BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Sunday, 13 May, 2007, 08:37 GMT 13:37 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
’قصور جسٹس چودھری کا ہے‘
 

 
 
کراچی میں ہنگامے
کراچی میں سنیچر کو ہنگاموں میں تیس سے زائد لوگ ہلاک ہوئے
اسلام آباد میں’ کروڑوں جانثاروں‘ کے سامنے صدر پرویز مشرف کی اس بات سے میں سو فیصد متفق ہوں کہ کراچی میں جو کچھ ہوا وہ عوامی طاقت کا مظاہرہ تھا۔

اگر چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کراچی جانے کی ضد نہ کرتے تو پینتیس لاشیں نہ گرتیں۔ بلکہ اب تو یہ بھی سوچا جاسکتا ہے کہ اگر جسٹس چودھری نو مارچ کو جنرلوں کے روبرو بات مان کر خاموشی سے گھر چلے جاتے تو بکھیڑا پیدا ہی نہ ہوتا۔

نو مارچ تک اچھی خاصی حکومت چل رہی تھی، ترقیاتی کام پوری رفتار سے جاری تھے، نجکاری بہترین انداز میں ہو رہی تھی، قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں دہشتگردی کا موثر طریقے سے قلع قمع ہو رہا تھا اور میڈیا اعتدال پسندی اور سرکاری روشن خیالی کے گیت گا رہا تھا۔ یہ جسٹس چودھری ہی ہیں جنہوں نے رنگ کو بھنگ کر دیا۔ کیا ملا انہیں اپنے بال کھنچوا کر اور ملک کی بدنامی کروا کے۔

ایسے ہی الیکشن بھی ہوں گے
 اب مجھے یقین ہوچلا ہے کہ حکومت نے سنیچر کو کراچی میں جس نظم و ضبط و صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے اسی نظم و ضبط اور صبر وتحمل کے ساتھ وہ شفاف عام انتخابات بھی منعقد کرائے گی۔
 

چیف جسٹس اور ان کے ساتھی قانون داں یہ سمجھنے لگے کہ پانچ مقامات پر پرامن خطاب کر کے اور اسلام آباد سے لاہور تک کا ساڑھے چار گھنٹے کا راستہ پچیس گھنٹے میں طے کر کے گویا انہوں نے ملک فتح کر لیا ہے اور کراچی جانا بھی گویا پکنک کی طرح ہوگا۔

لیکن شاید وہ یہ بھول گئے تھے کہ حکومت بہرحال حکومت ہوتی ہے۔ آپ اس کی رٹ چاہے طاقت سے چیلنج کریں یا پرامن طریقے سے بات ایک ہی ہے۔

لیکن اگر میں صدر مشرف کی یہ بات مان رہا ہوں کہ کراچی میں سنیچر کو جو کچھ ہوا جسٹس چودھری کی ضد کے سبب ہوا تو پھر مجھے یہ بات بھی تسلیم کرنی پڑے گی کہ ایئرپورٹ سے سندھ ہائی کورٹ کے پچیس کلومیٹر کے راستے کو جس طرح جگہ جگہ کنٹینروں، ٹرالرز اور بسوں کو آڑا ترچھا کر کے بند کیا گیا وہ بھی ایک رات پہلے چیف جسٹس کے حامیوں نے کیا اور ذمہ داری حکومت پر ڈال دی۔ انہی کے مسلح حامیوں نے ہائی کورٹ کی عمارت کو گھیرے میں لیا اور باہر سے کراچی آنے والے تمام راستوں کی ناکہ بندی کردی تاکہ وکلاء اور سول سوسائٹی والے یہ سمجھیں کہ یہ سب حکومت کرا رہی ہے یہی نہیں بلکہ انہوں نے اپنے ہی بار روم کے لیڈیز ونگ کو بھی آگ لگادی اور اپنے ہی ہم پیشہ لوگوں کو مارا پیٹا۔

’اگر جسٹس مان جاتے‘
 اگر چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کراچی جانے کی ضد نہ کرتے تو پینتیس لاشیں نہ گرتیں۔ بلکہ اب تو یہ بھی سوچا جاسکتا ہے کہ اگر جسٹس چودھری نو مارچ کو جنرلوں کے روبرو بات مان کر خاموشی سے گھر چلے جاتے تو بکھیڑا پیدا ہی نہ ہوتا۔
 

اور پھر آج ٹی وی چینل کی عمارت کو بھی چھ گھنٹے گھیرے میں لے کر جدید ہتھیاروں سے نہ صرف گولیاں برسائیں بلکہ کمپاؤنڈ میں کھڑی گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی۔ یہ سب اس لیے ہوا کیونکہ یہ چینل چیف جسٹس کے مسلح حامیوں کے کرتوتوں کی مسلسل کوریج کر رہا تھا۔

یہ بات قطعاً درست نہیں کہ حکومت نے کسی کو بھی ریلی یا جلسے سے روکا۔ چیف جسٹس کے حامی دراصل ریلی نکالنا ہی نہیں چاہتے تھے۔اگر کوئی سرکاری رکاوٹ ہوتی تو بھلا ایم کیو ایم کیسے ریلی نکال سکتی۔

حکومت نے تو اتنی احتیاط برتی کہ پندرہ ہزار پولیس والے تعینات کرنے کے باوجود اس نے لوگوں کو ہلاک کرنے اور املاک کو نقصان پہنچانے والے چیف جسٹس کے کسی ایک مسلح حامی کو بھی حراست میں نہیں لیا مبادا توہینِ عدالت ہو جائے۔

اب مجھے یقین ہوچلا ہے کہ حکومت نے سنیچر کو کراچی میں جس نظم و ضبط و صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے اسی نظم و ضبط اور صبر وتحمل کے ساتھ وہ شفاف عام انتخابات بھی منعقد کرائے گی۔

 
 
ہمارے سیاسی قبائل
کہیں سیاسی جماعتیں اصل میں قبیلے تو نہیں؟
 
 
تنگ نظری کا وائرس
کیا مذہب کے نام پر جہالت فروغ پا رہی ہے؟
 
 
بات سے باتنمبر تو نہیں بدلا؟
کیا سب کچھ حاسد قوتیں کروا رہی ہیں؟ وسعت
 
 
مجھے کچھ ہوگیا ہے
دلی دربار، ایوانِ صدر، لال قلعہ یا مسجد،سب گڈمڈ
 
 
بھگوان کا انصاف
’انصاف مل سکتا ہے تو صرف بھگوان سے‘
 
 
اسی بارے میں
آفریں آفریں
06 May, 2007 | قلم اور کالم
’امریکہ نے تمام مواقع گنوا دیئے‘
11 February, 2007 | قلم اور کالم
کاربن گیس اسامہ سے خطرناک
04 February, 2007 | قلم اور کالم
پوپلوں کا کلب
25 February, 2007 | قلم اور کالم
گھر سے اٹھا ہے فتنہ: وسعت
18 March, 2007 | قلم اور کالم
مجھے کچھ ہوگیا ہے: وسعت اللہ خان
01 April, 2007 | قلم اور کالم
’انصاف مل سکتا ہے تو بھگوان سے‘
25 March, 2007 | قلم اور کالم
کہیں نمبر تو نہیں بدل گیا؟
08 April, 2007 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد