BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت:
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
ایک چھلاوے کی یاد میں
 

 
 
چی گویرا
چی گویرا کا فلسفہ تھا کہ انصاف مسلح جدوجہد کے بغیر حاصل نہیں کیا جا سکتا
انتالیس سالہ چی گویرا کی موت کو نو اکتوبر کو چالیس برس ہوگئے۔اس آدمی کی زندگی جان کے سب سے پہلا احساس ذاتی کم مائیگی اور کمتری کا ہوتا ہے۔

چی گویرا نے موت سے دو برس قبل الجزائر میں ایفرو ایشین سالیڈیرٹی سمینار میں اپنا آخری بین الاقوامی خطاب کرتے ہوئے کہا تھا: ’موت آنے تک جاری رہنے والی جدوجہد کی کوئی حد نہیں ہے۔ دنیا کے کسی بھی گوشے میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے ہم اس سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔ سامراج کے خلاف کسی ایک ملک کی فتح ہماری فتح اور کسی ایک ملک کی شکست ہماری شکست ہے۔‘


چی گویرا نے اپنی مختصر سی زندگی میں کیا نہیں کیا تھا۔ رگبی اور شطرنج کا کھلاڑی، دمے کا مریض، ڈاکٹر، فوٹوگرافر، موٹر بائیک رائیڈر، شاعر، گوریلا کمانڈر، باپ، شوہر، ڈائری نویس، ادیب اور انقلابی۔۔۔

وہ آدمی کے بھیس میں چلتی پھرتی تکلیف تھا۔ایسا عبداللہ جو کسی بھی شادی کو دیوانہ ہونے کے لیے بیگانا نہیں سمجھتا تھا۔ اسکے لیے پورا لاطینی امریکہ اور پھر پوری دنیا ایک ہی ملک تھا ۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ارجنٹینا کے ایک معمولی قصبے روساریو کےایک متوسط گھرانے میں پیدا ہونے والا ارنسٹو میڈیکل کی تعلیم مکمل کر کے کہیں نوکری کرلیتا یا اپنا کلینک کھول کر کچھ پیسے جمع کر کے شادی رچا کر دو چار بچے پیدا کرکے مر جاتا۔ لیکن چھلاوے کہاں ایسا کرتے ہیں۔

گولی چلاؤ بزدلو
موت سے چند گھڑی پہلے لی گئی چی گویرا کی تصویر۔ اس کے بعد انہیں فوراً گولی مار دی گئی تھی
 گولی چلاؤ بزدلو۔۔۔تم صرف ایک آدمی کو ہی مار سکتے ہو
 
چی گویرا

ارنسٹو نے بھی یہ سب نہیں کیا بلکہ دورانِ تعلیم ایک دن اپنے دوست البرٹو گراناڈو کو پانچ سو سی سی کی نورٹن موٹر سائیکل پر بٹھا کر نامعلوم سفر پر چل پڑا۔ارجنٹینا سے گوئٹے مالا تک آٹھ ممالک کا سفر کیا۔پیرو میں کئی ہفتے جزامیوں کی بستی میں گذارے۔ راستے میں اسے کبھی کوئی تھکن نہیں ہوئی کیونکہ لوگوں کی تکلیف دہ زندگی دیکھ دیکھ کر وہ تھکنا ہی بھول چکا تھا۔مگر لکھنا نہ بھولا۔مرنے سےایک دن پہلے تک کا ایک مشاہدہ ڈائری بند کیا ۔اس سفر نے ارنسٹو کے اندر سے اس چی گویرا کو جنم دیا جس نے طے کیا کہ انصاف مسلح جدوجہد کے بغیر حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

چی نے یہ طے کرنے کے بعد یونیورسٹی آف بیونس آئرس سے ڈاکٹری مکمل کی اور پھر اپنے ملک کو ایسا خیر آباد کہا کہ لاش بھی واپس نہ آئی۔

چی گویرا کے اگلے تیرہ برس کی زندگی غالب کے اس مصرعے میں ڈھل گئی کہ ’میری رفتار سے بھاگے ہے بیاباں مجھ سے۔‘

وہ گوئٹے مالا پہنچا جہاں امریکی سی آئی اے اصلاح پسند صدر اربینز کے خون کی پیاسی ہو رہی تھی۔ چی گویرا نے مزاحمت میں حصہ لیا لیکن جب صدر اربینز نے ہی میکسیکو کے سفارتخانے میں پناہ لے لی تو چی گویرا کا دل ٹوٹ گیا۔

چی گویرا طبعاً ایک بین الاقوامی روح رکھتا تھا جسے پابہ زنجیر ہونا پسند نہیں تھا لہذا ایک ایسے وقت جب وہ گوئٹے مالا میں مالی مشکلات میں گھر گیا اس نے بطور ڈاکٹر نوکری کرنے سے اس لیے انکار کر دیا کیونکہ شرط یہ تھی کہ وہ مقامی کیمونسٹ پارٹی کا باقاعدہ ممبر بن جائے۔آزاد طبیعت چی گویرا کو مارکسسٹ نظریہ صرف اس لیے پسند تھا کیونکہ اسکے خیال میں دورِ حاضر میں یہ سب سے زیادہ عوام دوست نظریہ تھا۔

چی گویرا
شطرنج کا کھلاڑی، دمے کا مریض، ڈاکٹر، فوٹوگرافر، موٹر بائیک رائیڈر، شاعر، گوریلا کمانڈر، باپ، شوہر، ڈائری نویس، ادیب اور انقلابی

گوئٹے مالا سے اسکا رابطہ میکسیکو میں موجود کیوبا کے جلاوطن حریت پسندوں سے ہوا اور انیس سو پچپن میں اسکی فیدل کاسترو سے میکسیکو میں ہی میں پہلی ملاقات ہوئی ۔ چی گویرا نے کاسترو کا امریکہ نواز کیوبائی حکومت کا تختہ الٹنے اور گوریلا جدوجہد کے ذریعے انقلاب لانے میں اتنی جانفشانی اور خلوص سے ساتھ دیا کہ کبھی کبھی تو یہ شبہہ ہونے لگتا تھا کہ اس انقلاب میں کاسترو اور چی گویرا میں سے کس کا حصہ زیادہ ہے۔

ارجنٹائن کے شہری چی گویرا کی انقلابی خدمات کے طور پر انقلاب کے بعد اسے کیوبا کی شہریت دی گئی۔انقلابی عدالت کا سربراہ بنایا گیا جس نے سینکڑوں انقلاب دشمنوں کو سزائے موت دی۔ پھر چی گویرا کو نیشنل بینک آف کیوبا کا صدر بنایا گیا۔اس زمانے کے کیوبیائی کرنسی نوٹوں پر چی کے دستخط موجود ہیں۔ پھر چی کو وزارتِ صنعت کا قلمدان دے دیا گیا۔اس دوران چی نے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں کیوبائی وفد کی قیادت کی، امریکی چینلز کو انٹرویو دیے، سینیٹرز کو اپنا فلسفہ زندگی سمجھانے کی کوشش کی اور راک فیلر خاندان کے ساتھ کھانا کھاتے ہوئے انہیں یہ بتانے کی کوشش کی کہ امریکی پالیسیوں کو لاطینی امریکہ کا آدمی کیوں پسند نہیں کرتا۔

نیویارک سے چی گویرا فرانس، چین، شمالی کوریا ہوتا ہوا مصر پہنچا جہاں جمال عبدل ناصر نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ دھیرج رکھو ابھی بہت عمر پڑی ہے۔ چی گویرا نے ناصر کی یہ بات سنی اور پھر الجزائر سمیت سات نو آزاد افریقی ممالک کے دورے پر چل پڑا اور تین ماہ بعد چودہ مارچ انیس سو پینسٹھ کو جب کیوبا میں اترا تو کاسترو نے ایرپورٹ پر استقبال کیا۔

چی گویرا
انقلابی رہنما اپنے خاندان کے ہمراہ

دوہفتے بعد چی گویرا اچانک منظرِ عام سے غائب ہوگیا۔اور پھر ڈیڑھ برس بعد اسکے مرنے کی خبر آئی۔

ان ڈیڑھ برسوں میں کیا ہوا۔

چی گویرا اور کاسترو میں ملک کی اقتصادی پالیسی پر عمل درآمد کی حکمتِ عملی پر اختلافات ہوگئے۔چی گویرا ترقی کے چینی ماڈل پر عمل کرنا چاہتا تھا۔ جس طرح وہ امریکہ کو شمالی دنیا کا ایکسپلائٹر سمجھتا تھا۔اسی طرح سوویت یونین کو جنوبی دنیا کا استحصالی گردانتا تھا۔ اسی زمانے میں چین روس نظریاتی چپقلش عروج پر پہنچ گئی۔ کاسترو کو امریکی خطرے اور علاقائی صورتحال کے سبب سوویت یونین کا انتخاب کرنا پڑا۔ چی گویرا جو انیس سو باسٹھ میں کیوبا میں سوویت میزائیل آنے کے بعد خروشچیف کی جانب سے امریکہ کے مقابلے میں ہار مان کر یہ میزائیل ہٹانے کے فیصلے سے سخت برافروختہ تھا اس نے سوچا کہ اس سے پہلے کہ کاسترو اسے نظریاتی بوجھ سمجھے اور اس سے نبھنا مشکل ہوجائے بہتر ہے کہ رختِ سفر باندھ لیا جائے۔

چنانچہ چی گویرا نے تمام سیاسی اور سرکاری عہدوں سے سبکدوشی اختیار کی اور کیوبائی شہریت واپس کی اور کاسترو سے کانگو جانے کی اجازت چاہی جہاں چی گویرا کو سی آئی اے کی سازش کے نتیجے میں قتل ہونے والے وزیرِ اعظم پیٹرک لوممبا کے بعد انقلابی جدوجہد کے آثار سازگار نظر آ رہے تھے۔

چی گویرا کچھ انقلابی لے کر اپریل انیس سو پینسٹھ میں کانگو پہنچا لیکن کانگو کے انقلابی نیم دل نکلے چنانچہ سات ماہ بعد چی گویرا نے مایوسی کے عالم میں کانگو چھوڑا اور موزمبیق پہنچ گیا۔جہاں پرتگیزی نوآبادیاتی حکومت سے نبردآزما فری لیمو تحریک کو اپنی خدمات پیش کیں۔ لیکن فری لیمو والے چی گویرا کو نہ سمجھ سکے۔ کاسترو نے چی گویرا کو پیغام بھیجا کہ واپس آجاؤ۔ لیکن چی گویرا نے جس ملک کی شہریت خود ترک کی وہاں اسکی غیرت نے دوبارہ کھلے عام جانا گوارہ نہیں کیا۔ چی گویرا نے کاسترو کو پیغام بھیجا کہ وہ صرف چند ماہ کے لیے خفیہ طور پر واپس آنا چاہتا ہے تاکہ کسی اور جگہ جا کر انقلابی جدوجہد کرسکے۔

چنانچہ موزمبیق سے چی گویرا چیکوسلواکیہ پہنچا اور اپنی شناخت و نام بدل کر مغربی یورپ کے کچھ ممالک کا سفر اختیار کرتے ہوئے وہ کیوبا پہنچ گیا۔ حسبِ خواہش اسکی موجودگی کو خفیہ رکھا گیا۔اس دوران کاسترو نے بولیویا میں ایک انقلابی چھاپہ مار تحریک کو منظم کرنے کے لیے بولیویا کے مقامی کیمونسٹوں کے توسط سے سینتیس سو ایکڑ زمین خریدی۔ چی گویرا نے بولیویا کے مشن پر جانے کی حامی بھری۔اور نومبر انیس سو چھیاسٹھ میں وہ بولیویا پہنچا۔جہاں کچھ عرصے میں اس نے پچاس کے لگ بھگ تربیت یافتہ گوریلوں کا دستہ تشکیل دے دیا۔ لیکن بولیویا کی سوویت نواز کیمونسٹ قیادت نے چی گویرا کا محض رسمی ساتھ دیا۔

جدوجہد جاری رہے گی
 موت آنے تک جاری رہنے والی جدوجہد کی کوئی حد نہیں ہے۔ دنیا کے کسی بھی گوشے میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے ہم اس سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔ سامراج کے خلاف کسی ایک ملک کی فتح ہماری فتح اور کسی ایک ملک کی شکست ہماری شکست ہے
 
چی گویرا

سی آئی اے جسے کانگو میں چی گویرا کی موجودگی کا پتہ چل گیا تھا بولیویا پہنچنے تک چی گویرا کی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھ رہی تھی۔

بولیویا کے جنگلات میں چی کے چھاپہ ماروں اور بولیویائی دستوں میں متعدد جھڑپیں ہوئیں۔جب چھاپہ مار کسی زخمی فوجی کو قیدی بنالیتے تو ڈاکٹر چی گویرا اس قیدی کا علاج کرکے رہا کردیتا۔ایک جھڑپ میں چی کے چھ ساتھی مارے گئے اور چی خود بھی زخمی ہوا۔اسکے بعد نواحی علاقوں میں کئی مسلح کارروائیاں اس لیے کی گئیں کہ دواؤں کی کچھ مقدار ہاتھ آسکے۔

سی آئی اےنے چی کو زندہ پکڑنے کے لئے فیلکس روڈریگز نامی ایجنٹ کی قیادت میں ایک خصوصی دستہ تشکیل دیا ۔آٹھ اکتوبر انیس سو سڑسٹھ کو مخبری کے نتیجے میں چی گویرا اور اسکے کچھ چھاپہ ماروں کو والے گراندے کے نزدیک لا ہگویرا میں پکڑ لیا گیا۔ سی آئی اے کے واشنگٹن ہیڈکوارٹر سے پیغام آیا کہ ختم کردیا جائے چنانچہ اگلے روز دوپہر ایک بجے چی گویرا کو گولی مار دی گئی۔ روڈریگز نے چی گویرا کی رولیکس گھڑی بطور سووئینیر رکھ لی۔ تدفین سے پہلے چی گویرا کے سر کے بالوں کا ایک گھچھا گستاوو ولولدو نے اکھاڑ کر اپنے بیگ میں چھپا لیا۔جسے پچیس اکتوبر کو امریکی شہر ڈلاس کی ہیریٹیج آکشن گیلری میں نیلام کیا جائے گا۔ جبکہ چی گویرا کی فلیش لائٹ سی آئی اے ہیڈ کوارٹر کے نوادرات میں رکھ ہوئی ہے۔

چی گویرا مرنے کے بعد اس طرح زندہ ہوا کہ انیس سو اڑسٹھ میں طلبا کی عالمی تحریک کے دوران چی کی وہ تصویر جو فوٹو گرافر البرٹو کورڈا نے انیس سو ساٹھ میں کھینچی تھی لاکھوں ٹی شرٹس اور پوسٹرز پر چھپ گئی۔اور وھاں سے ہوتی ہوئی پرچم، کافی کے مگ اور بیس بال کیپ پر پرنٹ ہوکر ملٹی ملین ڈالر صنعت میں تبدیل ہوگئی۔

چی گویرا
اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود چی گویرا کی یاد لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے

چی گویرا کی پہلی سوانح حیات انیس سو اڑسٹھ میں ارجنٹینا کے ناول نگار ہیکٹر اوسترہیلڈ نے مرتب کی تو اسکی پاداش میں ارجنٹینا کے اقتدار پر قبضہ کرنے والی فوجی جنتا نے سوانح نگار کو اذیتیں دے کر ہلاک کر دیا۔انیس سو چھیانوے میں چی گویرا کی سفری ڈائری موٹر سائیکل ڈائریز کے نام سے شائع ہوئی جسے دو ہزار چار میں فلم کی شکل دے دی گئی۔اس پورے عرصے میں دنیا بھر میں چی گویرا کے لیے سینکڑوں نظمیں اور بیسیوں گیت تخلیق ہوئے۔

نکارگوا کی سندانستا تحریک اور میکسیکو کی زپاتا تحریک کی بنیاد گویرا ازم پر ہے۔ وینزویلا کے صدر ہیوگو شاویز عام جلسوں سے عموماً چی گویرا کی تصویر والی ٹی شرٹ پہن کر خطاب کرتے ہیں۔

انیس سو ستانوے میں چی گویرا کے دونوں ہاتھ کٹی ہوئی لاش کے باقیات ویلی گراندے کی فضائی پٹی کے نیچے سے دریافت ہوئے جنہیں چھ دیگر ساتھیوں کے باقیات سمیت کیوبا لایا گیا اور سانتا کلارا میں ایک مزار تعمیر کرکے پورے قومی اعزاز کے ساتھ دفن کیا گیا۔سانتا کلارا وہ جگہ ہے جہاں انیس سو انسٹھ میں چی گویرا کی قیادت میں کیوبائی انقلاب کی آخری فیصلہ کن لڑائی ہوئی تھی۔

خود بولیویا میں زمانہ یوں بدلا کہ موجودہ صدر ایوو مورالیس نے کوکا کے پتوں سے بنی ہوئی چی گویرا کی تصویر صدارتی محل میں لگا رکھی ہے۔

ویلے گراندے کا قصبہ جہاں چی گویرا کو گھیر کر مارا گیا وہاں کی مقامی آبادی نے اپنے گرجے میں عیسی، کنواری مریم اور سینٹ ارنسٹو ( چی گویرا) کی شبیہیں ایک ساتھ لگا رکھی ہیں۔

شاید یہ سب اس لیے ہوا کہ مرنے سے پہلے چی گویرا کے آخری الفاظ تھے۔
’گولی چلاؤ بزدلو۔۔۔تم صرف ایک آدمی کو ہی مار سکتے ہو‘۔ اور شاید چی گویرا اس لیے بین الاقوامی مزاحمت کا سمبل ہے کہ اس نے کبھی کسی عام شہری کو نہیں مارا۔

ژاں پال سارتر کے بقول چی ہمارے دور کا مکمل ترین انسان تھا۔

بولیویا میں چی گویرا کی قبر جہاں سے ان کی لاش کو نکال کر کیوبا منتقل کر دیا گیا ہے

 
 
اسی بارے میں
’کاسترو کو پارکنسنز ہے‘
17 November, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد