http://www.bbc.com/urdu/

Tuesday, 18 September, 2007, 18:08 GMT 23:08 PST

اجمل کمال
کراچی

اس وضعِ اصطلاح سے رُکنے لگا ہے دم

کراچی یونیورسٹی میں اس قسم کا ایک ادارہ شعبۂ تصنیف و تالیف و ترجمہ کے نام سے 1960کے لگ بھگ یونیورسٹی کے اشاعت گھر کے طور پر قائم کیا گیا۔ یونیورسٹی کے قیام کے مقاصد کے پیش نظر شروع ہی میں ایک اہم فیصلہ یہ کیا گیا تھاکہ اردو زبان کو علمی اعتبار سے ترقی دے کر اس مقام پر پہنچایا جائے گا جہاں وہ ’طیلسان‘ اور اس سے بلند تعلیمی سطحوں پر ذریعہ تعلیم کے طور پر استعمال کی جا سکے۔

آپ تو خیرتعلیم یافتہ ہیں اور اس قسم کی اصطلاحوں سے ضرور مانوس ہوں گے، لیکن بعض کم علم لوگ پوچھ سکتے ہیں کہ بھلا یہ طیلسان کیا ہوا؟ تو ایسے لوگوں کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ طیلسان خاص جامعہ کراچی کی وضع کی ہوئی اصطلاح ہے جس کے معنی ہیں ’گریجویشن‘۔ رہی اس سے بلندتر تعلیمی سطح تو اسے غالباً چیستان کہا جائے گا۔

شعبۂ تصنیف و تالیف و ترجمہ سے ایک رسالہ ’جریدہ‘ کے عنوان سے شائع ہوتا ہے۔ جنوری 2004 کے بعد سے اس رسالے کی ظاہری صورت اور اس کے مشمولات میں ایک گہری اور نہایت دلچسپ اور معنی خیز تبدیلی واقع ہوئی ہے جو کراچی یونیورسٹی کے بارے میں مضامین کے اس سلسلے کی اصل محرک ہے۔ اس کا تفصیلی ذکر تو آگے چل کر ہو گالیکن اس کے پس منظر کے بارے میں اپنی خوش دلانہ تحقیق کے دوران بیدل لائبریری میں ’جریدہ‘ کی فائل پر نگاہ ڈالتے ہوئے مجھے اس خیال کو اپنے ذہن سے باربار جھٹکنا پڑا کہ کہیں منیرنیازی کا تبصرہ صداقت پر مبنی تو نہیں تھا۔

جامعہ کراچی کی ایک اصطلاح
 آپ تو خیرتعلیم یافتہ ہیں اور اس قسم کی اصطلاحوں سے ضرور مانوس ہوں گے، لیکن بعض کم علم لوگ پوچھ سکتے ہیں کہ بھلا یہ طیلسان کیا ہوا؟ تو ایسے لوگوں کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ طیلسان خاص جامعہ کراچی کی وضع کی ہوئی اصطلاح ہے
 

1960اور 2003کے درمیانی عرصے میں ’جریدہ‘ کے بیس شمارے شائع ہوئے، اور ان شماروں میں مختلف علوم و فنون کی ان اردو اصطلاحوں کی فہرستیں انگریزی مترادفات کے ساتھ شائع کی جاتی رہیں جنہیں کراچی یونیورسٹی کے قابل احترام اہل علم اساتذہ کی علمی کمیٹیوں نے بظاہر بڑی عرق ریزی کے ساتھ وضع کیا تھا۔ چالیس سے زیادہ برسوں پر پھیلی ہوئی اس اجتماعی عرق ریزی کا مقصد یونیورسٹی کے اس ’تاریخی فیصلے‘ کو عمل کا روپ دینا تھا جس کا اوپر ذکر کیا گیا۔

ان اردو اصطلاحوں کو پڑھنے والا اس قسم کی سراسیمگی سے تو ضرور دوچار ہوتا ہے جیسی کسی طیلسان کے روبرو آنے پر طاری ہو سکتی ہے، لیکن خدانخواستہ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ یہ اصطلاحیں کسی مصرف کی نہیں ہیں۔

ایک سامنے کی بات تو یہی ہے کہ مثال کے طور پر’ آلۂ مکبرالصوت‘پر نظر پڑتے ہی اس کے انگریزی مترادف ’لاؤڈسپیکر‘ اور ’ایمپلی فائر‘ (جی ہاں، یہ بھاری اصطلاح دونوں پر حاوی ہے) نہایت سادہ، مسکین اور گھریلو معلوم ہونے لگتے ہیں۔ آپ جو یہ تحریر انٹرنیٹ کی مدد سے اپنے کمپیوٹر کی سکرین پر پڑھ رہے ہیں، آپ ہی بتائیے کہ کمپیوٹر سے متعلق ایک شے کو، جو کئی سال ہوئے دنیا سے رخصت ہو چکی ہے، اگر ’انعطاف پذیر قرص‘ کے نام سے یاد کرایا جائے تو کیا آپ کو مرحومہ کے اصل نام یعنی ’فلاپی ڈسک‘ پر نئے سرے سے پیار نہیں آنے لگے گا؟

غالب کا وضعِ احتیاط سے جی رُکنے لگا تھا؛ کہیں ان کا واسطہ اس قسم کی ’وضعِ اصطلاح‘سے پڑا ہوتا تو خداجانے کیا ہوتا۔

کراچی یونیورسٹی کے زیراہتمام وضع کی گئی ان اصطلاحوں کی فہرستوں پر نگاہ ڈالتے ہوئے آدمی ان کے موجدوں کے بارے میں سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ آخر یہ عالم و فاضل لوگ، جن کی نیک نیتی پر کسی قسم کا شبہ نہیں کیا جا سکتا، اپنی اس سرگرمی کے عملی پہلو کے بارے میں کیا رائے رکھتے تھے۔ براؤزر (browser) کو ’برقی ورقی اطلاعات‘، کاشے (cache)کو ’محفوظ کار‘ اور ڈیٹا بیس (database) کو ’کوائفی اساس‘ کا نام دینا خانہ پری اور تنخواہ کو حلال کرنے کی حد تک تو ٹھیک ہے، لیکن یہ بات فوراً ظاہر ہو جاتی ہے کہ ان دلچسپ اصطلاحوں کو ’جریدہ‘ کے صفحات سے اٹھ کر میدانِ عمل تک جانے کی تکلیف دینا کسی کا مقصود قطعی نہیں۔

مقصود اگر ہے تو صرف یہ کہ انگریزی کا جو لفظ سامنے ہے ، اس کا اردو (بلکہ عربی فارسی) میں جوں توں لفظی ترجمہ کیجیے اور پھر اسے ہمیشہ کے لیے فراموش کر کے اگلے لفظ پر متوجہ ہو جائیے۔ کوئی لفظ اصطلاح کس طرح بنتا ہے، اور پھر ایک دوسرے سے منسلک لفظوں کے گروہ میں اصطلاحی معنی کس طرح روشن ہوتے ہیں، اس پورے عمل سے یکسر بےخبری اور بے نیازی کے عالم میں اسی قسم کی اصطلاح سازی ہو سکتی ہے جیسی اردو زبان میں اسلامی ریاست حیدرآباد کی عثمانیہ یونیورسٹی کے زمانے سے کراچی یونیورسٹی تک ہوتی چلی آ رہی ہے۔

رہا یہ سوال کہ یونیورسٹی کے فیصلہ سازوں نے ہمارے آپ کے ٹیکسوں سے مہیا کردہ وسائل اس بظاہر بے نتیجہ سرگرمی میں کیوں ضائع کیے، اور جووقت اور رقمیں اس پر صرف ہوئیں ان کی تلافی کی کیا صورت ہو سکتی ہے، تو اس سوال کا تعلق اسی جواب دہی سے ہے جس کا کہیں اور وجود نہیں تو بھلا کراچی یونیورسٹی کے شعبۂ تصنیف و تالیف و ترجمہ ہی میں کیوں ہو؟