BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 October, 2007, 17:19 GMT 22:19 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
کراچی یونیورسٹی کیا چاہتی ہے؟
 

 
 
سر سید
’جریدہ‘ کے مضامین کا ایک بڑا حصہ سرسید، علامہ اقبال، شبلی نعمانی جیسے مسکمان مفکروں کی ’گمراہی‘ کا سدباب کرنے پر مبنی ہوتا ہے
’جریدہ‘ میں شائع ہونے والے مضامین کا ایک بڑا حصہ برصغیر کے مذہبی لگاؤ رکھنے والے مسلمان مفکروں: سرسیداحمد خاں، علامہ اقبال، علامہ شبلی نعمانی وغیرہ ، کی اس ’گمراہی‘ کا سدباب کرنے کی کوشش پر مبنی ہے کہ انہوں نے مذہب کوسمجھنے اور سمجھانے کے لیے جدید علوم اور عقل سلیم کو استعمال کرنے کی جسارت کی۔ ان تحریروں میں مذکورہ ’گمراہ مفکروں‘ کے بارے میں کفر و الحاد کے ان تمام فتووں کی تائید کی جاتی ہے جو اجتہاد کے مقابلے میں تقلید کے قائل قدامت پرست ہندوستانی علماء نے وقتاً فوقتاً جاری کیے، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض جگہ انہی گمراہوں کے نام کے ساتھ رحمت اﷲ علیہ کی علامت بھی لگی ہوئی دکھائی دیتی ہے، جس سے اس حقیقت کی نشان دہی ہوتی ہے کہ ان پر عائد کیے جانے والے فتوے خاطرخواہ اثر پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

اجتہاد اور تقلید کی بحث اسلامی معاشروں میں صدیوں سے چل رہی ہے۔ ’جدیدیت پسندوں‘ کاموقف رہا ہے کہ نئے زمانے کے نئے سوالوں کا جواب دینے کے لیے اجتہاد کرنا ضروری ہے، جب کہ قدامت پرست اس موقف پر کاربند رہے ہیں کہ اسلامی فقہ کے قدیم مفسروں نے جو جوابات طے کر دیے ہیں وہ قیامت تک کے لیے کافی ہیں اور ان میں کسی تبدیلی کی نہ گنجائش ہے اور نہ ضرورت۔ عقل اور دنیاوی علوم کی مدد سے اجتہاد کرنے کے حامی لوگ قدامت پرستوں پر اقبال کے الفاظ میں یہ تنقید کرتے چلے آئے ہیں کہ ’تقلید کی روش سے تو بہتر ہے خودکشی‘۔

تاہم روایتی طور پر یہ بحث گنتی کے چند افراد کے درمیان ہوتی آئی تھی جو علم کے سرچشموں یعنی کتابوں تک رسائی رکھتے تھے۔ ہر کتاب کی نقل ہاتھ سے لکھ کر تیار کی جاتی تھی اس لیے کتابیں کمیاب اور بیشتر لوگوں کی دسترس سے باہر تھیں۔ عام مسلمان خواندگی سے محروم ہونے کے باعث اس پورے قصے ہی سے باہر تھے اور برصغیر میں تو انہیں اس بنا پر بھی حقیر سمجھا جاتا تھا کہ وہ نچلی ذاتوں سے مذہب تبدیل کر کے مسلمان ہونے کی وجہ سے بہت سی بدعتوں کے شکار ہیں اور ’خالص‘ مذہب پر عمل پیرا نہیں۔ رہی سیاست تو وہ مطلق العنان حکمرانوں اور ان کے امراء کی جاگیر تھی۔ رعایا تو خیرکس گنتی شمار میں تھی، مذہبی عالموں کو بھی صرف دربارداری اور حکمران کی ضرورت کے مطابق فتووں کی فراہمی کا ذمہ دار سمجھا جاتا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ بعض موقعوں پر بعض حکمرانوں کی سیاسی مصلحت نے انہیں مذہب کو سرکاری پالیسی میں نمایاں مقام دینے پر آمادہ کر لیا۔ ایسی مثالوں میں علاءالدین خلجی اور اورنگ زیب کے علاوہ ماضی قریب کی ایک مثال جنرل ضیاءالحق کی بھی ہے۔

تقلید کی روش سےبہتر: خود کشی
 عقل اور دنیاوی علوم کی مدد سے اجتہاد کرنے کے حامی لوگ قدامت پرستوں پر اقبال کے الفاظ میں یہ تنقید کرتے چلے آئے ہیں کہ ’تقلید کی روش سے تو بہتر ہے خودکشی
 

انگریزوں کے نوآبادیاتی تسلط میں آنے کے بعد برصغیر کے جامد معاشرے میں ایک بنیادی نوعیت کی تبدیلی کی ابتداء ہوئی۔ اس سست رو معاشرتی تبدیلی کے محرکات میں چھاپہ خانے کا رواج اور عوامی تعلیم کے اداروں کا قیام شامل تھا۔ بیشتر چھاپہ خانے اور تعلیمی ادارے تبدیلی کے خواہاں مقامی افراد اور گروہوں نے قائم کیے اور رفتہ رفتہ اس تبدیلی کے مظاہر میں مختلف قسم کے ذرائع ابلاغ بھی شامل ہو گئے۔ اس تبدیلی سے وہ سیاسی شعور پیدا ہوا جس نے ایک طرف نوآبادیاتی تسلط کے خلاف تحریک کا آغاز کیا اور دوسری طرف اصولی طور پر یہ بات طے کردی کہ عام افراد کو علم اور اطلاع تک رسائی کا حق حاصل ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان فیصلوں میں شریک کیے جانے کا بھی حق حاصل ہے جو ان کی زندگیوں پراثرانداز ہوتے ہیں۔

اس تبدیلی کا منطقی نتیجہ، جلد یا بدیر، جمہوریت یعنی ریاست کی فیصلہ سازی میں شہریوں کی شرکت ہی کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ انیسویں صدی کے نصف آخر سے اب تک مختلف نقطۂ نظر رکھنے والے گروہوں کی باہمی کشمکش کے معنی تبدیلی کے اسی عمل کے تناظر میں متعین کیے جا سکتے ہیں۔ جن افراد اور گروہوں کے مزاج اور مفاد کو یہ تبدیلی ناگوار ہے، وہ طرح طرح کے طریقوں سے اس کی راہ روکنے، یا یہ نہیں تو اس کی رفتار کو ممکنہ حد تک کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

’جریدہ‘ کے مدیر اور ان کے معاونین تعلیم کے پھیلاؤ اور جمہوریت کی سمت سفر پر مبنی اس تبدیلی کی راہ روکنے کی کوشش کرنے والے نقطۂ نظر سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس تناظر میں دیکھیں تو ان کی سخت گیری اور شدت پسندی اتنی عجیب بات معلوم نہیں ہوتی، کیونکہ ان حضرات نے چلتی ہوا سے لڑنے اور گزرتے وقت کا پہیہ الٹی سمت گھمانے کی دشوار خدمت اپنے ذمے لے رکھی ہے۔ دوسری طرف ’جدیدیت پسند‘ مذہبی مفکروں کی کوششوں کا مرکزی نکتہ یہ رہا ہے کہ بدلتے وقت سے پیدا ہونے والی اس ناگزیر تبدیلی کو برصغیر کے مسلم معاشرے میں، جو اپنے مزاج کے اعتبار سے روایت پسند رہا ہے، کس طرح جذب کیا جائے۔ یہ مفکر اپنے موقف کے ہر نکتے پر ایک دوسرے سے متفق نہیں دکھائی دیتے، لیکن ان میں ایک قدر مشترک ضرور ہے: یہ سب معاشرتی تبدیلی کے اس عمل کو عام شہریوں کی زندگی کے لیے مفید اور مثبت سمجھتے ہیں۔

عوامی تعلیم اور چھاپہ خانوں کا فیض
 عوامی تعلیم اور چھاپہ خانے نے علم اور اطلاع تک عام لوگوں کی رسائی کو ممکن بنایا۔ اس کا نتیجہ برصغیر میں بھی یہ ہوا کہ عام لوگوں میں اس بات کا شعور پیدا ہوا کہ جس علم کو وہ اب تک ایک مراعات یافتہ اقلیت: ہندوؤں میں برہمنوں اور مسلمانوں میں خودساختہ علماء کی ملکیت سمجھ کر صبر کرتے چلے آئے تھے، اس پر ان کا بھی برابر کا حق ہے
 

عوامی تعلیم کے اداروں کے قیام نے خواندگی کو عام کیا اور چھاپہ خانے کے رواج نے علم اور اطلاع کے ذخیروں تک عام لوگوں کی رسائی کو ممکن بنایا۔ اس کا نتیجہ برصغیر اور اس جیسے دوسرے معاشروں میں بھی وہی ہوا جو اس سے پہلے یورپی معاشروں میں ہوا تھا۔ یعنی عام لوگوں میں اس بات کا شعور پیدا ہوا کہ جس علم کو وہ اب تک ایک مراعات یافتہ اقلیت: ہندوؤں میں برہمنوں اور مسلمانوں میں خودساختہ علماء کی ملکیت سمجھ کر صبر کرتے چلے آئے تھے، اس پر ان کا بھی برابر کا حق ہے۔ جہاں تک برصغیر کے مسلمانوں کا تعلق ہے، ’جدیدیت پسند‘ مذہبی مفکروں نے محسوس کیا کہ مذہب کی پرانی تعبیریں نئے زمانے کے پیدا کیے ہوئےسوالوں کے جواب دینے سے قاصر ہیں اور اجتہاد سے کام لے کر اس کی نئے سرے سے تعبیر کرنا ضروری ہے۔

اس کے برعکس’جریدہ‘ (اور ’ساحل‘) کے مدیر اور ان کے معاونوں کی طے شدہ رائے اس قدامت پرست موقف کے حق میں ہے کہ صرف اس اجتہاد کی اجازت دی جا سکتی ہے جو تقلید کی روش سے نہ ہٹے یعنی پرانی تعبیروں پر قائم رہے۔

یہ رائے اس اعتبار سے بڑی دلچسپ اور عجیب ہے کہ یہ حضرات خود بھی معاشرتی تبدیلی کے اسی عمل کی پیداوار ہیں جس کی مذمت کرتے ہیں۔ ان کی ایک عام دلیل یہ ہے کہ مذہبی اعتقاد کے معاملوں میں عقلی علوم پر تکیہ کرنا نامناسب ہے کیونکہ ’سائنس اور سوشل سائنسز‘ کے نظریات بدلتے رہتے ہیں۔ جب کہ پچھلی ڈیڑھ دو صدیوں کی تاریخ میں یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ قدامت پرست اور تقلید کے قائل علماء نے پہلے پہل مذہبی کتابوں کے ترجموں، چھاپہ خانے، انگریزی تعلیم، جدید ذرائع ابلاغ، ریڈیو، لاؤڈ سپیکر، کیمرے، فلم، ٹیلی وژن، غرض ہر نئی چیز کو مذہبی اعتقاد کے منافی قرار دیا اور بعد میں اپنی رائے بدل کر ان میں سے ہر چیز کو اختیار کرنے کی گنجائش پیدا کر لی۔ اگر جامعی صاحب اور ان کے ہم خیال لوگ تقلید پر سختی سے کاربند رہ کر صرف انگریزی تعلیم اور چھاپہ خانے کے استعمال ہی سے خود کو باز رکھ پاتے تو بھلا آج مجھے ان کے ذکر میں اپنا اور آپ کا اتنا وقت کیوں صرف کرنا پڑتا۔

جامعی صاحب اپنی ذہنی یکسوئی کی بدولت اس حیران کن کرشمے پر قادر ہیں کہ ہر جدید شے اور تصور میں فحاشی کا جلوہ دیکھ سکیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے منشور میں ’آزادیِ اظہار رائے کے نام پر ہر قسم کی فحاشی کی اجازت عام ہے‘۔ (صفحہ 899۔)’زناکاری اور جمہوریت میں فطری تعلق کیوں ہے؟ دنیا کے تمام جمہوری معاشروں میں عریانی، فحاشی، زناکاری عام ہو جاتی ہے۔‘(صفحہ 895) اس کرشماتی بصیرت سے ان کے لیے آسان ہو جاتا ہے کہ

تقلید کے قائل علماء کا طرمِ عمل
 تقلید کے قائل علماء نے پہلے پہل مذہبی کتابوں کے ترجموں، چھاپہ خانے، انگریزی تعلیم، جدید ذرائع ابلاغ، ریڈیو، لاؤڈ سپیکر، کیمرے، فلم، ٹیلی وژن، غرض ہر نئی چیز کو مذہبی اعتقاد کے منافی قرار دیا اور بعد میں اپنی رائے بدل کر ان میں سے ہر چیز کو اختیار کرنے کی گنجائش پیدا کر لی
 

جمہوریت، آزادی، انسان، انسانی حقوق، غرض ہر اصطلاح کی ’فحاشی آمیز‘ تعریف طے کریں اور جو شخص اس ایجادِ بندہ قسم کی تعریف سے ناآشنا یا غیرمتفق دکھائی دے اسے بلاتکلف ’مغرب کے فکر و فلسفے کی اصلیت سے یکسر ناواقف‘ قرار دے کر کہیں منھ دکھانے کے قابل نہ چھوڑیں۔ اگر آپ نے ’جریدہ‘ کے شمارے اب تک نہیں پڑھے تو آپ کو یقین نہیں آئے گا کہ یہ الفاظ کس کثرت اور آسانی سے تقریباً ہر اس شخص کے لیے استعمال کیے گئے ہیں جس کا کسی بھی نقطۂ نظر سے جدید و قدیم کی اس بحث سے تعلق رہا ہے۔ جامعی صاحب کی حتمی رائے ہے کہ سرسید اور اقبال سے لے کر ڈاکٹر فضل الرحمن اور ضیاءالدین سردار تک، ڈاکٹر ذاکر نائیک سے جاوید غامدی تک، شیخ قرضاوی سے مفتی تقی عثمانی تک، اور مولانا وحیدالدین خاں سے ایڈورڈ سعید تک کوئی ذی روح ایسا نہیں جس پر ’مغربی فکر وفلسفے کی اصلیت‘ منکشف ہوئی ہو۔ یہ سعادت صرف ’ساحل‘ اور ’جریدہ‘ سے وابستہ بزرگان دین کے مقدر میں آئی ہے، اور اس سعادت کو عام کرنے کے لیے ان حضرات کو پلیٹ فارم فراہم کرنے کے لیے ہم سب کو کراچی یونیورسٹی کا ممنون احسان ہونا چاہیے۔
 
 
کراچی یونیورسٹی جریدہجریدہ کے مندرجات
کیا کراچی یونیورسٹی اس کی ذمہ دار نہیں؟
 
 
دی پین آف ادرزمصائب کی تماش بینی
میڈیا کی ترقی اور اذیتوں کے نظارے کا ارتقاء
 
 
جریدہ’جامعی بمقابلہ جامعہ‘
کراچی یونیورسٹی کا ’جریدہ‘ اور نایاب گوہر
 
 
’وقائع بابر‘
بابر کی خودنوشت کا ایک نیا اردو ترجمہ
 
 
کراچی یونیورسٹی لوگویہ طیلسان کیا ہوا؟
جواب دہی کیلیے کراچی یونیورسٹی ہی کیوں؟
 
 
           ارتکاز ادبی رسائل کی بحثیں
تہذیبی مسائل یا شخصی مناقشے اور معرکے
 
 
نقاطکتابیں اور رسالے
اردو ناول نگاری اور حسن منظر کا العاصفہ
 
 
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد