محلہ‘
(اب ان کے آبپارے میں ’اہل محلہ‘ لال مسجد بھی ہے تو آئی ایس آئی بھی ہے) کے، بقول ان کے بیحد اصرار پرتین خواتین کے گھر پر چھاپہ مار کر، انہیں اغوا کر کے مدرسے میں یرغمال بنالیتی ہیں۔

پاکستان سے میری ایک ساتھی لکھاری نے مجھے ای میل میں لکھا ہے کہ وہ اور دوسری خواتین بحيثیت ورکنگ ویمن کے کافی خوف محسوس کررہی ہیں-
لگتا ہے اصل میں برقعہ پوش ڈنڈہ بردارطالبات اسلام کے ان بے تیغ سپاہیوں کی ڈھال بنی ہوئي ہیں- رپورٹوں کے مطابق، جتنے منہ اتنی باتیں-

اسلام آباد میں کئي لوگ تو اسے مشرف کی مغرب کو دکھانے کے لیے ایک اور کھیل بتا رہے ہیں جس سے وہ ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ اسلامی بنیاد پرستی کے جنگل پر راج کرنے والے اب بھی بس وہی واحد شیر ہیں- سپریم کورٹ کے حالیہ بحران کے حوالے سے ملک اور ملک سے باہر ان کی گری ہوئي ساکھ کو یہ بھی اک سہارا بتایا جاتا ہے۔ اگر یہ سچ ہے تو پھر دوسری معنی میں اسلام آباد میں سرکاری پردے میں طالبانیت کا شو کیس سجايا گیا ہے-

 
 
اسی بارے میں
’انٹیلیجنس ریپبلک آف غائبستان‘
23 November, 2006 | قلم اور کالم
’بس یہ ہے میرا عراق‘
31 December, 2006 | قلم اور کالم
’بغدادی انصاف‘ اور بھٹو
04 January, 2007 | قلم اور کالم
’بھری کشتی میں صرف ہندو بھاری‘
12 February, 2007 | قلم اور کالم
موہن جو دڑو کا دوسرا آدمی
09 January, 2007 | قلم اور کالم
'لاٹھی گولی کی سرکار‘
17 March, 2007 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد