BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Thursday, 03 May, 2007, 10:44 GMT 15:44 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
پاکستان کی ’ممی ڈیڈی کلاس‘
 

 
 
یہ ’پدرم سلطان بود‘ یا ’مادرم سلطانہ بود‘ کے نعرے لگاتے دیکھنے میں آئيں گے
پاکستان میں ملاؤں اور فوجی جنرلوں کے بعد اگر کوئی ملک کے اکثر عوام کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے تو وہ پاکستان کی ممی ڈیڈی کلاس ہے۔

ممی ڈیڈی کلاس ہے کیا؟ یہ دیسی اور بدیسی حکمرانوں کی غلام زادیوں اور غلام زادوں یا ٹوڈی طبقات کے پوتے پوتیاں پڑ پوتے پڑپوتیاں، نواسے، نواسیاں، پڑنواسے اور پڑنواسیاں ہیں، تو کچھ ’سیلف میڈ‘ قسم کے خواتین وحضرات بھی۔

ان کا تعلق کسی بھی نظریے یا مکتب فکر سے ہوسکتا ہے۔ لیفٹ، رائیٹ، سیکیولر یا اسلام پسند۔ ترقی پسند یا رجعت پسند، سول یا فوجی۔ اصل نسل میں ہے سارا ایک ہی خانوادا۔ ’تیری سرکار میں پہنـچے تو سبھی ایک ہوئے‘!

اصل میں اگر آپ ان کے شجروں کی ڈانڈے ملانے بیٹھ جائیں تو پاکستان کے یہ تمام کے تمام خواتین و حضرات کہیں ایک ہی خاندان میں جا کر مدغم ہوجاتے ہیں جو گذشتہ ساٹھ سالوں سے عوام کے نرخروں پر سوار ہیں۔

شادیوں وادیوں، جائز ناجائز رشتے ناتوں سے یہ ’پدرم سلطان بود‘ یا ’مادرم سلطانہ بود‘ کے نعرے لگاتے دیکھنے میں آئیں گے۔ سارے کے سارے ٹوپی ڈرامے۔ سندھی میں کہتے ہیں ’جس کی دم اٹھاؤ سو مادہ‘۔

یہی لوگ
 یہی لوگ اسلام، پاکستان اور اردو کے عظیم علمبردار تھے، انہی کے دم قدم سے ون یونٹ اور مارشل لاؤں کو دوام حاصل ہوا اور یہی لوگ تھے جب پرویز مشرف آئے تو لڈیاں اورویلیں پاتے نظر آتے تھے۔
 

یہی لوگ اسلام، پاکستان اور اردو کے عظیم علمبردار تھے، انہی کے دم قدم سے ون یونٹ اور مارشل لاؤں کو دوام حاصل ہوا، یہی ضیاء الحق کو لبیک کرتے اور ان کے گرد طواف کرتے نظر آتے تھے، یہی ایوب، یحییٰ اور بھٹو کے ہاتھ چومتے دکھا‎ئي دیتے تھے، یہی بینظیر بھٹو کے آگے پیچھے صبح شام ’بی بی بی بی‘ کا ورد کرتے نہیں تھکتے تھے، انہی لوگوں نے نواز شریف کو ’میاں‘ بنایا ہوا تھا، اور یہی لوگ تھے جب پرویز مشرف آئے تو لڈیاں اور ویلیں پاتے نظر آتے تھے۔

انہی لوگوں نے پاکستان میں جمہوریت، فوج، میڈیا، اپوزیشن، سفارت، سیاست، یہان تک کہ انسانی حقوق کی بھی ’ایجنسیاں‘ کھول رکھی ہیں۔ یہی لوگ پاکستان اور پاکستان سے باہر بھی مڈل مین اور مڈل ویمن بنے ہوئے ہیں۔

ضیاء الحق جب آئے تو یہ لوگ جناح کیپ اور شیروانیاں پہنے ہوئے تھے، اب سرخ اور رنگ برنگی بڑھیا ٹائياں لگائی ہوئی ہیں۔ کسی نے ٹھیک کہا کہ کل اگر من موہن سنگھ پاکستان کے حکمران بن جائیں تو یہ لوگ نہرو کیپ پہنے ’وندے ماترم‘ گاتے ’اسلام آباد کے راشٹریہ پتی بھون‘ کے گرد پھیرے لگاتے دکھائی دیں گے۔ روس بھی یہی جاتے تھے چین بھی یہی جاتے تھے۔

جو لوگ بینظیر بھٹو کے آگے پیچھے صبح شام ’بی بی بی بی‘ کا ورد کرتے نہیں تھکتے تھے، انہی لوگوں نے نواز شریف کو ’میاں‘ بنایا ہوا تھا

اس دن ایک مقتدر امریکی ادارے میں ایک پاکستانی نوجوان خاتون سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے ظاہر ہے فخریہ کہا کہ ان کے دادا سنہ انیس سو پچاس کے عشرے میں پاکستان کی ایک انٹیلیجنس ایجنسی کے چیف تھے۔

میں نے سوچا کہ یہی انیس سو پچاس کے ہی سال تھے جب لاہور کے شاہی قلعے میں حکومت مخالف سیاسی قیدیوں پر تشدد شروع ہوا تھا۔

چراغ طور جلاؤ بڑا اندھیرا ہے
ابھی تو صبح کے ماتھے کا رنگ کالا ہے

انہی دنوں پاکستان کے ایک وکیل پر مبینہ طور اپنی ہی بیوی کو قتل کرنے کا کیس بنا۔ انہوں نے اپنے خلاف خود ہی مقدمے کا دفاع کرکے بریت پائی۔


تب سے آج تک پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے سوچا ہوگا کہ پاکستان میں آئين کے قتل کا دفاع کرنے میں ان سے زیاد ہوشیار نہیں ہوسکتے اور موصوف عظیم جادوگر کے طور پر تب سے آج تک پاکستان میں فوجی آمریتوں کے تمام ماورائے دساتیر اقدام کے دفاعی وکیل بنے ہوئے ہیں۔

سول حکومتوں کے دھڑن تختے کیسے کیے جائيں؟ فوجی حکمرانوں کی مدت اقتدار میں طوالت و توسیع کے قانونی جواز کیسے گھڑے جائيں؟ انتخابات کیسے مستقل التوا میں رکھے جائیں؟ گویا کہ انہوں نے اپنا سارا علم ان کاموں کے واسطے حاصل کیا تھا!

آپ مشرف کیساتھ شام کو بلیو لیبل پیئں یا مرار جی ڈیسائي کیساتھ ان کی پسندیدہ کاک ٹیل، آپ کو گانا چاہیے ’ہم ہوں گے کامیاب اک دن‘۔

دیکھیں ناں ایوب خان کو ذوالفقار علی بھٹو کام نکالنے کیلیے ڈیڈی بھی کہا کرتے تھے۔ عوام کے یہ ’شہید بابا‘ بہرحال بیٹے تو سر شاہنواز کے تھے ناں!

انقلاب عوام کے لیے تو کیا آتا پر فیض احمد فیض کے خاندان والوں کے لیے تو کب کا آچکا ہے، کم از کم پاکستان میں ان دو ہزار لوگوں کےلیے جو کراچی تا پشاور ’انقلاب کا ہراول دستہ‘ ہیں۔ گاگلز لگائے ہوئے مِنرل واٹر کی مہنگی بوتلیں اٹھائے یہ لوگ ہر جلسے جلوس میں آگے کی صفوں میں ہوتے ہیں۔ خودکشیاں کرتے بھوکے ننگے عوام کے لیے انہوں نے وقت کے خلاف میراتھن ریسیں لگائی ہوئی ہیں۔

بلوچستان کی جنگ لڑنے والی یہ ایلیٹ یا اشرافیہ اب لاہور کی سڑکوں پر اسلامی بنیاد پرستوں کے خلاف کوئی لڑائی مول لینے کو تیار نہیں ہوتی۔ ان کے اور غریب اور متوسط طبقے کے ایک سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکن کی طرف ریاست کا رویہ وہ ہے جو رمضان کے مہینے میں شہر کے بیچ چوک پر
حقہ پینے پر ایک موچی اور بلھے شاہ کی جانب دروغے کا تھا۔


رنجیت سنگھ کے حکیموں اور منشیوں کی اولادیں اندرون شہر لاہور کی بہت بڑی اشرافیہ ہیں۔

کراچی انہی چور اچکوں اور اٹھائی گيروں کے حوالے ہے جو شوکت صدیقی کی ’خدا کی بستی‘ میں تھے۔ باقی جو ہیں وہ قرات العین حیدر کی آپ بیتی ’کار جہاں دراز ہے‘ میں ہیں۔ اسلام، انقلاب، اردو اور انگریزی کلیم میں حاصل کیے ہوئے ہیں۔

سندھ پراس کی غدار وڈیرہ شاہی سرچارلس نیپئر سے لیکر آج تک غالب ہے۔ ان کے اتحادی متحدہ کے شہری وڈیرے، مشرف کے حلقہء بگوش مشرف۔

ٹوانوں، دولتانوں، ممدوٹوں، گورمانیوں والے پنجاب جو شوکت صدیقی کے جانگلوس میں ہیں اگر اس میں اضافہ ہوا تو گجرات کے چودھریوں، چٹھوں اور چیموں اور علی پور کے ایلیوں کا اور پاکستانی جنرلوں کا جو پاکستان کے سب سے وڈے چودھری اور ایک الگ کلاس ہیں۔ ملٹری انڈسٹریل کلاس۔

پاکستان میں ریاست کے ہاتھوں پہلی پراسرار قتل کی ورادات ان کے (قرات العین حیدر کے) ’ایوب بھائی‘ کی تھی۔ محکمہ اطلاعات کے ایوب کرمانی جو تیسری منزل سے ’گر کر ہلاک‘ ہوئے جن کے بارے میں افواہیں یہ ہیں کہ یا تو وہ حسن ناصر کی موت کی خبر اخبارات کو ’لیک‘ کرنے پر پاکستانی انیٹیلیجنس والوں کے ہاتھوں قتل ہوئے یا پھر انہوں نے عشق میں خودکشی کی!

خوبرو سندھی جاگیردار نوجوان ذو الفقار علی بھٹو بھی اسی کتاب میں ہیں تو نئے صدر حراف کرنل اسکندر مرزا بھی۔

پورے پاکستان کے عوام پیلی کوٹھی یا کالے پل کے ’اُرلی‘ طرف اور یہ ممی ڈیڈی کلاس کلفٹن یا کینٹ کے ’پرلی‘ طرف رہتی ہے۔ پُل کے اس پار کے یہ لوگ موقع ملتے ہی پاکستانی عوام یا ان کے خوابوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیتے ہیں۔ یہی مشرف نے کیا اور یہی بینظیر بھٹو کررہی ہیں۔

 
 
گمشدہ پاکستانی فائل فوٹوکہاں ہیں وہ لوگ
لاپتہ لوگ: انہیں آسماں کھا گیا یا زمین۔۔۔
 
 
بے نظیرکس کا بھوت بڑا؟
کیا بے نظیر شرطیہ نئی کاپی ہونگی؟
 
 
نیویارک مجسمۂ آزادیدیسی نیویارک
اپنا و غیر، نیا و پرانا، اور تھوڑا تھوڑا ڈراؤنا
 
 
بش مشرف مشرف کی حمایت
بش کی چشم پوشی پر امریکی اخبار کی تنقید
 
 
ٹرینپھر وہی ٹرین
جواب دہ کون ہو سکتے ہیں؟ حسن مجتبیٰ
 
 
گریش کمارمٹی کی قیمتی محبت
پاکستان کے ہندؤں کا درد۔ حسن مجتبی کا کالم
 
 
جنرل مشرف ارو صدر بشبش اور جمہوریت
سٹیٹ آف دی یونین تقریر،حسن مجتبی کا کالم
 
 
اسی بارے میں
خط، جنرل اور’تار‘
27 July, 2006 | قلم اور کالم
نیا قبیلہ اور سردار
02 September, 2006 | قلم اور کالم
'دار کی خشک ٹہنی پہ۔۔۔۔'
08 October, 2006 | قلم اور کالم
’انٹیلیجنس ریپبلک آف غائبستان‘
23 November, 2006 | قلم اور کالم
’بس یہ ہے میرا عراق‘
31 December, 2006 | قلم اور کالم
’بغدادی انصاف‘ اور بھٹو
04 January, 2007 | قلم اور کالم
’بھری کشتی میں صرف ہندو بھاری‘
12 February, 2007 | قلم اور کالم
'لاٹھی گولی کی سرکار‘
17 March, 2007 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد