BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت:
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
کیا بے نظیر شرطیہ نئی کاپی ہونگی؟
 

 
 
بے نظیر
واشنگٹن کے لابیسٹس آج کل بینظیر بھٹو کو پھر سے پاکستان کی مادر جہموریت و لبرل ازم بناکر پیش کر رہے ہیں
واشنگٹن کے لابیسٹس آج کل سر سے گلے تک سراپا دوپٹہ، تسبیح پھیرنے والی، بنگالی بابا سے لے کر ٹھٹھ کے جناتی بابا تک کو ماننے والی اور کچھ لوگوں کی نظر میں ’سول ڈکٹیٹر‘ بینظیر بھٹو کو پھر سے پاکستان کی مادر جہموریت و لبرل ازم بناکر پیش کر رہے ہیں۔

جمعہ جمعہ آٹھ دن ٹائپ کے جیالے لندن، لاس اینجلز اور دبئي میں نئے سوٹ اور شیروانیاں سلوا رہے ہیں۔ بگل بجائی جا رہی ہیں کہ ’ڈیل‘ کے ذریعے پھر سے پاکستان میں پی پی پی پاور میں آرہی ہے۔

مجھے نہیں معلوم کہ وہ بکری چھ نومبر انیس سو چھیانوے کی رات سے پہلے مری یا نہیں جسے آصف زرداری نے اس یقین سے پالا تھا کہ جس دن وہ ’بھاگ بھری بکری‘ مرے گی پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہوجائيگي۔ مجھے معلوم ہے کہ اس بکری سے پہلے وہ 'دہشت گرد شہزادہ ’میر مرتضی بھٹو اپنے ہی گھر ستر کلفٹن سے چند سو گز دور کلفٹن کراچی میں دو تلوار کے چوراہے پر پولیس مقابلے میں مارا گیا جسے پاکستان کے بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ پاکستانی فوج اور اس کی ایجینسیوں نے مروایا۔

مقتول دشمن کی مہربان بیٹی
 پاکستانی فوج کے لیے بے نظیر بھٹو اس کے ہاتھوں قتل ہونے والے دشمن کی ایسی مہربان بیٹی ہیں جسے اکثر بھنور میں پھسنی ہوئی نیا پارلگانے کیلیے کال کیاجاتا ہے
 

اپنے پچھلے دور حکومت میں فوج کو تمغۂ جہموریت دینے والی بینظیر بھٹو ایک دفعہ پھر اسی فوجی اسٹبلشمنٹ سے بیک ڈور چینل بات چیت کر رہی ہیں۔ سنا ہے پچھلے سال انہوں نے پاکستانی فوجی حکومت کو پیغام بھیجا تھا کہ ان سے بات چیت کے لیے انکے پاس کم از کم چار ستارہ (فور سٹار) جنرل بھیجا جائے۔

حال ہی میں انہوں نے اسکا اعتراف بھی کر ہی لیا کہ انکے جنرل پرویز مشرف کے ساتھ غیر رسمی رابطے ہیں۔

اس خوبرو نوجوان بیوروکریٹ نے آخر کیا برا کیا تھا جس نے اپنی منگنی ممکنہ طور پر حزب مخالف کی رہنما کے ساتھ کرنے کی اجازت کیلیے رسمی طور پر ایک ’ڈی او‘ لیٹر جنرل ضیا ء کو بھیجا تھا اور ضیاء نے اس خط کو اپنی کابینہ کے اجلاس میں پیش کیا تھا جس پر بھٹو خاندان نے ناراض ہو کر اس نوجوان بیوروکریٹ سے منگنی کی بات منقطع کردی تھی۔

زرداری
آصف زرداری سے بے نظیر کی شادی کو بھی جنرل ضیا کی سازش تصور کیا جاتا ہے

پاکستان کے عوام میں کئی اب تک سمجھتے ہیں کہ بعد میں بینظیر بھٹو کی آصف زرداری سے شادی بھی ضیاء کی ہی سازش تھی۔

اب جس کی اپنی وزارت اعظمی میں اس کا بھائي اس کے گھر کے قریب اس کے قریبی پولیس والوں کے ہاتھوں مر سکتا ہے وہ دنیا کو عالمی دہشت گردی سے بچانے کی دعویٰ کر رہی ہیں۔

نوابشاہ سے تعلق رکھنے والے مقبول عرف لالہ امریکہ میں ایک ایسے عام محنتی سیلزمین ہیں جنھیں امریکی ’ریگولر ورکنگ گائے‘ کہتے ہیں، جن کا سیاست سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ صبح سے شام تک آرگینک فوڈ اور وٹامنز بیچنے والا یہ نوجوان گذشتہ دنوں کم از کم تین برسوں کے بعد مجھے جب نیو جرسی میں ملا تو سب سے پہلے اس کا سوال تھا: ’بینظیر بھٹو پاور میں آرہی ہے یا نہیں؟‘ لالہ قدرے پریشان دکھائي دیا۔
’ہاں اس کے علاوہ وہاں (پاکستان میں) اور ہے بھی کون۔ لیکن اس کے آنے سے ہمارے علاقے میں زرداری کسی کو بھی چـین سے نہیں رہنے دیں گے۔

صرف نوابشاہ کا لالہ ہی نہیں، پاکستان کے ہرگاؤں، گلی اور محلے میں ایسے بہت سے لوگ ہونگے جن کے دلوں میں اس انتقام کا خوف ہوگا جس کا سلسلہ چھ نومبر انیس سو چھیانوے کی رات کو فاروق لغاری کی حکومت کے ہاتھوں بینظیر بھٹو کی برطرفی پرتھم گیا تھا۔

مرتضیٰ بھٹو
کراچی میں 70 کلفٹن کے قریب، بے نظیر کی وزارتِعظمیٰ میں مرتضیٰ بھٹو کے ہلاک کیا گیا

پاکستان میں جنرل اور ان کے حواری بینظیر اور زرداری اینڈ کمپنی سے زیادہ کرپٹ، انتفام پسند اور موقع پرست ہیں۔

چھ نومبر انیس سو چھیانوے کی رات نوابشاہ، ٹنڈو جام اور ٹنڈو اللہ یار میں لوگوں نے ٹی وی پر پی پی پی کی حکومت ختم ہونے کا اعلان سنتے ہی جو سب سے پہلا کام کیا وہ زرداری اور اس کے دوستوں کی زمینوں کو جانے والے وہ واٹر کورسز تھے جن کا رخ انہوں نے لوگوں کی زمینیں بنجر کرکے اپنے فارموں کی طرف کیا ہوا تھا۔

بینظیر بھٹو پاکستانی عوام میں بہت سوں کیلیے چڑیل تو بہت سوں کے لیے شہزادی کی حیثیت رکھتی ہیں لیکن پاکستانی سٹیبلشمنٹ عرف پاکستانی فوج کے لیے وہ اس کے ہاتھوں قتل ہونے والے دشمن کی ایسی مہربان بیٹی ہیں جسے اکثر بھنور میں پھسنی ہوئی نیا پار لگانے کیلیے کال کیاجاتا ہے۔

بینظیر بھٹو کے ساتھ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کی بات چیت ہو کہ اسلام آباد کی لال مسجد والوں کی حرم سرا کی ملانیاں، فیصلہ ہوچکا ہے کہ بھٹو کے بھوت سے ضیاء الحق کا بھوت بڑا ہے۔

ٹٹوگھوڑا بننے کو تیار
 پاکستان میں وکیلوں نے جو آنے والے دنوں کا طوفان نوح برپا کر رکھا ہے اس میں پی پی پی پاکستانی عوام کا سفینۂ غم دل تو کیا کھیتی، فوجی سٹیبلشمنٹ کا ٹٹو گھوڑا بننے کو تیار نظر آرہی ہے
 

بینظیر بھٹو کی پچھلی حکومت میں اسلام آباد میں طالبان کے ہاتھوں بچوں کی سکول بس کو یرغمال بنایا جانا اور پھر اس وقت کے وزیر داخلہ نصیراللہ بابر کے ایسے ہائي جیکروں سے مذاکرات کرنا کیا لال مسجد والی لٹھ بردار بنات نعش سے کم تماشا تھا اور یہ بھی کہ طالبان کو تو نصیر اللہ بابر اپنے بچے کہتے تھے۔

سلمان رشدی نے بینظیر بھٹو کی کتاب 'دختر مشرق' کے پہلے ایڈیشن پر اپنے تبصرے میں لکھا تھا: ’اگر بینظیر بہترین امید ہے تو آپ خود اندازہ کرلیں کہ باقی کیا ہونگے‘۔

پاکستان میں وکیلوں نے جو آنے والے دنوں کا طوفان نوح کا برپا کر رکھا ہے اس میں پی پی پی پاکستانی عوام کا سفینۂ غم دل تو کیا بنتی، فوجی اسٹیبلشمنٹ کا ٹٹو گھوڑا بننے کو تیار نظر آرہی ہے۔

کیا بینظیر بھٹو اب پاکستان میں جنرل تانا شاہی اور ملاؤں ملانیوں کی پاپائیت میں شرطیہ نئي کاپی ہونگی؟

 
 
نیویارک مجسمۂ آزادیدیسی نیویارک
اپنا و غیر، نیا و پرانا، اور تھوڑا تھوڑا ڈراؤنا
 
 
اسلام آباد میں مدرسے کے طالب علمعصمت فروش کون؟
اسلام آباد میں اصل حکومت کس کی ہے؟
 
 
حسن کا کالم
’کوئی ٹھہرا ہے لوگوں کے مقابل تو بتاؤ‘
 
 
انصاف کا ترازوتاریخ کیا کہتی ہے؟
پاکستانی حکومتیں، جج اور عدلیہ
 
 
’قدیم ترین مذہب‘
مندائین مذہب کو دیگر مذہبوں سے خطرہ ہے
 
 
دیسی نسل پرستی
شلپا شیٹی، تسلیمہ نسرین اور سلمان رشدی
 
 
انور پیرزادو دھرتی کا عاشق
سندھ میں موہن جو دڑو ایک دفعہ پھر مر گیا
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد