BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Monday, 16 April, 2007, 14:40 GMT 19:40 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
کس نے توڑا پاکستان؟
 

 
 
راہول والدہ سونیا گاندھی کے ہمراہ
1971 کا کریڈٹ راہول نہرو خاندان کے ’ کھاتے‘ میں ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں
بھارت کے عظیم گاندھی خاندان کے خوبصورت چشم و چراغ راہول گاندھی نے حال ہی میں اتر پردیش میں اپنی انتخابی مہم کے دوران پاکستان کو توڑنے کا کریڈٹ پاکستانی فوجی جرنیلوں کو دینے کے بجائے خود اپنے خاندان کو دے کر تاریخ سے ہاتھا چھوہی کی کوشش کی ہے۔

راہول گاندھی اور پریانکا پاکستان کے دل پھینک عوام میں کسی وقت کے پاپولر بہن بھائی پاپ سنگرز نازیہ اور زوہیب حسن کی طرح مقبول رہے ہیں۔ پہلی بار پاکستان کے عوام نے زیادہ تر انہیں تب دیکھا تھا جب وہ اپنے والدین کیساتھ تحریک آزادی کے رہنما اور سرحدی گاندھی خان عبد الغفار خان کی عیادت کرنے پشاور آئے تھے۔

حق کا کلمہ تو یہ ہے کہ بقول شخصے پاکستان کو ہمیشہ خطرہ اس کی سکیورٹی اینجینسوں سے ہی رہا ہے اور انیس سو اکہتر میں بھی یہی ہوا تھا جس کا تمام کریڈٹ اب راہول گاندھی نہرو خاندان کے ’ کھاتے‘ میں ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اگر یحیٰ خان انیس سو ستر کے انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرکے ملکی اقتدار بھاری اکثریت سے جیتی ہوئی شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ کو پر امن طور منتقل کرتے۔ قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی پاکستان پیپلز پارٹی تب یحیٰ خانی جرنیلی ٹولے کے ساتھ ساز باز کرنے کے بجائے آئندہ پانچ سال کی مدت تک پاکستان کی قومی اسمبلی میں حزب مخالف کی بینچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ کرتی، بجائے اس کے یحیٰ خان کی سربراہی میں فوجی تب کے مشرقی پاکستان پر چڑھائی کا اعلان نہ کرتے تو شاید پاکستان کا ٹوٹ جانا اتنا آسان نہ ہوتا۔ نہ ہی نوے ہزار غازیوں کا جنرل اروڑا کے آگے ہتھیار پھینک دینا اگر افواج پاکستان اپنے ملک کے لوگوں پر نہ چڑھ دوڑی ہوتی۔ ان ہی دنوں میں حزب مخالف نعپ والے نعرہ لگایا کرتے تھے:
’ کس نے توڑا پاکستان
یحی بھٹو ٹکا خان۔‘

اس دن واشنگٹن میں میرے دوست حیدر نظامانی کہہ رہے تھے کہ مشرقی پاکستان پر فوجی ایکشن کے اعلان کا دن بھی یوم قرارداد پاکستان (تئیس مارچ انیس سو اکتہر) چنا گیا تھا۔

  اپنے ہی ’شریکے‘ وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو کو محسن کش جنرل ضیاء نے معزول کرکے عدالتی قتل کے ذریعے پھانسی پر چڑھوایا اور سب سے زیادہ فوجی جبر مقتول وزیراعظم کے آبائی صوبہ سندھ پر کیا گیا
 

اتنا آسان نہ ہوتا پاکستان کے ساٹھ سالوں میں چالیس سال کا عرصہ اب تک فوجی بوٹوں اور بندوقوں کے سائے میں گزر جانا اگر پاکستان کے ٹوٹنے کے بعد پاکستانی فوجی جرنیلوں کو اس کا ذمہ دار ٹھرایا جاتا اور لاکھوں بنگالیوں کے خلاف انسانی جرا‎‎ئم میں ملوث پاکستانی فوج پر عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ چلایا جاتا تب دنیا کو معلوم ہوجاتا کہ پاکستان کو توڑنے والے اصل ہاتھ کس کے تھے؟ مسز گاندھی اور ان کی سٹیبلشمنٹ کے یا پاکستانی فوجی جنتا کے؟ لیکن ایسا نہیں ہوا اور ایسا اب بھی نہیں ہو رہا۔

پاکستان کا نصف حصہ ٹوٹ جانے سے پاکستانی فوجی جنتا نے تاریخ سے کوئی بھی سبق نہیں سیکھا بلکہ مشرقی بازو ٹوٹ جانے کے دو سال کے اندر بلوچستان کے عوام پر مشرقی بنگال کے قصائی جنرل ٹکا خان کے ہاتھوں فوج کشی کی جو ذوالفقار علی بھٹو کے اقتدار سے فوجی بغاوت کے ذریعے ضیاء کے ہاتھوں ہٹائے جانے تک ایک نہ دوسرے طریقے جاری رہی۔

پاکستان کے وجود میں آنے کے فوراً بعد سے لے کر آج تک تھوڑے تھوڑے وقفوں کے ساتھ مسلسل پاکستانی فوج کشی کی حالت میں ہیں۔ پاکستان جیسی مضبوط مرکز والی نیشنل سکیورٹی سٹیٹ میں بنگالی کے بعد سب سے بڑی بدقستمی اور شامت بلوچوں کی آئی ہوئی ہے۔

بلوچوں کے سب سے بڑے رہنماؤں میں سے ایک رہنما کو اناسی سال کی عمر میں زندہ درغار کیا گیا جبکہ اس سے قبل اتنے معمر اور معزز رہنما اور سردار نوروز خان کی آنکھوں کے سامنے ان کے بھائیوں اور بھتیجوں کو پھانسی دیکر اس بوڑھے باغی سردار کو تا دم مرگ نظر بند رکھا گیا تھا۔ کون کہتا ہے کہ یہ صرف انگریزوں کے ہاتھوں بہادرشاہ ظفر کا مقدر تھا؟ آزاد ملک میں محکوم قوموں کے ساتھ سلوک روا رکھنے میں پاکستانی فوجی جنرل مادر پدر آزاد تھے۔

بنگالیوں اور بلوچوں کے بعد سندھیوں پر ٹینک چڑھانے کی باری آئی۔ اپنے ہی ’شریکے‘ وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو کو محسن کش جنرل ضیاء نے معزول کرکے اسے عدالتی قتل کے ذریعے پھانسی پر چڑھوایا اور سب سے زیادہ فوجی جبر مقتول وزیر اعظم کے آبائی صوبہ سندھ پر کیا گیا-

’سندھ کے عوام مزید آئندہ دس برس کیلیے مارشل لاء چاہتے ہیں-‘ جنرل ضیاءالحق نے تحریک بحالیء جہموریت کے دوران سندھ میں کہا تھا۔ بلکل اس طرح جیسے حال ہی میں سیالکوٹ کے دورے کے دوران جنرل پرویز مشرف نے پاکستانی عوام سے مزید تین سال اقتدار میں رہنے کی مانگ کی ہے۔


بڑے صوبے پنجاب میں ضیاء مخالف تحریک کی موجودگی کو باقی صوبوں کے عوام سے ’پویشدہ‘ اور ان کو تنہا رکھنے کے لیے ایک سنسر شپ عائد کی گئی جس سے صوبوں کے درمیان منافرتیں بڑھیں حالانکہ سب سے زیادہ سیاسی کارکنوں کو پھانسیاں اور کوڑے تو پنجاب میں لگے۔ یہاں تک کہ فوجی افسروں کو بھی ضیاء مخالفت میں کڑی سزائیں پنجاب میں ہی دي گئی تھیں۔ ایم آر ڈی کے دوسرے راؤنڈ کے پہلے دن چودہ اگست انیس سو چھیاسی کو لاہور میں پولیس کی گولی سے دو سیاسی کارکنوں کی ہلاکت ہوئی۔

یہ بھی پنجاب سے ہی ایم آر ڈی کے رہنما ملک محمد قاسم تھے جنہوں نے ضیاء الحق کے دور میں کہا تھا کہ تمام ریاستی تشدد اور جبر کے باوجود بھی سندھی اگر وفاق سے علیحدگی کی بات نہیں کرتے تو یہ ان کی مہربانی ہے۔ یہی وہ دن تھے جب راہول کی دادی اماں نے کہا تھا کہ پاکستان میں سندھ کے حالات پر بھارت خاموش تماشائی نہیں رہ سکتا۔

کوئی عجب نہیں کہ سندھ میں بہت سے بچے بچیوں کے نام اندرا، مجیب اور ذوالفقار ہیں۔

سندھیوں کو اندرا گاندھی کے قتل کا ضرور صدمہ پہنچا تھا لیکن ان کی اکثریت ایم آر ڈی کی ’پاکستان بچاؤ‘ تحریک کے اگلے مورچوں پر تھی۔

ہاں، یہی وہ دن تھے جب شیخ ایاز جیسے شاعر نے بھی کہا تھا: ’راج گھاٹ پر چاند ابھی بھی چمک رہا ہے-‘

پر جی ایم سید سمیت کئی قوم پرستوں کا کہنا تھا کہ ’ضیاء الحق ہمارا کام کر رہا ہے کہ وہ پاکستانی ریاست کو اپنے منطقی انجام کی طرف لیجارہا ہے۔ اگر ضیاءالحق کچھ برس مزید اقتدار میں رہتے تو پاکستانی ریاست اپنی تاریخ جغرافیہ تبدیل کرچکی ہوتی اور شاید ایسے مستقبل کی پیشنگوئی جنرل پرویز مشرف یا پاکستانی فوج کے مزید کچھ اور برس اقتدار میں رہنے پر بخوبی کی جاسکتی ہے۔

نیویارک کی اس شام میرا ایک دوست مجھے کہہ رہا تھا ’پاکستان کو سب سے بڑا خطرہ اس کی سکیورٹی ایجینسیاں ہیں۔‘ اگر افواج پاکستان بار بار اپنے ہی عوام کو فتح نہ کررہی ہوتی تو راہول کی دادی اماں بھی پاکستان نہیں توڑ سکتی تھیں۔

کیا پاکستان اور فوجی آمریت واقعی ساتھ ساتھ رہ سکتے ہیں!

 
 
اندرا گاندھیمقبول و غیر مقبول
اندرا گاندھی اور تاریخ کے اتار چڑھاؤ
 
 
اندرا گاندھی7جنوری: کیا ہوا تھا
اندرا گاندھی کو اقتدار دوبارہ واپس مل گیا
 
 
ویڈیو: راجیوگاندھی
پندرہویں برسی: راجیو کے کریئر پر ایک نظر
 
 
اسی بارے میں
پاکستان ہی کا نام کیوں آتا ہے؟
13 July, 2006 | قلم اور کالم
’پاکستان کی امداد بند کی جائے‘
12 January, 2007 | قلم اور کالم
دیسی نیویارک: کریکٹروں کا شہر
10 April, 2007 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد