BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 November, 2007, 17:04 GMT 22:04 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
’چاروں جانب سناٹا ہے‘
 

 
 
حکومت وکلاء اور سول سوسائٹی کو کچلنے کا ارادہ رکھتی ہے
صدر پرویز مشرف کی طرف سے ہنگامی حالت کے اعلان اور عبوری آئین نافذ کرنے کے محرکات سے قطع نظر اس غیرمعمولی قدم کے نتائج کا انحصار پاکستان میں سیاسی اور عوامی قوتوں کے ردِعمل پر ہے۔

اگرچہ ایمرجنسی کے اعلان سے اگلے روز ہفتہ وار تعطیل کے باعث حکومت کو مخالفین کو گرفتار کرنے نیز نچلی انتظامی سطح تک پیش بندی کے اقدامات کا موقع مل گیا لیکن سوموار کو وکلاء اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا سخت ردِ عمل سامنے آیا۔

ملک بھر میں گرفتار ہونے والے شہریوں کی بڑی تعداد انہی دو گروہوں سے تعلق رکھتی ہے۔ وکلا اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے ساتھ پیر اور منگل کو پولیس اور عدالتوں کے سلوک سے واضح ہے کہ حکومت مزاحمت کے ان دو مراکز کو سختی سے کچلنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

تاہم کسی حکومت بالخصوص فوجی حکومت کے خلاف منظم اور طویل مزاحمتی تحریک سیاسی جماعتوں کی شرکت کے بغیر ممکن نہیں ہوتی۔ سیاسی جماعتوں کے پاس اپنے نقطۂ نظر کے تناظر میں پختہ شعور رکھنے والے کارکنوں کی تعداد بھی ہوتی ہے اور انہیں گلی محلے کی سطح تک تنظیمی وسائل بھی میسر ہوتے ہیں۔

 مسلم لیگ (ق) اپنی ہیئت کے اعتبار سے کسی واضح سیاسی پروگرام یا عوامی تائید پر زیادہ یقین نہیں رکھتی۔ اسے بند دروازوں کے پیچھے جوڑ توڑ کی سیاست سے طبعی مناسبت ہے۔
 

دوسری طرف بین الاقوامی مذمت اور دباؤ اگرچہ عمومی توقع سے زیادہ دوٹوک رہا ہے لیکن پاکستان کی مخصوص علاقائی صورتحال بالخصوص شمال مغربی علاقوں میں مذہبی شدت پسندوں کی مسلح کارروائیوں کے تناظر میں بین الاقوامی طاقتیں ایک خاص حد سے آگے بڑھنے کا خطرہ مول نہیں لیں گی۔ اس پس منظر میں سیاسی جماعتوں کا ردِعمل خاص اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔

صدر مشرف کی اہم ترین حلیف جماعت مسلم لیگ (ق) ہے۔ ہنگامی حالت، عبوری آئین اور سیاسی افراتفری کے نتیجے میں عام انتخابات کا انعقاد خطرے میں ہے اور یہ صورتحال مسلم لیگ (ق) کے مفادات سے خوشگوار مطابقت رکھتی ہے۔ مسلم لیگ (ق) اپنی ہیئت کے اعتبار سے کسی واضح سیاسی پروگرام یا عوامی تائید پر زیادہ یقین نہیں رکھتی۔ اسے بند دروازوں کے پیچھے جوڑ توڑ کی سیاست سے طبعی مناسبت ہے۔

اپنا سیاسی مستقبل صدر مشرف سے وابستہ کرنے والی مسلم لیگ (ق) کی طرف سے 3 نومبر کے اقدامات کی مخالفت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ عدلیہ، آئین اور ذرائع ابلاغ کے خلاف اقدامات پر واضح عوامی غم و غصے کے باعث حکمران مسلم لیگ اخباری بیانات سے ہٹ کر گلی کوچوں میں صدر مشرف کی حمایت کا یارا نہیں رکھتی۔

’جلد از جلد‘ کی اضافی اصطلاح کا مطلب تائید ہی لیا جاتا ہے

صدر مشرف کی دوسری حلیف جماعت متحدہ قومی موومنٹ بھی 3 نومبر کے اقدامات کی مخالفت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ ایم کیو ایم نے ایک رسمی بیان کے ذریعے ہنگامی حالت کے جلد از جلد خاتمے کا مطالبہ ضرور کیا ہے لیکن سیاسی محاورے میں’جلد از جلد‘ کی اضافی اصطلاح کا مطلب تائید ہی لیا جاتا ہے۔

ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہونے کا دعویٰ رکھنے والی پیپلز پارٹی کی صورتحال زیادہ گمبھیر ہے۔ بینظیر بھٹو کی سیاست گزشتہ ہفتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے ۔ صدر مشرف کے ساتھ ان کی مفاہمت پر شدید اعتراضات کے علاوہ قومی مفاہمتی آرڈیننس کو بھی عدالتِ عظمٰی میں چیلنج کیا گیا۔ حکمران مسلم لیگی رہنماؤں کے بیانات سے بھی مبینہ قومی مفاہمت کو استحکام نہیں ملا۔ کراچی میں 18 اکتوبر کو بینظیر کا بہت بڑے پیمانے پر استقبال خود کش دھماکوں کی خونریزی میں دب کر رہ گیا بلکہ بینظیر اور پیپلز پارٹی کی عوامی سرگرمیوں کے ممکنہ دائرۂ کار پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا۔

موجودہ حالات میں پیپلز پارٹی سیاسی طور پر تنہائی کا شکار ہے۔ اے آر ڈی عملی طور پر ختم ہو چکی ہے۔ پیپلز پارٹی اے پی ڈی ایم کے سیاسی اتحاد کا حصہ نہیں ہے۔ مذہبی عناصر سے پیپلز پارٹی کا اختلاف واضح ہے۔ حکمران مسلم لیگ کے ساتھ پیپلز پارٹی کے فاصلے کم ہونے کے بجائے بڑھے ہیں

  صدر مشرف کی سیاسی اور آئینی تنہائی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے در پردہ جوڑ توڑ کی مدد سے اپنی جماعت کے لیے زیادہ مراعات حاصل کرنے کی کوشش کر سکتی ہیں۔
 

ان حالات میں بینظیر بھٹو کی طرف سے ہنگامی حالت اور عبوری آئین کی مذمت محتاط ہی کہی جا سکتی ہے۔ انہوں نے اپنے کارکنوں کو سڑکوں پر آنے کی کال نہیں دی۔ بینظیر کا حقیقی ردِ عمل ان کے بین الاقوامی حلیفوں کے اشارۂ ابرو سے منسلک ہے۔ اگر بین الاقوامی طاقتیں، خاص طور پر امریکہ اور برطانیہ، صدر مشرف کے حالیہ اقدامات سے مذہبی شدت پسندی کے خلاف مزاحمت کو کمزور ہوتا دیکھیں گی تو بینظیر صدر مشرف کی کھلی مخالفت کر سکتی ہیں۔ دوسری صورت میں وہ صدر مشرف کی سیاسی اور آئینی تنہائی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے در پردہ جوڑ توڑ کی مدد سے اپنی جماعت کے لیے زیادہ مراعات حاصل کرنے کی کوشش کر سکتی ہیں۔

مذہبی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے کی صورتحال 3 نومبر کے اعلان سے پہلے بھی مخدوش تھی۔ نئی صورتحال میں اس کا وجود اور عدم وجود یکساں طور پر بے معنی ہیں۔ اس اتحاد میں صرف دو جماعتیں، جمعیت العلمائے اسلام (فضل الرحمن گروپ) اور جماعت اسلامی عوامی سطح پر مزاحمت کی طاقت رکھتی ہیں۔ مولانا فضل الرحمن واضح طور پر حکومت کے ساتھ ہیں۔ حکمران مسلم لیگ بالخصوص چوہدری برادران سے ان کی قربت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔

اس صورتحال میں جماعت اسلامی بھی تن تنہا مار کھانے پر آمادہ نظر نہیں آتی۔ قاضی حسین احمد کی مشرف مخالف پالیسی کی روشنی میں جماعت نے ہنگامی حالت کی مخالفت کا اعلان ضرور کیا ہے اور اس کے کچھ رہنما گرفتار بھی کیے گئے ہیں۔

نواز شریف کی مسلم لیگ واضح طور پر مشرف مخالف پالیسی پر کاربند ہے

تاہم پاکستان کی سیاسی ثقافت سے آگاہ حلقے سمجھتے ہیں کہ جماعت اسلامی کی ہنگامہ آرائی کا ایک خاص رنگ ڈھنگ ہوتا ہے۔ کم از کم اب تک سڑکوں پر اس کا کوئی اشارہ دیکھنے میں نہیں آیا۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کی مسلم لیگ نے واضح طور پر مشرف مخالف پالیسی اختیار کر رکھی ہے اور اس کے نتیجے میں مسلم لیگ نواز کی سیاسی قامت میں کچھ اضافہ بھی ہوا ہے۔ تاہم اپنے سیاسی مزاج کے باعث مسلم لیگ سڑکوں پر مزاحمت کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ اس کا کچھ اندازہ 10 ستمبر کو دیکھنے میں آیا تھا جب مسلم لیگ میاں نواز شریف کے استقبال کے لیے کارکنوں کو بڑی تعداد میں اسلام آباد لانے میں ناکام رہی تھی۔

 پاکستان کی سیاسی ثقافت سے آگاہ حلقے سمجھتے ہیں کہ جماعت اسلامی کی ہنگامہ آرائی کا ایک خاص رنگ ڈھنگ ہوتا ہے۔ کم از کم اب تک سڑکوں پر اس کا کوئی اشارہ دیکھنے میں نہیں آیا۔
 

قوم پرست جماعتیں اپنے واضح نقطۂ نظر مگر محدود عوامی حمایت کے لیے جانی جاتی ہیں۔ چھوٹے صوبوں میں جڑیں رکھنے والی یہ سیاسی جماعتیں عوام کے غم و غصے کو بڑے پیمانے پر احتجاجی جلسے جلوسوں میں بدلنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ بلوچستان کی سطح پر تو قوم پرستوں کا نہ ہونے کے برابر ردِ عمل بلوچستان کی وفاق سے عمومی بیگانگی کا مظہر سمجھا جانا چاہیے۔

اس تجزیے سے اندازہ ہوتا ہے کہ سیاسی قوتیں حالیہ سنگین اقدامات کی قابل ذکر مزاحمت نہیں کر پائیں گی اور صدر مشرف کے سیاسی مستقبل کا انحصار سیاسی کے بجائے غیر سیاسی عوامل پر ہوگا۔

وجاہت مسعود انسانی حقوق، صحافت اور تعلیم کے شعبوں میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ ادبی اور سیاسی موضوعات پر متعدد کتابوں کے مصنف ہیں

 
 
لاہور میں احتجاجاحتجاج جاری ہے
احتجاج اور گرفتاریوں کا تیسرا دن
 
 
احتجاجاحتجاج، گرفتاریاں
ایمرجنسی کا تیسرا دن، ایک نظر میں
 
 
احتجاجسندھ احتجاج
سندھ کی تمام عدالتوں کا بائیکاٹ اوراحتجاج
 
 
احتجاجایمرجنسی کے بعد
پنجاب میں وکلاء کا احتجاج، گرفتاریاں
 
 
جسٹس خلیل رمدےاپنے کیے پر فخر ہے
فکر ججی کی نہیں ملک کی ہے: جسٹس رمدے
 
 
اخباراخبار کیا کہتے ہیں؟
ڈھکے چھپے الفاظ میں ایمرجنسی پر تنقید
 
 
اسی بارے میں
وکلاء ریمانڈ پر جیل روانہ
06 November, 2007 | پاکستان
پی سی او چیلنج، درخواست واپس
06 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد